المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
38. أَحَادِيثُ قَطْعِ يَدِ السَّارِقِ
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8341
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أبو زُرْعة الدمشقي، حدَّثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدَّثنا محمد بن إسحاق، عن أيوب بن موسى، عن عطاء، عن ابن عباس قال: كان ثمنُ المِجَنِّ في عهد رسول الله ﷺ يُقوَّمُ عشرة دراهمَ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أيمَنَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8142 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أيمَنَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8142 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ڈھال کی قیمت کا اندازہ دس درہم لگایا گیا تھا
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی شاہد حدیثِ ایمن ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8341]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی شاہد حدیثِ ایمن ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8341]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطراب محمد بن إسحاق في إسناده كما بينه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 21/ 497» [ترقيم الرساله 8341] [ترقيم الشركة 8242] [ترقيم العلميه 8142]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8342
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدَّثنا يزيد بن الهيثم، حدَّثنا إبراهيم بن أبي اللَّيث، حدَّثنا الأشجعي، عن سفيان، عن منصور، عن الحَكَم، عن مجاهد، عن أيمَنَ قال: لم تُقطَعِ اليدُ على عهدِ رسول الله ﷺ إِلَّا فِي ثَمَنِ المِجَنِّ، وثمنُهُ يومَئِذٍ دينارٌ (1) ..... 8342
سیدنا ایمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہاتھ صرف ڈھال کی قیمت (کی چوری) پر کاٹا جاتا تھا اور اس کی قیمت اس دور میں ایک دینار تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8342]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطراب إسناده، وأيمن هذا ترجم له البخاري في "التاريخ الكبير" 2/ 25، وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 2/ 318، وفي "المراسيل" (43) نقلًا عن أبيه، والدارقطني في "سؤالات البرقاني" (40)، فجعلوه أيمنَ الحبشي مولى ابن أبي عمرو المخزومي، والد عبد الواحد بن أيمن، وعدُّوا روايته» [ترقيم الرساله 8342] [ترقيم الشركة 8243]
الحكم على الحديث: ضعيف لاضطراب إسناده
حدیث نمبر: 8342M
سمعتُ أبا العباس يقول: سمعتُ الربيعَ يقول: سمعتُ الشافعيَّ يقول: أيمنُ هذا هو ابن امرأةِ كعبٍ (1) ، وليس بابن أمِّ أيمن، ولم يُدرِك (2) النبيَّ ﷺ. قال الحاكم: والدليلُ على صحَّة قول الإمام الشافعي ﵁:
میں نے ابوالعباس کو کہتے سنا، انہوں نے ربیع سے سنا، انہوں نے امام شافعی کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ «أَيْمَنُ» (ایمن) کعب کی زوجہ کا بیٹا ہے، یہ ام ایمن کا بیٹا نہیں ہے اور نہ ہی اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کی صحت کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8342M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8342M] [ترقيم الشركة 8243]
حدیث نمبر: 8343
ما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدَّثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا جَرير، عن منصور، عن عطاء ومجاهد، عن أيمن - قال: وكان أيمنُ رجلًا يُذكَر منه خيرٌ - قال: لا تُقطَع يدُ السارق في أقلَّ من ثمن المِجَنِّ، وكان ثمنُ المِجَنِّ يومئذٍ دينارًا (1) . فأيمنُ ابن أمِّ أيمن الصحابيُّ أخو أسامة لأمِّه أجلُّ وأنبلُ أن يُنسَب إلى الجهالة، فيقال: كان رجلًا يُذكر منه خيرٌ، إنما يقال مثلُ هذه اللفظة لمجهولٍ لا يُعرَف بالصُّحبة، على أنَّ جَريرًا قد أوقَفَه على أيمنَ هذا، ولم يُسنِده.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8144 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8144 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
منصور، عطاء اور مجاہد سے روایت ہے اور وہ ایمن سے روایت کرتے ہیں —ان کا کہنا ہے کہ ایمن ایک ایسے شخص تھے جن کا ذکر خیر کے ساتھ کیا جاتا ہے— انہوں نے کہا: چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا اور اس وقت ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی، پس ام ایمن کے بیٹے ایمن جو کہ صحابی ہیں اور اسامہ کے مادری بھائی ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ بلند مرتبت اور جلیل القدر ہیں کہ انہیں گمنامی کی طرف منسوب کیا جائے اور ان کے متعلق یہ کہا جائے کہ ”وہ ایک ایسے شخص تھے جن کا ذکر خیر کے ساتھ کیا جاتا ہے“، ایسی بات تو صرف اس مجہول کے لیے کہی جاتی ہے جس کی صحبتِ رسول معروف نہ ہو، علاوہ ازیں جریر نے اس روایت کو اسی ایمن پر موقوف رکھا ہے اور اسے مرفوع (سنداً متصل) نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8343]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8343] [ترقيم الشركة 8244] [ترقيم العلميه 8144]
39. حِكَايَةُ امْرَأَةٍ سَرَقَتْ قَطِيفَةً فَقُطِعَتْ يَدُهَا
ایک عورت کا قصہ جس نے چادر چوری کی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا
حدیث نمبر: 8344
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدَّثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدَّثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدَّثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن موسى بن عُقْبة، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: أتِيَ النبيُّ ﷺ بامرأةٍ قد سرقَتْ، فعادت برَبيبِ رسولِ الله ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ:"لو كانت فاطمةَ لقَطَعتُ يدَها"، فقَطَعَها (2) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے چوری کی تھی، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پرورش یافتہ بچے (ربیب) کے ذریعے پناہ مانگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر (اس کی جگہ) فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8344]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الزناد، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8344] [ترقيم الشركة 8245]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8345
فأخبرنا الحسن بن محمد الإسفرايني، حدَّثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدَّثنا علي بن المديني، قال: كان رَبيبا رسولِ الله ﷺ سَلَمةَ بن أبي سَلَمة وعمر بن أبي سَلَمة، وإنما عاذتِ المخزوميةُ التي سرقت بأحدِهما. قد اتَّفق الشيخان على إخراج حديث الزُّهْري عن عُرْوةَ عن عائشة: أنَّ المخزوميةَ إنما عاذَتْ بأسامةَ بن زيد (1) ، وهو الصحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8145 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8145 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
علی بن مدینی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پرورش یافتہ (ربیب) سلمہ بن ابوسلمہ اور عمر بن ابوسلمہ تھے، اور جس مخزومی عورت نے چوری کی تھی اس نے ان میں سے کسی ایک کے ذریعے پناہ مانگی تھی،
شیخین نے زہری کی روایت جو عروہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، اس کے اخراج پر اتفاق کیا ہے کہ وہ مخزومی عورت دراصل اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس پناہ لینے گئی تھی، اور وہی صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8345]
شیخین نے زہری کی روایت جو عروہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، اس کے اخراج پر اتفاق کیا ہے کہ وہ مخزومی عورت دراصل اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس پناہ لینے گئی تھی، اور وہی صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8345]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8345] [ترقيم الشركة 8246] [ترقيم العلميه 8145]
40. النَّهْيُ عَنِ الشَّفَاعَةِ فِي الْحَدِّ
حدودِ الٰہی میں سفارش کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 8346
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أبو زُرْعة الدِّمشقي، حدَّثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدَّثنا محمد بن إسحاق، عن محمد طلحة بن يزيد (2) ابن رُكانة، عن أمِّه عائشةَ بنت مسعود، عن أبيها مسعود قال: لما سرقَتْ تلك المرأةُ القطيفةَ من بيتِ رسول الله ﷺ، أعظَمنا ذلك، وكانت امرأةً من قريش، فجئنا رسول الله ﷺ فكلَّمناه، فقلنا: يا رسولَ الله، نحن نَفْدِيها بأربعينَ أُوقِيَّة، قال:"تُطهَّرُ خيرٌ لها"، فلمَّا سَمِعْنا من قولِ رسول الله ﷺ أتَينا أسامةَ بن زيد، فقلنا: اشفَعْ لنا إلى رسولِ الله ﷺ في شأنِ هذه المرأة، نحن نَفْدِيها بأربعينَ وُقيَّة، فلمَّا رأى رسولُ الله ﷺ جِدَّ الناسِ في ذلك قام خطيبًا، فقال:"يا أيها الناسُ، ما إكثارُكم في حدٍّ من حدودِ الله وَقَعَ على أَمَةٍ مِن إماءِ الله؟! والذي نفسُ محمدٍ بيده، لو كانت فاطمةُ بنتُ محمد نَزلَتْ بالذي نَزلَتْ به هذه المرأةُ لقَطَعَ محمدٌ يدَها". قال: فأيسَ الناسُ، وقَطَع رسولُ الله ﷺ يدَها. قال محمد بن إسحاق: فحدَّثني عبد الله بن أبي بكر: أنَّ رسول الله ﷺ بعد ذلك كان يَرحَمُها ويَصِلُها (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8147 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8147 - صحيح
سیدنا مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے مخمل کی چادر (قطیفہ) چوری کی تو ہمیں یہ بات بہت گراں گزری، وہ قریش کی ایک خاتون تھی، پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے بات کی اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہم اس کے بدلے چالیس اوقیہ فدیہ دیتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (حد کے ذریعے) پاک ہو جانا اس کے لیے بہتر ہے“، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا تو ہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: ”آپ اس عورت کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہماری سفارش کریں، ہم اس کے بدلے چالیس اوقیہ فدیہ دینے کو تیار ہیں“، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں لوگوں کی حد درجہ کوشش دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں اللہ کی حدود میں سے ایک ایسی حد کے بارے میں اتنی زیادہ گفتگو کرنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی ہے جو اللہ کی بندیوں میں سے ایک بندی پر واجب ہو چکی ہے؟! اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی اس کام کا ارتکاب کرتیں جس کا اس عورت نے کیا ہے تو محمد ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر لوگ مایوس ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: مجھے عبداللہ بن ابوبکر نے بتایا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت پر رحم فرماتے تھے اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8346]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8346]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس ورواه بالعنعنة، وذهل الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 21/ 469» [ترقيم الرساله 8346] [ترقيم الشركة 8247] [ترقيم العلميه 8147]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8347
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدَّثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي ومحمد بن أحمد بن أنس القُرشي، قالا: حدَّثنا أبو عاصم الضَّحَّاك بن مَخْلَد الشَّيباني، حدَّثنا زكريا بن إسحاق، عن عمرو بن دينار، عن طاووس، عن ابن عباس: أنَّ صفوان بن أُمية أتى النبيَّ ﷺ برجلٍ قد سَرَقَ حُلَّةً له، ثم قال: يا رسول الله، هَبْهُ لي، فقال رسول الله ﷺ:"فهَلَّا قبل أن تأتيَنا به" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والحديث المُفسَّر فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8148 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والحديث المُفسَّر فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8148 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک ایسے شخص کو لائے جس نے ان کی ایک چادر (حلہ) چوری کی تھی، پھر انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! یہ میں نے اسے بخش دی (یعنی معاف کر دی)“، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے ہمارے پاس لانے سے پہلے ایسا کیوں نہ کیا؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8347]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8347]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختلف على طاووس في وصله عن ابن عباس وإرساله، والمرسل أصحُّ سندًا وأكثر عددًا» [ترقيم الرساله 8347] [ترقيم الشركة 8248] [ترقيم العلميه 8148]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8348
ما أخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد، حدَّثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدَّثنا عمرو (1) بن طلحة القَنَّاد، حدَّثنا أسباطُ بن نصر الهَمْداني، عن سِمَاك بن حَرْب، عن حُمَيدٍ ابن أخت صفوان، عن صفوان بن أُميّة، قال: كنت نائمًا في المسجد وعليَّ خَمِيصةٌ لي ثمنُ ثلاثين درهمًا، فجاء رجلٌ فاختَلَسَها مني، فأُخِذَ الرجلُ فجِيءَ به إلى النبيِّ ﷺ، فأمرَ به أن يُقطَعَ، فأتيتُه فقلت: أتقطَعُه من أجل ثلاثين درهمًا؟! أنا أبيعُه وأنسِئُه ثمنَها، قال:"فهلا كان هذا قبلَ أن تأتيَني به" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8149 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8149 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مسجد میں سو رہا تھا اور میرے اوپر میری ایک سیاہ چادر تھی جس کی قیمت تیس درہم تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور اسے مجھ سے چھین کر بھاگ گیا، وہ شخص پکڑا گیا اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”کیا آپ محض تیس درہم کی خاطر اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟ میں تو وہ چادر اسے فروخت کر دیتا ہوں اور قیمت کی ادائیگی میں اسے مہلت دے دیتا ہوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے ایسا کیوں نہ کیا؟“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8348]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حميد» [ترقيم الرساله 8348] [ترقيم الشركة 8249] [ترقيم العلميه 8149]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8349
حدَّثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدَّثنا إبراهيم بن حمزة، حدَّثنا عبد العزيز بن محمد، أخبرني يزيد بن خُصَيفة، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثَوْبان، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ أُتِيَ بسارقٍ قد سَرَق شَمْلةً، فقالوا: يا رسولَ الله، إنَّ هذا سَرَقَ، فقال رسول الله ﷺ:"ما إِخَالُه سَرَقَ" فقال السارق: بلى يا رسول الله، فقال رسول الله ﷺ:"اذهبُوا به فاقطَعُوه، ثم احسِمُوه، ثم ائتُوني به" فقُطِعَ ثم أُتِيَ به، فقال:"تُبْ إلى الله" فقال: تبتُ إلى الله، فقال:"تابَ اللهُ عليك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8150 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8150 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک چور لایا گیا جس نے ایک کمبل نما چادر چوری کی تھی، لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا نہیں خیال کہ اس نے چوری کی ہو گی“، اس پر چور نے خود اعتراف کرتے ہوئے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! (میں نے ہی چوری کی ہے)، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر (خون روکنے کے لیے) کٹے ہوئے مقام کو داغ دو، پھر اسے میرے پاس لاؤ“، چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹا گیا اور پھر اسے لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے حضور توبہ کرو“، اس نے عرض کی: میں نے اللہ کے حضور توبہ کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام مسلم کی شرط پر ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8349]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام مسلم کی شرط پر ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8349]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن عبد العزيز بن محمد» [ترقيم الرساله 8349] [ترقيم الشركة 8250] [ترقيم العلميه 8150]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره