المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. كَانَ الشَّارِبُ يُضْرَبُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ بِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ
نبی کریم ﷺ کے عہد میں شراب پینے والے کو ہاتھوں اور جوتوں سے مارا جاتا تھا
حدیث نمبر: 8331
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدَّثنا يحيى بن عثمان بن صالح، حدَّثنا سعيدٌ بن كثير بن عُفَير، حدَّثنا يحيى بن فُليح أبو المغيرة الخُزاعي، حدَّثنا ثَوْر بن زيد الدِّيلي، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: إِنَّ الشُّرَّاب كانوا يُضرَبون على عهد رسول الله ﷺ بالأيدي والنِّعالِ والعِصيِّ حتى تُوفِّيَ رسولُ الله ﷺ، وكانوا في خلافة أبي بكر أكثرَ منهم في عهدِ رسول الله ﷺ، فقال أبو بكر: لو فَرَضْنا لهم حدًا، فتَوخَّى نحوًا ممّا كانوا يُضرَبون في عهد رسول الله ﷺ، فكان أبو بكر يَجلِدُهم أربعين حتى تُوفَّى، ثم قام من بعدِه عمرُ، فجلدَهم كذلك أربعينَ حتى أُتِيَ برجلٍ من المهاجرين الأوَّلين وقد كان شَرِبَ، فَأَمَرَ بهِ أَن يُجلَد، فقال: لِمَ تَجلِدُني؟ بيني وبينَك كتابُ الله! فقال عمر: في أيِّ كتاب الله تَجِدُ أني لا أجلِدُك؟ فقال: إِنَّ الله تعالى يقول في كتابه: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ الآية [المائدة: 93] ، فأنا من الذين آمنوا وعملوا الصالحات، ثم اتَّقَوا وآمنوا، ثم اتَّقَوا وأحسَنُوا؛ شهدتُ معَ رسول الله ﷺ بدرًا والحُديبيَةَ والخندقَ والمشاهدَ. فقال عمر: ألا تَردُّون عليه ما يقول؟ فقال ابن عباس: إِنَّ هؤلاء الآياتِ أُنزلت عُذرًا للماضِينَ، وَحُجّةً على الباقين، فعَذَرَ الماضين، فإنهم لَقُوا الله قبلَ أن تُحرَّمَ عليهم الخمرُ، وهي حُجَّةٌ على الباقين (1) لأنَّ الله ﷿ يقول: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ﴾ [المائدة: 90] ، ثم قرأ حتى أنفَدَ الآية الأخرى، ومَن كان من الذين آمنوا وعَمِلوا الصالحاتِ ثم اتَّقَوا وآمنوا ثم اتَّقَوا وأحسَنوا، فإنَّ الله ﷿ قد نَهَى أن يُشرَبَ الخمرُ، فقال عمرُ: صدقتَ، فماذا ترونَ؟ فقال عليٌّ: نَرَى أنه إذا شَرِبَ سَكِرَ، وإذا سَكِرَ هَذَى، وإذا هَذَى افترى، وعلى المُفتري ثمانونَ جلدةً، فأمَرَ عمرُ فَجُلِدَ ثمانينَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8132 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8132 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں شراب نوشی کرنے والوں کو ہاتھوں، جوتوں اور لاٹھیوں سے مارا جاتا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران ایسے لوگوں کی تعداد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی نسبت بڑھ گئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کاش ہم ان کے لیے کوئی (مستقل) حد مقرر کر دیں“، چنانچہ انہوں نے اسی انداز کو اختیار کیا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مارا جاتا تھا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی وفات تک انہیں چالیس کوڑے لگاتے رہے، پھر ان کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو وہ بھی اسی طرح چالیس کوڑے ہی لگاتے رہے، یہاں تک کہ سابقون الاولون مہاجرین میں سے ایک شخص کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی، آپ نے اسے کوڑے لگانے کا حکم دیا تو اس نے کہا: ”آپ مجھے کیوں کوڑے لگا رہے ہیں؟ میرے اور آپ کے درمیان اللہ کی کتاب ہے!“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تم اللہ کی کتاب میں کہاں یہ پاتے ہو کہ میں تمہیں کوڑے نہ لگاؤں؟“ اس نے کہا: ”بیشک اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ ”جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو انہوں نے کھائی (یا پی) ہو۔“ [سورة المائدة: 93] ، اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، پھر تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے، پھر تقویٰ اختیار کیا اور احسان کیا؛ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر، حدیبیہ، خندق اور دیگر مشاہد (جنگوں) میں شریک رہا ہوں۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (صحابہ سے) فرمایا: ”کیا تم اس کی بات کا جواب نہیں دو گے؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”بیشک یہ آیات گزر جانے والے لوگوں کے لیے عذر کے طور پر نازل ہوئی تھیں اور باقی رہ جانے والوں پر حجت (دلیل) ہیں، چنانچہ اللہ نے گزشتہ لوگوں کو معذور قرار دیا کیونکہ وہ شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے اللہ سے جا ملے تھے، جبکہ یہ باقیوں پر حجت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ﴾ ”اے ایمان والو! بیشک شراب، جوا، بت اور فال نکالنے کے تیر شیطان کے کاموں میں سے ناپاکی ہیں۔“ [سورة المائدة: 90] ، پھر انہوں نے اگلی آیت مکمل ہونے تک تلاوت کی (اور کہا) کہ جو لوگ ایمان لائے، نیک عمل کیے، پھر تقویٰ اختیار کیا، ایمان لائے اور احسان کیا، تو اللہ تعالیٰ نے (انہیں بھی) شراب پینے سے منع کر دیا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، اب تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہماری رائے یہ ہے کہ جب وہ شراب پیتا ہے تو اسے نشہ ہوتا ہے، جب نشہ ہوتا ہے تو وہ ہذیان بکتا ہے، اور جب ہذیان بکتا ہے تو (لوگوں پر) بہتان تراشی کرتا ہے، اور بہتان تراشی کرنے والے پر اسی کوڑے ہیں“، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور اسے اسی کوڑے لگائے گئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8331]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8331]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، يحيى بن فليح مع أنه من رجال النسائي لم يترجم له المزيُّ ولا ابن حجر، وترجم له في "اللسان"، فقال: قال ابن حزم: مجهول، وقال مرة: ليس بالقوي، وحديثه في "الكبرى" للنسائي وأغفله (يعني المزي) في "التهذيب"» [ترقيم الرساله 8331] [ترقيم الشركة 8232] [ترقيم العلميه 8132]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
35. إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ
جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے گناہ کی سزا دنیا ہی میں دے دیتا ہے
حدیث نمبر: 8332
حدَّثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدَّثنا عفان بن مسلم، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، عن يونس بن عُبيد، عن الحسن، عن عبد الله بن مُغفَّل: أنَّ امرأةً كانت بَغيًّا في الجاهلية مرَّ بها رجلٌ فَبَسَطَ يده إليها ولاعَبَها، فقالت: مَهُ، إِنَّ الله تعالى ذهب بالشِّرك وجاءَ بالإسلام، فتركها وولَّى، فجعل يلتفتُ يَنظُرُ إليها حتى أصابَ وجهُه الحائط، قال: فأتى النبيَّ ﷺ فذَكَرَ ذلك له، فقال:"أنت عبدٌ أرادَ الله بك خيرًا، إنَّ الله إذا أراد بعبدٍ خيرًا عَجَّلَ له عقوبةَ ذنبِه، وإذا أراد بعيدٍ شرًّا أمسَكَ عليه العقوبةَ بذنبِه حتى يُوافِيَ به يومَ القيامة كأنه عَيْرٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8133 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8133 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت بدکار تھی، اس کے پاس سے ایک شخص گزرا تو اس نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس سے چھیڑ چھاڑ کی، اس عورت نے کہا: ”رک جاؤ! بیشک اللہ تعالیٰ نے شرک کو ختم کر دیا ہے اور اسلام لے آیا ہے“، چنانچہ وہ شخص اسے چھوڑ کر پیٹھ پھیر کر چل دیا، لیکن وہ مڑ مڑ کر اسے دیکھنے لگا یہاں تک کہ (توجہ ہٹنے کی وجہ سے) اس کا چہرہ دیوار سے جا ٹکرایا، راوی کہتے ہیں: وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہ بندے ہو جس کے ساتھ اللہ نے خیر کا ارادہ فرمایا ہے، بیشک اللہ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہ کی سزا اسے دنیا ہی میں جلد دے دیتا ہے، اور جب کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہ کی سزا (دنیا میں) روک لیتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے اس کا پورا بدلہ دیا جائے جیسے وہ ایک بوجھ ڈھونے والا گدھا ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8332]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8332]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8332] [ترقيم الشركة 8233] [ترقيم العلميه 8133]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8333
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدَّثنا الأسود بن عامر شاذانُ، حدَّثنا هُرَيم (1) بن سفيان البَجَلي، عن بَيَان بن بِشر، عن قيس بن أبي حازم، عن أبي شَهْم، قال: كنتُ بالمدينة، فمرَّتْ بي جاريةٌ فأخذتُ بكَشحِها، ثم أتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يبايعُ الناسَ، فقال لي:"ألستَ صاحبَ الجَبْذةِ بالأمسِ؟" قلت: لا أعودُ يا رسولَ الله، فبايَعَني (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8134 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8134 - على شرط البخاري ومسلم
ابوشہم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مدینہ منورہ میں تھا کہ میرے پاس سے ایک لونڈی گزری تو میں نے اسے اس کی کمر سے پکڑ لیا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم وہی نہیں ہو جس نے کل اسے پکڑا تھا؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اب دوبارہ ایسا نہیں کروں گا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیعت لے لی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8333]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8333]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8333] [ترقيم الشركة 8234] [ترقيم العلميه 8134]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
36. النَّهْيُ عَنِ التَّجَسُّسِ
جاسوسی اور عیب جوئی کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 8334
حدَّثنا علي بن محمد بن (3) عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدَّثنا محمد بن علي بن عفّان العامري، حدَّثنا أسباط بن محمد القُرشي، حدَّثنا الأعمش، عن زيد بن وهب، قال: أتى رجلٌ عبدَ الله بنَ مسعود، فقال: لك في الوليد بن عُقْبة ولحيتُه تَقطُر خمرًا؟ فقال: إنَّ رسول الله ﷺ نهانا عن التجسُّس، إن يَظْهَرْ لنا نأخُذْه (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8135 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8135 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ”آپ کا ولید بن عقبہ کے بارے میں کیا خیال ہے جبکہ اس کی داڑھی سے شراب کے قطرے ٹپک رہے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تجسس (عیب جوئی کے لیے ٹٹولنے) سے منع فرمایا ہے، ہاں اگر کوئی جرم ہمارے سامنے (بغیر تجسس کے) ظاہر ہو جائے گا تو ہم اس پر گرفت کریں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8334]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8334]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8334] [ترقيم الشركة 8235] [ترقيم العلميه 8135]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8335
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن زُرَارة بن مصعب بن عبد الرحمن بن عَوف، عن المِسوَر بن مَخْرَمة، عن عبد الرحمن ابن عوف: أنه حَرَسَ ليلةً مع عمر بن الخطاب بالمدينة، فبينما هم يَمْشُونَ شَبَّ لهم سراجٌ في بيتٍ، فانطلقوا يؤمُّونه حتى إذا دَنَوا منه، إذا بابٌ مُجَافٌ على قوم لهم فيه أصواتٌ مرتفِعة، فقال عمرُ وأخذ بيد عبد الرحمن: أتدري بيتُ مَن هذا؟ قال: لا، قال: هذا بيتُ ربيعةَ بن أُمية بن خَلَفَ، وهم الآن شَرْبٌ، فما تَرَى؟ فقال عبدُ الرحمن: أرى أنَّا قد أتينا ما نَهَى الله عنه؛ نهانا اللهُ ﷿ فقال: ﴿وَلَا تَجَسَّسُوا﴾ [الحجرات: 12] ، فقد تجسَّسُنا، فانصَرَفَ عمرُ عنهم وتَرَكَهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8136 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8136 - صحيح
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مدینہ منورہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک رات پہرہ دیا، وہ دونوں چل رہے تھے کہ اچانک ایک گھر میں چراغ روشن نظر آیا، وہ اس کی طرف بڑھے یہاں تک کہ جب قریب پہنچے تو دیکھا کہ دروازہ بند ہے اور اندر سے لوگوں کے شور و غل کی آوازیں آ رہی ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے یہ کس کا گھر ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں“، آپ نے فرمایا: ”یہ ربیعہ بن امیہ بن خلف کا گھر ہے اور وہ اس وقت شراب نوشی میں مصروف ہیں، اب تمہاری کیا رائے ہے؟“ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”میری رائے یہ ہے کہ ہم نے اس کام کا ارتکاب کیا ہے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے؛ اللہ عزوجل نے ہمیں منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿وَلَا تَجَسَّسُوا﴾ ”اور تجسس نہ کرو۔“ [سورة الحجرات: 12] ، اور ہم نے تجسس کیا ہے“، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے پلٹ آئے اور انہیں چھوڑ دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8335]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8335]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8335] [ترقيم الشركة 8236] [ترقيم العلميه 8136]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
37. النَّهْيُ لِلْأَمِيرِ عَنِ ابْتِغَاءِ الرِّيبَةِ فِي النَّاسِ
حاکم کے لیے لوگوں کے عیب ڈھونڈنے اور ان پر شک کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 8336
حدَّثنا أبو إسحاق (2) إبراهيم بن فِراس الفقيه المالكي بمكة حرسها الله تعالى، حدَّثنا بكر بن سهل الدِّمياطي، حدَّثنا محمد بن عبد العزيز الرَّمْلي، حدَّثنا إسماعيل بن عياش، حدَّثنا ضَمْضَم بن زُرعة، عن شُريح بن عُبيد، عن جُبير بن نُفير وكَثير بن مُرَّة والمِقْدام بن مَعْدِي كَرِبَ وأبي أُمامة الباهلي، عن النبيِّ ﷺ قال:"إِنَّ الأميرَ إذا ابتَغَى الرِّيبةَ في الناس أفسَدَهم" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8137 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8137 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک امیر (حکمران) جب لوگوں میں شکوک و شبہات تلاش کرنے لگے تو وہ انہیں بگاڑ دیتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8336]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، بكر بن سهل ومحمد بن عبد العزيز الرملي» [ترقيم الرساله 8336] [ترقيم الشركة 8237] [ترقيم العلميه 8137]
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 8337
أخبرني الحسين بن علي التَّميمي، حدَّثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدَّثنا أحمد بن عَبْدة، أخبرنا زُهير بن هُنَيد (1) ، عن محمد بن عبد الله النَّصْري، عن زُفَر بن وَثِيمة، عن حَكيم بن حِزام، أن رسول الله ﷺ قال:"لا تَناشَدوا الأشعارَ في المساجد، ولا تُقامُ الحدودُ فيها" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8138 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8138 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مساجد میں اشعار نہ پڑھو اور نہ ہی ان میں حدود قائم کرو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8337]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، زفر بن وثيمة لم يلق حكيمَ بن حزام، وزهير بن هنيد روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "ثقاته"، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8337] [ترقيم الشركة 8238] [ترقيم العلميه 8138]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
38. أَحَادِيثُ قَطْعِ يَدِ السَّارِقِ
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8338
أخبرني علي بن عيسى الحِيري، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا أبو كُرَيب، حدَّثنا حُميد بن عبد الرحمن الرُّؤَاسي، حدَّثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: إنَّ رسولَ الله ﷺ لم يَقطَعْ في أقلَّ من ثَمَن مِجَنٍّ؛ حَجَفَةٍ أو تُرسٍ، وكلاهما يومَئِذٍ ذو ثَمنٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8139 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8139 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال کی قیمت سے کم (کی چوری) پر ہاتھ نہیں کاٹا؛ خواہ وہ چمڑے کی ڈھال ہو یا لوہے کی، اور ان دونوں کی قیمت اس زمانے میں (نصابِ سرقہ کے مطابق) تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8338]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8338]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8338] [ترقيم الشركة 8239] [ترقيم العلميه 8139]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8339
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا أبو معاوية، حدَّثنا الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لَعَنَ الله السارقَ [إن] (1) يَسرِقْ بَيضةً قُطِعَت يدُه، وإن يَسرِقْ حبلًا قُطِعَت يدُه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8140 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8140 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو اس چور پر جو انڈا چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، اور جو رسی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8339]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8339]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8339] [ترقيم الشركة 8240] [ترقيم العلميه 8140]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8340
حدَّثنا أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدَّثنا عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدَّثنا أبو عتَّاب سهل بن حماد، حدَّثنا المختار بن نافع، عن يحيى بن سعيد بن حيَّان (1) ، عن أبيه، عن علي أنَّ النبي ﷺ قَطَعَ في بيضةٍ قيمتُها عشرون دِرهمًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8141 - المختار قال النسائي وغيره ليس بثقة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8141 - المختار قال النسائي وغيره ليس بثقة
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیضہ «بَيْضَةٍ» (انڈے نما لوہے کے خود) کی چوری پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت بیس درہم تھی
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8340]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8340]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل المختار بن نافع، وبه ضعّفه الذهبي في "التلخيص"» [ترقيم الرساله 8340] [ترقيم الشركة 8241] [ترقيم العلميه 8141]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف من أجل المختار بن نافع