المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ذِكْرُ مَا اخْتَارَهُ فُقَهَاءُ أَهْلِ الْكُوفَةِ فِي جَوَابِ الْعَاطِسِ .
چھینک کے جواب میں فقہائے کوفہ کے پسندیدہ کلمات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7891
حدَّثَناه الأستاذ أبو الوليد، حَدَّثَنَا إبراهيم بن علي، حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى. قال (2) : وحدثنا محمد بن نُعيم، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم؛ قالا: أخبرنا جَرير، عن منصور، عن هِلال بن يِساف قال: كنَّا مع سالم بن عُبيد في سَفَر، فعَطَسَ رجلٌ من القوم، فقال: السلامُ عليكم، فقال سالمٌ: السلامُ عليك وعلى أُمِّك، ثم قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إذا عَطَسَ أحدُكم فلَيحمَدِ الله، وليقُلْ مَن عندَه: يَرحمُك الله، وليرُدَّ عليهم: يَغْفِرُ الله لنا ولكم" (3) . الوهمُ في رواية جرير هذه ظاهرٌ، فإنَّ هلال بن يِساف لم يُدرِكْ سالمَ بن عبيد ولم يَرَه، وبينهما رجلٌ مجهول، فأما اللفظ الذي وقع لبعض الفقهاء الذي لا يُميِّز بين صحيح الأخبار وسَقِيمها في أمر النَّبِيِّ ﷺ الله العاطسَ أن يقول للمُشمَّت: يَهدِيكم الله ويُصلِحُ بالَكم، فيُوهِمُ أنَّ هذا التشميت لأهل الكتاب دون المسلمين:
جریر نے منصور سے روایت کیا ہے کہ ہلال بن یساف فرماتے ہیں: ہم سیدنا سالم بن عبید کے ہمراہ ایک سفر میں تھے، ایک آدمی کو چھینک آ گئی، اس نے کہا: السلام علیکم۔ سیدنا سالم نے جواباً کہا ” السلام علیک و علیٰ امک “ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کسی کو چھینک آئے تو وہ ” الحمد للہ “ کہے، اور جو اس کے قریب لوگ ہوں، وہ ” یرحمک اللہ “ کہیں۔ اور چھینکنے والا کہے ” یغفر اللہ لنا و لکم “۔ ٭٭ جریر کی روایت میں وہم بالکل واضح ہے کیونکہ ہلال بن یساف نے سیدنا سالم بن عبید کا زمانہ نہیں پایا اور نہ ہلال بن یساف نے ان کو دیکھا ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان ایک مجہول راوی ہے۔ بعض فقہاء کی روایات میں کچھ ایسے الفاظ وارد ہیں، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھینکنے والے کے لیے حکم فرمایا ہے کہ وہ ” یہدیکم اللہ و یصلح بالکم “ کہے۔ یہ الفاظ اخبار صحیحہ اور سقیمہ میں کوئی امتیاز نہیں کرتے۔ اس سے ایک وہم یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ الفاظ ” یہدیکم اللہ و یصلح بالکم “ اہل کتاب کی چھینک کا جواب ہے، مسلمان کا نہیں۔ (کیونکہ مسلمان تو پہلے سے ہدایت یافتہ ہوتا ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7891]
حدیث نمبر: 7892
فأخبرَناه محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حَدَّثَنَا أبو نُعيم وقَبيصة، قالا: حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا حَكيم بن الدَّيلم، حَدَّثَنَا أبو بُرْدة، حَدَّثَنَا أبو موسى قال: كان اليهودُ يَتعاطَسُون عند النَّبِيِّ ﷺ يَرجُونَ أن يقولَ لهم: يَرحمُكم الله، وكان يقول لهم:"يَهدِيكم الله ويُصلِحُ بالَكم" (1) .
هذا حديث متّصل الإسناد، وهذا الخبرُ ليس بخلاف الأخبار المأثورةِ الصحيحةِ المتفقِ عليها في الجامعين الصحيحين للإمامين محمِّد بن إسماعيل ومسلم بن الحجَّاج، لأنَّ من السُّنن الصحيحة أن يقولَ المسلمُ لأخيه العاطس: يرحمُك الله، فيجيبُه بأن يقول: يَهدِيكم الله ويُصلِحُ بالكم. وكان ﷺ يقول لليهود إذا عطسوا:"يَهدِيكم الله ويُصلحُ بالكم" بدلَ ما أمرَ ﷺ أن يُقال للمسلم إذا عطس: يرحمُكم الله. فالمحتجُّ بذلك ليس يُميِّز بين العاطس والمُشمِّت، وقد دعا النبيُّ ﷺ لنفسه وللمسلمين بالهداية في أخبارٍ كثيرة يطولُ شرحُها في هذا الموضع، وقد أمرَ النَّبِيُّ ﷺ خليلَه وصفيَّه وخَتَنَه عليَّ بن أبي طالب ﵁ أن يسأل الله الهدايةَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7699 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث متّصل الإسناد، وهذا الخبرُ ليس بخلاف الأخبار المأثورةِ الصحيحةِ المتفقِ عليها في الجامعين الصحيحين للإمامين محمِّد بن إسماعيل ومسلم بن الحجَّاج، لأنَّ من السُّنن الصحيحة أن يقولَ المسلمُ لأخيه العاطس: يرحمُك الله، فيجيبُه بأن يقول: يَهدِيكم الله ويُصلِحُ بالكم. وكان ﷺ يقول لليهود إذا عطسوا:"يَهدِيكم الله ويُصلحُ بالكم" بدلَ ما أمرَ ﷺ أن يُقال للمسلم إذا عطس: يرحمُكم الله. فالمحتجُّ بذلك ليس يُميِّز بين العاطس والمُشمِّت، وقد دعا النبيُّ ﷺ لنفسه وللمسلمين بالهداية في أخبارٍ كثيرة يطولُ شرحُها في هذا الموضع، وقد أمرَ النَّبِيُّ ﷺ خليلَه وصفيَّه وخَتَنَه عليَّ بن أبي طالب ﵁ أن يسأل الله الهدايةَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7699 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوموسیٰ فرماتے ہیں: یہودی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر چھینکا کرتے تھے، اس امید پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے ” یرحمکم اللہ “ کہیں۔ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے کہتے ” یہدیکم اللہ و یصلح بالکم “۔ ٭٭ یہ حدیث متصل الاسناد ہے، اور یہ حدیث احادیث ماثورہ صحیحہ متفق علیہا جو کہ بخاری و مسلم میں موجود ہیں ان کے خلاف نہیں ہے کیونکہ سنن صحیحہ میں سے یہ بھی ہے کہ مسلمان اپنے چھینکنے والے بھائی سے کہے ” یرحمک اللہ “ اور وہ جواب میں کہے ” یہدیکم اللہ ویصلح بالکم “ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہ ہے کہ جب مسلمان کو چھینک آئے تو ” یرحمکم اللہ “ کہا جائے۔ اس حدیث سے دلیل پکڑنے والا عاطس (چھینکنے والے) اور مشمت (چھینکنے والے کا جواب دینے والے) کے درمیان فرق نہیں کر سکا۔ کیونکہ بہت ساری احادیث سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے لیے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت کی دعا مانگی ہے، اس مقام پر اگر ان احادیث مبارکہ کی تشریح کی جائے تو بات بہت طویل ہو جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خلیل، اپنے صفی، اپنے داماد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا مانگیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7892]
7. نَهَى النَّبِيُّ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُضْطَجِعٌ .
نبی کریم ﷺ نے لیٹ کر ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھنے سے منع فرمایا
حدیث نمبر: 7893
كما أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا النَّضْر بن شُمَيل، أخبرنا شُعْبة، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عليٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"يا عليُّ، سَلِ الله الهُدى والسَّدادَ، واذْكُرْ بالهُدى هِدايتَك الطريقَ، وبالسَّدادِ تسديدَك السَّهمَ" (2) . ثم أمر ﷺ ولدَه الحسنَ بنَ علي سيِّدَ شباب أهلِ الجنة بمثل ما أمرَ به أباه. حديث بُرَيد بن أبي مريم عن أبي الحَوْراء عن الحسن بن علي في دعاء القُنوت الذي علَّمه النَّبِيُّ ﷺ:"اللهمَّ اهدِني فيمَنْ هديتَ" (1) ، أشهرُ من أن يُذكَر إسنادُه وطرقه. رجعنا إلى الأخبار الصحيحة في الآداب ممَّا لم يُخرجها الإمامانِ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7700 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7700 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے علی! اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور سداد (درستگی) کا سوال کیا کرو اور ہدایت سے مراد سیدھا راستہ ہے اور سداد سے مراد تیروں کو درست کرنا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے صاحبزادے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما (جو کہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں) کو بھی وہی حکم دیا جو ان کے والد محترم کو دیا تھا۔ ٭٭ یزید ابن ابی مریم کی ابوالجوزاء کے واسطے سے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کردہ حدیث اس دعائے قنوت کے بارے میں ہے جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سکھائی تھی، وہ دعا ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ اللھم اھدنی فیمن ھدیت۔ یہ حدیث اس قدر مشہور ہے کہ اس کی اسناد ذکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اور ہم آداب کے موضوع پر اب ان احادیث کی جانب لوٹتے ہیں جن کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7893]
حدیث نمبر: 7894
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا إبراهيم بن عبد الله، حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا حمّاد بن سَلَمة، عن أبي الزُّبير، عن جابر: أنَّ رسول الله ﷺ نَهَى أن يضعَ الرجلُ إحدى رِجلَيه على الأخرى وهو مُضطجِعٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7701 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7701 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی لیٹے ہوئے اپنا ایک پاؤں، دوسرے پر رکھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7894]
حدیث نمبر: 7895
أخبرَناه أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حَدَّثَنَا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، حدثني أبو الزُّبير، عن جابر، عن رسولِ الله ﷺ: أنه نَهَى عن اشتِمَال الصَّمَّاء، وأن يرفعَ الرجلُ إحدى رِجلَيه على الأخرى وهو مُستَلقي على ظَهْرِه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7702 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7702 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال الصماء سے منع فرمایا۔ اور اشتمال الصماء یہ ہے کہ آدمی اپنی پشت کے بل لیٹا ہوا ہو اور وہ اسی حالت میں اپنا ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7895]
8. خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا .
بہترین مجلسیں وہ ہیں جو کشادہ ہوں
حدیث نمبر: 7896
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا عُبيد بن شَريك البزَّار، حَدَّثَنَا عمرو بن خالد الحرَّاني، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس عن ابن جُريج، عن إبراهيم بن مَيْسرة، عن عمرو بن الشَّريد، عن أبيه: أنَّ النَّبِيّ ﷺ مرَّ به وهو متكئٌ على أَلْيةِ يدِه خلفَ ظهرِه، فقال:"تَقعُدُ قِعدةَ المغضوبِ عليهم؟!" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7703 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7703 - صحيح
عمرو بن الشرید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت اس طرح لیٹے ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنی پشت کے پیچھے اپنی ہتھیلیوں سے ٹیک لگائی ہوئی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان لوگوں کی طرح بیٹھے ہوئے ہو جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7896]
حدیث نمبر: 7897
حدثني علي بن حَمْشاذ، حَدَّثَنَا عُبيد بن شَريك البزَّار، حَدَّثَنَا أبو الجُمَاهر بن عثمان التَّنُوخي، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد، عن مصعب بن ثابت، عن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"خيرُ المجالس أوسَعُها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7704 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7704 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے اچھی محفل وہ ہے جس میں گنجائش زیادہ ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7897]
9. أَشْرَفُ الْمَجَالِسِ مَا اسْتُقْبِلَ بِهِ الْقِبْلَةُ .
معزز ترین مجلس وہ ہے جس میں قبلہ رخ بیٹھا جائے
حدیث نمبر: 7898
حدثني علي بن حَمْشاذ، حَدَّثَنَا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حَدَّثَنَا مُعلَّى بن منصور الرازي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن أبي المَوَال، عن عبد الرحمن بن أبي عَمْرة: أنَّ أبا سعيد الخُدْري أُوذِنَ بجنازةٍ في قومه، فجاء وقد أخذَ الناسُ مجالسَهم، فلما رأَوه تسرَّبُوا إليه فجَلسُوا في ناحية، وقال: إنَّ رسول الله ﷺ قال:"خيرُ المجالس أوسعُها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7705 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7705 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک قوم میں جنازے کا اعلان کیا گیا، پھر جنازہ آ گیا، لوگ اپنی اپنی محفلیں جما کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب انہوں نے جنازہ دیکھا تو وہاں سے ہٹ گئے اور سڑک کے ایک کنارے پر بیٹھ گئے۔ اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بہترین مجلس وہ ہے، جس میں زیادہ وسعت ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7898]
10. لَا تَتَكَلَّمُوا بِالْحِكْمَةِ عِنْدَ الْجَاهِلِ .
جاہل کے سامنے حکمت کی باتیں نہ کرو
حدیث نمبر: 7899
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا محمد بن معاوية، حَدَّثَنَا مُصادِف بن زياد المَديني - قال: وأثنى عليه خيرًا - قال: سمعتُ محمد بن كعب القُرَظي يقول: لقيتُ عمرَ بنَ عبد العزيز بالمدينة في شَبابِه وجَمالِهِ وغَضَارتِه، قال: فلمَّا استُخلِفَ قدمتُ عليه فاستأذنتُ عليه، فأَذِنَ لي، فجعلتُ أُحِدُّ النَّظر إليه، فقال لي: يا ابنَ كعب، ما لي أَراك تُحِدُّ النظرَ؟ قلت: يا أميرَ المؤمنين، لِما أرى من تغيُّر لونِك ونُحُول جسمِك وتَعَارِ شَعْرِك، فقال: يا ابنَ كعب، فكيف ولو رأيتَني بعدَ ثلاثٍ في قبري وقد انتَزَعَ النملُ مُقلتَيَّ وسالَتا على خدَّيَّ، وابْتَدَر مَنْخِرايَ وفمي صَديدًا؟! لكنتَ لي أشدَّ إنكارًا، دعْ ذاك، أعِدْ عليَّ حديثَ ابن عباس عن رسول الله ﷺ. فقلتُ: قال ابن عَبَّاس: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ لكلّ شيء شَرَفًا، وإنَّ أشرفَ المجالس ما استُقبِلَ به القِبلةُ، وإنكم تَجالَسُون بينكم بالأَمانةِ. واقتلوا الحيَّةَ والعقربَ وإن كنتُم في صلاتِكم. ولا تَسْتُروا جُدُرَكم. ولا يَنظُرْ أحدٌ منكم في كتاب أخيه إلَّا بإذنِه. ولا يُصلِّيَنَّ أحدٌ منكم وراءَ نائمٍ ولا مُحدِّث". قال: وسُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن أفضلِ الأعمال إلى الله تعالى، فقال:"مَن أدخلَ على مؤمن سُرورًا، إمَّا أطعمَه من جوع، وإما قَضَى عنه دينًا، وإما يُنفِّسُ عنه كُربةً من كُرَب الدنيا نَفَّس الله عنه كُرَبَ الآخرة، ومَن أَنظَرَ مُوسِرًا أو تجاوزَ عن مُعسِر، أظلَّه الله يومَ لا ظِلَّ إلَّا ظِلُّه، ومَن مشى مع أخيه في ناحيةِ القرية ليثبِّتَ حاجتَه، ثبَّتَ اللهُ ﷿ قَدَمَه يومَ تزولُ (1) الأقدامُ، ولأن يمشيَ أحدُكم مع أخيه في قضاءِ حاجتِه - وأشارَ بإصبعِه - أفضلُ من أن يَعتكِفَ في مسجدي هذا شهرَينِ"،"ألا أُخبِرُكم بشِرارِكم؟" قالوا: بلى يا رسول الله، قال:"الذي يَنزِلُ وحدَه، ويَمنعُ رِفْدَه، ويَجلِدُ عبدَه" (2) . ولهذا الحديث إسناد آخر بزيادة أحرُف فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7706 - بطل الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7706 - بطل الحديث
محمد بن کعب القرظی فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز سے مدینہ منورہ میں ملا، وہ اس وقت خوبصورت نوجوان تھے۔ آپ فرماتے ہیں: جب ان کو خلیفہ بنایا گیا تو میں ان کے پاس گیا، میں نے ان کے پاس جانے کی اجازت مانگی، مجھے اجازت مل گئی، میں ان کو بہت گھور کر دیکھنے لگ گیا، انہوں نے پوچھا: اے ابن کعب! کیا وجہ ہے؟ تم مجھے اس طرح گھور گھور کر کیوں دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: اس لیے کہ اے امیرالمومنین! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کا رنگ بدل چکا ہے، آپ کا جسم کمزور ہو چکا ہے، اور آپ کے بال بکھرے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا: اے ابن کعب! اس وقت کیفیت کیا ہو گی، جب تم مجھے تین دن کے بعد قبر میں دیکھو گے، چیونٹیاں میری آنکھوں کی پتلیوں کو نکال چکی ہوں گی، اور وہ میرے رخساروں پر بہہ چکی ہوں گی، اور میرا حلق اور منہ پیپ سے بھر گیا ہو گا، تب تو تم اس سے بھی زیادہ مجھ سے نفرت کرو گے۔ تم وہ بات چھوڑ دو، تم مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہوئی حدیث سناؤ، میں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر چیز کا ایک ادب ہوتا ہے، اور بیٹھنے کا ادب یہ ہے کہ قبلہ کی جانب رخ کر کے بیٹھا جائے اور تم اپنے درمیان امانت کے ساتھ بیٹھو۔ اور سانپ اور بچھو کو مار ڈالو، اگرچہ تم نماز پڑھ رہے ہو، اپنی دیواروں پر پردے مت لٹکاؤ، کوئی شخص اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر نہ پڑھے۔ کوئی شخص سوئے ہوئے آدمی کے پیچھے اور بے وضو کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ آپ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے افضل عمل کونسا ہے؟ آپ نے فرمایا: کسی مومن کو خوشی دینا، چاہے کھانا کھلا کر اس کی بھوک ختم کرے، یا اس کی جانب سے اس کا قرضہ ادا کر کے، یا اس کی کوئی دنیاوی پریشانی دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی پریشانی دور کرے گا۔ جو شخص کسی فراخ دست کو مہلت دے گا یا تنگ دست کا قرضہ معاف کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس دن سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن کوئی سایہ نہ ہو گا۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے ہمراہ چل کر شہرے کے کنارے تک جائے گا، اللہ تعالیٰ اس دن اس کو ثابت قدم رکھے گا جس دن لوگوں کے قدم پھسل رہے ہوں گے۔ اور یہ کہ کسی مسلمان کے کام کے لیے اس کے ساتھ جانا میری اس مسجد میں دو ماہ کے اعتکاف سے بہتر ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے شریر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اکیلا رہتا ہو، اپنے عطیات کو روکتا ہو اور اپنے غلام کو مارتا ہو۔ اس حدیث کی اور اسناد بھی ہے اور اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7899]
11. النَوْمَةُ التِي يَكْرَهُهَا اللَّهُ .
وہ نیند جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے
حدیث نمبر: 7900
سمعتُ أبا سعيد الخليلَ بن أحمد القاضي، في دار الأمير السَّديد أبي صالح منصور بن نوح بحَضْرته يصيحُ برواية هذا الحديث، فقال: حَدَّثَنَا أبو القاسم بن محمد البَغَوي، حَدَّثَنَا عبيد الله بن محمد العَيْشي، حَدَّثَنَا أبو المِقْدام هشام بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن كعب القُرَظي، قال: شهدتُ عمر بن عبد العزيز وهو أميرٌ علينا بالمدينة للوليد بن عبد الملك، وهو شابٌّ غليظٌ ممتلئُ الجِسم، فلما استُخلِفَ أتيتُه بخُناصِرةَ، فدخلتُ عليه وقد قاسَى ما قاسَى، فإذا هو قد تغيَّرتْ حالتُه عمَّا كان، ثم ذكر الحديث … وزاد فيه:"ومَن نظَر في كتاب أخيه بغير إذنِه، فكأنما ينظُرُ في النار، ومن أحبَّ أن يكون أقوى الناس، فليتوكَّلْ على الله، ومَن أحبَّ أن يكون أكرمَ الناس، فليتقِ الله ﷿، ومن أحبَّ أن يكون أغنَى الناس، فليكُنْ بما في يدِ الله أوثقَ مِمَّا في يده". وقال:"أفأنبِّئُكم بشَرٍّ من هذا؟" قالوا نعم يا رسولَ الله، قال:"مَن لا يُقِيلُ عَثْرَةً، ولا يَقبلُ معذرةً، ولا يَغفِرُ ذنبًا. أفأنبِّئُكم بشَرٍّ من هذا؟" قالوا: نعم يا رسولَ الله، قال:"مَن لا يُرجَى خيرُه، ولا يُؤْمَنُ شرُّه. إنَّ عيسى ابنَ مريمَ صلواتُ الله عليه قامَ في بني إسرائيلَ، فقال: يا بني إسرائيلَ، لا تتكلَّموا بالحِكْمة عند الجاهل فتَظلِموها، ولا تَمنعُوها أهلَها فَتَظْلِمُوهم، ولا تَظلِمُوا ظالمًا، ولا تُكافِئُوا ظالمًا فيبطُلَ فَضْلُكم عند ربِّكم. يا بني إسرائيل، الأمرُ ثلاث: أمرٌ تبيَّنَ غَيُّه فاجتنِبُوه، وأمرٌ اختُلِفَ فيه فردُّوه إلى الله ﷿ (1) " (2)
هذا حديث صحيح قد اتَّفق هشام بن زياد البَصْري ومُصادِف بن زياد المَدِيني على روايته عن محمد بن كعب القرظي، والله أعلم. ولم أَستجِزُ إخلاءَ هذا الموضع منه، فقد جمع آدابًا كثيرة.
هذا حديث صحيح قد اتَّفق هشام بن زياد البَصْري ومُصادِف بن زياد المَدِيني على روايته عن محمد بن كعب القرظي، والله أعلم. ولم أَستجِزُ إخلاءَ هذا الموضع منه، فقد جمع آدابًا كثيرة.
محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ ولید بن عبدالملک کی جانب سے مدینہ منورہ پر ہمارے عامل تھے۔ آپ طاقتور، اور مضبوط جسم والے نوجوان تھے، ان کے خلیفہ بننے کے بعد میں ان کے پاس خناصرہ (جو کہ سرزمین حمص کے قریب ہے) میں آیا۔ میں ان کے پاس پہنچا، یہ میرے بارے بہت ساری قیاس آرائیاں کر چکے تھے۔ ان کی حالت پہلے سے بہت تبدیل ہو چکی تھی، اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔ اس میں ان الفاظ کا اضافہ فرمایا: جس نے اپنے بھائی کے خط کی طرف اس کی اجازت کے بغیر دیکھا، گویا کہ اس نے دوزخ کو دیکھا ہے، اور جو شخص سب سے زیادہ طاقتور بننا چاہتا ہے، اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرے، اور جو سب سے زیادہ باعزت ہونا چاہتا ہے، اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔ اور جو شخص سب سے زیادہ غنی ہونا چاہتا ہے، اس کو چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس پر زیادہ بھروسہ کرے، اور جو کچھ اس کے اپنے ہاتھ میں ہے اس پر کم بھروسہ کرے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے شریر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو فسخ بیع (کے مطالبے پر بیع فسخ) نہیں کرتا۔ اور جو معذرت قبول نہیں کرتا۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ شریر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے بھلائی کی امید نہ کی جاتی ہو اور جس کے شر سے امن نہ ہو۔ بے شک سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام بنی اسرائیل میں کھڑے ہوئے، اور فرمایا: اے بنی اسرائیل! جاہل کے پاس حکمت کی بات مت کرو۔ ورنہ تم ظلم کرو گے، اور اہل لوگوں سے حکمت کی بات روک کر نہ رکھو ورنہ تم ظلم کرو گے، ظالم پر ظلم مت کرو، اور نہ ظلم کا بدلہ ظلم سے دو، ورنہ تمہارے رب کے ہاں تمہاری قدر و منزلت گر جائے گی، اے بنی اسرائیل اصل باتیں تین ہیں۔ ایک وہ معاملہ جس کی کھوٹ واضح ہو، اس سے بچ کر رہو۔ ایک وہ معاملہ جس میں اختلاف ہو، اس کو اللہ کے سپرد کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے۔ ہشام بن زیادہ نصری اور مصادف بن زیاد المدنی نے محمد بن کعب قرظی سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ واللہ اعلم۔ مجھے اچھا نہیں لگا کہ اس مقام کو اس سے خالی رکھوں اس لیے میں نے بہت سارے آداب جمع کر دئیے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7900]