🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. التَّعَوُّذُ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ
ایسے علم سے اللہ کی پناہ مانگو جو نفع نہ دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 361
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن نُعَيم، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا خلف بن خَلِيفة، عن حفصٍ ابن أخي أنس، عن أنس قال: كان من دعاءِ النبي ﷺ:"اللهمَّ إني أعوذُ بك من علمٍ لا يَنفَع، وقلبٍ لا يخشَع، ونفسٍ لا تَشبَع، ودعاءٍ لا يُسمَع"، ويقول في آخر ذلك:"اللهمَّ إني أعوذُ بك من هؤلاءِ الأربع" (2) . وقد بلغني أنَّ مسلم بن الحَجّاج أخرجه من حديث زيد بن أرقَمَ عن النبي ﷺ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 356 - وهذا على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ» اے اللہ! میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جو عاجزی نہ کرے، ایسی نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو، اور ایسی دعا سے جو سنی (قبول کی) نہ جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخر میں یہ فرماتے تھے: اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ امام مسلم بن حجاج نے اسے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 361]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي» [ترقيم الرساله 361] [ترقيم الشركة 355] [ترقيم العلميه 356]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 362
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الضَّرير بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد. وأخبرنا أبو قُتيبة سَلْم بن فضل الأَدَمي بمكة، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجِيَة، حدثنا عَبْدة بن عبد الله الخُزَاعي، حدثنا زيد بن حُبَاب، حدثنا ليث بن سعد المِصري، حدثني خالد بن يزيد، عن عبد الواحد بن قيس، عن عبد الله بن عمرو قال: قالت لي قريش: تكتبُ عن رسول الله ﷺ، وإنما هو بشرٌ يَعْضَبُ كما يَعْضَب البشرُ؟ فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فقلت: يا رسول الله، إنَّ قريشًا تقول: تكتبُ عن رسول الله ﷺ، وإنما هو بشرٌ يَعْضَبُ كما يَعْضَب البشر؟ قال: فأَوْمأَ إِلى شَفَتَيهِ فقال:"والذي نفسي بيده، ما يَخرُجُ مما بينهما إلّا حقٌّ، فاكتُبْ" (1) .
هذا حديث صحيح الأسانيد أصلٌ في نَسْخ الحديث عن رسول الله ﷺ، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا بجميع رُواته إلّا عبد الواحد بن قيس، وهو شيخ من أهل الشام، وابنُه عمر بن عبد الواحد الدمشقي أحد أئمة الحديث. وقد روى عبد الواحد بن قيس عن جماعة من الصحابة منهم أبو هريرة وأبو أُمامة الباهلي ووائلة بن الأسقَع، وروى عنه الأوزاعيُّ أحاديث. ولهذا الحديث شاهدٌ قد اتَّفقا على إخراجه على سبيل الاختصار عن همَّام بن مُنبِّه عن أبي هريرة أنه قال: ليس أحدٌ من أصحاب النبي ﷺ أكثر حديثًا مني إلّا عبد الله بن عمرو، فإنه كان يَكتُب وكنت لا أكتُب. وعن عمرو بن دينار عن وَهْب بن مُنبِّه عن أخيه همَّام عن أبي هريرة نحوه (2) . فأما عبد الواحد بن قيس وحديثُه عن عبد الله بن عمرو، فقد وجدتُ له فيه شاهدًا من حديث عَمرو بن شعيب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 357 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھ سے قریش نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتے ہو وہ سب لکھ لیتے ہو، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں اور اسی طرح غصے میں بھی آتے ہیں جیسے دیگر انسان غصے میں آتے ہیں؟ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! قریش کہتے ہیں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (ہر بات) لکھ لیتے ہیں جبکہ آپ ایک انسان ہیں اور ویسے ہی غصے میں بھی آتے ہیں جیسے دیگر انسان؟ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہونٹوں کی طرف اشارہ فرمایا اور ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! ان دونوں کے درمیان سے حق کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا، لہٰذا تم لکھا کرو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو تحریر میں لانے کے معاملے میں ایک اصل (دلیل) ہے، شیخین نے عبدالواحد بن قیس کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے جو کہ اہل شام کے ایک بزرگ ہیں اور ان کے بیٹے عمر بن عبدالواحد دمشقی ائمہ حدیث میں سے ہیں، اور اس حدیث کا ایک شاہد (تائیدی روایت) بھی موجود ہے جسے شیخین نے «همام بن منبه عن ابي هريره» کے واسطے سے اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 362]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، ولم نقف عليه من هذا الوجه عند غير المصنف، وانظر ما بعده» [ترقيم الرساله 362] [ترقيم الشركة 356] [ترقيم العلميه 357]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 362M
وقد سمعتُ أبا الوليد حسّان بن محمد الفقيه يقول: سمعت الحسن بن سفيان يقول: سمعت إسحاق بن إبراهيم الحَنظَلي يقول: إذا كان الراوي عن عمرو بن شعيب ثقةً، فهو كأيوب عن نافع عن ابن عمر. فأما حديث الشاهد:
امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں کہ اگر عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا راوی خود ثقہ ہو تو پھر یہ سند ثقاہت اور قوت میں ایوب عن نافع عن ابن عمر کی مانند معتبر سمجھی جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 362M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 362M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. الْأَمْرُ بِكِتَابَةِ الْحَدِيثِ
حدیث لکھنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 363
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عبد الرحمن بن سلمان، عن عُقَيل بن خالد، عن عَمْرو بن شعيب، أنَّ شعيبًا حدَّثه ومجاهد، أنَّ عبد الله بن عمرو حدَّثهم أنه قال: يا رسول الله، أكتبُ ما أسمَعُ منك؟ قال:"نعم" قلت: عند الغضب وعند الرِّضا؟ قال:"نَعَم، إنه لا يَنبَغي لي أن أقولَ إلّا حقًّا" (1) . فليَعلَمْ طالبُ هذا العلم أنَّ أحدًا لم يتكلَّم قَطُّ في عمرو بن شعيب (2) ، وإنما تكلَّم مسلم في سماع شعيب من عبد الله بن عمرو، فإذا جاء الحديث عن عمرو بن شعيب عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو، فإنه صحيح، على أني إنما ذكرتُه شاهدًا لحديث عبد الواحد بن قيس. وقد رُوِيَ هذا الحديث بعَيْنه عن يوسف بن ماهَكَ:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں وہ سب کچھ لکھ لیا کروں جو آپ سے سنتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کیا: غصے کی حالت میں بھی اور خوشی کی حالت میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کیونکہ میرے لیے حق کے سوا کچھ کہنا مناسب ہی نہیں ہے۔
علمِ حدیث کے طالب علم کو یہ جان لینا چاہیے کہ کسی نے بھی عمرو بن شعیب پر کبھی کلام نہیں کیا، امام مسلم نے صرف شعیب کے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے سماع پر کلام کیا ہے، لیکن جب یہ روایت مجاہد کے واسطے سے آئے تو یہ صحیح ہے، اور میں نے اسے عبدالواحد بن قیس کی حدیث کے شاہد کے طور پر ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 363]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عمرو بن شعيب، فهو صدوق حسن الحديث» [ترقيم الرساله 363] [ترقيم الشركة 357]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 364
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارِثي، حدثنا يحيى بن سعيد. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله بن الأخنَس، عن الوليد بن عبد الله، عن يوسف بن ماهَك، عن عبد الله بن عمرو قال: كنت أكتبُ كلَّ شيءٍ أسمعُه من رسول الله ﷺ وأريدُ حِفظَه، فنَهَتْني قريش وقالوا: تكتبُ كلَّ شيءٍ تسمعُه من رسول الله ﷺ، ورسولُ الله ﷺ بشرٌ يتكلَّم في الرِّضا والغضب؟! قال: فأمسكتُ، فذَكَرتُ ذلك لرسول الله ﷺ فقال:"اكتُبْ، فوالَّذي نفسي بيده ما خَرَج منه إلّا حقٌّ"، وأشار بيده إلى فيهِ (3) . رواةُ هذا الحديث قد احتجَّا بهم عن آخرهم غير الوليد هذا، وأظنُّه الوليدَ بن أبي الوليد الشامي فإنه الوليد بن عبد الله (1) ، وقد غَلَبَ على أبيه الكُنْية، فإن كان كذلك فقد احتجَّ به مسلم. وقد صحَّت الروايةُ عن أمير المؤمنين عمر بن الخطّاب أنه قال: قيِّدوا العلمَ بالكِتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 359 - إن كان الوليد هو ابن أبي الوليد الشامي فهو على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ بھی سنتا تھا اسے یاد رکھنے کی غرض سے لکھ لیا کرتا تھا، تو قریش نے مجھے روکا اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیتے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں جو خوشی اور غصہ (دونوں حالتوں) میں کلام فرماتے ہیں؟ پس میں رک گیا اور اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس (منہ) سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے اپنے دہنِ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔
اس حدیث کے تمام راویوں سے شیخین نے احتجاج کیا ہے سوائے ولید کے، اور میرا گمان ہے کہ یہ ولید بن ابی ولید شامی ہیں، اگر ایسا ہے تو امام مسلم نے ان سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 364]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، يحيى: هو ابن سعيد القطّان، وأبو المثنى: هو معاذ بن المثنى بن معاذ» [ترقيم الرساله 364] [ترقيم الشركة 358] [ترقيم العلميه 359]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 365
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا أبو عاصم، عن ابن جُرَيج، عن عبد الملك بن عبد الله بن أبي سفيان، أنه سمع عمر بن الخطّاب يقول: قيِّدوا العلمَ بالكتاب (2) . وكذلك الرواية عن أنس بن مالك صحيحٌ من قوله، وقد أُسنِدَ من وجهٍ غير مُعتمَد، فأما الرواية من قوله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 360 - وصح مثله من قول أنس
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: علم کو تحریر کے ذریعے قید (محفوظ) کر لیا کرو۔
اسی طرح یہ روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی ان کے اپنے قول کے طور پر صحیح مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 365]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، من أجل عنعنة ابن جريج - وهو عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج - ثم إنَّ في الإسناد من هذا الطريق هنا سقطًا بين عبد عبد الملك الله وعمر بن الخطاب، بينهما فيه عمرو بن أبي سفيان عمُّ عبد الملك كما سيأتي وهو ثقة- أبو عاصم هو الضحاك بن مخلد النبيل-» [ترقيم الرساله 365] [ترقيم الشركة 359] [ترقيم العلميه 360]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. قَيِّدُوا الْعِلْمَ بِالْكِتَابِ
علم کو لکھ کر محفوظ کرو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 366
فحدَّثَناه أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا محمد بن إدريس الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثني أَبي، عن ثُمَامة، عن أنس: أنه كان يقول لبَنيهِ: قيِّدوا العلمَ بالكتاب (1) . أسنَدَه بعضُ البصريِين عن الأنصاري. وكذلك أسنده شيخٌ من أهل مكة غيرُ مُعتمَدٍ عن ابن جُرَيج:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے بیٹوں سے فرمایا کرتے تھے: علم کو لکھ کر محفوظ کر لیا کرو۔
بعض اہل بصرہ نے اسے مرفوعاً (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے طور پر) بھی بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 366]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل عبد الله بن المثنى الأنصاري، والد محمد ثمامة: هو ابن عبد الله بن أنس بن مالك» [ترقيم الرساله 366] [ترقيم الشركة 360]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 367
