🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ذكر الأمر بالتداوي إذ الله جل وعلا لم يخلق داء إلا خلق له دواء خلا شيئين-
- ذکر حکم کہ علاج کیا جائے کیونکہ اللہ جل وعلا نے کوئی بیماری نہیں بنائی سوائے اس کے کہ اس نے اس کا علاج بھی بنایا، سوائے دو چیزوں کے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6061
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاقَةَ ، سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ ، يَقُولُ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ فِي كَذَا؟ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ: " عِبَادَ اللَّهِ، وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ، إِلا امْرُؤٌ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا، فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ أَنْ نَتَدَاوَى؟ فَقَالَ:" تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ؟ قَالَ:" خُلُقٌ حَسَنٌ" ، قَالَ سُفْيَانُ: مَا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ الْيَوْمَ إِسْنَادٌ أَجْوَدُ مِنْ هَذَا.
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کر رہے تھے کہ کیا ہمیں اس کام کو کرنے میں کوئی گناہ ہو گا؟ ایسا انہوں نے دو مرتبہ پوچھا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے گناہ کو اٹھا لیا ہے ماسوائے اس شخص کے جو اپنے کسی بھائی کی عزت پر حملہ کرے، تو ایسا شخص گناہ کا مرتکب ہو گا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اگر ہم دوا استعمال کریں، تو کیا ہمیں کوئی گناہ ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ کے بندو! تم لوگ دوا استعمال کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری پیدا کی ہے، اس کے لیے دوا بھی پیدا کی ہے۔ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! بندے کو جو کچھ دیا گیا اس میں سے بہتر چیز کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھے اخلاق۔ سفیان کہتے ہیں: آج روئے زمین پر اس سے عمدہ سند اور کوئی نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6061]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2955، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 478، 486، 6061، 6064، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 415، 7523، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3855، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2038، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2672، 3436، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18744، والحميدي فى (مسنده) برقم: 845» «رقم طبعة با وزير 6029»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (292)، «صحيح أبي داود» (1759)، «المشكاة» (4532).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. ذكر الإخبار عن إنزال الله لكل داء دواء يتداوى به-
- ذکر خبر کہ اللہ نے ہر بیماری کے لیے علاج نازل کیا جس سے تداوی کی جاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6062
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلا أَنَزَلَ مَعَهُ دَوَاءٌ، جَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ، وَعَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے ہمراہ اس کی دوا بھی نازل کی ہے، جو شخص اس سے ناواقف رہے وہ ناواقف رہتا ہے اور جو اس کا علم حاصل کر لے اسے اس کا علم ہو جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6062]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6062، 6075، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3438، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19618، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3648، والحميدي فى (مسنده) برقم: 90» «رقم طبعة با وزير 6030»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (451).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. ذكر الإخبار بأن العلة التي خلقها الله جل وعلا إذا عولجت بدواء غير دوائها لم تبرأ حتى تعالج به-
- ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے جو بیماری بنائی اگر اس کا علاج اس کے علاوہ دوائی سے کیا جائے تو وہ ٹھیک نہیں ہوتی جب تک اس کے علاج سے نہ کی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6063
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً، فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بے شک ہر بیماری کی دوا ہے، جب بیماری کی صحیح دوا مل جائے، تو (بیمار) اللہ کے حکم کے تحت تندرست ہو جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6063]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2204، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6063، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7527، 8313، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7514، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19616، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14821، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2036، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 7160» «رقم طبعة با وزير 6031»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. ذكر وصف الشيئين اللذين لا دواء لهما-
- ذکر وصف کہ دو چیزیں ایسی ہیں جن کا کوئی علاج نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6064
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ هُوَ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلا وَقَدْ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، إِلا السَّامَ وَالْهَرَمَ" .
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ دوا استعمال کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی شفاء بھی نازل کی ہے، البتہ موت اور بڑھاپے کا معاملہ مختلف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6064]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2955، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 478، 486، 6061، 6064، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 415، 7523، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3855، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2038، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2672، 3436، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18744، والحميدي فى (مسنده) برقم: 845» «رقم طبعة با وزير 6032»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (392)، وهو مختصر (6029). تنبيه!! رقم (6029) = (6061) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. ذكر الزجر عن تداوي المرء بما لا يحل استعماله من الأشياء كلها-
- ذکر منع کہ انسان ایسی چیزوں سے علاج کرے جن کا استعمال جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6065
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُمْ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ يُقَالُ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ، فَقَالَ: إِنَّا نَصْنَعُ الْخَمْرَ، فَنَهَاهُ عَنْهَا، فَقَالَ: إِنَّمَا نَتَدَاوَى بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ، إِنَّهَا دَاءٌ" .
علقمہ بن وائل اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والا سوید بن طارق (رضی اللہ عنہ) نامی ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا، اس نے عرض کی کہ ہم لوگ شراب بناتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسا کرنے سے منع کر دیا، اس نے عرض کی کہ ہم دوا کے طور پر اسے استعمال کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دوا نہیں ہے بلکہ یہ بیماری ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6065]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1984، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1389، 1390، 6065،وأبو داود فى (سننه) برقم: 3873، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2046، 2046 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2140، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3500،والدارقطني فى (سننه) برقم: 4703، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19089» «رقم طبعة با وزير 6033»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (65): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. ذكر الأمر بإبراد الحمى بالماء بذكر لفظة مجملة غير مفسرة-
- ذکر حکم کہ بخار کو پانی سے ٹھنڈا کیا جائے ایک مجمل لفظ کے ذکر کے ساتھ جو مفسر نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6066
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بخار کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو تم پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6066]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3264، 5723، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2209، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6066، 6067، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7564، 7564 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3472، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1085، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4810» «رقم طبعة با وزير 6034»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6067
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحُمَّى مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ، فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو تم پانی کے ذریعے اسے بجھا دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6067]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3264، 5723، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2209، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6066، 6067، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7564، 7564 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3472، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1085، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4810» «رقم طبعة با وزير 6035»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. ذكر الخبر المفسر للفظة المجملة التي ذكرناها بأن شدة الحمى إنما تبرد بماء زمزم دون غيره من المياه-
- ذکر خبر جو ہمارے ذکر کردہ مجمل لفظ کی تفسیر کرتی ہے کہ بخار کی شدت کو زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کیا جاتا ہے نہ کہ دیگر پانیوں سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6068
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا، فَقَالَ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: الْحُمَّى، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ" .
ابوجمرہ بیان کرتے ہیں: میں لوگوں کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر (انہیں تنگ کرنے) سے روکتا تھا، ایک مرتبہ میں کچھ دن تک نہیں آیا، تو انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں نہیں آئے؟ میں نے جواب دیا: بخار کی وجہ سے۔ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: بے شک بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو تم زم زم کے پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6068]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3261، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6068، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7532، 8322، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7568، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2693، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2732، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 24139» «رقم طبعة با وزير 6036»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. ذكر الخبر المدحض قول من نفى جواز اتخاذ النشرة للأعلاء-
- ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ بیماریوں کے لیے نشرہ لینا جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6069
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، فقال أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " اكْشِفِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ، ثُمَّ أَخَذَ تُرَابًا مِنْ بُطْحَانَ فَجَعَلَهُ فِي قَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ" .
یوسف بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی دعا کی) «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ» اے لوگوں کے پروردگار! تو ثابت بن قیس بن شماس سے تکلیف کو دور کر دے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحان کی مٹی لی، اسے ایسے پیالے میں ڈالا جس میں پانی موجود تھا اور وہ پانی ان پر چھڑک دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6069]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6069، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10789، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3885، والطبراني فى(الكبير) برقم: 1323، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 9118» «رقم طبعة با وزير 6037»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الصحيحة» تحت الحديث (1418).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. ذكر الأمر بالتداوي بالقسط من ذات الجنب-
- ذکر حکم کہ ذات الجنب کے لیے قسط سے علاج کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6070
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ ، أَنَّ أُمَّ قَيْسِ بِنْتَ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ اللاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَخْبَرَتْنِي: أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلامَ تَدْغَرْنَ أَوْلادَكُنَّ بِهَذَا الإِعْلاقِ، عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي بِهِ: الْكُسْتَ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ" ، الْكُسْتُ: يَعْنِي الْقِسْطَ، قَالَهُ: الشَّيْخُ.
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا جو ہجرت کرنے والی ابتدائی خواتین میں شامل ہیں، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کرنے کا شرف حاصل ہے اور یہ سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے ایسے بیٹے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں جو کچھ کھاتا نہیں تھا، اس خاتون نے اس بچے کے گلے کی تکلیف کی وجہ سے اس کا گلا ملا ہوا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس طرح گلا مل کر اپنے بچوں کو تکلیف کیوں پہنچاتی ہو؟ تم «الْعُودُ الْهِنْدِيُّ» عودِ ہندی استعمال کرو (راوی کہتے ہیں: اس سے مراد کست ہے) کیونکہ اس میں سات قسم کی شفا پائی جاتی ہے (یعنی سات بیماریوں سے شفا پائی جاتی ہے) جن میں سے ایک «ذَاتُ الْجَنْبِ» ذات الجنب (نمونیا) ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کست سے مراد قسط ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6070]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 223، 5692، 5693، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 287، ومالك فى (الموطأ) برقم: 207، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 285، 286، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1373، 1374، 6070، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 301، وأبو داود فى (سننه) برقم: 374، 3877، والترمذي فى (جامعه) برقم: 71، والدارمي فى (مسنده) برقم: 768، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 524، 3462، 3462 م، 3468، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27638» «رقم طبعة با وزير 6038»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں