🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. الْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا
ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2764
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المُعَافى بن سليمان الحرّاني، حدثنا زهير، حدثنا أبو إسماعيل الأسْلمي، أنَّ أبا حازم حدّثه عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ، فقال: إني تزوّجتُ امرأةً من الأنصار على ثماني أَواقٍ، فتَفزَّع لها رسولُ الله ﷺ، فقال:"كأنما تَنحِتُون الفضةَ من عُرْضِ هذا الجبل، هل رأيتَها، فإنَّ في عُيون الأنصار شيئًا؟" قال: قد رأيتُها، قال:"ما عندنا شيءٌ، ولكنا سنبعثُك في بَعْثٍ، وأنا أرجو أن تُصيبَ خيرًا"، فبعثه في ناسٍ إلى ناسٍ من بني عَبْس، وأمر لهم النبي ﷺ بناقةٍ فحَمَلُوا عليها متاعَهم، فلم تَرِمْ إلّا قليلًا حتى بَرَكَتْ فأعْيَتْهم أن تَنبَعِثَ، فلم يكن في القوم أصغرَ من الذي تزوّج، فجاء إلى نبيّ الله ﷺ وهو مُستلْقٍ في المسجد، فقام عند رأسه كراهيةَ أن يُوقظه، فانتبه نبيُّ الله ﷺ، فقال: يا نبيّ الله، إنَّ الذي أعطيتَنا أحببنا أن تَبتَعِثَه، فناولَه نبيُّ الله ﷺ يمينَه، وأخذَ رداءه بشمالِه فوضعه على عاتِقِه، وانطلق يمشي حتى أتاها، فضربها بباطن قدمِه، والذي نفسُ أبي هريرة بيده لقد كانت بعدَ ذلك تَسبِقُ القائد، وإنهم نزلوا بحَضْرة العدوّ، وقد أوقَدُوا النيران، فأحاط بهم فتفرَّقوا عليهم، وكبَّروا تكبيرةَ رجلٍ واحدٍ، وإِنَّ الله هَزمَهم وأَسَرَ منهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرج مسلم من حديث شعبة (1) ، عن أبي إسماعيل، عن أبي حازم، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا تزوج، فقال رسول الله ﷺ:"هلّا نظرتَ إليها" فقط، وأبو إسماعيل هذا هو بَشير بن سلْمان، وقد احتجا جميعًا به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2729 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے انصار کی ایک خاتون سے آٹھ اوقیہ مہر پر نکاح کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر حیران ہوئے اور فرمایا: گویا کہ تم لوگ اس پہاڑ کے پہلو سے چاندی تراش کر نکالتے ہو (یعنی اتنا زیادہ مہر!)، کیا تم نے اسے دیکھ لیا تھا؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ (مخصوص نقص یا رنگت) ہوتی ہے۔ اس نے عرض کیا: جی میں نے اسے دیکھ لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس (تمہیں دینے کے لیے) تو کچھ نہیں ہے، لیکن ہم تمہیں ایک لشکر میں بھیجیں گے اور مجھے امید ہے کہ وہاں سے تمہیں خیر حاصل ہو جائے گی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بنو عبس کے ایک قبیلے کی طرف روانہ ہونے والے چند لوگوں میں شامل کر دیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک اونٹنی کا حکم دیا جس پر انہوں نے اپنا سامان لاد لیا، لیکن وہ ابھی تھوڑا ہی چلی تھی کہ تھک کر بیٹھ گئی اور لوگوں کے اٹھانے کے باوجود نہ اٹھی، اس قافلے میں اس (نو بیاہتا) شخص سے چھوٹا کوئی نہ تھا، چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تکیہ لگائے لیٹے ہوئے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کھڑا رہا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا ناگوار نہ ہو، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! جس اونٹنی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سوار کیا تھا ہم چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا (دے) دیں، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اسے تھمایا اور اپنے بائیں ہاتھ سے اپنی چادر پکڑ کر اسے کندھے پر ڈالا اور چلتے ہوئے اس اونٹنی کے پاس پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے تلوے سے ضرب لگائی، تو اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں ابوہریرہ کی جان ہے! وہ اونٹنی اس کے بعد ہانکنے والے سے بھی آگے نکل جاتی تھی، پھر وہ دشمن کے سامنے پہنچے جبکہ انہوں نے آگ روشن کر رکھی تھی، مسلمانوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور سب نے مل کر ایک ہی شخص کی طرح ایک ساتھ تکبیر بلند کی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دے دی اور ان کے لوگوں کو قیدی بنا لیا گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، امام مسلم نے صرف شعبہ کی حدیث سے اتنا حصہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے نکاح کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے دیکھ لیا تھا؟ اور اس کے راوی ابواسماعیل، بشیر بن سلمان ہیں، جن سے شیخین نے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2764]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وأبو إسماعيل الأسلمي هو بَشير بن سلمان، كما جَزَمَ المصنِّف، ويؤيده أنه وقع مقيدًا بذلك في إسناد حديث آخر من طريق زهير - وهو ابن معاوية - عنه عن أبي حازم - وهو سلمان الأشجعي - عن أبي هريرة، عند أبي عوانة (8305)، حيث قال فيه زهير: حدثنا بشير ...» [ترقيم الرساله 2764] [ترقيم الشركة 2745] [ترقيم العلميه 2729]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2765
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد. وأخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن أبي حَدْرد الأسلَمي: أنه أتى النبي ﷺ يَستعينُه في مهر امرأةٍ، فقال:"كم أمهَرْتَها؟"، فقال: مئتي درهم، فقال ﷺ:"لو كنتم تَعْرِفُون من بُطحانَ ما زِدْتُم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2730 - صحيح
سیدنا ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے مہر کے سلسلے میں مدد لینے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم نے کتنا مہر طے کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: دو سو درہم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم وادیِ بطحان سے چاندی تراش کر نکال رہے ہوتے تو بھی اس سے زیادہ مہر نہ رکھتے (یعنی یہ مہر تمہاری حیثیت کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2765]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إن شاء الله لكن بذكر ابن أبي حدرد بدل أبي حدرد، وهو عبد الله بن أبي حدرد، فقد رُوي هذا الحديث من غير وجه عنه كما سيأتي. وقال الواقدي فيما نقله عنه ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 5/ 215: إنما الحديث أنَّ ابن أبي حدرد الأسلمي استعان رسولَ الله ﷺ في مهر امرأته.» [ترقيم الرساله 2765] [ترقيم الشركة 2746] [ترقيم العلميه 2730]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. تَفْسِيرُ الْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ
قناطیرِ مقنطرہ کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2766
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى بن زيد اللَّخْمي بتِنِّيس، حدثنا عمرو بن أبي سلمة، حدثنا زهير بن محمد، حدثنا حميد الطويل ورجل آخر، عن أنس بن مالك، قال: سُئل رسول الله ﷺ عن قول الله ﷿: ﴿وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ﴾ [آل عمران: 14] ، قال:"القِنطار ألفا أُوقيّة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2731 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس ارشاد: ﴿وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ﴾ اور ڈھیروں جمع کیے ہوئے خزانے [سورة آل عمران: 14] کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قنطار دو ہزار اوقیہ کے برابر ہوتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2766]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل أحمد بن عيسى بن زيد اللخمي، فهو متروك الحديث وكذَّبه بعضهم. وقد رواه أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم البرقي - وهو صدوق - عن عمرو بن أبي سلمة، فخالفه في نصّه كما سيأتي، وزهير بن محمد - وهو التميمي - رواية أهل الشام ...» [ترقيم الرساله 2766] [ترقيم الشركة 2747] [ترقيم العلميه 2731]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل أحمد بن عيسى بن زيد اللخمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا
سب سے بابرکت عورت وہ ہے جس کا مہر کم ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2767
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا عفّان، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرني عمر بن طُفيل بن سَخْبرة المدني، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، أنَّ النبي ﷺ قال:"أعظمُ النساء بَرَكةً أيسَرُهنَّ صَدَاقًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2732 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں میں سب سے زیادہ بابرکت وہ ہے جس کا مہر سب سے زیادہ آسان (اور کم) ہو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2767]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إن شاء الله. ابن طُفيل بن سَخْبرة، قال عنه ابن معين في رواية عبد الله بن أحمد بن حنبل وابن الجُنيد والعباس الدوري: هو عيسى بن ميمون الجُرَشي المكي، وهو الذي يسميه حمادُ بنُ سلمة ابنَ سَخْبرة، وهو الذي يقال له: ابن تَليدان، وهو من ولد أبي قحافة، وهو ...» [ترقيم الرساله 2767] [ترقيم الشركة 2748] [ترقيم العلميه 2732]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2768
أخبرني محمد بن عبد الله بن قُريش، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو ثَوْر، حدثنا إبراهيم بن خالد الصنعاني، حدثنا عبد الله بن مصعب بن ثابت، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: زَوَّج رسول الله ﷺ رجلًا امرأةً بخاتم من حديد فَصُّهُ فِضّةٌ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2733 - صحيح
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا نکاح ایک عورت سے لوہے کی ایسی انگوٹھی کے عوض کروا دیا جس کا نگینہ چاندی کا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2768]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بهذه السياقة، عبد الله بن مصعب بن ثابت، قال عنه ابن معين: ضعيف الحديث، لم يكن عنده كتاب إنما كان يحفظ. قلنا: وانظر كلامنا عليه عند حديثه الآتي برقم (4657)، أما هنا فقد أخطأ في رواية هذا الحديث، وخالفه الثقات من أصحاب أبي حازم - وهو سلمة بن ...» [ترقيم الرساله 2768] [ترقيم الشركة 2749] [ترقيم العلميه 2733]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بهذه السياقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2769
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت البُناني، حدثني عمر بن أبي سلمة، عن أمه أم سَلَمة، قالت: قال رسول الله ﷺ:"مَن أصابَه مُصيبةٌ فليقُل: إنا لله وإنا إليه راجعون، اللهم عندك أحتسِبُ مُصيبتي، فأْجُرْنِي فيها وأَبدِلْني خيرًا منها"، فلما مات أبو سلمة قُلتُها، فجعلتُ كلّما بلغتُ أبدِلْني بها خيرًا منها، قلت في نفسي: ومَن خيرٌ من أبي سلمة؟! ثم قلتُها. فلما انقَضَت عِدّتُها بعثَ إليها رسولُ الله ﷺ عمرَ بنَ الخطاب يَخطُبها عليه، فقالت لابنها: يا عمرُ، قم فزَوِّجْ رسولَ الله ﷺ، فزوَّجَه، فكان رسولُ الله ﷺ يأتيها ليدخُلَ بها، فإذا رأتْه أخذت ابنتَها زينبَ فجعلتْها في حَجْرها، فيَنقلِبُ رسولُ الله ﷺ، فعَلِمَ بذلك عمارُ بن ياسر، وكان أخاها من الرَّضاعة، فجاء إليها، فقال: أين هذه المَقبُوحة المَنبُوحة التي قد آذتْ رسولَ الله ﷺ، فأخذها فذهب بها، فجاءَها (1) رسولُ الله ﷺ فدخل عليها، فجعلَ يَضرِبُ ببصره في جوانب البيت، فقال:"ما فعلتْ زُنابُ؟" قالت: جاء عمارٌ فأخذها فذهب بها. فبَنَى بها رسولُ الله ﷺ، وقال:"إني لا أنقُصُكِ شيئًا مما أعطيتُ فلانةَ: رَحَاءَينِ وجَرَّتين ومِرفَقةً حَشْوُها لِيفٌ"، وقال:"إن سَبَّعتُ لكِ، سَبَّعتُ لنسائي" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2734 - على شرط النسائي
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے کوئی مصیبت پہنچے تو اسے یہ کہنا چاہیے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي خَيْرًا مِنْهَا» بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے، اے اللہ! میں اپنی اس مصیبت پر تیرے پاس اجر کی امید رکھتی ہوں، پس تو مجھے اس میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہتر نعم البدل عطا فرما۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے یہ کلمات کہے، مگر جب میں اس حصے پر پہنچتی کہ مجھے اس کا بہتر نعم البدل عطا فرما تو میں اپنے جی میں کہتی: ابوسلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟! پھر بھی میں نے اسے پڑھ لیا۔ جب ان کی عدت مکمل ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف پیغامِ نکاح دے کر بھیجا۔ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے عمر! اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح کر دو، چنانچہ انہوں نے نکاح کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے تاکہ ان کے پاس قیام فرمائیں، مگر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتیں تو اپنی صاحبزادی زینب کو اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتیں، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حیا کی وجہ سے) واپس تشریف لے جاتے۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا، وہ ان کے رضاعی بھائی تھے، تو وہ تشریف لائے اور کہا: یہ منحوس بچی کہاں ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (راستے سے) روک رکھا ہے؟ پھر وہ اسے اٹھا کر لے گئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے گوشوں میں نظر دوڑائی اور پوچھا: زُناب (ننھی زینب) کہاں ہے؟ انہوں نے بتایا کہ عمار اسے لے گئے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت فرمائی اور ارشاد فرمایا: میں تمہیں دینے والے مہر میں اس سے کوئی کمی نہیں کروں گا جو میں نے فلاں (بیوی) کو دیا تھا، یعنی: دو چکیاں، دو مٹکے اور ایک چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: اگر میں تمہارے پاس سات دن قیام کروں گا تو پھر مجھے اپنی تمام بیویوں کے پاس بھی سات سات دن ہی قیام کرنا ہوگا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2769]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن الصحيح في رواية يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة ذكرُ ابن عمر بن أبي سلمة بين ثابت وعمر بن أبي سلمة، فقد رواه كذلك عنه أحمد 44/ (26697)، ومحمد بن إسماعيل ابن عُليَّة عند النسائي (10843)، ويعقوب بن إبراهيم الدَّورقي عند ابن ...» [ترقيم الرساله 2769] [ترقيم الشركة 2750] [ترقيم العلميه 2734]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. تَزْوِيجُ أَبِي طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -
سیدنا ابو طلحہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے نکاح کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2770
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم وحجاج بن مِنهال، قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت وإسماعيل بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس: أنَّ أبا طلحة خَطَب أمَّ سُلَيم، فقالت: يا أبا طلحة، ألستَ تعلمُ أنَّ إلهكَ الذي تعبُدُ خشبةٌ نَبَتَت من الأرض نَجَرَها حَبَشيُّ بني فلان؟! إن أنت أسلمتَ لم أُرِدْ منك من الصَّداق غيرَه، قال: حتى أنظُرَ في أمري، قال: فذهب ثم جاء فقال: أشهد أن لا إله إلّا الله وأشهد أنَّ محمدًا رسولُ الله، قالت: يا أنس، زَوِّج أبا طلحة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2735 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوطرحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، تو انہوں نے کہا: اے ابوطرحہ! کیا آپ نہیں جانتے کہ آپ کا وہ معبود جس کی آپ عبادت کرتے ہیں وہ محض زمین سے اگی ہوئی ایک لکڑی ہے جسے فلاں قبیلے کے ایک حبشی غلام نے تراشا ہے؟! اگر آپ اسلام قبول کر لیں تو میں مہر میں اس کے سوا اور کچھ نہیں چاہوں گی، انہوں نے کہا: (مجھے مہلت دیں) یہاں تک کہ میں اپنے معاملے پر غور کر لوں، راوی کہتے ہیں: وہ چلے گئے پھر واپس آئے اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ تب ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے انس! اٹھو اور ابوطرحہ کا (مجھ سے) نکاح کر دو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کی ایک ایسی شاہد روایت بھی ہے جو شیخین کی شرط پر صحیح ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2770]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2770] [ترقيم الشركة 2751] [ترقيم العلميه 2735]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. التَّزْوِيجُ عَلَى الْإِسْلَامِ
اسلام پر نکاح کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2771
أخبرني أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث بن سعيد العَنْبري، حدثني أبي، حدثنا حَرْب بن ميمون، عن النضر بن أنس، عن أنس: أنَّ أمّ سليم تَزوّجت أبا طلحة على إسلامِه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2736 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوطرحہ رضی اللہ عنہ سے ان کے قبولِ اسلام کو ہی مہر قرار دے کر نکاح کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2771]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الطبراني في "الكبير" (4678) عن محمد بن عبد الله الحضرمي، عن عبد الوارث، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2771] [ترقيم الشركة 2752] [ترقيم العلميه 2736]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. مَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يَفْرِضْ صَدَاقًا
جس نے نکاح کیا اور مہر مقرر نہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2772
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا إسماعيل بن الخَليل، حدثنا علي بن مُسهِر، حدثنا داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن علقمة بن قيس: أنَّ قومًا أتوا عبد الله بن مسعود، فقالوا له: إنَّ رجلًا منا تزوّج امرأةً ولم يَفْرِضْ لها صداقًا، ولم يَجمَعْها إليه حتى مات، فقال لهم عبد الله: ما سُئلتُ عن شيءٍ منذ فارقتُ رسولَ الله ﷺ أشدَّ عليَّ من هذه، فأْتُوا غيري، قالوا: فاختلفوا إليه فيها شهرًا، ثم قالوا له في آخر ذاك: مَن نسألُ إذا لم نسألك وأنت آخِيّةُ أصحاب محمد ﷺ في هذا البلد، ولا نَجِدُ غيرك، فقال: سأقول فيها بجُهد رأيي، فإن كان صوابًا فمِن الله وحدَه لا شريك له، وإن كان خطأً فمنّي، واللهُ ورسولُه منه بَريء، أَرى أن أجعلَ لها صَداقًا كصَداق نسائها، لا وَكْسَ ولا شَطَطَ، ولها الميراث، وعليها العِدّة أربعةَ أشهر وعشرًا، قال: وذلك يَسمعُ ناسٌ من أشجَعَ، فقاموا، فقالوا: نشهدُ أنك قضيتَ بمثل الذي قضى به رسولُ الله ﷺ في امرأةٍ منا يقال لها: بَرْوَعُ بنتُ واشِقٍ، قال: فما رُئِيَ عبدُ الله فَرِحَ بشيءٍ ما فرحَ يومئذٍ إلّا بإسلامه، ثم قال: اللهم إن كان صوابًا فمنك وحدَك لا شريك لك، وإن كان خطأً فمنّي ومن الشيطان، واللهُ ورسولُه منه بَريءٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2737 - على شرط مسلم
علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ کچھ لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: ہمارے ایک ساتھی نے ایک عورت سے نکاح کیا لیکن اس کا مہر مقرر نہیں کیا تھا اور وہ رخصتی سے پہلے ہی فوت ہو گیا (اس بارے میں کیا حکم ہے؟)، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں، مجھ سے اس سے زیادہ مشکل سوال نہیں پوچھا گیا، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، راوی کہتے ہیں: وہ لوگ ایک ماہ تک ان کے پاس آتے رہے، پھر آخر کار انہوں نے کہا: اگر ہم آپ سے نہ پوچھیں گے تو کس سے پوچھیں گے جبکہ آپ اس شہر میں اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے معتمد اور ستون ہیں، تو انہوں نے فرمایا: میں اس معاملے میں اپنی پوری فکری کوشش (اجتہاد) سے رائے پیش کرتا ہوں، اگر یہ درست ہوئی تو اللہ وحدہ لا شریک کی طرف سے ہوگی اور اگر غلط ہوئی تو میری طرف سے ہوگی جبکہ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہوں گے، میری رائے یہ ہے کہ اس عورت کے لیے اس کے خاندان کی عورتوں جیسا مہر (مہرِ مثل) ہوگا جس میں نہ کمی ہوگی نہ زیادتی، اسے وراثت میں حصہ بھی ملے گا اور اس پر چار ماہ دس دن کی عدت بھی لازم ہوگی، راوی کہتے ہیں: قبیلہ اشجع کے کچھ لوگ وہاں موجود تھے، وہ کھڑے ہوئے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے بعینہ وہی فیصلہ کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری ایک خاتون بروع بنت واشق کے بارے میں کیا تھا، راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو قبولِ اسلام کے بعد کسی اور بات پر اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا گیا جتنا وہ اس دن خوش ہوئے، پھر انہوں نے (تواضعاً) کہا: اے اللہ! اگر یہ فیصلہ درست ہے تو محض تیری ہی طرف سے ہے، اور اگر غلط ہے تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2772]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،الشعبي: هو عامر بن شراحيل» [ترقيم الرساله 2772] [ترقيم الشركة 2753] [ترقيم العلميه 2737]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2772M
سمعتُ أبا عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وقيل له: سمعتَ الحسن بن سفيان يقول: سمعتُ حرملة بن يحيى يقول: سمعتُ الشافعي يقول: إن صحَّ حديث بَرْوَعَ بنتِ واشِقٍ قلتُ به. فقال أبو عبد الله: لو حضرتُ الشافعيَّ رضي الله عنه لقمتُ على رؤوس أصحابه، وقلتُ: فقد صحَّ الحديثُ، فقُلْ به. قال الحاكم: فالشافعي إنما قال: لو صحَّ الحديثُ، لأنَّ هذه الرواية وإن كانت صحيحةً فإنَّ الفتوى فيه لعبد الله بن مسعود، وسنَدُ الحديث لِنَفَر من أشجَعَ، وشيخُنا أبو عبد الله رحمه الله إنما حَكَمَ بصحّة الحديث لأنَّ الثقة قد سمَّى فيه رجلًا من الصحابة، وهو مَعقِلُ بن سِنان الأشجعي. وبصحة ما ذكرتُه:
ابو عبداللہ محمد بن یعقوب الحافظ سے مروی ہے کہ انہوں نے امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول سنا: اگر بروع بنت واشق والی حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو میں اسے ہی اپنا مسلک بنا لوں گا۔ تو ابو عبداللہ نے کہا: اگر میں امام شافعی رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوتا تو ان کے شاگردوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہتا کہ یہ حدیث تو صحیح ثابت ہو چکی ہے، لہٰذا اب اس کے مطابق قول اختیار کیجیے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: امام شافعی نے اس کی صحت پر اس لیے توقف کیا تھا کیونکہ اگرچہ یہ روایت درست تھی مگر فتویٰ عبداللہ بن مسعود کا تھا اور (اس وقت) سند میں قبیلہ اشجع کے چند غیر معروف لوگ تھے، جبکہ ہمارے شیخ ابو عبداللہ نے اس لیے اس کی صحت کا حکم لگایا کیونکہ ایک ثقہ راوی نے اس میں ایک معتبر صحابی کا نام صراحت سے ذکر کر دیا ہے اور وہ معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ ہیں۔
میں نے جو ذکر کیا ہے اس کی تائید اس سے ہوتی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2772M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2772M] [ترقيم الشركة 2753/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں