المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. بَيَانُ أَوْصَافِ حَوْضِ الْكَوْثَرِ
حوضِ کوثر کی صفات کا بیان
حدیث نمبر: 7560
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا شَبَابة بن سَوَّار، حَدَّثَنَا ابن أبي ذِئب، عن القاسم بن عَبَّاس، عن نافع بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه، قال: يقولون: فِيَّ التِّيهُ، وقد ركبتُ الحمارَ، واعتَقَلتُ الشاةَ، وَلَبِستُ الشَّمْلةَ، وقد قال رسول الله ﷺ:"مَن فعلَ هذا فليس فيه شيءٌ من الكِبْر" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7373 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7373 - صحيح
سیدنا نافع بن جبیر بن بن مطعم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: (وہ فرماتے ہیں) لوگ کہتے ہیں: میرے اندر غرور ہے، حالانکہ میں گدھے پر سوار ہوتا ہوں، بکری کا دودھ دوہتا ہوں، اور کھلی چوڑی چادر پہنتا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” جس نے ایسا کیا، اس میں ذرا بھی تکبر نہیں ہے “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7560]
حدیث نمبر: 7561
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حَدَّثَنَا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حَدَّثَنَا محمد بن المهاجِر، أخبرني العباس بن سالم اللَّخْمي، عن أبي سلَّام الأسود، قال: بلغَ عمرَ بنَ عبد العزيز أنه يُحدِّث عن ثوبانَ حديثَ أبي الأحوص، قال: فبَعَثَ إليه، فحُمِلَ على البَريد، قال: فلما انتهى إليه فدخل عليه سَلَّم، وقال: يا أميرَ المؤمنين، لقد شَقَّ على رِجْلَيَّ مَرْكَبي من البَريد، قال: فقال عمرُ كالمتوجِّع: ما أرَدْنا المَشقَّةَ عليك يا أبا سلَّام، ولكن بَلَغني حديثٌ تُحدِّثه عن ثَوْبان عن نبيِّ الله ﷺ في الحوض، فأحببتُ أن تُشافِهَني به مشافهةً، قال أبو سلَّام: سمعتُ ثوبان يقول: قال رسول الله ﷺ:"حَوْضِي مَا بينَ عَدَنٍ إِلَى عَمَّانِ البَلْقاءِ، ماؤُه أشدُّ بياضًا من اللبن وأحلى من العَسَل، وأَكاوِبُه عددُ النُّجوم، مَن شَرِبَ منه شَرْبةً لم يَظمَأْ بعدها أبدًا، أولُ الناس وُرودًا عليه فقراءُ المهاجرين الشُّعْثُ رؤوسًا، الدُّنْسُ ثِيابًا، الذين لا يَنكِحون المنعَّمات، ولا تُفتَحُ لهم السُّدَد". قال: فقال عمرُ: لكني قد نَكَحتُ المنعَّماتِ، فاطمةَ بنتَ عبد الملك، وفُتِحَتْ [لي] (1) السُّدَد، ولا جَرَمَ أني لا أغسِلُ رأسي حتَّى يَشعَثَ، ولا ثوبي الذي يَلِي جسدي حتَّى يَتَّسِخَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7374 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7374 - صحيح
ابوسلام الاسود کہتے ہیں: سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو (میرے بارے میں) یہ اطلاع ملی کہ میں سیدنا ثوبان کے واسطے سے ابوالاحوص کی حدیث بیان کرتا ہوں، سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے اپنے آدمی بھیجے، وہ ان کو سیدنا عمر بن عبدالعزیز کے پاس لے آئے، انہوں نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو سلام کرنے کے بعد کہا: اے امیرالمومنین! سفر کی وجہ سے میرے پاؤں میں زخم ہو گیا ہے، سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا: ہمارا ارادہ آپ کو تکلیف دینے کا نہ تھا، اصل بات یہ ہے کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم سیدنا ثوبان کے حوالے سے، حوض کوثر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان روایت کرتے ہو، مجھے یہ خواہش ہوئی کہ میں وہ فرمان مصطفوی تم سے بالمشافہہ سنو، (اس لیے تمہیں یہاں لانے کی تکلیف دی گئی ہے) ابوسلام نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرا حوض (مقام) عدن (یہ ساحلی پٹی کا علاقہ ہے، جہاں پر یمن کا ساحل ختم ہوتا ہے اور ہند کا ساحل شروع ہوتا ہے) سے لے کر عمان البلقاء (اس سے مراد یمن یا شام کی بستی ہے اور البلقاء، سے مراد بعض مؤرخین کے نزدیک فلسطین کا ایک شہر ہے) تک ہے۔ اس (حوض) کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس کے پیالوں کی تعداد ستاروں کے برابر ہے، جو شخص اس کا ایک گھونٹ پی لے گا، اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی، اس حوض پر سب سے پہلے فقراء مہاجرین آئیں گے، جو پراگندہ بالوں والے، بوسیدہ کپڑوں والے ہوں گے، مالدار خواتین سے وہ نکاح نہیں کرتے اور نہ ان کے لیے مسدود راہیں کھلتی ہیں۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن میں نے تو مالدار خاتون فاطمہ بنت عبدالملک سے نکاح کیا ہے اور میرے لیے مسدود راہیں کھول دی جاتی ہیں، اب میں اپنا سر نہیں دھویا کروں گا، تاکہ میرے بال پراگندہ ہو جائیں اور نہ میں اپنے جسم پر پہنے ہوئے کپڑے تبدیل کیا کروں گا تاکہ یہ بوسیدہ ہو جائیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7561]
حدیث نمبر: 7562
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن أبي المهلَّب، عن سَمُرةَ بن جُندُب قال: قال رسول الله ﷺ:"عليكم بهذا الثِّيابِ (1) البَيَاض، فلْيَلبَسْه أحياؤُكم، وكَفِّنوا فيه موتاكم، فإنه من خيرِ ثيابِكم"، أو قال:"من خيرِ لِباسِكم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ سفيان بن عُيَينة وإسماعيل ابن عُليَّة أرسلاه عن أيوب. وأما حديث ابن عُيينة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7375 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ سفيان بن عُيَينة وإسماعيل ابن عُليَّة أرسلاه عن أيوب. وأما حديث ابن عُيينة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7375 - على شرط البخاري
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پر سفید کپڑے لازم ہیں، زندہ لوگ بھی سفید کپڑے پہنیں اور اپنے فوت شدگان کو کفن بھی سفید کپڑوں میں ہی دیا کرو، کیونکہ کپڑوں میں، سفید کپڑا سب سے بہتر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو ابن سفیان عیینہ کے واسطے سے نقل نہیں کیا۔ اور اسماعیل بن علیہ نے اس کو ایوب سے روایت کرنے میں ارسال سے کام لیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7562]
حدیث نمبر: 7563
فأخبرَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى، أخبرنا سفيان بن عُيينة، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن سَمُرَةَ بن جُندُب: ذَكَرَ أنَّ النَّبِيَّ ﷺ قال:"عليكم بهذه البَيَاض، لِيَلبَسُها أحياؤُكم، وكَفِّنوا فيها مَوْتاكم" (3) . وأما حديث إسماعيل ابن عُليَّة:
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پر سفید کپڑے لازم ہیں، زندہ لوگ بھی سفید کپڑے پہنیں اور اپنے فوت شدگان کو کفن بھی سفید کپڑوں میں ہی دیا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7563]
10. خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ
تمہارے سرموں میں بہترین "اثمد" ہے جو بینائی کو تیز کرتا اور پلکوں کے بال اگاتا ہے
حدیث نمبر: 7564
فحدَّثَناه أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حَدَّثَنَا موسى بن سهل، حَدَّثَنَا إسماعيل ابن عُليَّة، عن أيوب، عن أبي قِلابة (1) ، عن سَمُرة بن جُندُب قال: قال رسول الله ﷺ:"عليكم بهذه البَيَاض، لِيَلبَسْها أحياؤُكم، وكفِّنُوا فيها موتاكم، فإنَّها من خِيارِ ثيابِكم" (2) . وقد رُويَ عن عبد الله بن عباس وسَمُرة بن جُندُب عن النَّبِيِّ ﷺ بزيادة ألفاظ فيه. أمّا حديثُ ابن عباس:
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پر سفید کپڑے لازم ہیں، زندہ لوگ بھی سفید کپڑے پہنیں اور اپنے فوت شدگان کو کفن بھی سفید کپڑوں میں ہی دیا کرو، کیونکہ کپڑوں میں، سفید کپڑا سب سے بہتر ہے۔ ٭٭ اسی مفہوم کی ایک اور حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے لیکن اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7564]
11. الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِ الْبَيَاضِ وَكَفِّنُوا مَوْتَاكُمْ
سفید کپڑے پہنا کرو اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو
حدیث نمبر: 7565
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا يحيى بن سُلَيم، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"خيرُ ثِيابِكم البياضُ، فأَلْبِسوها أحياءَكم، وكَفِّنوا فيها موتاكم، وإنَّ من خيرِ أكحالِكم الإثمِدَ، إنه يَجْلُو البصرَ ويُنبِتُ الشَّعرَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأما حديث سَمُرة بن جُندُب، فقد قدّمتُ الخلاف فيه على حديث أبي قِلابة، وله إسناد صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7378 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأما حديث سَمُرة بن جُندُب، فقد قدّمتُ الخلاف فيه على حديث أبي قِلابة، وله إسناد صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7378 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین کپڑا سفید ہے، زندہ لوگ بھی سفید کپڑے پہنیں اور اپنے فوت شدگان کو کفن بھی سفید کپڑوں میں ہی دیا کرو۔ بہترین سرمہ ” اثمد “ ہے۔ یہ بینائی کو تیز کرتا ہے اور بال گھنے کرتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے بارے میں اختلاف کو میں نے ابوقلابہ والی حدیث سے پہلے بیان کیا ہے۔ اس کی اسناد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7565]
12. تَزْيِينُ الشَّعَرِ
بالوں کی آرائش و زیبائش کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7566
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب، حَدَّثَنَا يعلى بن عُبيد وقَبِيصة بن عُقْبة، قالا: حَدَّثَنَا سفيان الثَّوري، حَدَّثَنَا حبيب بن أبي ثابت، عن ميمون بن أبي شَبِيب، عن سَمُرة بن جُندُب قال: قال رسول الله ﷺ:"الْبَسُوا من الثيابِ البياضَ، فإنَّها أطهَرُ وأطيبُ، وكَفِّنوا فيها موتاكم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7379 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7379 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سفید کپڑے پہنا کرو، کیونکہ یہ صاف ستھرے ہوتے ہیں، اور اسی میں اپنے فوت شدگان کو کفن دیا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7566]
حدیث نمبر: 7567
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الربيع بن سليمان المُرادي وبحرُ بن نصر بن سابق الخَوْلاني، قالا: حَدَّثَنَا بِشر بن بكر، حَدَّثَنَا الأوزاعي، حدثني حسان بن عطيَّة، عن محمد بن المُنكدِر، حدثني جابر بن عبد الله قال: أتانا رسولُ الله ﷺ، فرأى رجلًا ثائرَ الرأس، فقال:"أما يَجِدُ هذا ما يُسكِّنُ به شعرَه؟!" ورأى رجلًا وَسِخَ الثياب، فقال:"أمَا يَجِدُ هذا ما يُنقِّي به ثيابَه؟" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7380 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7380 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اس کے بالوں کو درست کر دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، اس کے کپڑے بہت بوسیدہ میلے کچیلے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس کے ساتھ یہ اپنے کپڑوں کو دھو لے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7567]
13. أَدَبُ السَّلَامِ
سلام کرنے کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 7568
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حَدَّثَنَا شَبَابة بن سَوَّار (1) ، أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن العَيْزار بن حُرَيث، عن أمِّ الحُصين الأحمَسِية، قالت: رأيتُ النَّبِيَّ ﷺ وعليه بُرْدُه قد التَفَعَ به تحت إِبْطِه، كأني أنظرُ إلى عَضَلَة عَضُدِه تَرتجُّ، فسمعتُه يقول:"يا أيها الناسُ، اتَّقوا الله، وإن أُمَّرَ عليكم عبدٌ حَبَشِيٌّ فَاسْمَعُوا له وأَطِيعُوا ما أقامَ لكم كتابَ الله ﷿" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7381 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7381 - صحيح
سیدنا ام حصین احمسیہ فرماتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ کے اوپر ایک بڑی چادر تھی، جس کو آپ نے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹا ہوا تھا، اور میں دیکھ رہا تھا کہ آپ کے بازو کا پٹھا حرکت کر رہا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، تم پر اگر کوئی حبشی غلام بھی امیر بنا دیا جائے تو تم اس کی بات کو بھی غور سے سنو اور جب تک وہ تمہیں کتاب اللہ کے موافق حکم دے تب تک اس کی فرمانبرداری لازمی کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7568]
14. لُبْسُ ثَوْبِ الْأَحْمَرِ
سرخ رنگ کا لباس پہننے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7569
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب الفرَّاء، أخبرنا جعفر بن عَون، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي السَّليل، عن أبي تَمِيمة الهُجَيمي، عن جابر بن سُلَيم الهُجَيمي قال: لَقِيتُ رسولَ الله ﷺ في بعض طرق المدينة، وعليه إزارٌ من قُطن منتشرُ الحاشية، قلت: عليك السلام يا محمَّدُ، أو يا رسولَ الله، فقال:"عليك السلامُ تحيةُ الميّتِ، عليك السلامُ تحيةُ الميّتِ، عليك السلامُ تحيةُ الميّتِ، سلامٌ عليكم، سلامٌ عليكم، سلامٌ عليكم؛ أي: هكذا فقُلْ، قال: فسألتُه عن الإزار، فأقنَعَ ظهرَه وأخذ بمُعظَم ساقِه، فقال:"هاهنا، فإن أبَيتَ فهاهنا فوقَ الكعبَين، فإن أبيتَ فإنَّ الله لا يُحِبُّ كلَّ مُختالٍ فَخُور" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7382 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7382 - صحيح
سیدنا جابر بن سلیم ہجیمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مدینے کے ایک راستے میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میری ملاقات ہو گئی، آپ کے اوپر کاٹن کی ایک چادر تھی، جس کی کناریاں کھلی ہوئی تھیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، (اور سلام کرنے کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے) ” علیک السلام یا محمد “ (یا) علیک السلام یا رسول اللہ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” علیک السلام “ مردوں کا سلام ہے۔” علیک السلام “ تو مردوں کا سلام ہے۔” علیک السلام “ تو مُردوں کا سلام ہے، تمہیں ” سلام علیکم “ کہنا چاہیے،” سلام علیکم “ کہنا چاہیے۔” سلام علیکم “ کہنا چاہیے، جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے پھر آپ سے ازار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے نیچے کی جانب جھک کر اپنی پنڈلی کی بڑی ہڈی کو پکڑ کر کہا: یہاں تک ازار ہونا چاہیے۔ نہیں تو ٹخنوں کے اوپر تک ہو، اور اس سے بھی نیچے تک کیا، تو یہ تکبر کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ متکبرین کو پسند نہیں کرتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7569]