🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ
بیوی پر شوہر کا حق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2803
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن المُغيرة السُّكّري بهَمَذان، حدثنا القاسم بن الحَكَم العُرَني، حدثنا سليمان بن داود اليَمَامي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، قال: جاءت امرأةٌ إلى رسول الله ﷺ، فقالت: يا رسول الله، أنا فلانةُ بنت فلانٍ، قال:"قد عرفتُكِ، فما حاجتُك؟" قالت: حاجتي إلى ابن عمِّي فلانٍ العابِد، قال رسول الله ﷺ:"قد عرفتُه" قالت: يَخطُبني، فأخبِرْني ما حقُّ الزوج على الزوجةِ، فإن كان شيئًا أُطيقُه تزوّجتُه، وإن لم أُطِقْ لا أتزوّج، قال:"مِن حقِّ الزوج على الزوجةِ أن لو سالَ مَنْخِراهُ دمًا وقَيْحًا وصَديدًا فلَحِسَتْه بلسانها، ما أدَّت حقَّه، لو كانَ ينبغي لبشرٍ أن يَسجُدَ لبشرٍ، لأمرتُ المرأةَ أن تَسجُدَ لزوجِها إذا دخل عليها، لِمَا فضَّله اللهُ عليها"، قالت: والذي بعثك بالحقّ لا أتزوّجُ ما بقِيتُ في الدنيا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2768 - بل منكر وسليمان واه والقاسم صدوق تكلم فيه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں فلاں کی بیٹی فلاں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں پہچان لیا، تمہاری حاجت کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: میری ضرورت میرے چچا زاد بھائی فلاں عابد کے متعلق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اسے (بھی) جانتا ہوں، اس نے عرض کیا: وہ مجھے نکاح کا پیغام دے رہا ہے، تو آپ مجھے بتائیں کہ شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا حق ہوا جسے میں نبھا سکی تو میں اس سے نکاح کر لوں گی، ورنہ میں نکاح نہیں کروں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر کا بیوی پر حق یہ ہے کہ اگر اس کے نتھنوں سے خون، پیپ اور زرد پانی بہہ رہا ہو اور وہ اسے اپنی زبان سے چاٹ لے تب بھی اس نے اس کا حق ادا نہیں کیا، اور اگر کسی انسان کے لیے یہ جائز ہوتا کہ وہ کسی انسان کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ جب اس کا شوہر اس کے پاس آئے تو وہ اسے سجدہ کرے، اس فضیلت کی بنا پر جو اللہ نے اسے (شوہر کو) اس (بیوی) پر دی ہے، اس نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں جب تک دنیا میں رہوں گی کبھی نکاح نہیں کروں گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2803]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود اليمامي، فهو واهٍ كما قال المنذري في "الترغيب والترهيب" 3/ 35، والذهبي في "تلخيص المستدرك"، وقد خالفَه محمد بن عمرو بن علقمة، فرواه عن أبي سلمة عن أبي هريرة مقتصِرًا على ذكر السجود، فهذا هو المحفوظ في حديث أبي هريرة.» [ترقيم الرساله 2803] [ترقيم الشركة 2784] [ترقيم العلميه 2768]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود اليمامي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2804
أخبرني أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن بُشَير بن يَسار، عن حُصين بن مِحْصَن قال: حدثتني عمّتي، قالت: أتيتُ النبي ﷺ في بعض الحاجة، فقال:"أيْ هذه، أذاتُ بَعْلٍ أنتِ؟" قلت: نعم، قال:"كيف أنتِ له؟" قالت: ما آلُوه إلّا ما عَجَزْتُ عنه، قال:"فأين أنتِ منه، فإنما هو جَنّتُكِ ونارُكِ" (1) . هكذا رواه مالك بن أنس، وحماد بن زيد، والدَّرَاوردي (2) ، عن يحيى بن سعيد، وهو صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2769 - صحيح
حصین بن محصن اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کسی ضرورت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اے خاتون! کیا تم شوہر والی ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اس کے ساتھ کیسی ہو؟ انہوں نے عرض کیا: میں اس کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی مگر وہی جس سے میں عاجز آ جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غور کرو کہ تم اس کے لیے کیسی ہو، کیونکہ وہی تمہاری جنت اور تمہاری دوزخ ہے۔
یہ روایت امام مالک بن انس، حماد بن زید اور دراوردی نے یحییٰ بن سعید سے نقل کی ہے اور یہ صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2804]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،إن شاء الله من أجل حُصَين بن مِحْصَن، وقد ذكره بعضُهم في الصحابة، وبعضهم ذكره في التابعين كما نبَّه عليه الحافظُ في "الإصابة" 2/ 89، وكونه تابعيًا هو الأظهر، لأنه ليست له رواية عن النبي ﷺ كما قال ابن السكن وما وقع في بعض طرق هذا الحديث عن يحيى ...» [ترقيم الرساله 2804] [ترقيم الشركة 2785] [ترقيم العلميه 2769]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2805
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب وأبو عبد الله علي بن عبد الله الحَكِيمي، قالا: حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا بِشر بن عمر الزَّهْراني، حدثنا شعيب بن رُزَيق الطائفي، حدثنا عطاء الخُراساني، عن مالك بن يُخَامر السَّكْسَكي، عن معاذ بن جبل، عن رسول الله ﷺ، قال:"لا يَحِلُّ لامرأةٍ تُؤمن بالله واليوم الآخر أن تأذَنَ في بيت زوجها وهو كارِهٌ، ولا تَخرُجَ وهو كارِهٌ، ولا تُطيعَ فيه أحدًا، ولا تُخَشِّنَ بصَدْرِه، ولا تعتزلَ فِراشَه، ولا تُصَرِّبَهُ (1) ، فإن كان هو أظلمَ، فلتأتِه حتى تُرضيَه، فإن كان هو قَبِلَ منها، فبِها ونِعْمَتْ، وقَبِلَ اللهُ عُذْرَها وأفْلَجَ حُجَّتَها، ولا إثمَ عليها، وإن هو أَبَى يَرضى عنها، فقد أبلغَتْ عند الله عُذْرَها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2770 - بل منكر وإسناده منقطع
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں اس کی ناپسندیدگی کے باوجود کسی کو آنے کی اجازت دے، نہ اس کی مرضی کے بغیر گھر سے نکلے، نہ گھر کے معاملات میں (شوہر کے مقابلے میں) کسی کی اطاعت کرے، نہ اس کے سامنے سختی اور بدکلامی کرے، نہ اس کے بستر سے علیحدگی اختیار کرے اور نہ ہی اسے مارے (تکلیف پہنچائے)، پس اگر شوہر ہی زیادہ زیادتی کرنے والا ہو تو وہ (بیوی) اس کے پاس جائے یہاں تک کہ اسے راضی کر لے، پس اگر وہ اس سے (صلح) قبول کر لے تو یہ بہت اچھا ہے اور اللہ اس کا عذر قبول فرمائے گا اور اس کی دلیل کو واضح کر دے گا اور اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا، لیکن اگر شوہر راضی ہونے سے انکار کر دے تو اس عورت نے اللہ کے ہاں اپنا عذر پہنچا دیا (یعنی وہ بری الذمہ ہو گئی)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2805]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل عطاء بن أبي مسلم الخراساني وشعيب بن رُزيق: وهو أبو شيبة الشامي، لا الطائفي كما وقع في رواية المصنف، فإنه وهمٌ، فالشامي هو المعروف بالرواية عن عطاء الخراساني. وقول الذهبي في "تلخيصه" بأنه منقطع، لا ندري ما وجهه، فإن كان أراد نفي سماع مالك من معاذ فغَير ...» [ترقيم الرساله 2805] [ترقيم الشركة 2786] [ترقيم العلميه 2770]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى امْرَأَةٍ لَا تَشْكَرُ لِزَوْجِهَا
اللہ اس عورت کی طرف نہیں دیکھتا جو اپنے شوہر کی ناشکری کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2806
حدثنا بكر بن محمد بن حَمْدان المروَزي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا شاذُّ بن فَيّاض، حدثنا عمر بن إبراهيم، عن قَتَادة، عن سعيد بن المسيّب، عن عبد الله بن عمرو، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يَنظُرُ اللهُ إلى امرأةٍ لا تَشكُرُ لِزوجها وهي لا تَستغني عنه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2771 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس عورت کی طرف (نظرِ رحمت سے) نہیں دیکھتا جو اپنے شوہر کا شکر ادا نہیں کرتی حالانکہ وہ اس سے بے نیاز بھی نہیں ہوتی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2806]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، إلّا أنه قد اختلف فيه على قتادة، فرواه مرة مرفوعًا ومرة موقوفًا، وعمر بن إبراهيم - وهو العَبْدي - في روايته عن قتادة خاصةً كلامٌ، وقد اختلف عليه، فروي عنه مرة بذكر الحسن البصري بدل سعيد بن المسيب، والصحيح أنه بذكر سعيد ...» [ترقيم الرساله 2806] [ترقيم الشركة 2787] [ترقيم العلميه 2771]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. النِّسَاءُ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ
عورتیں دوزخ میں زیادہ ہوں گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2807
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا سفيان، عن منصور والأَعمش، عن ذَرٍّ. وأخبرنا عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل - واللفظُ له - حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرير، عن منصور، عن ذَرٍّ، عن وائل بن مَهَانة السَّعدي، عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ:"يا معشرَ النساء، تَصدَّقْنَ ولو من حُلِيِّكُنَّ، فإنكنَّ أكثرُ أهلِ جهنَّم"، فقالت امرأةٌ ليست من عِلْية النساء: وبِمَ يا رسول الله نحن أكثرُ أهل جهنّم؟ قال:"إنكن تُكثِرنَ اللَّعْن، وتَكفُرنَ العَشِيرَ. وما وُجِدَ من ناقصِ الدِّين والرأي أغْلبَ للرجال ذوي الأمر على أُمورهم، مِن النساء" قالوا: وما نَقْصُ دينِهنّ ورأيِهنّ؟ قال:"أمَّا نَقْصُ رأيهِن، فجُعلَت شهادةُ امرأتَين بشهادة رجلٍ، وأما نَقْصُ دينِهِنّ، فإنَّ إحداهن تقعُد ما شاء اللهُ من يومٍ وليلةٍ لا تَسجُدُ لله سجدةً" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2772 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو خواہ اپنے زیورات ہی میں سے کیوں نہ ہو، کیونکہ تم جہنم والوں میں اکثریت میں ہو، تو ایک خاتون نے جو بڑے طبقے سے نہیں تھی عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم جہنم والوں میں اکثریت میں کیوں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ اور میں نے دین اور عقل میں ناقص ہونے کے باوجود (تم سے زیادہ) کسی کو بااثر مردوں کی عقلوں پر غالب آنے والا نہیں دیکھا، لوگوں نے پوچھا: ان کے دین اور عقل کا نقصان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک عقل کے نقصان کا تعلق ہے تو دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر قرار دی گئی ہے، اور دین کا نقصان یہ ہے کہ تم میں سے کوئی عورت کئی دن اور راتیں ایسی گزارتی ہے کہ اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہیں کرتی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2807]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن إن شاء الله، وائل بن مهانة تابعي كبير، ذكره ابن سعد ومسلم في الطبقة الأولى من أهل الكوفة، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وصحَّح حديثه هذا، لكن قوله في الحديث: وما وُجد من ناقص … إلى آخره، إنما هو من قول ابن مسعود، كما جاء ...» [ترقيم الرساله 2807] [ترقيم الشركة 2788] [ترقيم العلميه 2772]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2808
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلّام، عن جدِّه، قال: كتب معاويةُ إلى عبد الرحمن بن شِبْل: أَنْ عَلِّمِ الناسَ ما سمعتَ من رسول الله ﷺ، فقال: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ الفُسّاق هم أهلُ النار" قالوا: يا رسول الله، ومَن الفُسّاق؟ قال:"النساءُ" قالوا: يا رسول الله، ألسنَ أمهاتِنا وبناتِنا وأخواتِنا؟ قال:"بلى، ولكنهنَّ إذا أُعطِينَ لم يَشكُرنَ، وإذا ابتُلِينَ لم يَصبِرنَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2773 - على شرط مسلم
سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یقیناً فساق ہی جہنم والے ہیں، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فساق کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتیں، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ ہماری مائیں، بیٹیاں اور بہنیں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں (وہ ہیں تو سہی)، لیکن ان کا حال یہ ہے کہ جب انہیں دیا جائے تو وہ شکر نہیں کرتیں اور جب انہیں کسی آزمائش میں ڈالا جائے تو وہ صبر نہیں کرتیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2808]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن وهم فيه معمر - وهو ابن راشد - بإسقاط أبي راشد الحُبراني بين جدِّ زيد بن سلّام؛ وهو أبو سلّام ممطور الحبشي، وبين عبد الرحمن بن شِبْل، وقد روي هذا الحديث بهذا الإسناد مجموعًا إلى حديثين آخرين تقدم أحدهما برقم (2174) و (2175)، ...» [ترقيم الرساله 2808] [ترقيم الشركة 2789] [ترقيم العلميه 2773]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2809
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن إياس بن عبد الله ابن أبي ذُباب، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تضرِبُوا إماءَ الله" فجاء عمرُ إلى النبي ﷺ، فقال: يا رسول الله، قد ذَئِرنَ النساءُ على أزواجهنّ، فأَذِنَ رسولُ الله ﷺ أن يَضربوهنّ، قال: فأطافَ بآل محمد ﷺ سبعون امرأةً، كلُّهن يشتَكين أزواجَهنَّ، فقال رسول الله ﷺ:"ليس (1) أولئك خِيارَكم" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أم كُلثوم بنت أبي بكر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2774 - صحيح
سیدنا ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو مت مارو، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: عورتیں اپنے شوہروں پر شیر ہو گئی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (تادیباً) مارنے کی اجازت دے دی، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے گرد ستر عورتیں جمع ہو گئیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کر رہی تھیں، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ (جو عورتوں کو مارتے ہیں) تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی ایک شاہد روایت ام کلثوم بنت ابی بکر کی سند سے بھی صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2809]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد تقدم برقم (2800).» [ترقيم الرساله 2809] [ترقيم الشركة 2790] [ترقيم العلميه 2774]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2810
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلمي، حدثنا سعيد بن كَثير بن عُفَير وسعيد بن أبي مريم، قالا: حدثنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن حُميد بن نافع، عن أم كُلثوم بنت أبي بكر، قالت: كان الرجالُ نُهوا عن ضَرْب النساءِ، ثم شَكَوهُنَّ إِلى رسول الله ﷺ، فخلَّى بينهم وبين ضربِهنَّ (3) ، ثم قال:"لقد أطافَ الليلةَ بآل محمد ﷺ سبعونَ امرأةً كلُّهن قد ضُربتْ". قال يحيى: وحسبتُ أنَّ القاسم قال: ثم قيل لهم بعدُ:"ولن يَضربَ خِيارُكم" (1) .
ام کلثوم بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مردوں کو عورتوں کو مارنے سے منع کیا گیا تھا، پھر مردوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کی رخصت دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے گرد ستر عورتیں اکٹھی ہوئی ہیں جن سب کو مارا گیا ہے، یحییٰ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ قاسم نے یہ بھی کہا کہ اس کے بعد ان سے کہہ دیا گیا: تم میں سے بہتر لوگ کبھی نہیں ماریں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2810]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وهو مرسل، لأنَّ أم كلثوم بنت أبي بكر» [ترقيم الرساله 2810] [ترقيم الشركة 2791]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. ضَرْبُ عُنُقِ مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ
جو شخص اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرے اس کی گردن مارنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2811
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا يحيى بن فَصِيل، حدثنا الحسن بن صالح، عن السُّدِّي، عن عَدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، قال: لَقِيتُ خالي ومعه الرايةُ، قلت: أين تريدُ؟ قال: بَعَثَني النبيُّ ﷺ إلى رجلٍ تَزوّج امرأةَ أبيه من بعدِه، فأمرني أن أضربَ عُنقَه (2)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شواهد عن عَدِيّ بن ثابت، وعن البراء مِن غير حديث عَدِيِّ بن ثابت:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری ملاقات اپنے ماموں (سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ) سے ہوئی جبکہ ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، میں نے پوچھا: آپ کا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے بعد اس کی بیوی (اپنی سوتیلی ماں) سے نکاح کر لیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کے عدی بن ثابت اور براء سے دیگر شواہد بھی موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2811]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح إن شاء الله، وهذا إسناد لا بأس برجاله غير يحيى بن فَصيل - وهو الغَنوي الكوفي - فحسن في المتابعات والشواهد، وقد توبع. وقد اختُلف على عدي بن ثابت فيه اختلافًا لا يضرُّ كما أشار ابن القيم في "حاشيته على سنن أبي داود" 6/ 266، وسنذكر هذه الخلافات، ...» [ترقيم الرساله 2811] [ترقيم الشركة 2792]

الحكم على الحديث: حديث صحيح إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2812
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الرَّبيع بن الرُّكَين بن الرَّبيع بن عُمَيلة، قال: سمعتُ عديّ بن ثابت يحدِّث عن البراء بن عازب، قال: مَرَّ بنا ناسٌ يَنطلِقون، فقلنا لهم: أين تَذهبُون؟ قالوا: بعثَنا رسولُ الله ﷺ إلى رجلٍ يأتي امرأةَ أبيه أن نَقتُلَه (1) . وأما حديث أبي الجَهْم عن البراء:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس سے کچھ لوگ گزرے جو (کسی مہم پر) جا رہے تھے، ہم نے ان سے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے تاکہ ہم اسے قتل کر دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2812]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح إن شاء الله، وهذا إسناد رجاله ثقات غير الرَّبيع بن الرُّكين، فقد روى عنه- شعبة ومروان بن معاوية الفَزاري، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد توبع في الطريق التي قبل هذه، وانظر تمام الكلام عليه هناك.» [ترقيم الرساله 2812] [ترقيم الشركة 2793]

الحكم على الحديث: حديث صحيح إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں