🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. رَدُّ الصَّدَقَةِ مِيرَاثًا
صدقہ کیے گئے مال کا میراث بن کر واپس لوٹنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8215
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، حدثنا عبد الله بن عطاء، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه قال: أتَتِ النبيَّ ﷺ امرأة، فقالت: إني تصدَّقتُ على أمّي بصدقة، فماتت ورَجَعتِ الصدقةُ إليَّ، فقال رسول الله ﷺ:"وَجَبَ أجرُكِ ورَجَعَ إليك صدقتُك" (2) . رواه سفيان الثَّوري عن عبد الله بن عطاء:
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میں نے اپنی ماں کو کچھ صدقہ دیا تھا، پھر ان کا انتقال ہو گیا اور وہ صدقہ (بطور میراث) پلٹ کر میرے پاس ہی آ گیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا اجر ثابت ہو گیا اور تیرا صدقہ (میراث کی صورت میں) تجھے واپس مل گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8215]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8215] [ترقيم الشركة 8116]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8216
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى حدثنا ابن أبي ليلى وسفيان الثَّوري، عن عبد الله بن عطاء، عن ابن بُرَيدة، عن أبيه قال: أتَتِ امرأةٌ النبيَّ ﷺ فقالت: إنَّ أُمي تُوفِّيَت وعليها صومُ شهرين، فقال:"صُومي عنها"، فقالت: إنَّ عليها حَجَّةً، قال:"فحُجِّي عنها" قالت: فإنِّي تصدَّقتُ عليها بجاريةٍ، فقال:"قد آجَرَكِ اللهُ، وردَّها عليك الميراثُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8018 - صحيح
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئی: میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور ان کے ذمے دو ماہ کے روزے باقی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی طرف سے روزے رکھ لو۔ اس نے عرض کی: ان کے ذمے حج بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی طرف سے حج کر لو۔ اس نے کہا: میں نے انہیں ایک لونڈی صدقہ میں دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تجھے اجر دے دیا ہے اور وراثت نے وہ لونڈی تجھے واپس لوٹا دی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8216]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8216] [ترقيم الشركة 8117] [ترقيم العلميه 8018]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8217
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هلال، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن عبد الله بن زيد بن عبد ربِّه (2) وهو الذي أُرِيَ النِّداء: أنه الذي تصدَّق على أبويه ثم تُوفِّيا، فردَّه رسولُ الله ﷺ إليه مِيراثًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إن كان أبو بكر بن عمرو بن حَزْم سمعه من عبد الله بن زيد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8019 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ (یہ وہی ہیں جنہیں خواب میں اذان کے کلمات سکھائے گئے تھے) سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والدین پر کچھ مال صدقہ کیا، پھر ان دونوں کی وفات ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال بطور میراث انہی کو واپس لوٹا دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ ابوبکر بن عمرو بن حزم نے اسے عبداللہ بن زید سے سنا ہو، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8217]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8217] [ترقيم الشركة 8118] [ترقيم العلميه 8019]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8218
وحدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن محمد وعبد الله ابني أبي بكر بن محمد بن حَزْم، عن أبي بكر بن حَزْم: أنَّ عبد الله بن زيد بن عبد ربِّه جاء إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، إنَّ حائطي هذا صدقةٌ، وهو الله ولرسوله، فجاء أبواه فقالا: يا رسولَ الله كان قِوامَ عَيشِنا، فردَّه رسولُ الله ﷺ عليهما، ثم ماتا فوَرِثَه ابنُهما بعدَهما (1) . و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين كذلك. وأصحُّ ما رُويَ في طرق هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8020 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرا یہ باغ صدقہ ہے اور یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے وقف ہے، پھر ان کے والدین حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہی ہماری زندگی کا کل سہارا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ ان دونوں کو واپس کر دیا، پھر جب ان دونوں کا انتقال ہوا تو ان کا بیٹا ہی ان کا وارث بنا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8218]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه كسابقه» [ترقيم الرساله 8218] [ترقيم الشركة 8119] [ترقيم العلميه 8020]

الحكم على الحديث: حديث حسن بط
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8219
ما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن بَشير بن محمد بن عبد الله بن زيد، عن جدِّه عبدِ الله بن زيد: أنه تصدَّق بحائطٍ فأتَى أبواه النبيَّ ﷺ، فقالا: يا رسولَ الله، إنها كانت قِيَمَ وجوهِنا، ولم يكن لنا شيءٌ غيرُه، فدعا عبدَ الله فقال:"إِنَّ الله تعالى قد قَبِلَ صدقتك، وردَّها على أبويك". قال بشيرٌ: فتوارَثْناها بعد ذلك (2) . وهذا الحديث وإن كان إسناده صحيحًا على شرط الشيخين، فإني لا أرَى بشيرَ بن محمد الأنصاري سمعَ من جدِّه عبد الله بن زيد، وإنما ترك الشيخان حديثَ عبد الله بن زيد في الأذان والرؤيا التي قصَّها على رسول الله ﷺ بهذا الإسناد لتقدُّم موتِ عبد الله بن زيد، فقد قيل: إنه استُشهِد بأُحد، وقيل: بعد ذلك بيسير، والله أعلم (3) .
سیدنا بشیر بن محمد بن عبداللہ بن زید اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک باغ صدقہ کیا تو ان کے والدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ ہماری گزر بسر کا واحد ذریعہ تھا اور ہمارے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ کو بلا کر فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول فرما لیا ہے اور اسے تمہارے والدین پر واپس کر دیا ہے۔ بشیر کہتے ہیں کہ پھر (والدین کی وفات کے بعد) ہم نے اسے بطور وراثت پایا۔
یہ حدیث اگرچہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن میرے نزدیک بشیر بن محمد انصاری کا اپنے دادا عبداللہ بن زید سے سماع ثابت نہیں ہے، اور شیخین نے عبداللہ بن زید کی اذان اور خواب والی حدیث کو اس سند سے اسی لیے ترک کیا کہ عبداللہ بن زید کی وفات قدیم ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ غزوہ احد میں یا اس کے کچھ ہی عرصہ بعد شہید ہو گئے تھے، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8219]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه كسابقيه، وهذا إسناد ضعيف، بشير بن محمد بن عبد الله مجهول الحال، وهو أيضًا لم يدرك جدَّه عبد الله كما تقَّدم بيانه عند الرواية السالفة برقم (5538)، وكما أشار المصنف عقبه» [ترقيم الرساله 8219] [ترقيم الشركة 8120]

الحكم على الحديث: حديث حسن بطرقه كسابقيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ وَرِثَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ
اگر بچہ پیدا ہوتے ہی رو پڑے (زندگی کی علامت دکھائے) تو وہ وارث ہوگا اور اس کا جنازہ پڑھا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8220
أخبرني أبو بكر بن أبي نصر المُزكَّي بمَرُو، حدثنا عبد الله بن رَوْح المدائني، حدثنا شَبَابة بن سوَّار، حدثنا المغيرة بن مسلم، عن أبي الزُّبير، عن جابر أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"إذا استَهلَّ الصبيُّ وُرِّثَ وصُلِّيَ عليه" (1) . لا أعلم أحدًا رَفَعَه عن أبي الزُّبير غير المغيرة! وقد أوقَفَه ابن جُريج وغيرُه (2) ، وقد كَتَبناه من حديث سفيان الثَّوري عن أبي الزُّبير مرفوعًا:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچہ (پیدائش کے وقت) آواز نکالے تو اس کی وراثت جاری ہوگی اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ میں نہیں جانتا کہ مغیرہ کے علاوہ کسی نے اسے ابوزبیر سے مرفوعاً روایت کیا ہو، جبکہ ابن جریج وغیرہ نے اسے موقوف بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8220]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل المغيرة بن مسلم» [ترقيم الرساله 8220] [ترقيم الشركة 8121]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں