🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. كَانَ النَّبِيُّ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ
نبی کریم ﷺ کھانے، پینے اور لباس (پہننے) کے لیے دائیں ہاتھ کا استعمال فرماتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7268
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيِه، حدثنا محمد بن شاذان الجوهري، حدثنا مُعلَّى بن منصور، حدثنا ابن أبي زائدة، أخبرنا أبو أيوب الإفريقي، عن عاصم، عن (2) المسيَّب بن رافع، عن حارثة بن وهب الخُزاعي، حدثتني حفصة: أنَّ رسول الله ﷺ كان يجعلُ يمينَه لطعامِه وشرابِه وثيابِه، ويجعلُ يسارَه لما سوى ذلك (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7091 - في سنده مجهول
ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دایاں ہاتھ کھانے پینے اور لباس (پہننے) کے لیے استعمال فرماتے تھے، اور اس کے علاوہ دیگر کاموں کے لیے اپنا بایاں ہاتھ استعمال فرماتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7268]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي أيوب الإفريقي - وهو عبد الله بن علي الأزرق - ولاضطراب عاصم - وهو ابن أبي النجود - في إسناده كما قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 1/ 146. ابن أبي زائدة: هو يحيى بن زكريا.» [ترقيم الرساله 7268] [ترقيم الشركة 7186] [ترقيم العلميه 7091]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7269
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدل، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة والحسين بن الفضل، قالا: حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حُميد، عن أبي المتوكِّل، عن جابر بن عبد الله قال: كُنَّا إِذا أكَلْنا مع رسول الله ﷺ طعامًا لا نبدأُ حتى يكونَ رسولُ الله ﷺ هو يبدأُ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7092 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تھے تو ہم اس وقت تک (کھانا) شروع نہیں کرتے تھے جب تک کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آغاز نہ فرما دیتے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7269]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،حميد: هو الطويل، وأبو المتوكل: هو علي بن داود الناجي.» [ترقيم الرساله 7269] [ترقيم الشركة 7187] [ترقيم العلميه 7092]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7270
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا محمد بن عبد العزيز الرملي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن محمد بن حمزة بن عبد الله بن سَلَام، عن أبيه، عن جدِّه: أنَّ النبيَّ ﷺ كان في بعض أصحابه إذ أقبل عثمانُ يقودُ بعيرًا عليه غِرارتان مُحتجِزٌ (1) بعِقال ناقته، فقال له النبيُّ ﷺ:"ما معك؟" قال: دَقيقٌ وسَمْن وعسَل، فقال له النبي ﷺ:"أنِخْ" فأناخ، فدعا النبيُّ ﷺ ببُرْمة عظيمة، فجعل فيها من ذلك الدقيق والسَّمن والعسل، ثم أنضجَه، فأكل النبيُّ ﷺ، وأكلُوا ثم قال لهم:"كُلُوا، فإنَّ هذا يُشبه خَبِيصَ أهلِ فارس" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7093 - صحيح
سیدنا محمد بن حمزہ بن عبداللہ بن سلام اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ اتنے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایک اونٹ ہانکتے ہوئے آئے جس پر دو بڑے تھیلے لدے ہوئے تھے اور انہوں نے اسے اونٹ کی نکیل سے تھاما ہوا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: آٹا، گھی اور شہد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: (اونٹ کو) بٹھاؤ، چنانچہ انہوں نے اسے بٹھا دیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑی ہانڈی منگوائی اور اس میں وہ آٹا، گھی اور شہد ڈال دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اچھی طرح پکایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا اور صحابہ کرام نے بھی کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کھاؤ، کیونکہ یہ اہلِ فارس کے «خبيص» (ایک خاص حلوے) کے مشابہ ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7270]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، حمزة بن عبد الله بن سلام: هو حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سلام، وجاء على الصواب في مصادر التخريج، والمقصود بجدِّه هنا هو عبد الله بن سلام الإسرائيلي صاحب النبي ﷺ كما جاء صريحًا في رواية الطبراني في "معجمه الكبير"، وحمزة هذا في عداد مجهولي الحال، ...» [ترقيم الرساله 7270] [ترقيم الشركة 7188] [ترقيم العلميه 7093]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. ذِكْرُ وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ
بنو منتفق کے وفد کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7271
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سُليم المكي، حدثنا إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرة، عن أبيه، قال: كنتُ وافدَ بني المُنتِفق إلى رسول الله ﷺ، فقدِمْنا على رسول الله ﷺ فلم نصادِفْه في منزله وصادفنا عائشةَ أمَّ المؤمنين، فأمرت لنا بخَزِيرة فصُنعت لنا، وأتتنا بقِناع - والقِناعُ الطَّبَقُ فيه تمرٌ - ثم جاء رسولُ الله ﷺ فقال:"هل أصبتُم شيئًا، أو أُمِرَ لكم بشيء؟" فقلنا: نعم يا رسولَ الله. قال: فبينما نحن معَ رسولِ الله ﷺ جلوسٌ، قال: فرفع الراعي غنمَه إلى المُرَاح ومعه سَخْلةٌ تَيْعرُ، فقال رسول الله ﷺ:"ما وَلَّدْتَ يا فلانُ؟" قال: بَهْمةً، قال:"فاذبَحْ لنا مكانَها شاةً" ثم مالَ (1) عليَّ فقال:"لا تَحْسِبَنَّ - ولم يقل: لا تَحْسَبَنَّ - أنَّا من أجلِكم ذبحناها، لنا غَنَمٌ مئةٌ، ولا نريدُ أن تزيدَ، فإذا ولَّد الراعي بَهْمةً ذبَحْنا مكانَها شاةً". قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إنَّ لي امرأَةً؛ [فذَكَرَ من طُول لسانِها وبَذَائِها، فقال:"طَلِّقها" فقلت] (2) : إنَّ لي منها ولدًا، قال:"فمُرْها - يقول: عِظُها - فإِنْ يَكُ فيها خيرٌ، فستفعلُ، ولا تَضرِبْ ظَعِينتَك كضربِك أَمَتَك". قال: قلتُ: يا رسولَ الله، أخبِرْني عن الوضوء، قال:"أَسبِغِ الوضوءَ، وخلِّلِ الأصابعَ، وبالغ في الاستنشاقِ إلَّا أن تكون صائمًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7094 - صحيح
عاصم بن لقیط بن صَبِرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں بنو منتق کے وفد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ ہوا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ کو گھر پر موجود نہ پایا البتہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی، انہوں نے ہمارے لیے خزِیرہ (گوشت کے ٹکڑوں اور آٹے سے تیار کردہ کھانا) تیار کرنے کا حکم دیا، پھر وہ ہمارے پاس ایک بڑا تھال لے کر آئیں جس میں کھجوریں تھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو دریافت فرمایا: کیا تم نے کچھ کھایا ہے؟ یا کیا تمہارے لیے (کھانے کا) حکم دیا گیا تھا؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ، راوی کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے آیا اور اس کے ساتھ بکری کا ایک بچہ (میمنا) منمنا رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اے فلاں! (بکری نے) کیا جنا ہے؟ اس نے عرض کی: ایک بچہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی جگہ ہمارے لیے ایک (بڑی) بکری ذبح کرو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: یہ ہرگز خیال نہ کرنا کہ ہم نے یہ بکری خاص تمہاری (آمد کی) وجہ سے ذبح کی ہے، بلکہ ہمارے پاس سو بکریاں ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ ان کی تعداد اس سے بڑھے، چنانچہ جب چرواہا کسی نئے بچے کی ولادت کی خبر لاتا ہے تو ہم اس کی جگہ (تعداد برابر رکھنے کے لیے) ایک بکری ذبح کر دیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے (اور اس کی زبان درازی اور بدکلامی کا تذکرہ کیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے طلاق دے دو، میں نے عرض کی: اس سے میری اولاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے حکم دو (یعنی اسے نصیحت کرو) پس اگر اس میں کچھ خیر ہوئی تو وہ ضرور (تمہاری بات) مانے گی، اور اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارنا جیسے تم اپنی لونڈی کو مارتے ہو۔ پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے وضو کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کے اعضاء کو اچھی طرح (کامل طریقے سے) دھوؤ، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کیا کرو (یعنی اچھی طرح اوپر تک پانی پہنچاؤ) سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو (تو مبالغہ نہ کرو)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7271]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن سليم.» [ترقيم الرساله 7271] [ترقيم الشركة 7189] [ترقيم العلميه 7094]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. رَغْبَتُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - إِلَى اللَّحْمِ
نبی کریم ﷺ کی گوشت کی طرف رغبت و پسندیدگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7272
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسد بن موسى، حدثنا أبو هلال محمد بن سُليم، حدثنا إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن جابر قال: جعَلْنا للنبيِّ ﷺ فَخّارةً، فأتيتُه بها، فاطَّلع في جوفها فقال:"حَسِبتُه لحمًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان إسحاق بن أبي طلحة سمع من جابر، ولم يخرجاه. وفيه البيانُ الواضح لمحبَّة رسولِ الله ﷺ اللحمَ. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7095 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مٹی کی ایک ہانڈی تیار کی، میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اندر جھانک کر دیکھا اور فرمایا: میرا خیال تھا کہ یہ گوشت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے بشرطیکہ اسحاق بن ابی طلحہ کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہو، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گوشت سے رغبت اور محبت کا واضح بیان موجود ہے، اور اس کی شاہد روایت درج ذیل ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7272]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي هلال محمد بن سليم: وهو الراسبي.» [ترقيم الرساله 7272] [ترقيم الشركة 7190] [ترقيم العلميه 7095]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7273
ما حدَّثَنيهِ أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون و محمد بن غالب بن حرب، قالا: حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا أبو عَوَانة، عن الأسود بن قيس، عن نُبيح العَنَزي، عن جابر بن عبد الله قال: لما قُتل أبي ترك عليَّ دينًا، فذكر الحديثَ بطوله، وقال فيه: قلتُ لامرأتي: إنَّ رسول الله ﷺ يَجيئُنا اليومَ نصفَ النهار، فلا تؤذي رسولَ الله ﷺ ولا تُكلِّميه، قال: فدخل وفرشتُ له فراشًا ووسادة، فوضع رأسَه ونامَ (2) ، فقلتُ لمولًى لي: اذبَحْ هذه العَنَاق - وهي داجنٌ سمينة - والوَحَا والعَجَلَ، افرُغْ قبل أن يستيقظَ رسولُ الله ﷺ وأنا معك. فلم نَزَلْ فيها حتى فَرَغْنا منها وهو نائم، فقلتُ له: إنَّ رسول الله ﷺ إذا استيقظ يدعو بالطَّهور، وإني أخافُ إذا فَرَغَ أن يقومَ، فلا يَفرُغَنَّ من وُضوئه حتى تضع العَنَاقَ بين يديه. فلما قام قال:"يا جابرُ، ائتني بطَهور" فلم يَفرُغ من طُهوره حتى وضعتُ العَنَاقَ بين يديه، فنظر إليَّ فقال:"كأنَّك علمتَ حُبَّنا اللحمَ، ادعُ لي أبا بكر"، ثم دعا حواريِّيهِ الذينَ معه فدخَلُوا، فضربَ رسولُ الله ﷺ بيدِه، وقال:"باسمِ الله، كُلُوا" فأكلوا حتى شَبِعُوا، وفَضَلَ منها لحمٌ كثيرٌ، وذكر باقي الحديث (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7096 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب میرے والد (غزوہ احد میں) شہید ہوئے تو انہوں نے مجھ پر قرض چھوڑا، پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ ہے کہ (جابر رضی اللہ عنہ نے کہا:) میں نے اپنی اہلیہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لائیں گے، خبردار! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قسم کی تکلیف نہ دینا اور نہ ہی (ان کی مصروفیت یا آرام کے دوران) ان سے بات کرنا، راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بستر اور تکیہ بچھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سرِ مبارک رکھا اور آرام فرمایا، میں نے اپنے ایک غلام سے کہا: اس میمنے (بکری کے بچے) کو ذبح کرو جو کہ گھر کا پلا ہوا اور خوب موٹا تازہ ہے، اور جلدی کرو، اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوں کام سے فارغ ہو جاؤ، میں بھی تمہارے ساتھ ہوں، چنانچہ ہم اس کام میں لگے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیند سے بیدار ہونے سے پہلے ہم فارغ ہو گئے، میں نے غلام سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوں گے تو وضو کا پانی طلب فرمائیں گے، اور مجھے اندیشہ ہے کہ وہ وضو سے فارغ ہو کر کہیں تشریف نہ لے جائیں، لہٰذا ان کے وضو سے فارغ ہونے سے پہلے ہی یہ گوشت ان کے سامنے رکھ دینا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا: اے جابر! میرے پاس وضو کا پانی لاؤ، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ میں نے وہ گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: ایسا لگتا ہے کہ تمہیں گوشت سے ہماری رغبت اور محبت کا علم ہو گیا ہے، میرے پاس ابوبکر کو بلا لاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان ساتھیوں (حواریین) کو بھی بلایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، وہ سب داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک بڑھایا اور فرمایا: اللہ کے نام سے (بسم اللہ کہہ کر) کھاؤ، پس سب نے کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور اس میں سے کافی گوشت بچ بھی گیا، پھر راوی نے بقیہ حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7273]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.» [ترقيم الرساله 7273] [ترقيم الشركة 7191] [ترقيم العلميه 7096]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. أَطْيَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ
بہترین گوشت پیٹھ (پشت) کا گوشت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7274
أخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا مِسعَر، عن رجل من فَهُم، أُرى اسمه محمد بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن جعفر، عن النبيِّ ﷺ قال:"أطيبُ اللحمِ لحمُ الظَّهر" (2) . وقد رواه رَقَبَة بن مَسقَلة (1) ، عن هذا الفَهميِّ، ولم يَنسُبه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7097 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین گوشت کمر کا گوشت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7274]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، الرجل الفهمي» [ترقيم الرساله 7274] [ترقيم الشركة 7192] [ترقيم العلميه 7097]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7275
أخبرَناه أبو القاسم الحسن بن محمد السَّكوني بالكوفة، حدثنا محمد ابن عبد الله الحضرمي والحسين بن مصعب النَّخَعي، قالا: حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا جَرير، عن رَقَبة بن مَسْقَلة، عن رجل من فَهْمٍ، عن عبد الله بن جعفر، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"أطيبُ اللَّحم لحمُ الظَّهر" (2) . قد صحَّ الخبر بالإسنادين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے عمدہ گوشت پیٹھ (کمر) کا گوشت ہے۔
یہ روایت دونوں سندوں سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7275]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة الرجل الفهمي كما بيناه في الحديث السابق، ويحيى بن عبد الحميد.» [ترقيم الرساله 7275] [ترقيم الشركة 7193]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة الرجل الفهمي كما بيناه في الحديث السابق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7276
أخبرني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب النَّسائي (3) وعبد الله بن محمد بن ناجيَة، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن حبيب بن الشَّهيد، حدثنا أبي [عن أبيه] (4) عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله بن عمرو بن حَرَام، قال: أمر أبي بخَزيرة، فصُنعت، ثم أمرني فحملتُها إلى رسول الله ﷺ فإذا هو في منزله، فقال:"ما هذا يا جابرُ؟ ألحمٌ هذا؟" قلتُ: لا يا رسول الله، ولكنها خَزيرة أمر بها أبي فصُنعت، ثم أمرني فحملتُها إليك، ثم رجعتُ إلى أبي فقال: هل رأيتَ رسول الله ﷺ؟ قلتُ: نعم، قال: فما قال لك؟ قلت: قال:"ألحمٌ هذا يا جابر؟" قال أبي: عسى أن يكونَ رسولُ الله ﷺ اشتهَى اللحمَ، فقام إلى داجنٍ له فذبحَها وشواها، ثم أمرني بحملها إليه، فقال رسول الله ﷺ:"جَزَى الله الأنصارَ عنَّا خيرًا، ولا سيَّما عبدِ الله بن عمرو بن حَرَام وسعدِ بن عُبادة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7099 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے والد نے خزیرہ (گوشت اور آٹے سے تیار کردہ کھانا) تیار کرنے کا حکم دیا، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اے جابر! کیا یہ گوشت ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں یا رسول اللہ! بلکہ یہ خزیرہ ہے، پھر میں نے واپس آ کر والد کو بتایا تو انہوں نے کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل گوشت کھانے کو چاہ رہا ہے، چنانچہ انہوں نے گھریلو پالی ہوئی بکری ذبح کر کے اسے بھونا اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے جانے کا حکم دیا، (جب میں پہنچا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے انصار کو بہترین جزا عطا فرمائے، بالخصوص عبداللہ بن عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7276]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 7276] [ترقيم الشركة 7194] [ترقيم العلميه 7099]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. قَبُولُ النَّبِيِّ عَجُزَ أَرْنَبٍ مَشْوِيٍّ
نبی کریم ﷺ کا بھنے ہوئے خرگوش کی ران قبول فرمانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7277
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُرَاساني العَدْل ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرقان، حدثنا علي بن عاصم، حدثنا عبيد الله بن أبي بكر بن أنس، قال: سمعت أنسًا يقول: انتفجتُ أرنبًا بالبَقيع، فاشتُدَّ في أثرها، فكنتُ فيمن اشتدَّ، فسبقتُهم إليها فأخذتها، فأتيتُ بها أبا طلحةَ، فأمر بها فذُبحت ثم شُوِيَت، فأخذ عَجُزَها فأرسلَ به معي إلى النبيِّ ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ:"ما هذا؟" قلتُ: عَجُزُ أرنب بعث بها أبو طلحةَ إليك، فقَبِلَه مني (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7100 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بقیع میں ایک خرگوش بھاگا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو اسے پکڑنے کے لیے پیچھے دوڑے، میں سب سے آگے نکل گیا اور اسے پکڑ لیا، پھر میں اسے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا تو انہوں نے اسے ذبح کر کے بھوننے کا حکم دیا، پھر انہوں نے خرگوش کا پچھلا حصہ (ران) مجھے دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کی: یہ خرگوش کی ران ہے جو ابو طلحہ نے آپ کے لیے بھیجی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7277]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم: وهو الواسطي.» [ترقيم الرساله 7277] [ترقيم الشركة 7195] [ترقيم العلميه 7100]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں