المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. حُكْمُ الْبُغَاةِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ .
اس امت کے باغیوں کے احکام
حدیث نمبر: 2696
أخبرنا أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا أبي، عن محمد بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أبيه، عن عَمْرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة، أنها قالت: ما رأيتُ مثلَ ما رَغِبَتْ عنه هذه الأُمة مِن هذه الآية: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ﴾ [الحجرات: 9] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2664 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2664 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے نہیں دیکھا کہ اس امت نے کسی چیز سے اس طرح اعراض کیا ہو جیسے اس آیت سے کیا: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ﴾ ”اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ، پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی (بغاوت) کرے تو اس سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔“ [سورة الحجرات: 9]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2696]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2696]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل إسماعيل بن أبي أويس وأبيه، وقد توبعا.» [ترقيم الرساله 2696] [ترقيم الشركة 2679] [ترقيم العلميه 2664]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
9. الْأَمْرُ بِقَتْلِ مَنْ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ .
اس شخص کے قتل کا حکم جو امتِ محمد ﷺ میں تفرقہ ڈالے
حدیث نمبر: 2697
أخبرنا أبو العباس السَّيّاري وأبو محمد الحَليميّ جميعًا بمَرْو، وأبو إسحاق إبراهيم بن أحمد الفقيه البُخاري بنَيسابور، قالوا: حدثنا أبو المُوجِّه محمد بن عمرو الفَزَاري، حدثنا عَبْدان بن عثمان، حدثنا أبو حمزة محمد بن ميمون، عن زياد بن عِلَاقة، عن عَرْفجة بن شُريح الأسلميّ، قال: قال رسول الله ﷺ:"إنها ستكون بعدي هَنَاتٌ وهَنَاتٌ - ورفع يديه - فمن رأيتُموه يريدُ أن يُفرِّقَ أَمرَ أمةِ محمدٍ وهم جَميعٌ، فاقتُلُوه، كائنًا مَن كان من الناس" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وإنما حكمتُ به على الشيخين، لأنَّ شعبة بن الحجّاج وسفيان بن سعيد وشَيبان بن عبد الرحمن ومَعمَر بن راشد قد رَوَوه عن زياد بن عِلاقة، ثم وجدتُ أبا حازم الأشجعي (2) وعامرًا الشعبي وأبا يَعفُور العَبْدي وغيرَهم تابعوا زياد بن عِلاقة على روايتِه عن عَرْفجة، والباب عندي مجموع في جزء، فأغنى ذلك عن ذكر هذه الروايات. وقد أخرج مسلم حديث أبي نَضْرة، عن أبي سعيد، عن النبي ﷺ قال:"إذا بُويع للخليفتَين، فاقتُلُوا الآخِرَ منهما" (1) . وشرَحَه حديث عبد الرحمن بن عبد ربّ الكعبة عن عبد الله بن عمرو، وقد أخرجه مسلم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2665 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وإنما حكمتُ به على الشيخين، لأنَّ شعبة بن الحجّاج وسفيان بن سعيد وشَيبان بن عبد الرحمن ومَعمَر بن راشد قد رَوَوه عن زياد بن عِلاقة، ثم وجدتُ أبا حازم الأشجعي (2) وعامرًا الشعبي وأبا يَعفُور العَبْدي وغيرَهم تابعوا زياد بن عِلاقة على روايتِه عن عَرْفجة، والباب عندي مجموع في جزء، فأغنى ذلك عن ذكر هذه الروايات. وقد أخرج مسلم حديث أبي نَضْرة، عن أبي سعيد، عن النبي ﷺ قال:"إذا بُويع للخليفتَين، فاقتُلُوا الآخِرَ منهما" (1) . وشرَحَه حديث عبد الرحمن بن عبد ربّ الكعبة عن عبد الله بن عمرو، وقد أخرجه مسلم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2665 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عرفجہ بن شریح اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے ہاتھ اٹھا کر) فرمایا: ”عنقریب میرے بعد بہت سے فتنے اور فسادات ہوں گے، پس تم جسے دیکھو کہ وہ امتِ محمدیہ کے معاملے میں تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے جبکہ وہ سب متحد ہوں، تو اسے قتل کر دو، خواہ وہ لوگوں میں سے کوئی بھی ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، میں نے اس پر شیخین کی شرط کا حکم اس لیے لگایا ہے کیونکہ شعبہ بن حجاج، سفیان بن سعید، شیبان بن عبدالرحمن اور معمر بن راشد نے اسے زیاد بن علاقہ سے روایت کیا ہے، پھر مجھے ابوحازم اشجعی، عامر شعبی، ابویعفور عبدی اور دیگر ایسے راوی بھی ملے جنہوں نے عرفجہ سے روایت کرنے میں زیاد بن علاقہ کی متابعت کی ہے، اور اس باب کی تمام روایات میرے پاس ایک جزء میں جمع ہیں اس لیے ان روایات کے ذکر کی مزید ضرورت نہیں رہی۔ نیز امام مسلم نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ابونضرہ کی حدیث نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو خلیفوں کے لیے بیعت کر لی جائے تو ان میں سے بعد والے کو قتل کر دو۔“ اور اس کی شرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ کی حدیث سے ہوتی ہے جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2697]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، میں نے اس پر شیخین کی شرط کا حکم اس لیے لگایا ہے کیونکہ شعبہ بن حجاج، سفیان بن سعید، شیبان بن عبدالرحمن اور معمر بن راشد نے اسے زیاد بن علاقہ سے روایت کیا ہے، پھر مجھے ابوحازم اشجعی، عامر شعبی، ابویعفور عبدی اور دیگر ایسے راوی بھی ملے جنہوں نے عرفجہ سے روایت کرنے میں زیاد بن علاقہ کی متابعت کی ہے، اور اس باب کی تمام روایات میرے پاس ایک جزء میں جمع ہیں اس لیے ان روایات کے ذکر کی مزید ضرورت نہیں رہی۔ نیز امام مسلم نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ابونضرہ کی حدیث نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو خلیفوں کے لیے بیعت کر لی جائے تو ان میں سے بعد والے کو قتل کر دو۔“ اور اس کی شرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ کی حدیث سے ہوتی ہے جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2697]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وقد رواه صدقة بن الفضل المروَزي عن أبي حمزة محمد بن ميمون السّكري عند أبي عوانة (7142) فزاد فيه بين أبي حمزة وبين زياد ليث بن أبي سُليم، وليث بن أبي سليم حسن الحديث في المتابعات والشواهد، لكن أبا حمزة السُّكري لا يُعرف بتدليس، فالظاهر أنه سمعه على الوجهين، ...» [ترقيم الرساله 2697] [ترقيم الشركة 2680] [ترقيم العلميه 2665]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2698
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أبي عِمران الجَوْني، عن عبد الله بن الصامِت، عن أبي ذرٍّ، قال: قال رسول الله ﷺ:"يا أبا ذر، كيف أنتَ وموتٌ يصيبُ الناسَ حتَّى يكون البيتُ بالوَكِيف (3) ؟" - يعني: القَبْرَ - قلتُ: ما خارَ اللهُ لي ورسولُه، ثم قال:"كيف أنتَ وجوعٌ يصيبُ الناسَ حتى تأتيَ مسجدَك، فلا تستطيعَ أن ترجعَ إلى فِراشِك، ولا تستطيعَ أن تقومَ من فِراشِك إلى مسجدك؟" قلت: ما خارَ لي اللهُ ورسولُه، قال:"عليك بالعِفّة"، ثم قال:"كيف أنتَ وقتلٌ يصيب الناسَ حتى تَغرقَ حجارةُ الزيتِ بالدم؟" قال: قلت: ما خارَ اللهُ لي ورسولُه - أو الله ورسوله أعلم - قال:"الْزَمْ منزلَك" قال: فقلت: يا رسول الله، أفلا آخُذُ سيفي فأضربَ به مَن فعل ذاك؟ قال:"فقد شاركتَ القومَ إذًا" قلت: يا رسول الله، فإن دُخِل بيتي؟ قال:"إن خشيتَ أَن يَبْهَرَك شُعاعُ السَّيف، فقُلْ هكذا، فألْقِ طَرَفَ ثوبِك على وجهِك، فيَبُوءُ بإثمِه وإثمِك، ويكونُ من أصحاب النار" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ حماد بن زيد رواه عن أبي عمران الجَوْني، عن المُشعَّث بن طَريف، عن عبد الله بن الصامت:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2666 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ حماد بن زيد رواه عن أبي عمران الجَوْني، عن المُشعَّث بن طَريف، عن عبد الله بن الصامت:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2666 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب لوگوں میں ایسی کثرت سے موت واقع ہوگی کہ گھر (یعنی قبر) ایک غلام کے بدلے ملے گا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول جو میرے لیے پسند فرمائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب لوگوں پر ایسی شدید بھوک آئے گی کہ تم اپنی مسجد تک تو آؤ گے لیکن نقاہت کی وجہ سے واپس اپنے بستر تک جانے کی ہمت نہ پاؤ گے اور بستر سے اٹھ کر مسجد تک آنا تمہارے لیے محال ہو جائے گا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول جو میرے لیے بہتر سمجھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عفت و پاکدامنی اختیار کرنا“ پھر فرمایا: ”تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب لوگوں میں اس قدر قتل و غارت ہوگا کہ «حِجَارَةُ الزَّيْتِ» (مدینہ کا ایک مقام) خون میں ڈوب جائے گا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر میں رہنا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار اٹھا کر اس شخص کا مقابلہ نہ کروں جو ایسا (فتنہ) کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی صورت میں تو تم بھی ان لوگوں کے گناہ میں شریک ہو جاؤ گے“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی زبردستی میرے گھر میں گھس آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں مرعوب کر دے گی تو اس طرح کرنا (اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) اپنی چادر کا ایک کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا، تاکہ وہ اپنے اور تمہارے گناہوں کا بوجھ سمیٹ کر جہنمیوں میں شامل ہو جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ حماد بن زید نے اسے ابوعمران جونی سے، انہوں نے مشعث بن طریف سے اور انہوں نے عبداللہ بن صامت سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2698]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ حماد بن زید نے اسے ابوعمران جونی سے، انہوں نے مشعث بن طریف سے اور انہوں نے عبداللہ بن صامت سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2698]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وقد رواه حماد بن زيد - كما سيأتي بعده - فزاد فيه بين أبي عمران الجوني - واسمه عبد الملك بن حبيب - وبين عبد الله بن الصامت رجلًا هو المشعَّث بن طريف - ويقال في اسمه: المنبعث - وهو رجل معروف جليل القدر كما وصفه الحافظ صالح جزرة، ...» [ترقيم الرساله 2698] [ترقيم الشركة 2681] [ترقيم العلميه 2666]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2699
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، أخبرنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حماد بن زيد قال: حدثني المُشعَّث بن طَرِيف، وكان قاضيًا بهَراة، عن عبد الله بن الصامِت، عن أبي ذر، عن النبي ﷺ، نحوه (1) .
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مثل (گزشتہ حدیث کی طرح) ارشاد فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2699]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد تفرَّد حماد بن زيد فيه بزيادة المشعَّث بن طريف في إسناده كما أوضحناه عند الطريق السابق. والمشعَّث هذا رجل جليل القدر كما وصفه الحافظ صالح بن محمد جزرة، فلو فرضنا ثبوته في هذا الإسناد فإنه يكون صحيحًا أيضًا، ويكون من المزيد في متصل الأسانيد، لكن يعكّر ...» [ترقيم الرساله 2699] [ترقيم الشركة 2681/1]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
10. النَّهْيُ عَنْ قِتَالِ مَنْ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
لا إله إلا الله کہنے والے سے قتال کی ممانعت
حدیث نمبر: 2700
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن يونس بن المسيَّب الضَّبِّي، حدثنا جعفر بن عَوْن، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم وعامر الشَّعْبي، قالا: قال مروان بن الحكم لأيمن بن خُريم: ألا تخرجُ فتُقاتلَ معنا، فقال: إِنَّ أبي وعمِّي شهدا بدرًا، وإنهما عَهِدا إليّ أن لا أُقاتل أحدًا يقول: لا إله إلّا الله، فإن أنت جئتني ببراءةٍ من النار قاتلتُ معك، قال: فاخرُجْ عنا، قال: فخرج وهو يقول: ولست بقاتلٍ رجلًا يصلّي … على سلطانِ آخرَ من قريشِ له سُلْطانُه وعليَّ إثمي … معاذَ اللهِ مِن جَهلٍ وطَيشِ أأقتُلُ مسلمًا في غير جُرْمٍ … فليسَ بنافعي ما عشتُ عَيشي (2)
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والصحابيان اللذان ذُكِرا وشَهِدا بدرًا يصير الحديثُ به في حدود المسانيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2667 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والصحابيان اللذان ذُكِرا وشَهِدا بدرًا يصير الحديثُ به في حدود المسانيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2667 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ایمن بن خریم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے ان سے کہا: کیا تم نکل کر ہمارے ساتھ مل کر قتال نہیں کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا: میرے والد اور میرے چچا دونوں غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور ان دونوں نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ میں کسی ایسے شخص سے قتال نہ کروں جو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہتا ہو، اگر تم میرے پاس جہنم سے برأت (نجات کا پروانہ) لے آؤ تو میں تمہارے ساتھ مل کر قتال کروں گا، مروان نے کہا: ہمارے پاس سے چلے جاؤ، پس وہ یہ اشعار پڑھتے ہوئے نکلے: ”میں کسی ایسے شخص کو قتل کرنے والا نہیں جو نماز پڑھتا ہو... محض قریش کے کسی دوسرے بادشاہ کے اقتدار کی خاطر جس کی اپنی حکومت ہو اور گناہ مجھ پر ہو... میں جہالت اور طیش سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، کیا میں کسی مسلمان کو بغیر کسی جرم کے قتل کر دوں؟ اگر میں ایسا کروں تو جب تک میں زندہ رہوں گا میری زندگی مجھے کوئی نفع نہیں دے گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور جن دو صحابہ کا تذکرہ ہوا جنہوں نے بدر میں شرکت کی تھی، ان کی وجہ سے یہ حدیث مسانید کی حدود میں شامل ہو جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2700]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور جن دو صحابہ کا تذکرہ ہوا جنہوں نے بدر میں شرکت کی تھی، ان کی وجہ سے یہ حدیث مسانید کی حدود میں شامل ہو جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2700]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكن تفرَّد جعفر بن عون من بين سائر أصحاب إسماعيل بن أبي خالد بذكر قيس بن أبي حازم، ومن بين هؤلاء الذين لم يذكروه شعبة ويحيى القطان، وكلهم أجلّ من جعفر بن عون.» [ترقيم الرساله 2700] [ترقيم الشركة 2682] [ترقيم العلميه 2667]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 2701
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرّة، عن أبي البَخْتَري، عن أبي ثَوْر الحُدّاني، قال: بعث عثمانُ بن عفان يومَ الجَرَعة سعيدَ بن العاص إلى الكوفة، قال: فخرجوا إليه فردُّوه، قال: وكنت قاعدًا مع أبي مسعود (1) وحذيفة، فقال أبو مسعود: ما كنتُ أرى أن يرجعَ هؤلاء ولم يُهرَقْ فيها مِحجَمةٌ من دمٍ، وما علمتُ من ذلك شيئًا إلّا شيئًا علمتُه ومحمدٌ ﷺ حيٌّ: أنَّ الرجل يُصبح مؤمنًا ويُمسي وما معه شيءٌ، ويُمسي مؤمنًا ويصبحُ وما معه شيءٌ، يُقاتِل في الفتنة اليومَ ويقتلُه اللهُ غدًا، يُنكِّسُ (2) قلبَه وتَعلُوه اسْتُه، قلت: أسفلُه؟ قال: بلِ استُه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2668 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2668 - صحيح
ابوثور حدانی سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے «يَوْمَ الْجَرَعَةِ» (جرعہ کے دن) سعید بن العاص کو کوفہ کی طرف بھیجا، پس لوگ ان کی طرف نکلے اور انہیں واپس کر دیا، راوی کہتے ہیں: میں سیدنا ابو مسعود اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا تو ابو مسعود نے کہا: میرا یہ خیال نہیں تھا کہ یہ لوگ اس طرح واپس لوٹ جائیں گے کہ پچھنے لگانے کی مقدار جتنا خون بھی نہیں بہے گا، اور مجھے اس فتنہ کے متعلق کوئی علم نہیں تھا سوائے اس کے جو میں نے اس وقت سیکھا تھا جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے: ”کہ آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا اور شام کرے گا تو اس کے پاس (ایمان میں سے) کچھ نہیں ہوگا، اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کرے گا تو کچھ نہ ہوگا، وہ آج فتنہ میں قتال کرے گا اور کل اللہ اسے ہلاک کر دے گا، اس کا دل الٹ دیا جائے گا اور اس کی پیٹھ اوپر ہو جائے گی (یعنی ذلیل و رسوا ہوگا)“ میں نے پوچھا: اس کا نچلا حصہ؟ انہوں نے کہا: ہاں اس کی پیٹھ (یعنی بری طرح الٹ پلٹ جائے گا)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2701]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2701]
تخریج الحدیث: «خبر حسنٌ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الرحمن بن الحسن القاضي، لكنه قد توبع في الروايتين الآتيتين برقم (8555) و (8855)، وكما سيأتي.» [ترقيم الرساله 2701] [ترقيم الشركة 2683] [ترقيم العلميه 2668]
الحكم على الحديث: خبر حسنٌ
حدیث نمبر: 2702
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا سليمان بن بلال، عن علقمة بن أبي علقمة، عن أمّه: أنَّ غلامًا كان لبابَى (1) ، وكان بابَى يضربه في أشياء ويُعاقِبه، وكان الغلامُ يُعادي سيِّدَه فباعه (2) ، فلقيه الغلامُ يومًا ومع الغلام سيفٌ، وذلك في إمْرة سعيد بن العاص، فشَهَرَ العبدُ على بابَى السيفَ وتَفلَّت به عليه، فأمسكَه الناسُ عنه، فدخل بابَى على عائشة، فأخبرها بما فعل العبدُ، فقالت عائشة: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن أشار بحديدةٍ إلى أحدٍ من المسلمين يريد قتلَه، فقد وَجَبَ دمُه". قالت: فخرج بابَى من عندها، فذهب إلى سيد العبدِ الذي ابتاعه منه فاستقالَه فأقالَه، وردَّ إليه، فأخذَه بابَى فقتلَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2669 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2669 - على شرط البخاري ومسلم
علقمہ بن ابی علقمہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”بابی“ نامی ایک شخص کا غلام تھا، ”بابی“ اسے مختلف باتوں پر مارتا پیٹتا اور سزا دیتا تھا، وہ غلام اپنے آقا سے دشمنی رکھتا تھا پس اس نے اسے بیچ دیا، ایک دن وہ غلام اسے ملا اور اس کے پاس تلوار تھی، یہ سعید بن العاص کی امارت کا دور تھا، اس غلام نے بابی پر تلوار سونت لی اور اس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی، مگر لوگوں نے اسے پکڑ لیا، پھر بابی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں غلام کے اس فعل کی خبر دی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس کسی نے مسلمانوں میں سے کسی کی طرف لوہے (ہتھیار) سے اشارہ کیا جبکہ وہ اسے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو اس کا خون حلال ہو گیا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بابی ان کے پاس سے نکلے اور اس غلام کے نئے مالک کے پاس گئے جس نے اسے خریدا تھا اور اس سے بیع منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا، اس نے بیع ختم کر دی اور غلام انہیں واپس کر دیا، بابی نے اسے لیا اور قتل کر دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2702]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2702]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وأم علقمة روى عنها اثنان، وذكرها العجلي وابن حبان في الثقات، وقال ابن سعد: روى عنها ابنُها أحاديث صالحة. قلنا: وقد تفردت بهذا الحديث، وقد احتجَّ الإمام أحمد بخبرها في الحامل ترى الدم أنها لا تصلي، ووافقه على ذلك إسحاق بن راهويه، حكاه عنهما ابن القيم في "زاد ...» [ترقيم الرساله 2702] [ترقيم الشركة 2684] [ترقيم العلميه 2669]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
11. مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فَدَمُهُ هَدَرٌ .
جو تلوار کھینچ لے پھر واپس رکھ دے اس کا خون رائیگاں ہے
حدیث نمبر: 2703
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّريّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب، عن معمر بن راشد، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه، عن ابن الزُّبَير، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن شَهَرَ سيفَه ثم وَضَعَه، فدَمُه هَدْرٌ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2670 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2670 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی تلوار سونتی (بغاوت یا حملے کے لیے) اور پھر اس سے وار کیا تو اس کا خون رائیگاں ہے (یعنی اس کے قصاص یا دیت کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2703]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2703]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا على عبد الله بن الزُّبَير، قد اختُلف في رفعه ووقفه عن معمر، فرواه عنه وهيب - وهو ابن خالد - والفضل بن موسى السِّيناني مرفوعًا، ورواه عنه عبد الرزاق موقوفًا، وكذلك رواه ابن جُرَيج عن عبد الله بن طاووس موقوفًا، ولهذا أنكر رفعه عليُّ بن المديني كما في ...» [ترقيم الرساله 2703] [ترقيم الشركة 2685] [ترقيم العلميه 2670]
الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا على عبد الله بن الزُّبَير
حدیث نمبر: 2704
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني يعقوب بن عبد الرحمن، عن عُمارة بن حَزْم، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"كيف بكم وبزمانٍ - أو (1) يُوشِك أن يأتيَ زمانٌ - يُغربَلُ الناسُ غَربلةً، ويَبقى حُثالةٌ من الناس قد مَرِجَتْ عهودُهم وأماناتُهم، واختَلَفوا فكانوا هكذا" وشَبَّك بين أصابعه، قالوا: فكيف بنا يا رسول الله؟ قال:"تأخذون ما تَعرِفون، وتَدَعُون ما تُنكِرون، وتُقبِلون على أمر خاصّتِكم، وتَدَعُون أمرَ عامّتِكم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. هذا آخر كتاب الجهاد [كتاب النكاح]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2671 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ كِتَابُ النِّكَاحِ
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. هذا آخر كتاب الجهاد [كتاب النكاح]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2671 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ كِتَابُ النِّكَاحِ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا اس وقت - یا قریب ہے کہ وہ وقت آ جائے - جب لوگوں کو اچھی طرح چھان لیا جائے گا (فتنوں کے ذریعے) اور صرف گھٹیا لوگ باقی رہ جائیں گے جن کے عہد و پیمان اور امانتیں بگڑ جائیں گی اور وہ آپس میں اختلاف کریں گے اور وہ اس طرح ہو جائیں گے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے دکھایا، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس وقت ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم پہچانتے ہو (یعنی معروف اور درست ہے) اسے لے لو اور جو تم ناپسند کرتے ہو (یعنی منکر اور غلط ہے) اسے چھوڑ دو، اور اپنے خاص لوگوں (اپنے قریبیوں یا مخصوص دینی معاملات) کی فکر کرو اور عام لوگوں (کے ہجوم اور فتنوں) کے معاملے کو چھوڑ دو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [کتاب النکاح کا آغاز] [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2704]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [کتاب النکاح کا آغاز] [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2704]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن المحفوظ فيه ذكر أبي حازم سلمة بن دينار بين يعقوب بن عبد الرحمن - وهو الإسكندراني - وبين عُمارة بن حزم - وهو عمارة بن عمرو بن حزم - كما في رواية سعيد بن منصور الآتية عند المصنف برقم (8544)، وكما في رواية ...» [ترقيم الرساله 2704] [ترقيم الشركة 2686] [ترقيم العلميه 2671]
الحكم على الحديث: حديث صحيح