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذانَ الجوهري. وأخبرني أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب؛ قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عبد الله بن المؤمَّل، حدثنا ابن جُرَيج، عن عطاء، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله ﷺ:"قَيِّدوا العلمَ" قلت: وما تقييدُه؟ قال:"كِتابتُه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 362 - ابن المؤمل ضعيف
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم کو قید کر لو۔ میں نے عرض کیا: اسے قید کرنے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لکھنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 367]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، عبد الله بن المؤمَّل ضعيف منكر الحديث، وقد اضطرب فيه» [ترقيم الرساله 367] [ترقيم الشركة 361] [ترقيم العلميه 362]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 368
حدثني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن محمد، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا جرير بن حازم، عن يعلى بن حَكِيم، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: لما قُبِضَ رسولُ الله ﷺ قلتُ لرجل من الأنصار: هَلُمَّ فلنسأَلْ أصحابَ رسول الله ﷺ، فإنهم اليومَ كثير، فقال: واعجبًا لك يا ابنَ عباس، أترى الناسَ يَفتقِرون إليك وفي الناس من أصحاب رسول الله ﷺ مَن فيهم؟! قال: فتركتُ ذاك، وأقبلتُ أسألُ أصحابَ رسول الله ﷺ، وإن كان يَبلُغُني الحديثُ عن الرجل فآتي بابَه وهو قائلٌ، فأتوسَّدُ ردائي على بابه تَسْفي الريحُ عليَّ من التراب، فيخرج فيراني فيقول: يا ابنَ عمّ رسول الله، ما جاءَ بك، هلَّا أرسلت إليَّ فآتيَك؟ فأقول: لا، أنا أحقُّ أن آتيَك، قال: فأسأله عن الحديث. فعاش هذا الرجلُ الأنصاريُّ حتى رآني وقد اجتمع الناسُ حولي يسألونني، فيقول: هذا الفتى كان أعقلَ منِّي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، وهو أصلٌ في طلب الحديث وتوقير المحدِّث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 363 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں نے انصار کے ایک صاحب سے کہا: آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے (علم) دریافت کریں کیونکہ وہ آج کثیر تعداد میں موجود ہیں، اس نے کہا: اے ابن عباس! آپ پر تعجب ہے، کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ لوگ (علم کے لیے) آپ کے محتاج ہوں گے جبکہ لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ موجود ہیں؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات چھوڑ دی اور خود صحابہ سے سوال کرنے میں جت گیا، اگر مجھے کسی شخص کے بارے میں یہ پتہ چلتا کہ اس کے پاس کوئی حدیث ہے تو میں دوپہر کے وقت اس کے دروازے پر پہنچ جاتا، میں اپنی چادر کو تکیہ بنا کر اس کے دروازے پر لیٹ جاتا اور ہوا مجھ پر مٹی اڑاتی رہتی، پھر جب وہ صاحب باہر نکلتے اور مجھے دیکھتے تو کہتے: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد! آپ یہاں کیسے آئے؟ آپ نے مجھے پیغام کیوں نہ بھیج دیا، میں خود آپ کے پاس حاضر ہو جاتا؟ میں کہتا: نہیں، میرا حق زیادہ ہے کہ میں آپ کے پاس آؤں، پھر میں ان سے حدیث کے بارے میں سوال کرتا۔ (ابن عباس فرماتے ہیں کہ) وہ انصاری شخص اتنا عرصہ زندہ رہا کہ اس نے مجھے اس حال میں دیکھ لیا کہ لوگ میرے گرد (علم کے لیے) جمع تھے، تو وہ کہنے لگا: یہ نوجوان مجھ سے زیادہ عقل مند تھا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ طلبِ حدیث اور محدث کی توقیر کے معاملے میں ایک بنیادی دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 368]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، صحيح الحارث بن محمد: هو ابن أبي أسامة» [ترقيم الرساله 368] [ترقيم الشركة 362] [ترقيم العلميه 363]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. الْأَصْلُ فِي طَلَبِ الْحَدِيثِ وَتَوْقِيرِ الْمُحَدِّثِ
حدیث طلب کرنے اور محدث کا احترام کرنے کی اصل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 369
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرني ابن جُرَيج، أخبرني يونس بن يوسف، عن سليمان بن يَسَار قال: تفرَّق الناسُ عن أبي هريرة، فقال له ناتِلٌ أخو أهل الشام: يا أبا هريرة، حدِّثنا حديثًا سمعتَه من رسول الله ﷺ، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ أولَ الناس يُقضَى فيه يومَ القيامة ثلاثةٌ: رجلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ به فعرَّفه نِعَمَه فَعَرَفَهَا، فقال: ما عملتَ فيها؟ قال: قاتلتُ في سبيلِك حتى استُشهِدتُ، قال: كذبتَ، إنما أردتَ أن يقال: فلانٌ جريءٌ، فقد قيل، فيُؤمَرُ به فيُسحَبُ على وجهه حتى أُلقيَ في النار. ورجلٌ تعلَّم العلمَ وقرأ القرآنَ، فأُتيَ به فعرَّفه نِعمَه فعَرَفَها، فقال: ما عملتَ فيها؟ قال: تعلَّمتُ العلمَ وقرأتُ القرآن وعلَّمتُه فيك، قال: كذبتَ، إنما أردتَ أن يقال: فلانٌ عالمٌ، وفلانٌ قارئٌ، فقد قيل، فأُمِرَ به فسُحِبَ على وجهه حتى أُلقيَ في النار. ورجلٌ آتاه الله من أنواع المال، فأُتيَ به فعرَّفه نِعمَه فعَرَفَها، فقال: ما عملتَ فيها؟ قال: ما تركتُ من شيء تحبُّ أن أُنفِقَ فيه إلّا أنفقتُ فيه لك، قال: كذبتَ، إنما أردتَ أن يقال: فلانٌ جَوَاد، فقد قيل، فأُمِرَ به فسُحِبَ على وجهه حتى أُلقيَ في النار" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّيَاقة، ويونس بن يوسف: هو ابن عمرو بن حِمَاس الذي يروي عنه مالك بن أنس في"الموطأ"، ومالكٌ الحَكَم في كلِّ من رَوَى عنه، وقد خرَّجه مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 364 - على شرطهما ولم يخرجاه بهذه السياقة
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے منتشر ہوئے، تو اہل شام کے ایک فرد ناتل نے عرض کیا: اے ابوہریرہ! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: قیامت کے دن جن لوگوں کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ تین ہوں گے: ایک وہ شخص جو شہید ہوا، اسے لایا جائے گا تو اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ پوچھے گا: تم نے ان نعمتوں کے بدلے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں قتال کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا، اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ بولا، تم نے تو اس لیے قتال کیا تھا تاکہ کہا جائے کہ فلاں بڑا بہادر ہے، اور وہ کہا جا چکا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دوسرا وہ شخص جس نے علم حاصل کیا، قرآن پڑھا اور دوسروں کو سکھایا، اسے لایا جائے گا اور اللہ اپنی نعمتیں پہچنوائے گا تو وہ پہچان لے گا، اللہ پوچھے گا: تم نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم حاصل کیا، قرآن پڑھا اور تیری رضا کے لیے اسے دوسروں کو سکھایا، اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ بولا، تم نے تو اس لیے علم حاصل کیا تھا کہ تمہیں عالم کہا جائے اور اس لیے قرآن پڑھا کہ تمہیں قاری کہا جائے، اور وہ کہا جا چکا، پھر حکم ہوگا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ تیسرا وہ شخص جسے اللہ نے ہر طرح کے مال سے نوازا تھا، اسے لایا جائے گا اور نعمتیں یاد دلائی جائیں گی تو وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ پوچھے گا: تم نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں خرچ کرنا تجھے پسند ہو مگر وہاں صرف تیری رضا کے لیے خرچ کیا، اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ بولا، تم نے تو اس لیے خرچ کیا تھا تاکہ تمہیں سخی کہا جائے، اور وہ کہا جا چکا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور یونس بن یوسف وہی ابن عمرو بن حماس ہیں جن سے امام مالک نے موطا میں روایت لی ہے، اور امام مسلم نے بھی ان سے تخریج کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 369]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي،،» [ترقيم الرساله 369] [ترقيم الشركة 363] [ترقيم العلميه 364]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں