سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب تَفْرِيعِ أَبْوَابِ السُّجُودِ وَكَمْ سَجْدَةٍ فِي الْقُرْآنِ
باب: سجدہ تلاوت کا بیان اور یہ کہ قرآن کریم میں کتنے سجدے ہیں؟
حدیث نمبر: 1401
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ الْعُتَقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ كُلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ، مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ، وَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رُوِيَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً" وَإِسْنَادُهُ وَاهٍ.
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن مجید میں (۱۵) سجدے ۱؎ پڑھائے: ان میں سے تین مفصل میں ۲؎ اور دو سورۃ الحج میں ۳؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گیارہ سجدے نقل کئے ہیں، لیکن اس کی سند کمزور ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1401]
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے، ان میں سے تین جزء مفصل (آخری منزل) میں (سورۃ النجم، سورۃ الانشقاق، اور سورۃ العلق میں) اور دو سورۃ الحج میں ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گیارہ سجدے منقول ہیں، البتہ اس کی سند کمزور ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 71 (1057)، (تحفة الأشراف:10735) (ضعیف)» (اس کے راوی حارث لین الحدیث، اور عبد اللہ مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: امام احمد اور جمہور اہل حدیث کے یہاں قرآن مجید میں پندرہ سجدے تلاوت کے ہیں، امام مالک کے نزدیک صرف گیارہ سجدے ہیں، مفصل اور سورہ ص میں ان کے نزدیک سجدہ نہیں ہے، امام شافعی کے نزدیک کل چودہ سجدے ہیں، سورہ ص میں ان کے نزدیک بھی سجدہ نہیں، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک بھی کل چودہ سجدے ہیں، وہ سورہ حج میں ایک ہی سجدہ مانتے ہیں، سجدہ تلاوت جمہور کے نزدیک سنت ہے لیکن امام ابوحنیفہ اسے واجب کہتے ہیں، ائمہ اربعہ اور اکثر علماء کے نزدیک اس میں وضو شرط ہے، امام ابن تیمیہ کے نزدیک شرط نہیں ہے۔
۲؎: سورہ نجم، سورہ انشقت اور اقرأ میں۔
۳؎: یہ کل پانچ سجدے ہوئے اور دس ان کے علاوہ باقی سورتوں: اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، فرقان، نمل، الم تنزیل السجدہ، ص اور فصلت میں، اس طرح کل پندرہ سجدے ہوئے۔
۲؎: سورہ نجم، سورہ انشقت اور اقرأ میں۔
۳؎: یہ کل پانچ سجدے ہوئے اور دس ان کے علاوہ باقی سورتوں: اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، فرقان، نمل، الم تنزیل السجدہ، ص اور فصلت میں، اس طرح کل پندرہ سجدے ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1057)
الحارث بن سعيد مجهول الحال،جھله الجمهور
و حديث أبي الدرداء رواه الترمذي (568،569) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1057)
الحارث بن سعيد مجهول الحال،جھله الجمهور
و حديث أبي الدرداء رواه الترمذي (568،569) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
حدیث نمبر: 1402
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ أَبَا الْمُصْعَبِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1402]
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور جو یہ نہ کرنا چاہے وہ ان کی تلاوت ہی نہ کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 289 (الجمعة 54) (578)، (تحفة الأشراف:9965)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/151، 155) (حسن)» (مشرح کے بارے میں کلام ہے، لیکن دوسری خالد بن حمدان کی مرسل حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن کے درجہ کو پہنچی) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 5؍ 146)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1030)
ابن لھيعة صرح بالسماع و حدث به قبل اختلاطه و مشرح بن ھاعان حسن الحديث فالحديث قوي خلافًا لما ذھب إليه الإمام الترمذي رحمه الله (578)
مشكوة المصابيح (1030)
ابن لھيعة صرح بالسماع و حدث به قبل اختلاطه و مشرح بن ھاعان حسن الحديث فالحديث قوي خلافًا لما ذھب إليه الإمام الترمذي رحمه الله (578)
2. باب مَنْ لَمْ يَرَ السُّجُودَ فِي الْمُفَصَّلِ
باب: مفصل میں سجدہ نہ ہونے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1403
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: رَأَيْتُهُ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَسْجُدْ فِي شَيْءٍ مِنْ الْمُفَصَّلِ مُنْذُ تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مکہ سے مدینہ آ جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مفصل (سورتوں) میں سے کسی سورۃ میں سجدہ نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1403]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف لانے کے بعد جزء مفصل میں کسی مقام پر سجدہ نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:6216) (ضعیف)» (اس کے راوی ابوقدامہ حارث بن عبید اور مطر وراق حافظہ کے بہت کمزور راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث امام مالک کی دلیل ہے، لیکن یہ ضعیف ہے، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث (۱۴۰۷) جو آگے آ رہی ہے کے معارض ہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ متاخر الاسلام ہیں، انہوں نے ساتویں ہجری میں اسلام قبول کیا ہے، نیز ان کی حدیث صحیحین میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو قدامة الحارث بن عبيد : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
إسناده ضعيف
أبو قدامة الحارث بن عبيد : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
حدیث نمبر: 1404
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ" فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ النجم پڑھ کر سنائی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1404]
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم کی تلاوت کی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/سجود القرآن 6 (1072)، صحیح مسلم/المساجد 20 (577)، ت الجمعة 52 (576)، سنن النسائی/الافتتاح 50 (961)، (تحفة الأشراف:3733)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/183، 186)، سنن الدارمی/الصلاة 164 (1513) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1073) صحيح مسلم (577)
حدیث نمبر: 1405
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ زَيْدٌ الْإِمَامَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا.
