🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب:
باب:
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرَّةَ (1) ، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثني ابن عَجْلان، عن القعقاع بن حَكيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"أكملُ المؤمنينَ إيمانًا، أحسنُهم خُلُقًا" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1 - لم يتكلم عليه المؤلف وهو صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمنین میں ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ کامل وہ شخص ہے جو ان میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے بہتر ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2
حَدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا محمد بن عَمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ نبي الله ﷺ قال:"أكملُ المؤمنين إيمانًا، أحسنُهم خُلُقًا" (3) .
هذا حديث لم يُخرَّج في"الصحيحين"، وهو صحيح على شرط مسلم بن الحجَّاج، فقد استشهد بأحاديثَ للقعقاع عن أبي صالح عن أبي هريرة، ومحمدِ بن عمرو، وقد احتَجَّ بمحمد بن عجلانَ. وقد رُوِيَ هذا الحديث أيضًا عن محمد بن سِيرِين عن أبي هريرة، وشعيبِ بن الحَبْحاب عن أنس، ورواه ابن عُليَّة عن خالد الحَذّاء عن أبي قِلابة عن عائشة، وأنا أخشى أنَّ أبا قلابة لم يسمعه عن عائشة (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمنین میں ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ کامل وہ شخص ہے جو ان میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے بہترین ہو۔
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، لیکن یہ امام مسلم بن حجاج کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے قعقاع بن حکیم عن ابی صالح عن ابی ہریرہ کی احادیث سے استشہاد کیا ہے، نیز محمد بن عمرو اور محمد بن عجلان سے بھی احتجاج و استشہاد ثابت ہے۔
یہ حدیث محمد بن سیرین کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور شعیب بن حبحاب کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ نیز اسے ابن علیہ نے خالد حذاء عن ابی قلابہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، تاہم (امام حاکم فرماتے ہیں کہ) مجھے اندیشہ ہے کہ ابوقلابہ نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے براہِ راست نہیں سنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. الْحُبُّ لِلهِ
اللہ کے لیے محبت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا أبو داود، حدثنا شُعْبة، عن أبي بَلْج. وأخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا شعبة، عن يحيى بن أبي سُلَيم - وهو أبو بَلْج؛ وهذا لفظ حديث أبي داود - قال: سمعت عمرو بن ميمون يحدِّث عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"مَن سَرَّه أن يَجِدَ حلاوةَ الإيمان، فليُحِبَّ المَرْءَ لا يحبُّه إلّا لله" (2) .
هذا حديث لم يخرج في"الصحيحين"، وقد احتجَّا جميعًا بعمرو بن ميمون عن أبي هريرة، واحتجَّ مسلم بأبي بَلْج، وهو حديث صحيح لا يُحفَظ له عِلَّة (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه ترقيم العلميه 3 - لا يحتج به يعني بأبي بلج
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ وہ ایمان کی مٹھاس پائے، اسے چاہیے کہ وہ کسی شخص سے صرف اللہ کی رضا کے لیے محبت کرے۔
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، حالانکہ ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے عمرو بن میمون عن ابی ہریرہ کی روایت سے احتجاج کیا ہے، اور امام مسلم نے ابوبلج سے بھی احتجاج کیا ہے، اور یہ ایسی صحیح حدیث ہے جس کی کوئی علت (نقص) معلوم نہیں ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 3]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. صِفَةُ أَوْلِيَاءِ اللهِ تَعَالَى وَالتَّحْذِيرُ عَنْ مُعَادَاتِهِمْ
اللہ کے اولیاء کی صفات اور ان کی دشمنی سے خبردار کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني الليث بن سعد، عن عياش بن عباس القِتْباني، عن زيد بن أسلمَ، عن أبيه: أنَّ عمرَ خرج إلى المسجد يومًا فوَجَدَ معاذَ بنَ جبل عند قبر رسول الله ﷺ يبكي، فقال: ما يُبكيكَ يا معاذُ؟ قال: يُبكيني حديثٌ سمعتُه من رسول الله ﷺ يقول:"اليسيرُ من الرِّياءِ شِركٌ، ومَن عادى أولياءَ الله فقد بارَزَ اللهَ بالمحارَبة، إنَّ الله يحبُّ الأبرارَ الأتقياءَ الأخفياءَ، الذين إنْ غابُوا لم يُفتَقَدُوا، وإن حَضَروا لم يُعرَفُوا، قلوبهم مصابيحُ الهدى، يَخرُجون من كل غبراءَ مُظلِمة" (1) .
هذا حديث لم يُخرَّج في"الصحيحين"، وقد احتجَّا جميعًا بزيد بن أسلم عن أبيه عن الصحابة، واتفقا جميعًا على الاحتجاج بحديث الليث بن سعد عن عياش بن عباس القِتْباني، وهذا إسنادٌ مصري صحيح، ولا يُحفَظ له عِلّة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4 - صحيح ولا علة له
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک دن مسجد کی طرف نکلے تو انہوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے روتے ہوئے پایا، انہوں نے پوچھا: اے معاذ! آپ کو کس چیز نے رلایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے اس حدیث نے رلایا ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: معمولی سی ریاکاری بھی شرک ہے، اور جس نے اللہ کے ولیوں سے دشمنی کی اس نے اللہ کے ساتھ اعلانیہ اعلانِ جنگ کیا، بے شک اللہ ایسے نیکوکار، متقی اور گمنام لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اگر غائب ہوں تو انہیں تلاش نہیں کیا جاتا اور اگر وہ حاضر ہوں تو انہیں پہچانا نہیں جاتا، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، وہ ہر گرد آلود تاریک فتنوں سے نکل آتے ہیں۔
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، حالانکہ ان دونوں نے زید بن اسلم عن ابیہ کے واسطے سے صحابہ کرام سے احتجاج کیا ہے، اور ان دونوں نے عیاش بن عباس القتبانی سے لیث بن سعد کی روایت پر احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہ ایک صحیح مصری سند ہے جس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 4]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. الْأَمْرُ بِسُؤَالِ تَجْدِيدِ الْإِيمَانِ
ایمان کی تجدید کی دعا کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا أبو الطاهر، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن مَيْسَرة، عن أبي هانئ الخَوْلاني حُميد بن هانئ، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الإيمان لَيَخلَقُ في جوف أحدِكم كما يَخلَقُ الثوبُ الخَلَقُ، فَسَلُوا اللهَ أن يجدِّدَ الإيمانَ في قلوبكم" (1) .
هذا حديث لم يخرَّج في"الصحيحين"، ورواتُه مِصريّون ثقات. وقد احتجَّ مسلم في"الصحيح" بالحديث الذي رواه عن ابن أبي عمر، عن المقرئ، عن حَيْوة، عن أبي هانئ، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ قال:"إنَّ الله - تعالى ذِكرُه - كتب مقاديرَ الخلائق قبل أن يَخلُقَ السماواتِ والأرضَ" الحديث (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5 - رواته ثقات
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک ایمان تمہارے کسی کے اندر (سینے میں) اسی طرح پرانا ہو جاتا ہے جیسے کپڑا پرانا ہو جاتا ہے، پس تم اللہ سے دعا کیا کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید فرما دے (اسے تازہ کر دے)۔
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، جبکہ اس کے راوی ثقہ مصری ہیں۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں اس سند سے احتجاج کیا ہے جو انہوں نے «ابن ابي عمر عن المقرئ عن حيوه عن ابي هانئ عن ابي عبدالرحمن الحبلي عن عبدالله بن عمرو» کے واسطے سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے ہی مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 5]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. صَقْلُ الْقَلْبِ بِالتَّوْبَةِ
توبہ کے ذریعے دل کو صاف کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6
أخبرني أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل العَنبَري، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن ابن عَجْلان، عن القعقاع بن حَكيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا أذنبَ العبدُ نُكِتَ في قلبه نُكْتةٌ سوداءُ، فإن تاب صُقِلَ منها، فإن عاد زادت حتى تَعظُمَ في قلبه، فذاكَ الرَّانُ الذي ذَكَره الله ﷿ ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾  [المطففين: 14]  " (1) .
هذا حديث (2) لم يخرج في"الصحيحين"، وقد احتجَّ مسلم بأحاديثَ للقعقاع بن حَكيم عن أبي صالح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6 - سكت عنه الذهبي في التلخيص في هذا الموضع
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرے تو وہ نکتہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل پر غالب آ جاتا ہے، پس یہی وہ «ران» (زنگ) ہے جس کا ذکر اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾ ہرگز نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر (ان کے برے اعمال کا) زنگ چڑھ گیا ہے۔ [سورة المطففين: 14]
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، حالانکہ امام مسلم نے قعقاع بن حکیم عن ابی صالح کی احادیث سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7
حدثنا الإمام أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن عروة، عن عائشة قالت: لم يَزَلْ رسولُ الله ﷺ يُسأَل عن الساعة حتى نزلت: ﴿فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا (43) إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا﴾  [النازعات: 43، 44]   (3) .
هذا حديث لم يخرَّج في"الصحيحين"، وهو محفوظ صحيح على شرطهما معًا، وقد احتجَّا معًا بأحاديث ابن عُيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (لوگوں کی جانب سے) قیامت کے بارے میں مسلسل سوال کیا جاتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا (43) إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا﴾ آپ کو اس کے ذکر سے کیا واسطہ؟ اس کا علم تو آپ کے رب ہی پر ختم ہے۔ [النازعات: 43، 44]
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، حالانکہ یہ ان دونوں (امام بخاری و مسلم) کی شرط پر محفوظ اور صحیح ہے، اور ان دونوں نے «سفيان بن عيينه عن الزهري عن عروه عن عائشه» کی احادیث سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 7]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8
حدثنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن الأغرِّ، عن أبي هريرة وأبي سعيد: أنهما شَهِدَا على رسول الله ﷺ قال:"إذا قال العبدُ: لا إله إلّا الله واللهُ أكبَرُ، صَدَّقه ربُّه، قال: صَدَقَ عبدي، لا إله إلّا أنا وأنا وحدي، وإذا قال: وحدَه (1) لا شريكَ له، صدَّقه ربُّه قال: صَدَقَ عبدي، لا إله إلّا أنا ولا شريكَ لي، وإذا قال: لا إله إلّا الله له المُلْك وله الحمدُ، قال: صَدَقَ عبدي، لا إله إلّا أنا ليَ الملكُ وليَ الحمدُ، وإذا قال: لا إله إلّا الله ولا حولَ ولا قوةَ إلّا بالله، قال: صَدَقَ عبدي، لا حولَ ولا قوةَ إلّا بي" (2) .
هذا حديث (3) لم يخرَّج في"الصحيحين"، وقد احتجَّا جميعًا بحديث أبي إسحاق عن الأغرِّ عن أبي هريرة وأبي سعيد (4) ، وقد اتفقا جميعًا على الحُجَّة بأحاديث إسرائيل بن يونس عن أبي إسحاق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8 - أوقفه شعبة وغيره
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ کہتا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، تو اس کا رب اس کی تصدیق فرماتا ہے اور کہتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اکیلا ہوں، اور جب وہ کہتا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، تو اس کا رب اس کی تصدیق فرماتا ہے اور کہتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میرا کوئی شریک نہیں، اور جب وہ کہتا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریف ہے، تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہی بھی میری ہے اور تعریف بھی میری ہے، اور جب وہ کہتا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور (گناہوں سے) پھرنے کی ہمت اور (نیکی کی) طاقت اللہ ہی کی توفیق سے ہے، تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، (بدی سے بچنے کی) ہمت اور (نیکی کی) قوت میرے ہی ذریعے ہے۔
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، حالانکہ ان دونوں نے ابواسحاق عن الاغر عن ابی ہریرہ و ابی سعید کی حدیث سے احتجاج کیا ہے، اور ان دونوں کا اسرائیل بن یونس عن ابی اسحاق کی احادیث سے حجت پکڑنے پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 8]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. فَضِيَلُة شَهَادَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَثِقَلُهَا فِي الْمِيزَانِ
کلمہ طیبہ کی فضیلت اور اس کا میزان میں وزن
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا الليث بن سعد، حدثني عامر بن يحيى، عن أبي عبد الرحمن المَعَافِري الحُبُلي قال: سمعتُ عبد الله بنَ عمرو بنِ العاص قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله سيُخلِّصُ رجلًا من أُمتي على رؤوس الخلائق يومَ القيامة، فيَنشُرُ عليه تسعةً وتسعين سِجِلًّا، كلُّ سِجلٍّ مثلُ هذا، ثم يقول: أتنكرُ من هذا شيئًا؟ أظَلَمَكَ كَتَبَتي الحافظون؟ فيقول: لا يا ربِّ، فيقول: أفَلَكَ عذرٌ؟ فيقول: لا يا ربِّ، فيقول: بلى، إنَّ لك عندنا حسنةً، وإنه لا ظُلمَ عليك اليومَ، فتُخرَجُ بِطاقةٌ فيها: أشهد أن لا إله إلّا الله، وأشهد أنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، فيقول: يا ربِّ، ما هذه البطاقةُ مع هذه السِّجِلّات؟ فقال: إنك لا تُظلَمُ، قال: فتوضع السجلاتُ في كِفَّةٍ، والبطاقةُ في كِفَّةٍ، فطاشت السجلاتُ وثَقُلَت البطاقةُ، ولا يَثقُلُ مع اسم الله شيءٌ" (1) .
هذا حديث (2) لم يخرَّج في"الصحيحين"، وهو صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بأبي عبد الرحمن الحُبُلي عن عبد الله بن عمرو بن العاص، وعامرُ بن يحيى مِصريٌّ ثقة، والليث بن سعد إمام، ويونس المؤدِّب ثقةٌ متَّفَق على إخراجه في"الصحيحين".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 9 - هذا على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو تمام مخلوقات کے سامنے پکار کر الگ فرمائے گا، پھر اس کے سامنے (اس کے اعمال کے) ننانوے رجسٹر پھیلائے جائیں گے، ہر رجسٹر کی لمبائی حدِ نگاہ تک ہوگی، پھر اللہ فرمائے گا: کیا تو ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا میرے ان محافظ لکھاریوں (فرشتوں) نے تجھ پر کوئی ظلم کیا ہے؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! نہیں، پھر اللہ فرمائے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! نہیں، تب اللہ فرمائے گا: کیوں نہیں، ہمارے پاس تیری ایک نیکی محفوظ ہے، اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا، چنانچہ ایک پرچی نکالی جائے گی جس میں درج ہوگا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں، وہ شخص کہے گا: اے میرے رب! ان اتنے بڑے رجسٹروں کے مقابلے میں اس چھوٹی سی پرچی کی کیا حقیقت ہے؟ اللہ فرمائے گا: (اطمینان رکھ) تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ تمام رجسٹر ایک پلڑے میں اور وہ پرچی دوسرے پلڑے میں رکھی جائے گی، تو (وزن سے) تمام رجسٹر اڑ جائیں گے اور وہ پرچی بھاری ہو جائے گی، اور اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہو سکتی۔
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، اور یہ امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے ابوعبدالرحمن الحبلی عن عبداللہ بن عمرو بن عاص سے احتجاج کیا ہے، جبکہ عامر بن یحییٰ ثقہ مصری راوی ہیں، لیث بن سعد امام ہیں، اور یونس المؤدب ایسے ثقہ راوی ہیں جن کی روایات کی تخریج پر صحیحین میں اتفاق پایا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 9]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. تَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً
میری امت کے تہتر فرقوں میں بٹنے کی خبر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا أبو الموجِّه، حدثنا أبو عمّار، حدثنا الفضل بن موسى، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"تَفرَّقَت اليهودُ على إحدى وسبعين فِرقةً أو اثنتين وسبعين فِرقةً، والنصارى مثلَ ذلك، وستفترقُ أُمتي على ثلاث وسبعين فِرقةً" (1) .
هذا حديث كبير في الأصول، وقد رُوِيَ عن سعد بن أبي وقَّاص وعبد الله بن عَمرو وعوف بن مالك عن رسول الله ﷺ مِثلُه (2) . وقد احتجَّ مسلم بمحمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة، واتفقا جميعًا على الاحتجاج بالفضل بن موسى، وهو ثقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 10 - ما احتج مسلم بمحمد بن عمرو منفردا بل بانضمامه إلى غيره
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے، اور نصاریٰ بھی اسی طرح (تقسیم ہوئے)، اور میری امت عنقریب تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔
اصولِ دین میں یہ ایک نہایت اہم اور بڑی حدیث ہے، اور اسی طرح کی روایت سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عبداللہ بن عمرو اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے مروی ہے۔
امام مسلم نے محمد بن عمرو عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ کے واسطے سے احتجاج کیا ہے، اور ان دونوں (بخاری و مسلم) کا فضل بن موسیٰ سے احتجاج کرنے پر اتفاق ہے اور وہ ثقہ راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 10]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں