🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ
باب: قرآن کتنے دنوں میں ختم کیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1388
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ" قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ:" اقْرَأْ فِي عِشْرِينَ"، قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ:" اقْرَأْ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ" قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ:" اقْرَأْ فِي عَشْرٍ" قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ:" اقْرَأْ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ مُسْلِمٍ أَتَمُّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو، انہوں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بیس دن میں پڑھا کرو، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پندرہ دن میں پڑھا کرو، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دس دن میں پڑھا کرو، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات دن میں پڑھا کرو، اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسلم (مسلم بن ابراہیم) کی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1388]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: قرآن کریم کو ایک مہینے میں ختم کیا کرو۔ انہوں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیس دنوں میں ختم کیا کرو۔ انہوں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پندرہ دنوں میں ختم کیا کرو۔ انہوں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس دنوں میں ختم کیا کرو۔ انہوں نے کہا: مجھے اس سے بھی زیادہ کی ہمت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات دن میں ختم کیا کرو اور اس سے کم ہرگز نہ کرنا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: مسلم بن ابراہیم کی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ فضائل القرآن 34 (5053، 5054)، صحیح مسلم/الصیام 35 (1159)، (تحفة الأشراف: 8962)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القراء ات 13 (2946)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 178(1346)، مسند احمد (2/163، 199)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 32 (3514) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5054) صحيح مسلم (1159)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1389
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَاقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ" فَنَاقَصَنِي، وَنَاقَصْتُهُ، فَقَالَ:" صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا". قَالَ عَطَاءٌ: وَاخْتَلَفْنَا عَنْ أَبِي، فَقَالَ بَعْضُنَا: سَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَقَالَ بَعْضُنَا: خَمْسًا.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کیا کرو، پھر میرے اور آپ کے درمیان کم و زیادہ کرنے کی بات ہوئی ۱؎ آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کیا کرو۔ عطا کہتے ہیں: ہم نے اپنے والد سے روایت میں اختلاف کیا ہے، ہم میں سے بعض نے سات دن اور بعض نے پانچ دن کی روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1389]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ہر مہینے تین دن روزے رکھو اور ایک مہینے میں قرآن پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے کمی کرواتے رہے اور میں کمی کرتا رہا۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو۔ عطاء کہتے ہیں کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے میرے والد (سائب) سے روایت کرنے میں اختلاف کیا۔ ہم میں سے کچھ سات دن روایت کرتے ہیں اور کچھ پانچ (یعنی قرآت قرآن میں)۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:8642)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/162، 216) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ختم قرآن کی مدت بڑھانا اور روزے رکھنے کی مدت کم کرنا چاہتے تھے، جب کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ختم قرآن کی مدت کم اور روزے رکھنے کی مدت بڑھانا چا ہتے تھے، اور ایک نسخے میں «فناقضني وناقضته» ضاد معجمہ کے ساتھ ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری بات کاٹتے تھے، اور میں اپنے بات پر اصرار کرتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1390
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ:" فِي شَهْرٍ" قَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، يُرَدِّدُ الْكَلَامَ أَبُو مُوسَى وَتَنَاقَصَهُ حَتَّى قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ" قَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن کتنے دنوں میں ختم کروں؟ فرمایا: ایک ماہ میں، کہا: میں اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوں (ابوموسیٰ یعنی محمد بن مثنیٰ اس بات کو باربار دہراتے رہے) آپ اسے کم کرتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے سات دن میں ختم کیا کرو، کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: وہ قرآن نہیں سمجھتا جو اسے تین دن سے کم میں پڑھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1390]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مہینے میں۔ انہوں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ ابوموسیٰ (ابن مثنیٰ) نے یہ جملہ بار بار دہرایا۔ یعنی انہوں نے اس مدت میں کمی چاہی۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات دنوں میں پڑھو۔ انہوں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا، اس نے اسے سمجھا ہی نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:8951) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا صحیح نہیں، بہتر یہ ہے کہ سات دن میں ختم کیا جائے، نیز اس سے معلوم ہوا کہ رمضان میں شبینہ وغیرہ کا جو اہتمام کیا جاتا ہے وہ درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه الترمذي (2949 وسنده صحيح) وابن ماجه (1347 وسنده صحيح) ورواه الشعبة عن قتادة به (مسند أحمد 2/195)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1391
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَطَّانُ خَالُ عِيسَى بْنِ شَاذَانَ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا الْحَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ" قَالَ: إِنَّ بِي قُوَّةً، قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي ثَلَاثٍ"، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْت أَبَا دَاوُد، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: عِيسَى بْنُ شَاذَانَ كَيِّسٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قرآن ایک مہینے میں پڑھا کرو، انہوں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تین دن میں پڑھا کرو۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ احمد بن حنبل کہتے تھے: عیسیٰ بن شاذان سمجھدار آدمی ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1391]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قرآن ایک مہینے میں پڑھا کرو۔ انہوں نے کہا: مجھ میں (اس سے زیادہ کی) طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تین روز میں مکمل پڑھا کرو۔ ابوعلی لؤلؤی (راوی سنن ابوداؤد) کہتے ہیں: میں نے امام ابوداؤد رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ عیسیٰ بن شاذان دانا آدمی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:8623) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شاھد عند أحمد (2/188 وسنده قوي)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب تَحْزِيبِ الْقُرْآنِ
باب: قرآن کے حصے اور پارے مقرر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1392
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، قَالَ: سَأَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، فَقَالَ لِي: فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ فَقُلْتُ: مَا أُحَزِّبُهُ، فَقَالَ لِي نَافِعٌ: لَا تَقُلْ مَا أُحَزِّبُهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَرَأْتُ جُزْءًا مِنَ الْقُرْآنِ"، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ ذَكَرَهُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ.
ابن الہاد کہتے ہیں کہ مجھ سے نافع بن جبیر بن مطعم نے پوچھا: تم کتنے دنوں میں قرآن پڑھتے ہو؟ تو میں نے کہا: میں اس کے حصے نہیں کرتا، یہ سن کر مجھ سے نافع نے کہا: ایسا نہ کہو کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے قرآن کا ایک حصہ پڑھا ۱؎۔ ابن الہاد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ بن شعبہ سے نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1392]
ابن الہاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نافع بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ نے مجھ سے پوچھا: تم کتنے دنوں میں قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا کہ میں اس کے (لازمی) حصے نہیں کرتا ہوں (بلکہ جو توفیق ہوتی ہے پڑھ لیتا ہوں)، اس پر نافع بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ اس طرح مت کہو کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: میں نے قرآن کا ایک جزء (حصہ) پڑھا۔ (ابن الہاد رحمہ اللہ نے) کہا: میرا خیال ہے کہ شیخ نے اس کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:11532) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے قرآن مجید کو تیس حصوں میں تقسیم کرنے اور اس کے تیس پارے بنا لینے کا جواز ثابت ہوا، اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن کے اس طرح سے تیس پارے نہیں تھے، جس طرح اس وقت رائج ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قول الراوي : ’’ حسبت أنه ذكره عن المغيرة ‘‘ يدل علي أنه لم يحفظه فالسند معلل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1393
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ: أَوْسُ بْنُ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ، قَالَ: فَنَزَلَتِ الْأَحْلَافُ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَأَنْزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي مَالِكٍ فِي قُبَّةٍ لَهُ، قَالَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَقِيفٍ، قَالَ: كَانَ كُلَّ لَيْلَةٍ يَأْتِينَا بَعْدَ الْعِشَاءِ يُحَدِّثُنَا، وقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى يُرَاوِحُ بَيْنَ رِجْلَيْهِ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، وَأَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ يَقُولُ:" لَا سَوَاءَ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ مُسْتَذَلِّينَ، قَالَ مُسَدَّدٌ: بِمَكَّةَ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ نُدَالُ عَلَيْهِمْ، وَيُدَالُونَ عَلَيْنَا"، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةً أَبْطَأَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ، فَقُلْنَا: لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَنَّا اللَّيْلَةَ، قَالَ:" إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ جُزْئِي مِنَ الْقُرْآنِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَجِيءَ حَتَّى أُتِمَّهُ". قَالَ أَوْسٌ: سَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ؟ قَالُوا: ثَلَاثٌ وَخَمْسٌ وَسَبْعٌ وَتِسْعٌ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلَاثَ عَشْرَةَ وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ وَحْدَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ أَتَمُّ.
اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ثقیف کے ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وفد کے وہ لوگ جن سے معاہدہ ہوا تھا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے اور بنی مالک کا قیام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمے میں کرایا، (مسدد کہتے ہیں: اوس بھی اس وفد میں شامل تھے، جو ثقیف کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا) اوس کہتے ہیں: تو ہر رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو کرتے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں اضافہ ہے کہ (آپ گفتگو) کھڑے کھڑے کرتے اور دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے آپ کبھی ایک پیر پر اور کبھی دوسرے پیر پر بوجھ ڈالتے اور زیادہ تر ان واقعات کا تذکرہ کرتے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم قریش کی جانب سے پیش آئے تھے، پھر فرماتے: ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم مکہ میں کمزور اور ناتواں تھے، پھر جب ہم نکل کر مدینہ آ گئے تو جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے بیچ رہتا، کبھی ہم ان پر غالب آتے اور کبھی وہ ہم پر۔ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسب معمول وقت پر آنے میں تاخیر ہو گئی تو ہم نے آپ سے پوچھا: آج رات آپ نے آنے میں تاخیر کر دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج قرآن مجید کا میرا ایک حصہ تلاوت سے رہ گیا تھا، مجھے اسے پورا کئے بغیر آنا اچھا نہ لگا۔ اوس کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا کہ وہ لوگ کیسے حصے مقرر کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلا حزب (حصہ) تین سورتوں کا، دوسرا حزب (حصہ) پانچ سورتوں کا، تیسرا سات سورتوں کا، چوتھا نو سورتوں کا، پانچواں گیارہ اور چھٹا تیرہ سورتوں کا اور ساتواں پورے مفصل کا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسعید (عبداللہ بن سعید الاشیخ) کی روایت کامل ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1393]
سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ثقیف کے وفد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (اس وفد سے) حلیف لوگ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مہمان بن گئے اور (دوسرے) بنی مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خیمے میں اقامت دی۔ مسدد نے کہا: اوس بن حذیفہ اس وفد میں شامل تھے جو ثقیف کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد ہمارے ہاں روزانہ تشریف لاتے اور بات چیت کرتے تھے۔ ابوسعید نے کہا: آپ اپنے پاؤں پر کھڑے کھڑے باتیں کرتے اور زیادہ دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے کبھی ایک پاؤں پر زور دے کر کھڑے ہوتے کبھی دوسرے پر۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالعموم اپنی قوم قریش کے ساتھ بیتے حالات بیان فرمایا کرتے۔ فرماتے: ہم برابر نہ تھے، بلکہ کمزور و ناتواں تھے۔ مسدد کے الفاظ ہیں: مکے میں، جب ہم مدینے آ گئے تو ہم میں اور ان میں لڑائی شروع ہو گئی۔ کبھی ہم ان پر غالب آتے کبھی وہ۔ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مقررہ وقت پر آنے میں تاخیر کر دی تو ہم نے کہا: آج رات آپ تاخیر سے تشریف لائے ہیں؟ فرمایا: میرا ایک جزء قرآن کا رہتا تھا، میں نے اس کی تلاوت مکمل کیے بغیر آنا پسند نہ کیا۔ اوس کہتے ہیں: میں نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کیا کہ آپ لوگ قرآن کے حصے کس طرح کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: پہلا حصہ تین سورتوں کا (بقرہ، آل عمران اور نساء)، دوسرا حصہ پانچ سورتوں کا (مائدہ سے براۃ تک)، تیسرا حصہ سات سورتوں کا (یونس سے نحل تک)، چوتھا حصہ نو سورتوں کا (بنی اسرائیل سے فرقان تک)، پانچواں حصہ گیارہ سورتوں کا (شعراء سے یسین تک)، چھٹا حصہ تیرہ سورتوں کا (صافات سے حجرات تک) اور ساتواں حصہ مفصل کا (ق سے آخر تک)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ابوسعید کی حدیث زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1393]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 178 (1345)، (تحفة الأشراف:1737) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عثمان لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: پہلا حزب: بقرہ، آل عمران اور نساء نامی سورتیں، دوسرا حزب: مائدہ، انعام، اعراف، انفال اور توبہ نامی سورتیں، تیسرا حزب: یونس، ھود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر اور نحل نامی سورتیں، چوتھا حزب: اسرائیل، کہف، مریم، طٰہٰ، انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان نامی سورتیں، پانچواں حزب: شعراء، نمل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، الم تنزیل السجدۃ، احزاب، سبا، فاطر اور یٰسین نامی سورتیں، چھٹواں حزب: صافات، ص، زمر، مومن، حم سجدہ، شوریٰ، زخرف، دخان، جاثیہ، احقاف، محمد، فتح اور حجرات نامی سورتیں، ساتواں حزب: سورہ (ق) سے لے کر اخیر قرآن تک کی سورتیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1345)
عثمان بن عبد اللّٰه بن أوس : روي عنه جماعة و وثقه ابن حبان وقال الذھبي :’’ محله الصدق ‘‘ ولكن في ادراكه جده نظر
انظر المشكوة بتحقيقي (2167)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1394
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن کو تین دن سے کم میں پڑھتا ہے سمجھتا نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1394]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا اس نے اسے سمجھا ہی نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1394]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/القراء ات 13 (2949)، ن الکبری/ فضائل القرآن (8067)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 178 (1347)، (تحفة الأشراف:8950)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 165، 189، 195)، دی/ فضائل القرآن 32 (3514) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2201)
سعيد بن ابي عروبه تابعه شعبة عند الدارمي (1534، نسخه أخري: 1517 وسنده صحيح / معاذ علي زئي)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1395
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ؟ قَالَ:" فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا" ثُمَّ قَالَ:" فِي شَهْرٍ"، ثُمَّ قَالَ:" فِي عِشْرِينَ"، ثُمَّ قَالَ:" فِي خَمْسَ عَشْرَةَ"، ثُمَّ قَالَ:" فِي عَشْرٍ"، ثُمَّ قَالَ:" فِي سَبْعٍ" لَمْ يَنْزِلْ مِنْ سَبْعٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: قرآن کتنے دنوں میں پڑھا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن میں، پھر فرمایا: ایک ماہ میں، پھر فرمایا: بیس دن میں، پھر فرمایا: پندرہ دن میں، پھر فرمایا: دس دن میں، پھر فرمایا: سات دن میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات سے نیچے نہیں اترے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1395]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کتنے دنوں میں قرآن پڑھا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دنوں میں۔ پھر فرمایا: ایک مہینے میں۔ پھر کہا: بیس دنوں میں۔ پھر کہا: پندرہ دنوں میں۔ پھر کہا: دس دنوں میں۔ پھر کہا: سات دنوں میں۔ اور سات سے کم نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/ القراء ات 13 (2947)، ن الکبری/ فضائل القرآن (8068، 8069)، (تحفة الأشراف:8944) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اِس روایت میں وارد لفظ «لم ینزل من سبع» شاذ ہے جو خود ان کی روایت (نمبر 1391) کے برخلاف ہے جس میں تین دن بھی وارد ہوا ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا قوله لم ينزل من سبع شاذ لمخالفته لقوله اقرأه في ثلاث
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (2947 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1396
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: أَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: أَهَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ وَنَثْرًا كَنَثْرِ الدَّقَلِ؟ لَكِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ السُّورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ النَّجْمَ، وَالرَّحْمَنَ فِي رَكْعَةٍ، وَاقْتَرَبَتْ، وَالْحَاقَّةَ فِي رَكْعَةٍ، وَالطُّورَ، وَالذَّارِيَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَإِذَا وَقَعَتْ، وَنُونَ فِي رَكْعَةٍ، وَسَأَلَ سَائِلٌ وَالنَّازِعَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَوَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ، وَعَبَسَ فِي رَكْعَةٍ، وَالْمُدَّثِّرَ، وَالْمُزَّمِّلَ فِي رَكْعَةٍ، وَهَلْ أَتَى، وَلَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فِي رَكْعَةٍ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ، وَالْمُرْسَلَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَالدُّخَانَ، وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ فِي رَكْعَةٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا تَأْلِيفُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَحِمَهُ اللَّهُ.
علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں مفصل پڑھ لیتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تم اس طرح پڑھتے ہو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھا جاتا ہے یا جیسے سوکھی کھجوریں درخت سے جھڑتی ہیں؟ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو ہم مثل سورتوں کو جیسے نجم اور رحمن ایک رکعت میں، اقتربت اور الحاقة ایک رکعت میں، والطور اور الذاريات ایک رکعت میں، إذا وقعت اور نون ایک رکعت میں، سأل سائل اور النازعات ایک رکعت میں، ويل للمطففين اور عبس ایک رکعت میں، المدثر اور المزمل ایک رکعت میں، هل أتى اور لا أقسم بيوم القيامة ایک رکعت میں، عم يتسائلون اور المرسلات ایک رکعت میں، اور اسی طرح الدخان اور إذا الشمس كورت ایک رکعت میں ملا کر پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن مسعود کی ترتیب ہے، اللہ ان پر رحم کرے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1396]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں پورا جزء مفصل (آخری منزل) پڑھ لیتا ہوں۔ انہوں نے کہا: کیا تم شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھتے ہو؟ یا سوکھی ردی کھجوروں کی طرح بکھیرتے ہو؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یکساں قسم کی دو دو سورتیں ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ «النجم» اور «الرحمن» ایک رکعت میں، «اقتربت» اور «الحاقة» ایک رکعت میں، «الطور» اور «الذاريات» ایک رکعت میں، «إذا وقعت» اور «نون» ایک رکعت میں، «سأل سائل» اور «النازعات» ایک رکعت میں، «ويل للمطففين» اور «عبس» ایک رکعت میں، «المدثر» اور «المزمل» ایک رکعت میں، «هل أتى» اور «لا أقسم بيوم القيامة» ایک رکعت میں، «عم يتساءلون» اور «المرسلات» ایک رکعت میں، «الدخان» اور «إذا الشمس كورت» ایک رکعت میں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سورتوں کی یہ مذکورہ ترتیب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف ہے۔ (یعنی ان کے مصحف کی ترتیب اس طرح تھی۔) [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1396]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:9183)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 106 (775)، وفضائل القرآن 6 (4996)، 28 (5043)، صحیح مسلم/المسافرین 49 (722)، سنن الترمذی/الصلاة 305 (الجمعة 69) (602)، سنن النسائی/الافتتاح 75 (1007)، مسند احمد (1/380، 417، 427، 436، 455) (صحیح)» ‏‏‏‏ (مگر سورتوں کی یہ فہرست ثابت نہیں ہے، اور مؤلف کے سوا کسی کے یہاں یہ فہرست ہے بھی نہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون سرد السور
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن وحديث البخاري (4993) ومسلم (822) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1397
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ".
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے کسی رات میں سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھیں تو یہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1397]
عبدالرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات کو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے، یہ اس کو کافی ہو جاتی ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1397]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/فضائل القرآن 10 (5009)، صحیح مسلم/المسافرین 43 (807)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 4 (2881)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (721)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 183 (1369)، (تحفة الأشراف:9999)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/118، 121، 122)، سنن الدارمی/الصلاة 170 (1528)، وفضائل القرآن 14 (3431) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5008) صحيح مسلم (807)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»