🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. ذكر الزجر عن أن يكوي المرء شيئا من بدنه لعلة تحدث-
- ذکر منع کہ انسان اپنے جسم کے کسی حصے کو بیماری کی وجہ سے داغ لگائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6081
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ فَاكْتَوَيْنَا، فَمَا أَفْلَحْنَا وَلا أَنْجَحْنَا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (علاج کے طور پر) داغ لگوانے سے منع کیا تھا ہم نے داغ لگوائے، نہ تو ہم نے فلاح پائی اور نہ کامیابی حاصل کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6081]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6081، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7586، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3865، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2049، 2049 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3490، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19604، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20145» «رقم طبعة با وزير 6049»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «التعليق على ابن ماجه» (2/ 252).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6082
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " جَاءَ نَاسٌ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَاحِبٍ لَهُمْ أَنْ يَكْوُوهُ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلُوهُ ثَلاثًا: فَسَكَتَ، وَكَرِهَ ذَلِكَ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ آئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ساتھی کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ اسے داغ لگوانا چاہتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، انہوں نے تین مرتبہ اس بارے میں دریافت کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6082]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6082، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7587، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19609، 19610، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3776» «رقم طبعة با وزير 6050»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [التعليق] قال الشيخ: قلت: إسناده صحيحٌ مُتَّصل بتصريح أبي إسحاق - وهو السبيعي - بسماعه لأبي الأحوص. كما أَمِنَّا اختلاطه برواية شعبه عنه. وهكذا رواه الطيالسي في «مسنده» (39/ 302): حدثنا شعبة ... به.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. ذكر الخبر الذي يعارض في الظاهر هذا الزجر المطلق-
- ذکر خبر جو ظاہری طور پر اس مطلق منع کے خلاف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6083
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" رُمِيَ يَوْمَ الأَحْزَابِ سَعْدٌ فَقُطِعَ أَكْحَلُهُ، فَنَزَفَهُ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ، فَنَزَفَهُ فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ أُخْرَى" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الزَّجْرُ عَنِ الْكَيِّ فِي خَبَرِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: إِنَّمَا هُوَ الابْتِدَاءُ بِهِ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ تُوجِبُهُ، كَمَا كَانَتِ الْعَرَبُ تَفْعَلُهُ تُرِيدُ بِهِ الْوَسْمِ، وَخَبَرُ جَابِرٍ فِيهِ إِبَاحَةُ اسْتِعْمَالِهِ لِعِلَّةٍ تَحْدُثُ مِنْ غَيْرِ الاتِّكَالِ عَلَيْهِ فِي بُرْئِهَا ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَتَضَادُّ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے موقع پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو تیر لگا، ان کی ایک رگ کٹ گئی جس میں سے خون بہنے لگا اور ان کا بازو پھول گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آگ کے ذریعے داغ لگوائے، لیکن ان کا خون بہتا رہا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ انہیں آگ کے ذریعے داغ لگوائے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں داغ لگانے کی ممانعت ابتدائی زمانہ پر محمول ہو گی جو کسی ایسی علت کے بغیر ہے، جو اس کو واجب کرتی ہو، جس طرح عرب کیا کرتے تھے اور اس کے ذریعے مراد «الْوَسْمُ» (یعنی داغ لگوانا) ہے۔ جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں اس طریقے کو اختیار کرنے کے مباح ہونے کا ذکر ملتا ہے، جو کسی ایسی علت کی وجہ سے ہے، جو بعد میں سامنے آئی تھی اور وہ یہ کہ آدمی کے تندرست ہونے میں صرف اس پر تکیہ نہ کیا جائے، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے، جو اس بات کا قائل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول روایات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6083]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2208، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4784، 6083، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8381، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8626، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3866، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1582، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2551، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3494، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14566» «رقم طبعة با وزير 6051»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں