صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. ذكر أدب القاضي عند إمضائه الحكم بين الخصمين-
- یہ بیان کہ قاضی کو فیصلہ کرتے وقت کس طرح کا ادب و طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5065
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْزِيُّ بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِسَالَةٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَبْعَثُنِي وَأَنَا غُلامٌ حَدِيثُ السِّنِّ؟ فَأُسْأَلُ عَنِ الْقَضَاءِ وَلا أَدْرِي مَا أُجِيبُ، قَالَ:" مَا بُدٌّ مِنْ ذَلِكَ أَنْ أَذْهَبَ بِهَا أَنَا أَوْ أَنْتَ"، قَالَ: فَقُلْتُ: وَإِنْ كَانَ وَلا بُدَّ أَذْهِبُ أَنَا، فَقَالَ: " انْطَلِقْ، فَاقْرَأْهَا عَلَى النَّاسِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُثَبِّتُ لِسَانَكَ، وَيَهْدِي قَلْبَكَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ النَّاسَ سَيَتَقَاضُونَ، فَإِذَا أَتَاكَ الْخَصْمَانِ، فَلا تَقْضِي لِوَاحِدٍ حَتَّى تَسْمَعَ كَلامَ الآخَرِ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ تَعْلَمَ لِمَنِ الْحَقُّ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام رساں (یعنی گورنر) بنا کر بھیجا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے بھیج رہے ہیں حالانکہ میں ایک کم عمر آدمی ہوں، مجھ سے قضا کے بارے میں دریافت کیا جائے گا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا جواب دوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے، یا مجھے جانا ہوگا یا تم چلے جاؤ۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے عرض کی: اگر اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے تو پھر میں چلا جاتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اسے لوگوں کے سامنے تلاوت کرو، اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا اور تمہارے دل کو ہدایت پر ثابت رکھے گا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگ اپنے مقدمات لے کر آئیں گے، جب دو فریق تمہارے پاس آئیں تو تم کسی بھی فریق کے حق میں اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک دوسرے فریق کا کلام نہ سن لو، کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تمہیں پتا چل جائے کہ حق پر کون ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5065]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5065، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4683، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3582، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1331، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2310، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20210، وأحمد فى (مسنده) برقم: 646» «رقم طبعة با وزير 5042»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر التعليق. * [بِرِسَالَةٍ] قال الشيخ: وكذا في «طبعة المؤسسة» (11/ 451)، وفي «الموارد» (370/ 1539): بـ {براءة}، وَلَعَلَّه أَصحّ؛ فَإِنَّهُ كذلك في «مسند أحمد» - مِنْ زوائد عبد الله - (1/ 150) - مِنْ طريق أُخرى عن عمرو بن حماد. * [التعليق] قال الشيخ: إِسنادُه ضعيفٌ سِمَاكُ بنُ حَربٍ مُضطربُ الرواية عن عِكرمةَ. وأَسباط فيه ضعفٌ، قال الحافظ: «صدوق كثير الخطأ». وقد خَلَطَ هو - أو شيخه - بين قِصَّةِ بعث عَلِيٍّ إلى الحج، وقِصَّة إِرساله إلى اليمن، وكلاهما ثابت، لكنَّ قوله: «إِنَّ اللهَ يُثبِّتُ لسانَك .. » إِنَّما هو في القصَّه الثانية، وهي مُخَرَّجهٌ في «الإرواء» (8/ 226 - 228) من طريق نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
12. ذكر الخبر الدال على أن الحاكم له أن يهدد الخصمين بما لا يريد أن يمضيه إذا أراد استكشاف واضح خفي عليه-
- یہ خبر کہ حاکم کو اختیار ہے کہ فریقین کو کسی ایسی بات سے ڈرائے جسے وہ نافذ کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اگر اس سے وہ حقیقت کو واضح کرنا چاہتا ہو جو اس پر مخفی ہے۔
حدیث نمبر: 5066
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا دَاوُدَ، وَكُلُّ وَاحِدَةٍ تَخْتَصِمُ فِي ابْنِهَا، فَقَضَى لِلْكُبْرَى، فَلَمَّا خَرَجَتَا، قَالَ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا؟ فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ، وَأَوَّلُ مَنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ السِّكِّينُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا كُنَّا نُسَمِّيهَا الْمُدْيَةَ، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: مَهْ؟ قَالَ: أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا، قَالَتِ: ادْفَعْهُ إِلَيْهَا، وَقَالَتِ: الْكُبْرَى شُقَّهُ بَيْنَنَا، قَالَ: فَقَضَاهُ سُلَيْمَانُ لِلصُّغْرَى، وَقَالَ: لَوْ كَانَ ابْنَكِ لَمْ تَرْضَيْ أَنْ نَشُقَّهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دو خواتین سیدنا داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں، وہ ایک بچے کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھیں۔ سیدنا داؤد علیہ السلام نے بڑی عمر کی عورت کے حق میں فیصلہ فرما دیا، جب وہ دونوں وہاں سے نکلیں تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے دریافت کیا: سیدنا داؤد علیہ السلام نے تم دونوں کے درمیان کیا فیصلہ دیا ہے؟ ان دونوں خواتین نے سیدنا سلیمان علیہ السلام کو اس بارے میں بتایا، تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: تم میرے پاس چھری لے کر آؤ (راوی کہتے ہیں: پہلی مرتبہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی لفظ «السِّكِّينُ» ”سکین“ سنا، کیونکہ ہم لوگ چھری کے لیے لفظ «المُدْيَةُ» ”مدیہ“ استعمال کرتے ہیں) تو چھوٹی عمر کی عورت نے دریافت کیا: وہ کیوں؟ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے کہا: میں اس بچے کو تم دونوں کے درمیان تقسیم کر دوں گا۔ اس عورت نے کہا: آپ اس بچے کو اس بڑی عمر کی عورت کے سپرد کر دیں، جبکہ بڑی عمر کی عورت نے کہا: آپ اسے ہمارے درمیان تقسیم کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے چھوٹی عمر کی عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ انہوں نے فرمایا: اگر یہ تمہارا بیٹا ہوتا تو تم اس بات سے راضی نہ ہوتیں کہ اس کے ٹکڑے کر دیے جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5066]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3427، 6769، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1720، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5066، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5417، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21344، 21345، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8396» «رقم طبعة با وزير 5043»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
13. ذكر وصف ما يحكم للمختلفين في طرق المسلمين عند الإمكان-
- یہ بیان کہ مسلمانوں کی عام گزرگاہوں (راستوں) کے متعلق اختلاف کی صورت میں فیصلہ کیسے کیا جائے۔
حدیث نمبر: 5067
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطُّرُقِ فَدَعُوا سَبْعَةَ أَذْرُعٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب راستے کے بارے میں تمہارے درمیان اختلاف ہو جائے، تو سات ذراع تک جگہ چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5067]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2473، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1613، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1093، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5067، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3633، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1355، 1356، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2338، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11978، 11979، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7247، 9668» «رقم طبعة با وزير 5044»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3960).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
14. ذكر ما يحكم الحاكم للمدعيين شيئا معلوما مع إثبات البينة لهما معا على ما يدعيان-
- یہ بیان کہ اگر دونوں مدعی ایک ہی چیز پر گواہی پیش کریں تو حاکم کس طرح فیصلہ کرے۔
حدیث نمبر: 5068
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً، فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دو آدمیوں نے ایک جانور کے بارے میں دعویٰ کیا، ان دونوں میں سے ہر ایک نے دو گواہ بھی پیش کر دیے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جانور کو ان دونوں کے درمیان نصف نصف کے طور پر تقسیم کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5068]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5068، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21291، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3985» «رقم طبعة با وزير 5045»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الإرواء» (2656).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
15. ذكر ما يجب على المرء من الانقياد لحكم الله وإن كرهه في الظاهر-
- یہ بیان کہ انسان پر لازم ہے کہ اللہ کے حکم کے آگے سر جھکائے اگرچہ بظاہر اسے وہ ناپسند ہو۔
حدیث نمبر: 5069
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284، دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْهُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا"، فَأَلْقَى اللَّهُ الإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ سورة البقرة آية 285 الآيَةَ، وَقَالَ: رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ:" قَدْ فَعَلْتُ"، رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ:" قَدْ فَعَلْتُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت: ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ﴾ [سورة البقرة: 284] ”تمہارے من میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کرو یا چھپا کے رکھو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں تم سے حساب لے گا“ نازل ہوئی تو اس آیت کے نزول کی وجہ سے لوگ انتہائی زیادہ پریشان ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو: «سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا» ”ہم نے سنا اور اطاعت کی“ اور ہم نے تسلیم کیا“ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان کو ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ﴾ [سورة البقرة: 285] ”رسول اس چیز پر ایمان لایا جو اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر نازل کی گئی اور اہل ایمان بھی (ایمان لائے)“۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں (وہ لوگ یہ کہتے ہیں): ﴿رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا﴾ [سورة البقرة: 286] ”اے ہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر جائیں تو ہم سے مواخذہ نہ کرنا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قَدْ فَعَلْتُ» ”میں نے ایسا ہی کیا“۔ (اس میں یہ دعا بھی ہے): ﴿رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا﴾ [سورة البقرة: 286] ”اے ہمارے پروردگار، تو ہم پر اس طرح بوجھ نہ لاد دینا جس طرح تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر لاد دیا تھا۔“ تو پروردگار نے فرمایا: «قَدْ فَعَلْتُ» ”میں نے ایسا ہی کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5069]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 126، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5069، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3150، 3151، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10993، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2992، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2099، 3128» «رقم طبعة با وزير 5046»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (1/ 81).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
16. ذكر الزجر عن أن يأخذ المرء ما حكم له الحاكم بالشهود إذا علم ضده بينه وبين خالقه فيه-
- یہ تنبیہ کہ اگر حاکم کسی کے حق میں گواہوں کی بنیاد پر فیصلہ دے، مگر وہ شخص اپنے ضمیر میں جانتا ہو کہ یہ فیصلہ غلط ہے، تو اسے وہ چیز نہیں لینی چاہیے۔
حدیث نمبر: 5070
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ" .
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”میں ایک انسان ہوں، تم لوگ اپنے مقدمات لے کر میرے پاس آتے ہو، البتہ اگر کوئی شخص اپنے موقف کو ثابت کرنے میں دوسرے کے مقابلے میں زیادہ تیز ہو اور میں نے جو سنا میں اس کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ دے دوں، تو میں جس شخص کے حق میں اس کے کسی بھائی کے حق کا فیصلہ دوں تو وہ اسے قبول نہ کرے کیونکہ میں نے اس کے لیے جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5070]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2458، 2680، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1713، 1713، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2662، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1073، 1074، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5070، 5072، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7125، 7126، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5416، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3583، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1339، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2317، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11478، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4580، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26309، والحميدي فى (مسنده) برقم: 298» «رقم طبعة با وزير 5047»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (455 و 1162): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
17. ذكر الزجر عن أخذ المرء ما حكم له الحاكم إذا علم بينه وبين خالقه ضده-
- یہ تنبیہ کہ اگر انسان جانتا ہو کہ حاکم کا فیصلہ اللہ کے ہاں اس کے خلاف ہے تو اسے وہ چیز نہیں لینی چاہیے جس کا فیصلہ اس کے حق میں ہوا ہو۔
حدیث نمبر: 5071
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ يَكُونُ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں ایک انسان ہوں ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے موقف کو پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیز ہو تو جس کے حق میں، میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ دے دوں تو میں نے اس کو جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5071]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5071، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2318، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8510، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5920» «رقم طبعة با وزير 5048»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (1162).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
حدیث نمبر: 5072
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”میں ایک انسان ہوں۔ تم لوگ میرے پاس مقدمات لے کر آتے ہو۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص اپنا موقف پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیز ہو، تو جس شخص کے حق میں، میں اس کے بھائی کے حق سے متعلق کسی چیز کا فیصلہ دے دوں، تو میں نے اس کو جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5072]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2458، 2680، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1713، 1713، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2662، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1073، 1074، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5070، 5072، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7125، 7126، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5416، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3583، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1339، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2317، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11478، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4580، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26309، والحميدي فى (مسنده) برقم: 298» «رقم طبعة با وزير 5049»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
18. ذكر ما يحكم لمن ليس له إلا شاهد واحد على شيء يدعيه-
- یہ بیان کہ اگر کسی کے پاس اپنے دعوے پر صرف ایک گواہ ہو تو ایسے معاملے میں کیسے فیصلہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 5073
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک گواہ کے ہمراہ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5073]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1083، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5073، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5969، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1343، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2368، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20705، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4489، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6683» «رقم طبعة با وزير 5050»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (8/ 300 - 301)، «الروض» (987)، «التنكيل» (2/ 156).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
19. ذكر خبر أوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر أبي هريرة الذي ذكرناه-
- یہ خبر جس سے بعض ناواقف لوگوں کو یہ گمان ہوا کہ یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے خلاف ہے جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
حدیث نمبر: 5074
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي كَانَتْ لأَبِي، فَقَالَ الكنديُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي زَرَعْتُهَا، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ:" أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَلَكَ يَمِينُهُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ، لا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، قَالَ:" لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلا ذَلِكَ"، قَالَ: فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: " أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ" .
علقمہ بن وائل اپنے والد (سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرموت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور کندہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرمی نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس شخص نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے جو میرے باپ کی ملکیت تھی، کندی نے کہا: وہ زمین میری ہے، میرے قبضے میں ہے، میں نے اس پر کھیتی باڑی کی ہے اور اس کا اس زمین میں کوئی حق نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہیں قسم اٹھانی ہو گی۔“ دوسرے شخص نے عرض کی: یہ گناہ گار شخص ہے، یہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ کس بات پر قسم اٹھا رہا ہے اور یہ کسی چیز سے ڈرتا نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے تمہیں یہی چیز مل سکتی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص قسم اٹھانے کے لیے تیار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جانے کے بعد ارشاد فرمایا: ”اگر اس شخص نے اس مال کے بارے میں اس لیے قسم اٹھائی ہے تاکہ ظلم کے طور پر اسے ہتھیا لے، تو جب یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5074]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 139، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1079، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5074، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5946، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3245، 3623، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1340، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20531،والدارقطني فى (سننه) برقم: 4482، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19165» «رقم طبعة با وزير 5051»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2631): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم