المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. عَصَبَةُ وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ أُمُّهُ
ملاعنہ (جس پر زنا کی تہمت لگی ہو) کے بچے کے وارث اس کے ننھیال والے ہیں
حدیث نمبر: 8186
أخبرنا أبو عبد الله بن يعقوب الحافظ وأبو يحيى السَّمَرقندي، قالا: حدثنا محمد بن نصر الإمام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا عبَّاد بن العوّام، عن عمر بن عامر عن حمَّاد، عن إبراهيم، عن ابن مسعود: أنه قال في مِيراث ابن الملاعَنة: مِيراثُه كلُّه لأمِّه (1) .
هذا حديث رواتُه كلُّهم ثِقات، وهو مرسل، وله شاهدٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7987 - مرسل
هذا حديث رواتُه كلُّهم ثِقات، وهو مرسل، وله شاهدٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7987 - مرسل
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے «لعان» کرنے والی عورت کے بیٹے کی میراث کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس کی تمام میراث اس کی ماں کے لیے ہے۔“
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ مرسل ہے، تاہم اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8186]
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ مرسل ہے، تاہم اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8186]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن. ورواية إبراهيم» [ترقيم الرساله 8186] [ترقيم الشركة 8086] [ترقيم العلميه 7987]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
حدیث نمبر: 8187
أخبرَناه أبو يحيى وحدَه، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا عبد الأعلى بن حمّاد، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن داود بن أبي هِند، عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير، عن رجل من أهل الشام: أنَّ رسول الله ﷺ قال في ولد المُلاعَنة:"عَصَبَتْه أُمُّه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7988 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7988 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
اہل شام کے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لعان» کرنے والی عورت کی اولاد کے بارے میں فرمایا: ”اس کی ماں ہی اس کی «عصبہ» (وارث) ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8187]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لإبهام الراوي له عن النبي ﷺ، وسيأتي في بعض الروايات منسوبًا لبني زُريق، وأنه سأل الناس عن ذلك ولم يسمعه من النبي ﷺ، فهو مع إبهامه مرسل، والله تعالى أعلم» [ترقيم الرساله 8187] [ترقيم الشركة 8087] [ترقيم العلميه 7988]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لإبهام الراوي له عن النبي ﷺ
حدیث نمبر: 8188
وأخبرنا أبو يحيى، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا يحيى بن أبي بُكير، عن إبراهيم بن طَهْمان عن سِمَاك، عن عِكرمة، عن ابن عباس قال: اختُصِمَ إلى علي بن أبي طالب في ولد مُلاعَنِة، فأعطَى ميراثَه أُمَّه، وجعلها عَصَبَتَه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ومحمد بن إسحاق هذا: هو الصَّغَاني بلا شكٍّ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7989 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ومحمد بن إسحاق هذا: هو الصَّغَاني بلا شكٍّ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7989 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایسی عورت کے بچے کا مقدمہ لایا گیا جس کے ساتھ «لعان» کیا گیا تھا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی میراث اس کی ماں کو عطا کی اور اسے ہی اس کا «عصبہ» قرار دیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس سند میں محمد بن اسحاق سے مراد بلا شک و شبہ ”صغانی“ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8188]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس سند میں محمد بن اسحاق سے مراد بلا شک و شبہ ”صغانی“ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8188]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل سماك، وهو» [ترقيم الرساله 8188] [ترقيم الشركة 8088] [ترقيم العلميه 7989]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل سماك
17. الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ
ولاء (آزاد کردہ غلام کا رشتہ) نسب کے رشتے کی طرح ایک جوڑ ہے
حدیث نمبر: 8189
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب عَوْدًا على بَدْءٍ، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا الشافعي، أخبرنا محمد بن الحسن عن أبي يوسف، عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر، أنَّ النبي ﷺ قال:"الوَلاءُ لُحْمَةٌ كلُّحْمةِ النَّسَب، لا يُباع ولا يُوهَبُ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الولاء» (آزاد کردہ غلام اور مالک کا تعلق) نسب کے رشتے کی طرح ایک مضبوط تعلق ہے، اسے نہ تو فروخت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہبہ (تحفہ) کیا جا سکتا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8189]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8189]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح من غير ذكر لُحمة النسب، وهذا إسناد لا بأس برواته، لكن سقط منه ذكر عبيد الله بن عمر بين أبي يوسف» [ترقيم الرساله 8189] [ترقيم الشركة 8089]
الحكم على الحديث: حديث صحيح من غير ذكر لُحمة النسب
حدیث نمبر: 8190
وقد حدَّثَناه عبد الرحمن بن حَمْدان، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن مِهْران، حدثنا يحيى بن سُلَيم الطائفي (1) ، عن إسماعيل بن أُميّة، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبيِّ ﷺ قال:"الولاء لُحْمةٌ من النَّسَب، لا يُباعُ ولا يُوهَب" (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7991 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7991 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الولاء» (ولایت کا تعلق) نسب کا ایک حصہ ہے، اسے نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو ہبہ کیا جا سکتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8190]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطراب يحيى بن سليم فيه، فقد اختلف عليه في إسناده ومتنه كما سيأتي» [ترقيم الرساله 8190] [ترقيم الشركة 8090] [ترقيم العلميه 7991]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لاضطراب يحيى بن سليم فيه
18. لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ
اسلام میں زمانہ جاہلیت کے 'مساعاۃ' (غلاموں کی کمائی میں حصہ داری) کا کوئی تصور نہیں
حدیث نمبر: 8191
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وعبد الله بن محمد بن موسى العَدْل قالا: حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا عمرو بن حُصَين العُقَيلي، حدثنا مُعتمِر بن سليمان، حدثنا سَلْم بن أبي الذَّيّال، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"لا مُساعاةَ في الإسلام، مَن ساعَي (1) في الجاهلية فقد أَلحَقتُهُ بعَصَبَتِه، ومن ادَّعى ولدًا من غير رِشْدةٍ لم يَرِثْ ولم يُورَثُ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7992 - لعله موضوع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7992 - لعله موضوع
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں «مساعاة» (لونڈی سے بدکاری کے ذریعے نسب کا دعویٰ کرنا) کی کوئی گنجائش نہیں، جس نے زمانہ جاہلیت میں ایسی کوئی کوشش کی تھی تو اسے میں نے اس کے عصبہ کے ساتھ ملحق کر دیا ہے، اور جس نے نکاح کے بغیر کسی (بدکاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والے) بچے کے بارے میں (اپنے ہونے کا) دعویٰ کیا، وہ بچہ نہ تو (دعویٰ کرنے والے کا) وارث بنے گا اور نہ ہی اس کی وراثت لی جائے گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8191]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8191]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل عمرو بن حصين العقيلي، قال أبو حاتم الرازي: ذاهب الحديث ليس بشيء، وقال أبو زرعة: ليس هو في موضع يحدث عنه هو واهي الحديث» [ترقيم الرساله 8191] [ترقيم الشركة 8091] [ترقيم العلميه 7992]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل عمرو بن حصين العقيلي
حدیث نمبر: 8192
ما أخبرَناه أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا محمد بن بكَّار بن بلال، حدثنا محمد بن راشد عن سليمان بن موسى، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جدِّه، أنَّ النبيَّ ﷺ: قال:"مَن ادَّعى ولدًا من أَمَةٍ لا يَملِكُها، أو من حرَّةٍ عاهَرَ بها، فإنه لا يَلْحَقُ به ولا يَرِثُ، وهو ولدُ زِنًى لأهل أُمِّه مَن كانوا" (1) .
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسی لونڈی سے پیدا ہونے والے بچے کا دعویٰ کیا جس کا وہ مالک نہیں تھا، یا کسی ایسی آزاد عورت سے (بچے کا دعویٰ کیا) جس کے ساتھ اس نے بدکاری کی تھی، تو وہ بچہ اس (دعویٰ کرنے والے) کے ساتھ ملحق نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا وارث بنے گا، وہ ولد الزنا ہے اور اس کی ماں کے گھر والوں کا شمار ہوگا چاہے وہ جو بھی ہوں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8192]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وقد اختلف على عمرو بن شعيب في وصله وإرساله، والوصل أرجح» [ترقيم الرساله 8192] [ترقيم الشركة 8092]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8193
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذ، قالا: حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا أبو إسحاق، عن الحارث، عن علي، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إن أعيانَ بني الأمِّ يتوارثونَ دونَ بنى العَلَّات" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7994 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7994 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سگے بہن بھائی (ماں اور باپ دونوں کی طرف سے شریک) ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، سوتیلے (صرف باپ کی طرف سے شریک) بھائیوں کے مقابلے میں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8193]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل الحارث: وهو ابن عبد الله الأعور» [ترقيم الرساله 8193] [ترقيم الشركة 8093] [ترقيم العلميه 7994]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8194
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد، حدثنا زكريا بن عَديّ، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله قال: جاءت امرأةُ سعد بن الرَّبيع فقالت: يا رسولَ الله، هاتانِ ابنتا سعد بن الرَّبيع، قُتل أبوهما معكَ يومَ أُحدٍ شهيدًا، وإنَّ عمَّهما أخذَ مالَهما فلم يَدَعْ لهما مالًا، فقال:"يَقضِي اللهُ في ذلك" قال: فنزلت آيةُ الميراث، فأرسلَ رسولُ الله ﷺ إلى عمِّهما، فقال:"أعطِ ابنتَيْ سعدٍ الثُّلثَينِ، وأُمَّهما الثّمنَ، وما بقيَ فهو لك" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضر ہوئیں اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! یہ سعد بن ربیع کی دو بیٹیاں ہیں، ان کے والد آپ کے ساتھ جنگ احد میں شہید ہو گئے تھے، اب ان کے چچا نے ان کا سارا مال لے لیا ہے اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر وراثت کی آیت نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چچا کو پیغام بھیجا اور فرمایا: ”سعد کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی حصہ دو، ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دو، اور جو باقی بچ جائے وہ تمہارا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8194]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8194]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل» [ترقيم الرساله 8194] [ترقيم الشركة 8094]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
19. مِيرَاثُ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ
پھوپھی اور خالہ کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 8195
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الإمام، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا زكريا بن يحيى، حدثنا عبد الله بن جعفر، حدثنا عبد الله بن دينار، عن ابن عمر قال: أقبَلَ رسولُ الله ﷺ على حمار، فلقيَه رجلٌ فقال: يا رسولَ الله، رجلٌ ترك عمَّتَه وخالتَه لا وارثَ له غيرُهما"، قال فرفع رأسَه إلى السماء، فقال:"اللهمَّ رجلٌ تركَ عمَّتَه وخالتَه لا وارثَ له غيرهما" ثم قال:"أين السائلُ؟" قال: ها أنا ذا، قال:"لا ميراث لهما" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ عبد الله بن جعفر المَدِيني وإِن شَهِدَ عليه ابنُه بسُوءِ الحِفْظ، فليس ممن يُترَكُ حديثُه. وله شاهدٌ:
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ عبد الله بن جعفر المَدِيني وإِن شَهِدَ عليه ابنُه بسُوءِ الحِفْظ، فليس ممن يُترَكُ حديثُه. وله شاهدٌ:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہو کر تشریف لا رہے تھے کہ ایک شخص آپ سے ملا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ایک شخص فوت ہو گیا ہے جس نے اپنی پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے اور ان کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ رَجُلٌ تَرَكَ عَمَّتَهُ وَخَالَتَهُ، لَا وَارِثَ لَهُ غَيْرُهُمَا» ”اے اللہ! ایک شخص نے اپنی پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے اور ان کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سائل کہاں ہے؟“ اس نے عرض کیا: میں یہاں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کے لیے کوئی وراثت نہیں ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، کیونکہ اگرچہ عبداللہ بن جعفر مدینی کے بارے میں ان کے بیٹے نے سوء حفظ کی گواہی دی ہے، لیکن وہ ایسے راوی نہیں جن کی حدیث کو ترک کر دیا جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8195]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، کیونکہ اگرچہ عبداللہ بن جعفر مدینی کے بارے میں ان کے بیٹے نے سوء حفظ کی گواہی دی ہے، لیکن وہ ایسے راوی نہیں جن کی حدیث کو ترک کر دیا جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8195]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن جعفر: وهو ابن نجيح المَديني» [ترقيم الرساله 8195] [ترقيم الشركة 8095]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف