صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
20. ذكر الخبر المدحض قول من نفى جواز استعمال القرعة في الأحكام-
- یہ خبر جو اس قول کو باطل قرار دیتی ہے جس نے کہا کہ احکام میں قرعہ (چٹھی ڈالنا) کا استعمال جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 5075
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَقَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، وَسِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ :" أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ" .
ایک سند کے مطابق سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور ایک سند کے مطابق سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے مرنے کے قریب چھ غلاموں کو آزاد کر دیا، اس شخص کے پاس ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کروائی اور ان میں سے دو کو آزاد قرار دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5075]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1668، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1020، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4320، 4542، 5075، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1957، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3958، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1364، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2345، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 408، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12673، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4561، 4562، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20140» «رقم طبعة با وزير 5052»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 17).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
21. باب الرشوة - ذكر لعن المصطفى صلى الله عليه وسلم من استعمل الرشوة في أحكام المسلمين-
رشوت کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے فیصلوں میں رشوت لینے اور دینے والوں پر لعنت فرمائی۔
حدیث نمبر: 5076
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”فیصلہ کرتے ہوئے رشوت لینے والے اور دینے والے پر اللہ نے لعنت کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5076]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 638، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5076، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7159، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1336، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9145، 9153، والبزار فى (مسنده) برقم: 8673، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5661» «رقم طبعة با وزير 5053»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «المشكاة» (3753 و 3754)، «الإرواء» (2621)، «التعليق الرغيب» (3/ 143).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
22. باب الرشوة - ذكر لعن المصطفى صلى الله عليه وسلم المرتشي في أسباب المسلمين وإن لم يكن مسلك تلك الأسباب تؤدي إلى الحكم-
رشوت کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے معاملات میں رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی اگرچہ وہ اسباب بذات خود فیصلے تک نہ پہنچتے ہوں۔
حدیث نمبر: 5077
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے رشوت لینے والے اور دینے والے پر لعنت کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5077]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 639، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5077، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7158، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3580، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1337، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2313، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20541، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6643» «رقم طبعة با وزير 5054»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2620).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
23. باب الرشوة - ذكر البيان بأن اسم الغلول قد يقع على الرشوة وإن لم تكن من الفيء والغنيمة-
رشوت کا بیان - اس وضاحت کا بیان کہ «غلول» کا لفظ رشوت پر بھی بولا جا سکتا ہے اگرچہ وہ مالِ فے یا مالِ غنیمت میں سے نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5078
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَمَلا فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ، فَهُوَ غَالٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، فَقَامَ رَجُلٌ أَسْوَدُ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَرَاهُ مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ: اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ الَّذِي قُلْتَ: قَالَ:" وَأَنَا أَقُولُهُ الآنَ: مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى".
عدی کندی رضی اللہ عنہ، جن کا تعلق بنو ارقم سے ہے، روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم میں سے جو شخص ہمارے لیے (زکوۃ وغیرہ وصول کرنے کا) کوئی کام کرتا ہے اور پھر ہم سے اس میں سے کوئی ایک سوئی چھپا لیتا ہے یا اس سے بھی اوپر کی کوئی چیز چھپا لیتا ہے تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو وہ خیانت کرنے والا ہو گا۔“ تو ایک سیاہ فام شخص کھڑا ہوا، یہ منظر آج بھی گویا کہ میری نگاہ میں ہے، میرا خیال ہے وہ ایک انصاری تھا۔ اس نے گزارش کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو آپ نے مجھے ذمہ داری عطا کی تھی اسے واپس لے لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”وہ کیوں؟“ اس نے عرض کی: میں نے ابھی آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ جس شخص کو ہم کسی کام کا نگران مقرر کریں وہ تھوڑی اور زیادہ سب چیزیں لے کر آئے، جو اسے دیا جائے اسے وصول کر لے اور جس چیز سے اسے منع کیا جائے اس سے باز آ جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5078]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1833، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2338، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5078، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3581، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7756، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17994، والحميدي فى (مسنده) برقم: 918» «رقم طبعة با وزير 5055»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 276): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين