المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. السُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ .
جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2743M2
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس بن محمد الدُّوْري يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول في حديث:"لا نكاح إلّا بوليٍّ" الذي يرويه ابن جُرَيج، فقلت له: إنَّ ابن عُليّة يقول: قال ابن جُرَيج: فسألتُ عنه الزُّهْريَّ فقال: لست أحفظُه، قال يحيى بن مَعِين: ليس يقول هذا إِلَّا ابن عُليَّة، وإنما عَرَضَ ابن عُليَّة كتب ابن جُرَيج على عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رَوَّاد، فأصلحها له، ولكن لم يَبذُل نفسَه للحديث.
یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ان سے ابن جریج کی روایت ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ کے بارے میں پوچھا گیا اور کہا گیا کہ ابن علیہ کہتے ہیں کہ ابن جریج نے کہا: میں نے زہری سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے یہ یاد نہیں، تو یحییٰ بن معین نے فرمایا: یہ بات صرف ابن علیہ کہتے ہیں، اصل میں ابن علیہ نے اپنی کتابیں عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد پر پیش کی تھیں تو انہوں نے ان کی اصلاح کر دی تھی، لیکن انہوں نے خود کو حدیث کے لیے وقف نہیں کیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2743M2]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2743M2] [ترقيم الشركة 2724/2]
حدیث نمبر: 2743M3
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله، حدثنا أبو بكر بن رجاء، حدثنا محمد بن المصفّى، حدثنا بقيَّة، حدثنا شعيب بن أبي حمزة قال: قال لي الزُّهْري: إنَّ مكحولًا يأتينا وسليمانُ بن موسى، ولَعَمْرُ اللهِ إنَّ سليمان بن موسى لأَحْفَظُ الرجُلَين. قال الحاكم: رَجَعْنا إلى الأصل الذي لم يَسَعِ الشيخين إخلاءُ"الصحيحين" منه، وهو حديث أبي إسحاق عن أبي بُرْدة عن أبي موسى:
شعیب بن ابی حمزہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ امام زہری نے مجھ سے فرمایا: ہمارے پاس مکحول اور سلیمان بن موسیٰ آتے ہیں، اور اللہ کی قسم! سلیمان بن موسیٰ ان دونوں میں سے زیادہ بڑے حافظِ حدیث ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اب ہم اسی اصل کی طرف لوٹتے ہیں جسے شیخین کے لیے صحیحین میں جگہ دینا ضروری تھا، اور وہ ابواسحاق کی ابوبردہ سے اور ان کی ابوموسیٰ سے مروی حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2743M3]
امام حاکم فرماتے ہیں: اب ہم اسی اصل کی طرف لوٹتے ہیں جسے شیخین کے لیے صحیحین میں جگہ دینا ضروری تھا، اور وہ ابواسحاق کی ابوبردہ سے اور ان کی ابوموسیٰ سے مروی حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2743M3]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2743M3] [ترقيم الشركة 2724/3]
حدیث نمبر: 2744
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي، قالا: حدثنا أبو قِلابة بن عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي. وأخبرني مَخْلَد بن جعفر الباقَرْحِي، حدثنا إبراهيم بن هاشم البَغَوي؛ قالا: حدثنا سليمان بن داود، حدثنا النعمان بن عبد السلام، عن شعبة وسفيان الثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا نِكاحَ إلّا بَوليٍّ" (1) . وقد جمع النعمانُ بن عبد السلام بين الثَّوْري وشعبة في إسناد هذا الحديث، ووَصَلَه عنهما، والنعمان بن عبد السلام ثقة مأمون (1) . وقد رواه جماعة من الثقات عن الثَّوْري على حِدَة، وعن شعبة على حِدَة، فوصلوه، وكل ذلك مَخرَجُه في الباب الذي سمعه مني أصحابي، فأغنى ذلك عن إعادتها. فأما إسرائيل بن يونس بن أبي إسحاق الثقة الحُجَّة في حديث جده أبي إسحاق، فلم يُختلَف عنه في وصل هذا الحديث:
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
نعمان بن عبدالسلام نے اس حدیث کی سند میں سفیان ثوری اور شعبہ دونوں کو جمع کیا ہے اور ان سے اسے متصل روایت کیا ہے، اور نعمان بن عبدالسلام ثقہ اور صاحبِ امانت ہیں، نیز ثقہ راویوں کی ایک بڑی جماعت نے سفیان ثوری اور شعبہ سے الگ الگ بھی اسے متصل روایت کیا ہے، یہ تمام طرق میرے اصحاب نے مجھ سے سن رکھے ہیں اس لیے انہیں یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2744]
نعمان بن عبدالسلام نے اس حدیث کی سند میں سفیان ثوری اور شعبہ دونوں کو جمع کیا ہے اور ان سے اسے متصل روایت کیا ہے، اور نعمان بن عبدالسلام ثقہ اور صاحبِ امانت ہیں، نیز ثقہ راویوں کی ایک بڑی جماعت نے سفیان ثوری اور شعبہ سے الگ الگ بھی اسے متصل روایت کیا ہے، یہ تمام طرق میرے اصحاب نے مجھ سے سن رکھے ہیں اس لیے انہیں یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2744]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود - وهو الشاذَكُوني - فهو متروك الحديث، وقد اتهمه بعضهم. لكنه لم ينفرد به، فقد روي من غير وجه عن شعبة وعن سفيان، كما نبَّه عليه الحاكم بإثره، ومن قبله نبَّه عليه البزار، وصحَّحا وصله من طريق شعبة وسفيان.» [ترقيم الرساله 2744] [ترقيم الشركة 2725]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود - وهو الشاذَكُوني - فهو متروك الحديث
حدیث نمبر: 2745
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النضر بن شُميل، أخبرنا إسرائيل بن يونس، عن أبي إسحاق. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصّغَاني، حدثنا هاشم بن القاسم وعبيد الله بن موسى، قالا: حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق. وأخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا محمد بن سليمان الواسطي، حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق. وأخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن خالد بن خَلِيّ الحمصي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا إسرائيل. وأخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه وأبو بكر بن إسحاق الإمام، قالا: حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا أحمد بن عبد الحميد الحارثي، حدثنا طَلْق بن غَنّام، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى قال: قال رسول الله ﷺ:"لا نِكَاحَ إلّا بوَليٍّ" (1) . هذه الأسانيد كلها صحيحة، وقد عَلَونا فيها عن إسرائيل، وقد وَصَلَه الأئمة المتقدمون الذين نَنزلُ في رواياتهم عن إسرائيل مثل عبد الرحمن بن مَهْدي ووكيع ويحيى بن آدم ويحيى بن زكريا بن أبي زائدة وغيرهم، وقد حَكَموا لهذا الحديث بالصحة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2711 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2711 - صحيح
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
یہ تمام سندیں صحیح ہیں اور ہمیں اسرائیل سے یہ روایات عالی سند کے ساتھ پہنچی ہیں، ان جلیل القدر متقدم ائمہ نے بھی اسے متصل بیان کیا ہے جن کے واسطے سے ہم اسرائیل کی روایات نقل کرتے ہیں جیسے عبدالرحمن بن مہدی، وکیع، یحییٰ بن آدم اور یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ وغیرہ، اور ان سب نے اس حدیث کی صحت کا حکم دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745]
یہ تمام سندیں صحیح ہیں اور ہمیں اسرائیل سے یہ روایات عالی سند کے ساتھ پہنچی ہیں، ان جلیل القدر متقدم ائمہ نے بھی اسے متصل بیان کیا ہے جن کے واسطے سے ہم اسرائیل کی روایات نقل کرتے ہیں جیسے عبدالرحمن بن مہدی، وکیع، یحییٰ بن آدم اور یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ وغیرہ، اور ان سب نے اس حدیث کی صحت کا حکم دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2745] [ترقيم الشركة 2726-2727] [ترقيم العلميه 2711]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2745M1
سمعتُ أبا نصر أحمدَ بنَ سهل الفقيه ببُخارى يقول: سمعتُ صالح بن محمد بن حبيب الحافظ يقول: سمعتُ عليَّ بن عبد الله المَدِيني يقول: سمعت عبدَ الرحمن بن مَهدي يقول: كان إسرائيل يَحفَظُ حديث أبي إسحاق كما يَحفَظ ﴿الْحَمْدُ﴾.
میں نے بخارا میں ابونصر احمد بن سہل فقیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے صالح بن محمد بن حبیب حافظ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے علی بن عبداللہ مدینی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبدالرحمن بن مہدی کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اسرائیل اپنے دادا ابواسحاق کی احادیث اس طرح یاد رکھتے تھے جیسے وہ ﴿الْحَمْدُ﴾ (سورہ فاتحہ) یاد رکھتے تھے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745M1]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2745M1]
حدیث نمبر: 2745M2
سمعتُ أبا الحسن بنَ منصور يقول: سمعتُ أبا بكر محمد بن إسحاق يقول: سمعتُ أبا موسى يقول: كان عبد الرحمن بنُ مهدي يُثبِت حديثَ إسرائيل عن أبي إسحاق - يعني - في النكاح بغير وليّ.
میں نے ابوالحسن بن منصور کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوبکر محمد بن اسحاق کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوموسیٰ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”عبدالرحمن بن مہدی ابواسحاق سے اسرائیل کی روایت کردہ حدیث یعنی ولی کے بغیر نکاح کے متعلق حدیث کی تصدیق و توثیق کیا کرتے تھے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745M2]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2745M2]
حدیث نمبر: 2745M3
حدثني محمد بن عبد الله الشَّيباني، حدثنا أحمد بن محمد بن الحسن، حدثنا حاتم بن يونس الجُرْجاني، قال: قلت لأبي الوليد الطَّيالسي: ما تقول في النكاح بغير وليّ؟ فقال: لا يجوز، قلت: ما الحُجَّةُ في ذلك؟ فقال: حدثنا قيس بن الربيع، عن أبي إسحاق، عن أبي بردة، عن أبيه (1) . قلت: فإنَّ الثَّوْري وشعبة يُرسِلانه، قال: فإنَّ إسرائيلَ قد تابع قيسًا.
حاتم بن یونس جرجانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوالولید طیالسی سے پوچھا: ولی کے بغیر نکاح کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”یہ جائز نہیں ہے“ میں نے عرض کیا: اس پر کیا دلیل ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہمیں قیس بن ربیع نے ابواسحاق کے واسطے سے، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی ہے“ میں نے عرض کیا: سفیان ثوری اور شعبہ تو اسے مرسل (سند میں صحابی کا ذکر کیے بغیر) بیان کرتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”بے شک اسرائیل نے (متصل سند بیان کرنے میں) قیس کی متابعت کی ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745M3]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2745M3]
حدیث نمبر: 2745M4
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمدُ بنُ المنذر بن سعيد، حدثنا إسحاقُ بن إبراهيم بن جَبَلة، سمعتُ علي بن المَديني يقول: حديثُ إسرائيل صحيح في"لا نكاحَ إلّا بوليّ".
علی بن مدینی کہتے ہیں: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ (کے متعلق) اسرائیل کی حدیث صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745M4]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2745M4]
حدیث نمبر: 2745M5
سمعتُ أبا الحسن بن منصور يقول: سمعتُ أبا بكر محمد بن إسحاق الإمام يقول: سألتُ محمد بن يحيى عن هذا الباب، فقال: حديث إسرائيل صحيح عندي، فقلت له: رواه شَريك أيضًا؟ فقال: من رواه؟ فقلت: حدَّثَنا به علي بن حُجْر، وذكرتُ له حديث يونس بن أبي إسحاقَ وبعضَ من روى هذا الخبر عن أبي إسحاق، فقلت له: رواه شعبة والثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن النبي ﷺ: قال: نعم، هكذا رَوَياه، ولكنهم كانوا يُحدّثون بالحديث فيُرسِلونه، حتى يقال لهم: عمَّن؟ فيُسنِدونه.
ابوبکر محمد بن اسحاق امام کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ سے اس باب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”میرے نزدیک اسرائیل کی حدیث صحیح ہے“ میں نے ان سے کہا: اسے شریک نے بھی روایت کیا ہے؟ انہوں نے پوچھا: کس نے روایت کیا؟ میں نے کہا: ہمیں اسے علی بن حجر نے بیان کیا ہے، اور میں نے ان کے سامنے یونس بن ابی اسحاق اور ان دیگر راویوں کی حدیث کا ذکر کیا جنہوں نے اسے ابواسحاق سے روایت کیا ہے، پھر میں نے ان سے کہا کہ اسے شعبہ اور ثوری نے ابواسحاق سے، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ہاں، ان دونوں نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن وہ (محدثین) بسا اوقات حدیث بیان کرتے ہوئے اسے مرسل کر دیتے تھے، یہاں تک کہ جب ان سے پوچھا جاتا کہ ”کس سے؟“ تو پھر وہ اسے متصل (مسند) بیان کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745M5]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2745M5]
حدیث نمبر: 2745M6
سمعتُ أبا الحسن أحمد بن محمد العَنَزي يقول: سمعت عثمان بن سعيد الدارمي يقول: قلت ليحيى بن مَعِين: يونس بن أبي إسحاق أحبُّ إليك أو ابنُه إسرائيل بن يونس؟ فقال: كلٌّ ثقة.
عثمان بن سعید دارمی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا: آپ کے نزدیک یونس بن ابی اسحاق زیادہ پسندیدہ ہیں یا ان کے بیٹے اسرائیل بن یونس؟ تو انہوں نے فرمایا: ”دونوں ہی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745M6]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2745M6]