المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا
یتیم لڑکی سے اس کے معاملے میں اجازت لی جائے
حدیث نمبر: 2735
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بُردة، عن أبي موسى سَمِعَ النبيَّ ﷺ يقول:"تُستأمَرُ اليتيمةُ في نفسها، فإن سَكَتَت فهو رضاها، وإن كَرِهَتْ، فلا كُرْهَ عليها" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2702 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2702 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”یتیم لڑکی سے اس کے نفس (نکاح) کے بارے میں مشورہ کیا جائے گا، اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی رضا مندی ہے، اور اگر وہ ناپسند کرے تو اس پر کوئی زبردستی نہیں کی جائے گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2735]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2735]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.» [ترقيم الرساله 2735] [ترقيم الشركة 2717] [ترقيم العلميه 2702]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2736
أخبرَناه الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا محمد بن عمرو. وحدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا المعتمِر، قال: سمعت محمد بن عمرو يُحدّث عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"تُستأمَرُ اليتيمةُ في نفسها، فإن سَكَتَت فهو رضاها، وإن أبَتْ فلا جَوازَ عليها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یتیم لڑکی سے اس کے نفس (نکاح) کے بارے میں مشورہ لیا جائے گا، اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی رضا مندی ہے، اور اگر وہ انکار کر دے تو اس پر (زبردستی نکاح) جائز نہیں ہوگا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2736]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2736]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي.» [ترقيم الرساله 2736]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
17. لَا تَنْكِحُوا النِّسَاءَ حَتَّى تَسْتَأْمِرُوهُنَّ
عورتوں کا نکاح ان سے اجازت لیے بغیر نہ کرو
حدیث نمبر: 2737
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا ابن أبي فُدَيك، عن ابنِ أبي ذئب، عن عمر بن حسين، عن نافع، عن ابن عمر: أنه تزوج ابنةَ خاله عثمان بن مَظْعُون، قال: فذهبتْ أمُّها إلى النبي ﷺ، فقالت: إنَّ ابنتي تَكْرَه والله، فأمره رسول الله ﷺ أن يُفارقها، ففارَقَها، وقال:"لا تُنكِحُوا النساءَ حتى تَستأمروهُنّ، فإذا سَكتْنَ فهو إذنُهُنَّ". فتزوّجها بعدَ عبدِ الله المغيرةُ بن شُعبة (1) .
هذا حديث كبيرٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2703 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث كبيرٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2703 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے ماموں عثمان بن مظعون کی صاحبزادی سے نکاح کیا، وہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: میری بیٹی (اس نکاح کو) ناپسند کرتی ہے، اللہ کی قسم! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے جدا کر دیں، چنانچہ انہوں نے اسے جدا کر دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کا نکاح اس وقت تک نہ کرو جب تک ان سے مشورہ نہ کر لو، پس اگر وہ خاموش رہیں تو یہی ان کی اجازت ہے۔“ بعد ازاں عبداللہ کے بعد ان سے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا۔
یہ ایک عظیم اور صحیح حدیث ہے جو شیخین کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2737]
یہ ایک عظیم اور صحیح حدیث ہے جو شیخین کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2737]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن أبي فُديك: هو محمد بن إسماعيل بن مسلم بن أبي فُديك، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة، وعمر بن حسين: هو ابن عبد الله الجُمحي.» [ترقيم الرساله 2737] [ترقيم الشركة 2718] [ترقيم العلميه 2703]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
18. تَزْوِيجُ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 2738
أخبرنا مَخْلَد (2) بن جعفر الباقَرْحِيّ، حدثنا محمد بن جَرير (3) ، حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُموي، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن عمرو بن علقمة، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عائشة قالت: لما تُوفِّيَت خديجةُ قالت خولة بنت حكيم بنِ أُميّة بن الأَوْقَص امرأة عثمان بن مَظْعُون، وذلك بمكة: أيْ رسولَ الله، ألا تَزَوَّجُ؟ قال:"ومَن؟" قالت: إن شئت بِكرًا، وإن شئت ثيِّبًا، قال:"ومَن البِكرُ؟" قالت: ابنةُ أحبِّ خلق الله إليك، عائشةُ بنت أبي بكر، قال:"ومَن الثيِّبُ؟" قالت: سَوْدَةُ بنت زَمْعة بن قيس، قد آمنتْ بك واتبعتْك على ما أنتَ عليه، قال:"فاذهبي فاذكُرِيهما"، فجاءت فدخلتْ بيت أبي بكر، فقالت: يا أبا بكر، ماذا أدخلَ اللهُ عليك من الخير والبَرَكة، أرسلَني رسولُ الله ﷺ أخطُبُ عليه عائشةَ، قال: ادعِي لي رسولَ الله ﷺ، فدعَتْه، فجاء فأنكحه، وهي يومئذٍ ابنةُ سبع سنين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2704 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2704 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو مکہ میں عثمان بن مظعون کی اہلیہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے رسول اللہ! کیا آپ نکاح نہیں کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس سے؟“ انہوں نے عرض کیا: اگر آپ چاہیں تو کنواری سے اور چاہیں تو بیوہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کنواری کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی مخلوق میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب شخص کی بیٹی عائشہ بنت ابی بکر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اور بیوہ کون ہے؟“ عرض کیا: سودہ بنت زمعہ بن قیس، جو آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کی اتباع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان دونوں سے میرا تذکرہ کرو“ پس وہ آئیں اور ابوبکر کے گھر داخل ہوئیں اور کہا: اے ابوبکر! اللہ آپ کے لیے کتنی خیر اور برکت لایا ہے، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے کہ میں ان کے لیے عائشہ کا پیغامِ نکاح دوں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس بلا لاؤ، پس انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے نکاح کر دیا، اور اس وقت عائشہ سات سال کی تھیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2738]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2738]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة.» [ترقيم الرساله 2738] [ترقيم الشركة 2719] [ترقيم العلميه 2704]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2739
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم الباشاني، حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، حدثنا الحسين بن واقِد، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه قال: خطب أبو بكر وعمرُ فاطمةَ، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّها صغيرة"، فخطبها عليٌّ فزَوَّجَها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2705 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2705 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے نکاح کا پیغام دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ابھی چھوٹی ہے“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیغام دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2739]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2739]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، وهذا إسناد حسن، محمد بن موسى بن حاتم حسن الحديث كما بيناه عند الحديث (127)، وقد توبع، وأخرجه النسائي (5310)، وابن حبان (6948) من طريق الحسين بن حُريث، عن الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2739] [ترقيم الشركة 2720] [ترقيم العلميه 2705]
الحكم على الحديث: حديث قوي
19. اسْتِخَارَةُ خِطْبَةِ الْمَرْأَةِ يُرِيدُ نِكَاحَهَا
جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے
حدیث نمبر: 2740
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرْو، حدثنا محمد بن معاذ. وأخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا محمد بن الجَهْم السِّمَّري؛ قالا: حدثنا أبو عاصم الضحّاك بن مَخْلد، حدثنا ابن جُرَيج، قال: سمعت سليمان بن موسى يقول: حدثنا الزُّهْري، قال: سمعتُ عُروة يقول: سمعت عائشةَ تقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أيُّما امرأةٍ نَكَحَتْ بغير إذن وليِّها، فنِكاحُها باطِلٌ، فنِكاحُها باطِلٌ، فنِكاحُها باطِلٌ، فإن أصابها فلها مهرُها بما أصابها، وإن تَشاجَرُوا، فالسلطانُ وَليُّ مَن لا وَليَّ له" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تابع أبا عاصم على ذكر سماع ابنِ جُرَيج من سليمان بن موسى وسماع سليمان بن موسى من الزُّهْري: عبد الرزاق بن همّام ويحيى بن أيوب وعبد الله بن لَهِيعة وحَجّاج بن محمد المِصِّيصي. أما حديث عبد الرزاق:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تابع أبا عاصم على ذكر سماع ابنِ جُرَيج من سليمان بن موسى وسماع سليمان بن موسى من الزُّهْري: عبد الرزاق بن همّام ويحيى بن أيوب وعبد الله بن لَهِيعة وحَجّاج بن محمد المِصِّيصي. أما حديث عبد الرزاق:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس کسی عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، پس اگر شوہر نے اس سے صحبت کر لی ہو تو اس صحبت کی وجہ سے عورت مہر کی حقدار ہے، اور اگر اولیاء آپس میں جھگڑا کریں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان (حکمران) ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس میں ابن جریج کا سلیمان بن موسیٰ سے اور سلیمان کا زہری سے سماع کی متابعت عبدالرزاق بن ہمام، یحییٰ بن ایوب، عبداللہ بن لہیعہ اور حجاج بن محمد مصیصی نے کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2740]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس میں ابن جریج کا سلیمان بن موسیٰ سے اور سلیمان کا زہری سے سماع کی متابعت عبدالرزاق بن ہمام، یحییٰ بن ایوب، عبداللہ بن لہیعہ اور حجاج بن محمد مصیصی نے کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2740]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، محمد بن معاذ» [ترقيم الرساله 2740] [ترقيم الشركة 2721]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2741
فحدَّثَنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن سلمة ومحمد بن شاذان. وحدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا عبد الله بن محمد؛ قالوا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني سليمان بن موسى، أنَّ الزُّهْري أخبره، أنَّ عُرْوة بن الزُّبَير أخبره، أنَّ عائشة أخبرته عن رسول الله ﷺ، نحوَه (1) . وأما حديث يحيى بن أيوب:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2741]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل سليمان بن موسى: وهو الأشدق الدمشقي. أحمد بن سلمة: هو ابن عبد الله النيسابُوري، ومحمد بن شاذان: هو أبو سعيد النيسابوري، وأبو علي الحافظ: هو الحسين بن علي بن يزيد النيسابوري، وعبد الله بن محمد: هو ابن شِيرويه راوية "مسند ابن راهويه" عنه.» [ترقيم الرساله 2741] [ترقيم الشركة 2722]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
20. السُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ .
جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2742
فحدَّثَناه أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، قال: قُرئ على محمد بن إسماعيل السُّلَمي وأنا أسمع، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني ابن جُرَيج، أنَّ سُليمان بن موسى الدمشقي حدثه، أخبرني ابن شهاب، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"لا تُنكَحُ المرأةُ بغير إذن وليِّها، فإن نَكَحَت فنِكاحُها باطِلٌ - ثلاثَ مرّات - فإن أصابها، فلها مهرُها بما أصاب منها، فإن اشْتَجَروا، فالسلطان وليُّ من لا وليَّ له" (2) . وأما حديث حجَّاج بن محمد:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کی اجازت کے بغیر عورت کا نکاح نہیں کیا جائے گا، پس اگر اس نے نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار دہرائی - پھر اگر شوہر اس سے صحبت کر لے تو اس کے بدلے عورت مہر کی حقدار ہے، اور اگر وہ (اولیاء) باہم جھگڑ پڑیں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2742]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 2742] [ترقيم الشركة 2723]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2743
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيلُ بنُ قُتيبة. وأخبرني أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمرْقَنْدي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر. وأخبرني أبو عمرو بن جعفر العَدْلُ، حدثنا إبراهيم بن علي الذُّهلي، قالوا: حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا حجّاج بن محمد، عن ابن جُرَيج، أخبرني سليمان بن موسى، أنَّ ابن شِهاب أخبره، أنَّ عُرْوة أخبره، أنَّ عائشة أخبرته، أنَّ النبي ﷺ قال:"أيُّما امرأةٍ نَكَحتْ بغير إذن وليّها، فنكاحُها باطلٌ، نكاحُها باطلٌ، ولها مَهرُها بما أصاب منها، فإن اشتَجَروا فالسلطان وَليُّ من لا وَليَّ له" (1) . فقد صحَّ وثبت بروايات الأئمة الأثبات سماعُ الرواة بعضِهم من بعض، فلا تُعلَّل هذه الروايات بحديثِ ابن عُليّة وسؤالِه ابنَ جُرَيج عنه، وقولِه: إني سألتُ الزُّهْري عنه فلم يعرفه، فقد ينسى الثقةُ الحافظُ الحديثَ بعد أن حدّث به، وقد فَعلَه غيرُ واحد من حفّاظ الحديث.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اور صحبت کی وجہ سے اسے مہر ملے گا، اور اگر وہ آپس میں اختلاف کریں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے۔“
معتبر ائمہ کی روایات سے راویوں کا ایک دوسرے سے سماع ثابت ہو چکا ہے، لہٰذا ان روایات پر ابن علیہ کی اس حکایت سے اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے ابن جریج سے اس کے بارے میں پوچھا تھا اور انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے پوچھا تو وہ اسے نہیں پہچانتے تھے، کیونکہ بسا اوقات ثقہ حافظ حدیث بیان کرنے کے بعد اسے بھول جاتا ہے، اور ایسا کئی حفاظِ حدیث کے ساتھ ہوا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2743]
معتبر ائمہ کی روایات سے راویوں کا ایک دوسرے سے سماع ثابت ہو چکا ہے، لہٰذا ان روایات پر ابن علیہ کی اس حکایت سے اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے ابن جریج سے اس کے بارے میں پوچھا تھا اور انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے پوچھا تو وہ اسے نہیں پہچانتے تھے، کیونکہ بسا اوقات ثقہ حافظ حدیث بیان کرنے کے بعد اسے بھول جاتا ہے، اور ایسا کئی حفاظِ حدیث کے ساتھ ہوا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2743]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل سليمان بن موسى الأشدق الدمشقي.» [ترقيم الرساله 2743] [ترقيم الشركة 2724]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2743M1
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، قال: سمعتُ أحمد بن حنبل يقول، وذُكر عنده أن ابن عُليَّة يذكُر حديثَ ابن جُرَيج في:"لا نِكاح إلّا بوليّ"، قال ابن جُرَيج: فلقيتُ الزُّهْري، فسألتُه عنه فلم يعرفه، وأثنى على سليمان بنِ موسى، قال أحمد بن حنبل: إنَّ ابنَ جُرَيج له كتبٌ مُدوَّنة، وليس هذا في كُتبه. يعني حكاية ابن عُليَّة عن ابن جُرَيج.
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ابن علیہ کا تذکرہ ہوا کہ وہ ابن جریج کی اس روایت کے متعلق کہتے ہیں کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“، ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے ملاقات کی اور اس بارے میں پوچھا تو وہ اسے نہ پہچان سکے، جبکہ زہری نے سلیمان بن موسیٰ کی تعریف کی تھی، اس پر امام احمد بن حنبل نے فرمایا: ابن جریج کی باقاعدہ مدون کتابیں موجود ہیں اور ان کی کتابوں میں یہ بات (ابن علیہ کا دعویٰ) موجود نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2743M1]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2743M1] [ترقيم الشركة 2724/1]