اس سند سے بھی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زید امام تھے لیکن انہوں نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1405]
خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کرتے ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”زید رضی اللہ عنہ امام تھے اور انہوں نے سجدہ نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:3707) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الدارقطني (1/409، 410 ح 1512 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (566 وسنده حسن) والحديث السابق (1404) شاھد له
أخرجه الدارقطني (1/409، 410 ح 1512 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (566 وسنده حسن) والحديث السابق (1404) شاھد له
3. باب مَنْ رَأَى فِيهَا السُّجُودَ
باب: سورۃ النجم میں سجدہ ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1406
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا، وَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى وَجْهِهِ، وَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہا جس نے سجدہ نہ کیا ہو، البتہ ایک شخص نے تھوڑی سی ریت یا مٹی مٹھی میں لی اور اسے اپنے منہ (یعنی پیشانی) تک اٹھایا اور کہنے لگا: میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد اسے دیکھا کہ وہ حالت کفر میں قتل کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1406]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ النجم کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا اور حاضرین میں سے سب نے سجدہ کیا، سوائے ایک آدمی کے، اس نے کنکریوں کی یا مٹی کی ایک مٹھی لی اور اپنے چہرے کی طرف اٹھائی اور کہا: ”مجھے یہ کافی ہے“۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بعد میں، میں نے اسے دیکھا کہ حالتِ کفر میں قتل کر دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/سجود القرآن 1 (1072)، 4 (1073)، ومناقب الأنصار 29 (3853)، والمغازي 8 (3972)، وتفسیر النجم 4 (4862)، صحیح مسلم/المساجد20 (576)، سنن النسائی/الافتتاح 49 (960)، (تحفة الأشراف:9180)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 401، 443، 462) دي /الصلاة 160 (1506) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1070) صحيح مسلم (576)
4. باب السُّجُودِ فِي { إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ } وَ { اقْرَأْ }
باب: سورۃ ”انشقاق“ اور سورۃ ”علق“ میں سجدے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1407
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورۃ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك الذي خلق» میں سجدہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوہریرہ چھ ہجری میں غزوہ خیبر کے سال اسلام لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ سجدے آپ کے آخری فعل ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1407]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورۃ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1] میں سجدے کیے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فتح خیبر کے موقع پر سن چھ ہجری میں مسلمان ہوئے ہیں اور یہ سجدے کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، سنن الترمذی/الصلاة 285 (الجمعة 50) (573 و 574)، سنن النسائی/الافتتاح 52 (968)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 71 (1058و 1059)، (تحفة الأشراف:14206)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 100(766)، موطا امام مالک/القرآن 5 (12)، مسند احمد (2/249، 461)، سنن الدارمی/الصلاة 163 (1512) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (578)
حدیث نمبر: 1408
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ، فَقَرَأَ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ؟ قَالَ:" سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ" .
ابورافع نفیع الصائغ بصریٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی، آپ نے «إذا السماء انشقت» کی تلاوت کی اور سجدہ کیا، میں نے کہا: یہ سجدہ کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (نماز پڑھتے ہوئے) کیا ہے اور میں برابر اسے کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1408]
ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی، انہوں نے نماز میں سورۃ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] تلاوت کی اور سجدہ بھی کیا، میں نے پوچھا: ”یہ کیسا سجدہ ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے یہ سجدہ کیا ہے اور میں اسے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 100(766)، صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، سنن النسائی/الافتتاح 53 (969)، (تحفة الأشراف: 14649)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/229، 256، 266) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1078) صحيح مسلم (578)
5. باب السُّجُودِ فِي { ص }
باب: سورۃ ”ص“ میں سجدے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1409
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ ص مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْجُدُ فِيهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سورۃ ص کا سجدہ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1409]
عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ”سورۃ ص کا سجدہ واجبی سجدوں میں سے نہیں ہے، جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اس میں سجدہ کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/سجود القرآن 3 (1069)، سنن الترمذی/الصلاة 288 (الجمعة 53) (577)، سنن النسائی/الافتتاح 48 (958)، (تحفة الأشراف:5988)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 161 (1508) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1069)
حدیث نمبر: 1410
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ص، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزَّنَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ لِلسُّجُودِ، فَنَزَلَ، فَسَجَدَ وَسَجَدُوا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ”ص“ پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو“، چنانچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1410]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر سورہ ص کی تلاوت کی۔ جب سجدے کی آیت پر پہنچے تو آپ منبر سے نیچے تشریف لائے اور سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ پھر ایک دوسرا موقع آیا اور آپ نے اسی کی تلاوت فرمائی۔ جب آپ سجدے کی آیت پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک نبی (سیدنا داود علیہ السلام) کی توبہ کا ذکر ہے لیکن میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم سجدہ کرنا چاہتے ہو۔“ چنانچہ آپ اترے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داو د، (تحفة الأشراف:4276)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 161 (1507) (صحیح)»
وضاحت: وضاحت: اس سے مراد داود علیہ السلام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
صححه ابن خزيمة (1455، 1795) وللحديث شواهد عند البيھقي (2/319) وغيره
صححه ابن خزيمة (1455، 1795) وللحديث شواهد عند البيھقي (2/319) وغيره