المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. إِذَا نَكَحَ الوَلِيَّانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ، وَإِذَا بَاعَ الْمُجِيزَانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ
اگر دو ولی نکاح کر دیں تو پہلا معتبر ہوگا اور اگر دو اجازت دینے والے بیع کریں تو پہلا معتبر ہوگا
حدیث نمبر: 2755
فأخبرَناه أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا سعيد، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جُندُب، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"أيُّما رجل باع مِن رجلَين بيعًا، فهو للأوّل منهما، وأيُّما امرأةٍ زَوَّجها وَليّان، فهي للأوّل" (2) . وأما حديث سعيد بن بَشير:
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دو آدمیوں کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کی تو وہ پہلے خریدار کی ہوگی، اور جس عورت کا نکاح دو ولیوں نے (الگ الگ جگہ) کر دیا ہو تو وہ پہلے شوہر کی ہوگی۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2755]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الوهاب بن عطاء، فهو صدوق لا بأس به، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 2755] [ترقيم الشركة 2737]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2756
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عُبيد بن شَريك، حدثنا أبو الجُمَاهِر، حدثنا سعيد بن بَشير، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جندب، قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا أنكَحَ الوَليّان، فهو للأول، وإذا باع المُجِيزان، فهو للأول" (1) . وقد تابعَ (2) قَتَادة على روايته عن الحسن أشعثُ بن عبد الملك الحُمْراني:
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو (الگ الگ) ولی (کسی عورت کا دو جگہ) نکاح کر دیں تو وہ پہلے (نکاح والے) کے لیے ہے، اور جب دو (مجاز) وکیل (ایک ہی چیز کو دو جگہ) فروخت کر دیں تو وہ پہلے (خریدار) کے لیے ہے۔“ قتادہ کی حسن بصری سے اس روایت میں اشعث بن عبدالملک الحمرانی نے بھی متابعت کی ہے۔
یہ تمام نکھرے ہوئے اور واضح طرق جو میں نے اس متن کے لیے ذکر کیے ہیں، امام بخاری کی شرط پر صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2756]
یہ تمام نکھرے ہوئے اور واضح طرق جو میں نے اس متن کے لیے ذکر کیے ہیں، امام بخاری کی شرط پر صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2756]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل سعيد بن بشير. أبو الجُماهِر: هو محمد بن عثمان التَّنُوخي.» [ترقيم الرساله 2756] [ترقيم الشركة 2738]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2757
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزير، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثني أشعثُ بن عبد الملك، عن الحسن، عن سَمُرة، عن النبي ﷺ قال:"إذا أنكَحَ المُجِيزان، فالأولُ أحقُّ" (3) . هذه الطرقُ النّواصعُ التي ذكرتُها لهذا المتن، كلُّها صحيحة على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2723 - على شرط البخاري
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2723 - على شرط البخاري
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو (مجاز) وکیل (کسی عورت کا الگ الگ جگہ) نکاح کر دیں تو پہلا (جس کا نکاح پہلے ہوا) زیادہ حقدار ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2757]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2757] [ترقيم الشركة 2739] [ترقيم العلميه 2723]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
24. كَانَ صَدَاقُنَا إِذَا كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ أَوَاقٍ
جب ہم میں سیدنا رسول اللہ ﷺ ہوتے تو ہمارا مہر دس اوقیہ ہوا کرتا تھا
حدیث نمبر: 2758
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة، حدثنا يحيى بن محمد الجاريّ (4) ، حدثنا داود بن قيس الفرّاء، أخبرني موسى بن يسار، عن أبي هريرة، قال: كان صَداقُنا إذْ كان فينا رسولُ الله ﷺ عشر (5) أَوَاقٍ (6) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2724 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2724 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان (موجود) تھے تو ہمارا مہر دس اوقیہ «عشر أَوَاقٍ» ہوا کرتا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2758]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2758]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن محمد الجاريّ، لكنه متابع.» [ترقيم الرساله 2758] [ترقيم الشركة 2740] [ترقيم العلميه 2724]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
25. مَنْ قُتِلَ أَوْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ
جو اللہ کی راہ میں قتل ہو یا مر جائے وہ جنت میں ہے
حدیث نمبر: 2759
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر بن يزيد الأَدَمي القارئ ببغداد، حدثنا عبد الله بن الحسن الهاشمي، حدثنا يزيد بن هارون. وأخبرني أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا عبد الله بن أبي شَيْبة وزهير بن حَرْب، قالا: حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الله بن عَوْن، عن ابن سِيرين، عن أبي العَجْفاء السُّلَمي، قال: خَطَبَنا عمرُ بن الخطّاب فقال: ألا لا تُغالُوا صُدُقَ النساء، فإنها لو كانت مَكرُمةً في الدنيا أو تقوى عند الله كان أَوْلاكم بها وأحقَّكم بها محمدٌ ﷺ، ما أصْدَقَ امرأةً من نسائه أكثرَ من ثِنتَي عشرةَ أُوقيّةً، وإن أحدَكم ليُغْلي بصَدُقةِ امرأتِه، حتى يكون لها عداوةٌ في نفسِه، ويقول: قد كَلِفْتُ إليك عَلَقَ (1) القِرْبة. وأخرى تقولونها لمن قُتل في مغازيكم هذه لو ماتَ: قُتِلَ فلان شهيدًا، ومات فلان شهيدًا، وعسى أن يكون قد أَثقَلَ عَجُزَ دابّته أو دفَّ راحلتِه (2) ذهبًا ووَرِقًا يبتغي الدنيا، فلا تقولوا ذلك، ولكن قولوا كما قال رسول الله ﷺ:"مَن قُتِل أو مات في سبيل الله، فهو في الجنّة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه أيوب السَّخْتياني وحبيب بن الشَّهيد (1) وهشام بن حسّان وسلَمة بن علقمة (2) ومنصور بن زاذان وعوف بن أبي جَميلة (3) ويحيى بن عَتيق، كلُّ هذه التراجم من رواياتٍ صحيحةٍ عن محمد بن سِيرين. وأبو العَجْفاء السُّلَمي اسمه هَرِم بن حيّان، وهو من الثِّقات.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه أيوب السَّخْتياني وحبيب بن الشَّهيد (1) وهشام بن حسّان وسلَمة بن علقمة (2) ومنصور بن زاذان وعوف بن أبي جَميلة (3) ويحيى بن عَتيق، كلُّ هذه التراجم من رواياتٍ صحيحةٍ عن محمد بن سِيرين. وأبو العَجْفاء السُّلَمي اسمه هَرِم بن حيّان، وهو من الثِّقات.
ابوالعجفاء سلمی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”خبردار! عورتوں کے مہروں میں مبالغہ نہ کرو (بہت زیادہ مہر مقرر نہ کرو)، کیونکہ اگر یہ دنیا میں کوئی بزرگی یا اعزاز کی بات ہوتی یا اللہ کے ہاں تقویٰ کی علامت ہوتی تو تم سب کی نسبت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار اور موزوں ہوتے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں فرمایا۔ اور یقیناً ایک آدمی اپنی بیوی کا مہر (اتنا زیادہ) مہنگا کر دیتا ہے کہ اس کے دل میں اس (بیوی) کے لیے دشمنی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ (اپنے آپ سے) کہنے لگتا ہے کہ میں نے تیری خاطر اپنی مشک کا تسمہ کھینچ کھینچ کر (یعنی سخت محنت و مشقت کر کے) بوجھ اٹھایا ہے۔“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا:) ”اور ایک دوسری بات جو تم اپنی ان جنگوں میں قتل ہونے والوں کے بارے میں کہتے ہو کہ 'فلاں شہید مارا گیا' یا 'فلاں شہید ہو کر مرا'، حالانکہ ہو سکتا ہے کہ اس نے دنیا کی طلب میں اپنے جانور کے پچھلے حصے یا سواری کے زین کو سونے اور چاندی سے لاد رکھا ہو، لہٰذا تم ایسا نہ کہا کرو، بلکہ وہی کہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا یا مر گیا، وہ جنت میں ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اسے ایوب سختیانی، حبیب بن شہید، ہشام بن حسان، سلمہ بن علقمہ، منصور بن زاذان، عوف بن ابی جمیلہ اور یحییٰ بن عتیق، ان سب نے محمد بن سیرین سے صحیح روایات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ ابوالعجفاء سلمی کا نام ہرم بن حیان ہے اور وہ ثقہ راویوں میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2759]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اسے ایوب سختیانی، حبیب بن شہید، ہشام بن حسان، سلمہ بن علقمہ، منصور بن زاذان، عوف بن ابی جمیلہ اور یحییٰ بن عتیق، ان سب نے محمد بن سیرین سے صحیح روایات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ ابوالعجفاء سلمی کا نام ہرم بن حیان ہے اور وہ ثقہ راویوں میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2759]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن سيرين: هو محمد، وأبو العجفاء السُّلَمي: هو هَرِم بن نُسيب، وقيل في اسم أبيه غير ذلك. عبد الله بن أبي شيبة: هو الحافظ أبو بكر.» [ترقيم الرساله 2759] [ترقيم الشركة 2741]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2759M
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّوري يقول: سمعت يحيى بن مَعين يقول: حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، قال: اسمُ أبي العَجْفاء هَرِم. وقد روي هذا الحديث من رواية مستقيمة عن سالم بن عبد الله ونافع عن ابن عمر. أما حديث سالم:
عباس بن محمد دوری بیان کرتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے سنا کہ عبدالرحمن بن مہدی نے کہا ہے کہ ابوالعجفاء کا نام «هَرِم» (ہرم) ہے۔ اس حدیث کو سالم بن عبداللہ اور نافع نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی ایک مستقیم روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2759M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2759M] [ترقيم الشركة 2741/1]
26. يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تُغَالُوا مَهْرَ النِّسَاءِ
اے لوگو! عورتوں کے مہروں میں غلو نہ کرو
حدیث نمبر: 2760
فحدَّثَناه أبو الوليد الفقيه وأبو بكر بن عبد الله بن قُريش، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا شَيْبان بن فَرُّوخَ، حدثنا عيسى بن ميمون، حدثنا سالم ونافع، عن ابن عمر: أنَّ عمر بن الخطاب خطب الناسَ فقال: يا أيها الناسُ، لا تُغالُوا مَهْر النساء، فإنها لو كانت مَكرُمةً لم يكن منكم أحدٌ أحقَّ بها ولا أَولَى مِن النبي ﷺ، ما أمْهَرَ أحدًا من نسائه ولا أصْدَقَ أحدًا من بناته أكثرَ من اثنتي عشرة أُوقيّةً. والأوقيّة أربعُون درهمًا - إلّا شيءٌ أصدَقَ عنه النجاشيُّ؛ أربعَ مئة دينار بأرض الحبشة (2) . وأما حديث نافع:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے لوگو! عورتوں کے مہر میں مبالغہ نہ کرو، کیونکہ اگر یہ (دنیا میں) کوئی شرافت کی بات ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی اس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حقدار اور موزوں نہ ہوتا، (حقیقت یہ ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی یا بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا۔“ اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، سوائے اس مہر کے جو نجاشی نے حبشہ کی سرزمین پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے (سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے لیے) چار سو دینار ادا کیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2760]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عيسى بن ميمون» [ترقيم الرساله 2760] [ترقيم الشركة 2742]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2761
فأخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا الحسين بن عبد الله بن شاكر، حدثنا أبو حُمَة، حدثنا أبو قُرَّة، عن عبد العزيز بن أبي رَوَّاد وعبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ عمر بن الخطاب خطب الناس، ثم قال: أيها الناس، أقِلُّوا مُهور النساء، فإنَّ كثرة مُهورهن لو كان تقوى عند الله ومَكَرُمَةً في الدنيا؛ كان أَولاكُم بذلك رسولُ الله ﷺ، ما علِمنا أعطى رسولُ الله ﷺ امرأةً من نسائه أكثرَ من اثنتي عشرة أُوقيّةً - والوُقيّة أربعون درهمًا، فذلك ثمانون وأربعُ مئة درهم - وذلك أعلى ما كان رسول الله ﷺ أمْهَرَ، فلا أعْلمَنَّ أحدًا زاد على أربع مئة درهم (1) . وقد رُويَ من وجه صحيح عن عبد الله بن عباس عن عمر:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر فرمایا: ”اے لوگو! عورتوں کے مہر (کی مقدار) کم رکھو، کیونکہ مہر کی زیادتی اگر اللہ کے نزدیک تقویٰ اور دنیا میں عزت و شرافت کا باعث ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سب سے زیادہ حقدار ہوتے، جبکہ ہمارے علم میں نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کو بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر دیا ہو، اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس طرح یہ (بارہ اوقیہ) چار سو اسی درہم بنتے ہیں، اور یہی وہ سب سے زیادہ مہر تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا، لہذا میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں جس نے چار سو درہم سے زیادہ مہر مقرر کیا ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2761]
تخریج الحدیث: «صحيح، وهذا إسناد ضعيف من جهة عبد الله بن عمر - وهو العمري - لكنه من جهة ابن أبي رَوّاد لا بأس به، إلّا أنه اختُلف فيه عنه في وصله وإرساله، فقد رواه عنه أبو قُرَّة - وهو موسى بن طارق - موصولًا كما في هذا الإسناد، وخالف أبا قرة ...» [ترقيم الرساله 2761]
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2762
حدَّثَناه محمد بن مُظفَّر الحافظ، حدثنا أبو محمد بن صاعِد، حدثني محمد بن علي بن ميمون الرَّقِّي، حدثني سعيد بن عبد الملك بن واقِد الحَرّاني، حدثنا محمد بن فُضيلٍ الضَّبِّي، عن أبيه، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس، قال: قال عمر: لا تُغالُوا بمُهور النساء، قال: وذكر الحديث (1) . وكذلك رُوي عن سعيد بن المسيّب عن عمر:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورتوں کے مہر میں غلو اور مبالغہ نہ کرو۔“ اور پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2762]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل سعيد بن عبد الملك الحَرَّاني، فقد قال أبو حاتم: يتكلمون فيه، ورأيتُ فيما حدَّث أحاديث كذب. قلنا: ومجيئه بهذه الطريق يدل على صحة ذلك، فلا يُعرف إلّا من طريقه، كما أشار إليه الدارقطني في "الأفراد" كما في "أطرافه" لابن طاهر (118)، وقد اضطرب فيه أيضًا، ...» [ترقيم الرساله 2762] [ترقيم الشركة 2743]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل سعيد بن عبد الملك الحَرَّاني
27. الْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا
ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے
حدیث نمبر: 2763
حدَّثَناه أبو الحسن بن منصور، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجيَة، حدثنا كُردُوس بن محمد أبو الحسن القافِلَاني، حدثنا مُعلَّى بن عبد الرحمن، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب: أنَّ عمر بن الخطاب قام على مِنبره، فحمِد اللهَ وأثنى عليه، فقال: ألا لا تُغالُوا في صَدُقات النساء، فإنها لو كانت مَكرُمةً في الدنيا أو تقوى عند الله، كان أَولاكُم بها نبيُّكم ﷺ، والله ما زِيدَتِ امرأةٌ من نسائه ولا بناتِه على اثنتي عشرةُ أُوقيّة؛ وذلك أربع مئة درهم وثمانون درهمًا، الأُوقية أربعون درهمًا (2) . فقد تواترت الأسانيدُ الصحيحة بصحَّة خطبة أمير المؤمنين عمر بن الخطاب ﵁، وهذا البابُ لي مجموعٌ في جزء كبير، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”آگاہ رہو! عورتوں کے مہر میں مبالغہ نہ کرو، کیونکہ اگر یہ دنیا میں عزت یا اللہ کے ہاں تقویٰ کی بات ہوتی تو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سب سے زیادہ حقدار ہوتے، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات اور بیٹیوں میں سے کسی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں بڑھایا گیا، اور یہ چار سو اسی درہم بنتے ہیں، جبکہ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔“
امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اس خطبے کی صحت پر صحیح اسانید متواتر ہیں، اور اس باب کی تمام روایات میرے پاس ایک بڑے جزء میں جمع ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2763]
امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اس خطبے کی صحت پر صحیح اسانید متواتر ہیں، اور اس باب کی تمام روایات میرے پاس ایک بڑے جزء میں جمع ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2763]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل مُعلَّى بن عبد الرحمن، فهو متروك الحديث، واتهمه بعضهم بوضع الحديث، وقد انفرد بهذه الطريق، والصحيح عن سعيد بن المسيب من قوله كما سيأتي. على أنه صحَّ عن عمر بن الخطاب من رواية أبي العَجفاء والسُّلَمي، كما سبق، وأخرج ابن أبي شيبة 4/ 188 عن ...» [ترقيم الرساله 2763] [ترقيم الشركة 2744]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل مُعلَّى بن عبد الرحمن