المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَمَسُّ الطِّيبِ فِيهِ
جمعہ کے دن غسل کرنے اور خوشبو لگانے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7580
أخبرنا أبو بكر بن قُريش، حَدَّثَنَا الحسن بن سفيان، حَدَّثَنَا أبو الربيع الزَّهْراني، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن عبد الوارث، حَدَّثَنَا همَّام، عن قَتَادة، عن مُطرِّف، عن عائشة: أنها صَنعَتْ (1) لرسول الله ﷺ جُبَّةً من صوفٍ سوداءَ، فلَبِسَها، فلما عَرِقَ وَجَدَ ريحَ الصُّوف فخَلَعها، وكان يُعجِبُه الرِّيحُ الطَّيِّب (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7393 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7393 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اون کا کالے رنگ کا جبہ بنایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پہنا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ مبارک آیا تو آپ کو اون کی بدبو محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اتار دیا، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عمدہ خوشبو اچھی لگتی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7580]
حدیث نمبر: 7581
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الرَّبيع بن سليمان، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرنا سليمان بن بلال، عن عمرو بن أبي عمرو مولى المطَّلِب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلينِ من أهل العراق أتياه، فسألاه عن الغُسل في يوم الجمعة: أَواجبٌ هو؛ فقال لهما ابن عباس: مَن اغتسلَ فهو أحسنُ وأطهرُ، وسأخبرُكم لماذا بدأ الغُسلُ، كان الناسُ في عهد رسول الله ﷺ مُحتاجِينَ يَلْبَسُون الصُّوفَ ويَسقُونَ النَّخلَ على ظُهورهم، وكان المسجدُ ضيِّقًا مُقارِبَ (3) السَّقف، فخرج رسولُ الله ﷺ يومَ الجمعة في يومٍ صائفٍ شديدِ الحرِّ، ومنبرُه قصير، إنما هو [ثلاث] (4) دَرَجات، فخطب الناسَ فَعَرِقَ الناسُ في الصُّوف، فثارَتْ أبدانُهم (5) ريحَ العَرَق والصوفِ حتَّى كان (6) يُؤذِي بعضُهم بعضًا، حتَّى بلغت أرواحُهم رسولَ الله ﷺ وهو على المنبر، فقال:"أيُّها الناسُ، إذا كان هذا اليوم فاغتَسِلُوا، وليَمَسَّ أحدُكم أطيَبَ ما يَجِدُ من طِيبِه أو دُهْنِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7394 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7394 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ: دو عراقی شخص ان کے پاس آئے، اور ان سے جمعہ کے غسل کے بارے میں دریافت کیا کہ یہ غسل واجب ہے یا نہیں؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جس نے غسل کیا اور اس نے صفائی حاصل کی، اس نے بہت اچھا کام کیا، (اور جس نے غسل نہ کیا، اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہے، پھر فرمایا) میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جمعہ کا غسل کیسے شروع ہوا۔ اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ غریب ہوتے تھے، اون کے کپڑے پہنتے تھے، اپنی پیٹھ پر کھجوریں لادتے تھے، مسجد تنگ تھی، اس کی چھت بہت نیچی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر شریف چھوٹا سا تھا، اس کی چند سیڑھیاں تھیں، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سخت گرمی کے دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے لیے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کا خطبہ دیا، لوگوں کو پسینہ آ رہا تھا، پسینے اور اون کی بدبو سے ان کی طبیعتیں خراب ہو رہی تھیں، حتیٰ کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے تکلیف ہونے لگی، بلکہ یہ بدبو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی پہنچ گئی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جلوہ گر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! جب یہ دن آئے تو غسل کر لیا کرو، جس کے پاس کوئی خوشبو یا تیل وغیرہ ہو، وہ لگا لیا کرے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7581]
حدیث نمبر: 7582
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العدل، حَدَّثَنَا موسى بن هارون، حَدَّثَنَا مُصعَب بن عبد الله بن مُصعَب، حدثني أبي، عن إسماعيل بن عبد الله بن جعفر، عن أبيه قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ وعليه ثَوبانِ مَصبُوغانِ بالزَّعفران: رِداءٌ وعِمامةٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7395 - ليس على شرط أي أحد منهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7395 - ليس على شرط أي أحد منهما
اسماعیل بن عبداللہ بن جعفر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمامہ پہنا اور چادر اوڑھ رکھی تھی۔ دونوں زعفران سے رنگے ہوئے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7582]
17. عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ لِلرَّجُلِ
مردوں کے لیے کسم (زرد/سرخ رنگ) سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7583
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حَدَّثَنَا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا زيد بن الحُبَاب، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثني عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: كان رسولُ الله ﷺ يَخطُبُ، فأقبل الحسنُ والحسينُ عليهما قميصان أحمران، فجعلا يَعثُرانِ ويقومانِ، فنزل فأخذَهما فوَضَعَهما بين يديه، قال:"صدق اللهُ ورسولُه: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [التغابن: 15] ، رأيتُ هذَينِ فلم أصبِرْ"، ثم أَخذ في خُطبتِه (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7396 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7396 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: (وہ فرماتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما تشریف لائے، انہوں نے سرخ رنگ کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا، یہ دونوں شہزادے، کبھی گرتے کبھی اٹھ جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر شریف سے نیچے اترے اور دونوں شہزادوں کو اپنے سامنے بٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے بالکل سچ فرمایا ہے کہ ” بے شک تمہارا مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں “ میں نے ان دونوں کو دیکھا تو مجھ سے رہا نہیں گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ خطبہ شروع فرما دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس بارے میں شافی بیان درج ذیل حدیث میں موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7583]
حدیث نمبر: 7584
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد القَنْطري، حَدَّثَنَا أبو قِلابة، حَدَّثَنَا أبو عاصم، حَدَّثَنَا ابن جُريج، عن ابن طاووس، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو بن العاص: أنَّه دخل على النَّبِيّ ﷺ وعليه ثوبٌ مُعصفَر، فقال:"من أينَ لك هذا؟" قال: صنعَتْه لي أهلي، فقال النَّبِيُّ ﷺ:"احرِقْه" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والبيان الشّافي فيه في الحديث الذي:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والبيان الشّافي فيه في الحديث الذي:
7584 - عبداللہ بن عمرو بن العاص (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ: وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ انہوں نے کسم (گہرے سرخ رنگ) میں رنگا ہوا لباس پہن رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: "تمہارے پاس یہ کہاں سے آیا؟" انہوں نے عرض کیا: "یہ میرے گھر والوں نے میرے لیے تیار کیا ہے"۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسے جلا دو"۔ یہ حدیث شیخین (امام بخاری و مسلم) کی شرائط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے (ان الفاظ کے ساتھ) اپنی کتب میں نقل نہیں کیا۔ اس کی واضح تفصیل اس حدیث میں ہے جو (آگے آ رہی ہے): [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7584]
حدیث نمبر: 7585
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حَدَّثَنَا أبي وشعيب بن الليث، قالا: حَدَّثَنَا الليث، حَدَّثَنَا خالد بن يزيد، عن سعيد بن [أبي] (1) هلال، عن عطاء بن أبي رَبَاح وعن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو أنه قال: دخلتُ يومًا على رسولِ الله ﷺ وعليَّ ثوبانِ مُعصفَرانِ، فقال لي رسول الله ﷺ:"ما هذانِ الثوبانِ؟" قال: صَبغَتْهما لي أمُّ عبد الله، فقال رسول الله:"أقسمتُ عليكَ لَمَا رجعتَ إلى أُمِّ عبد الله فأمرتَها أن تُوقِدَ لهما التنُّورَ، ثم تَطرَحَهما فيه"، فرجعتُ إليها، ففعلتُ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخانِ ﵄ من النَّهي على لُبْس المُعصفَر للرجل على حديث علي ﵁، وفيه: نهاني النَّبِيُّ ﷺ، ولا أقولُ: نهاكم (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7397 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخانِ ﵄ من النَّهي على لُبْس المُعصفَر للرجل على حديث علي ﵁، وفيه: نهاني النَّبِيُّ ﷺ، ولا أقولُ: نهاكم (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7397 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، میں نے زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: یہ کیسے کپڑے ہیں؟ میں نے کہا: یہ ام عبداللہ نے میرے لیے بنائے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ جب تم ام عبداللہ کے پاس واپس جاؤ تو اس سے کہنا کہ وہ تنور میں آگ جلائے اور یہ کپڑے اس میں ڈال دے۔ میں وہاں سے واپس آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق وہ کپڑے جلا ڈالے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث شریف نقل کی ہے جس سے یہ ثابت ہے کہ مرد کو زرد رنگ کے کپڑے پہننا منع ہے۔ وہ حدیث ہے ” سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع کیا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7585]
حدیث نمبر: 7586
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى، عن هشام، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني محمد بن إبراهيم، أنَّ خالد بن مَعْدان أخبره، أنَّ جُبير بن نُفير أخبره، أنَّ عبد الله بن عمرو بن العاص أخبره: أنَّ رسول الله ﷺ رأى عليه ثوبَينِ مُعصفَرين، فقال:"إِنَّ هذه (2) ثيابُ الكفار، فلا تَلْبَسْها" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7398 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7398 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا، اور فرمایا: یہ کفار کے کپڑے ہیں، یہ مت پہنا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7586]
18. طِيبُ الرِّجَالِ رِيحٌ لَا لَوْنَ لَهُ وَطِيبُ النِّسَاءِ لَوْنٌ لَا رِيحَ لَهُ
مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ہو اور رنگ نہ ہو، اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ہو اور مہک (باہر) نہ پھیلے
حدیث نمبر: 7587
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا إسحاق بن منصور السَّلُولي، حَدَّثَنَا إسرائيل، عن أبي يحيى القَتَّات، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو قال: مرَّ على النَّبِيِّ ﷺ رجلٌ وعليه ثوبانِ أحمرانِ، فسلَّم فلم يردَّ عليه رسولُ الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7399 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7399 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا، اس نے سرخ رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7587]
حدیث نمبر: 7588
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا رَوْح بن عُبادة، حَدَّثَنَا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عِمران بن حُصين، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا أَركَبُ الأُرجُوانَ، ولا أَلْبَسُ المُعصفَر، ولا أَلْبَسُ القميص المُكفَّفَ بالحرير"، وأومأَ الحسنُ إلى جَيْب قميصه، وقال رسولُ الله ﷺ:"ألا وطِيبُ الرجلِ رِيحٌ لا لونَ له، وطِيبُ النّساءِ لونٌ لا ريحَ له" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. فإنَّ مشايخَنا، وإن اختلفوا في سماع الحسن عن عِمران بن حُصين، فإِنَّ أكثرَهم على أنه سمع منه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7400 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. فإنَّ مشايخَنا، وإن اختلفوا في سماع الحسن عن عِمران بن حُصين، فإِنَّ أكثرَهم على أنه سمع منه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7400 - صحيح
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں سرخ رنگ اور زرد رنگ کے کپڑے نہیں پہنتا اور ایسا قمیص بھی نہیں پہنتا جس میں ریشم کی سلائی کی گئی ہو۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیص کے گریبان کی جانب اشارہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار مرد کی خوشبو، ایسی خوشبو ہونی چاہیے جس میں رنگ نہ ہو، اور عورت کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو، خوشبو نہ ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ہمارے اساتذہ کا اگرچہ اس بارے میں اختلاف ہے کہ حسن نے عمران بن حصین سے احادیث سنی ہیں یا نہیں، لیکن اکثر محدثین کی رائے یہ ہے کہ حسن نے عمران بن حصین سے سماع کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7588]
19. مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَلَا يَلْبَسَنَّ حَرِيرًا وَلَا ذَهَبًا
جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ ہرگز ریشم اور سونا نہ پہنے
حدیث نمبر: 7589
أخبرني أبو بكر بن عبد الله بن قُريش، أخبرنا الحسن بن سفيان، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حَدَّثَنَا زياد بن عبد الله البَكَّائي، حَدَّثَنَا أبو عِمران الجَوْني، أنَّ أنس بن مالك حدّثه قال: ما شبَّهتُ الناسَ اليومَ في المسجد وكثرةَ الطَّيالِسةِ إلَّا بيهودِ خيبر (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومعناه الطَّيالسة المُصبَّغة، فإنها لِباسُ اليهود.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7401 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومعناه الطَّيالسة المُصبَّغة، فإنها لِباسُ اليهود.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7401 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آج لوگ مسجد میں طیالسی چادریں کثرت سے استعمال کرنے میں خیبر کے یہودیوں کے ساتھ بہت ملتے جلتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ رنگی ہوئی چادریں، کیونکہ یہ یہودیوں کا لباس ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7589]