المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. لَا تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ
خواب میں شیطان کے اپنے ساتھ کھیلنے کا تذکرہ (لوگوں کو) نہ کرو
حدیث نمبر: 8382
أخبرنا أبو النضر الفقيه، حدَّثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدَّثنا سعيد بن عُفير وعبد الله بن صالح، قالا: حدَّثنا الليث بن سعد، عن أبي الزُّبير، عن جابر، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"إذا رأى أحدُكم الرؤيا يَكْرَهُها، فليَبصُقْ عن يَسَاره وليتحوَّلْ عن جَنْبه الذي كان عليه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو، تو اسے چاہیے کہ اپنی بائیں جانب تھوکے اور اس کروٹ کو بدل لے جس پر وہ لیٹا ہوا تھا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8382]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8382]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،كسابقه» [ترقيم الرساله 8382] [ترقيم الشركة 8283]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8383
حدَّثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدَّثنا أبي، حدَّثنا عمرٌو بن سَوَّاد السَّرْحيُّ، حدَّثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أن أبا السَّمح حدثه عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري، أن النبي ﷺ قال:"أصدقُ الرُّؤيا بالأسحار" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8183 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8183 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے سچا خواب سحر (سحری کے وقت) کا ہوتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8383]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8383]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف رواية أبي السمح» [ترقيم الرساله 8383] [ترقيم الشركة 8284] [ترقيم العلميه 8183]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
5. مَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَقْدَ شَعِيرَةٍ
جس نے جھوٹا خواب بیان کیا، اسے قیامت کے دن جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا مکلف کیا جائے گا
حدیث نمبر: 8384
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك، حدَّثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدَّثنا قَبيصة بن عُقبة، حدَّثنا سفيان، عن عبد الأعلى بن عامر، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي، عن علي بن أبي طالب، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن كَذَب في حُلْمِه، كُلِّف يومَ القيامة عَقْدَ شَعيرةٍ" (1) .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جھوٹا خواب گھڑا (یعنی وہ خواب بیان کیا جو اس نے نہیں دیکھا تھا)، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8384]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى بن عامر: وهو الثعلبي» [ترقيم الرساله 8384] [ترقيم الشركة 8285]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8385
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدَّثنا مُسدَّد، حدَّثنا أبو عَوَانة، عن عبد الأعلى، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي عن عليٍّ، أن النبي ﷺ قال:"مَن كَذَب في حُلْمِه، كُلِّف يومَ القيامة أن يَعقِدَ بين شَعيرتَين" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جھوٹا خواب گھڑا، اسے قیامت کے دن یہ حکم دیا جائے گا کہ وہ جو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8385]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8385]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه» [ترقيم الرساله 8385] [ترقيم الشركة 8286]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
6. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي "
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حقیقت میں مجھے ہی دیکھا
حدیث نمبر: 8386
أخبرني أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدَّثنا مُسدَّد، حدَّثنا عبد الواحد بن زياد، عن عاصم بن كُليب قال: حدثني أبي، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"مَن رآني في المَنام فقد رآني؛ إِنَّ الشيطان لا يَتمثَّلُني". قال أَبي: فحدَّثتُ به ابنَ عباس وقلتُ: قد رأيتُه؛ فذكرتُ الحسنَ بن علي فشبَّهتُه به، فقال ابن عباس: إنه كان يُشبِهُه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8186 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8186 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو بیشک اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری مشابہت اختیار نہیں کر سکتا۔“ راوی کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا: میں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی اور کہا کہ میں نے خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، پھر میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے مشابہ قرار دیا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بیشک وہ (سیدنا حسن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8386]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8386]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، عاصم بن كليب وأبوه صدوقان لا بأس بهما» [ترقيم الرساله 8386] [ترقيم الشركة 8287] [ترقيم العلميه 8186]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8387
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، قال: حدثني عثمان بن عبد الرحمن، عن الزُّهري، عن عُروة، عن عائشة قالت: سُئِلَ رسول الله ﷺ عن وَرَقةَ، فقالت له خديجة: إنه كان صدَّقكَ ولكنه مات قبل أن تَظهَر، فقال رسولُ الله ﷺ:"أُريتُه في المنام وعليه ثيابٌ بِيضٌ، ولو كان من أهل النار لكان عليه لباسٌ غيرُ ذلك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8187 - عثمان هو الوقاص متروك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8187 - عثمان هو الوقاص متروك
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ بن نوفل کے متعلق سوال کیا گیا، اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: انہوں نے آپ کی تصدیق کی تھی لیکن آپ کے (باقاعدہ) ظہورِ نبوت سے پہلے ہی وہ وفات پا گئے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے انہیں خواب میں دیکھا ہے کہ وہ سفید لباس پہنے ہوئے ہیں، اور اگر وہ دوزخی ہوتے تو ان پر اس کے علاوہ کوئی اور لباس ہوتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8387]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8387]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، عثمان بن عبد الرحمن» [ترقيم الرساله 8387] [ترقيم الشركة 8288] [ترقيم العلميه 8187]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
7. رُؤْيَا النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ 8249 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثَنَا جَدِّي، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - عِنْدَ رَأْسِي وَمِيكَائِيلَ عِنْدَ رِجْلَيَّ، يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اضْرِبْ لَهُ مِثْلًا، فَقَالَ: اسْمَعْ سَمِعَ أُذُنُكَ وَاعْقِلْ عَقِلَ قَلْبُكَ، مَثَلُكَ وَمَثَلُ أُمَّتِكَ كَمَثَلِ مَلِكٍ اتَّخَذَ دَارًا ثُمَّ بَنَى فِيهَا بَيْتًا ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا مَأْدُبَةً، ثُمَّ بَعَثَ رَسُولًا يَدْعُو النَّاسَ إِلَى طَعَامِهِ فَمِنْهُمْ مَنْ أَجَابَ الرَّسُولَ وَمِنْهُمْ مَنْ تَرَكَهُ، فَاللَّهُ هُوَ الْمَلِكُ، وَالدَّارُ الْإِسْلَامُ، وَالْبَيْتُ الْجَنَّةُ، وَأَنْتَ يَا مُحَمَّدُ رَسُولٌ مَنْ أَجَابَكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَكَلَ مَا فِيهَا "
نبی کریم ﷺ کا خواب میں سیدنا جبرائیل اور سیدنا میکائیل علیہما السلام کو دیکھنا
حدیث نمبر: 8388
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفَضْل الشَّعْراني، حدَّثنا جَدِّي، حدَّثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن عطاء، أن جابر بن عبد الله الأنصاري قال: خَرَجَ إلينا رسول الله ﷺ يومًا فقال:"إني رأيتُ في المنام كأنَّ جبريلَ عند رأسي، وميكائيلَ عند رِجليَّ، يقول أحدُهُما لصاحبه: اضربْ له مَثَلًا، فقال: اسمَعْ سَمِعَت أذنُك، واعقِلْ عَقَلَ قلبُك: مَثَلُك ومَثَلُ أُمَّتِك كمَثَل مَلِكٍ اتَّخَذ دارًا، ثم بَنَى فيها بيتًا، ثم جعل فيها مائدةً، ثم بَعَث رسولًا يدعو الناسَ إلى طعامِه، فمنهم من أجاب الرسولَ ومنهم من تَرَكه؛ والله: هو المَلِكُ، والدارُ: الإسلامُ، والبيتُ: الجنّةُ، وأنت يا محمدُ رسولٌ، من أجابك دَخَل الجنّة، ومن دخل الجنة أَكل ما فيها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8188 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8188 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا جبرائیل میرے سرہانے اور میکائیل میرے قدموں کے پاس ہیں، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ان کے لیے ایک مثال بیان کریں، پھر اس نے کہا: سنیے! آپ کے کان سنیں اور سمجھیے! آپ کا دل سمجھے: آپ کی اور آپ کی امت کی مثال اس بادشاہ جیسی ہے جس نے ایک احاطہ بنایا، پھر اس میں ایک گھر تعمیر کیا، پھر اس میں دسترخوان لگایا، پھر ایک پیغام رساں بھیجا جو لوگوں کو اس کے کھانے کی طرف بلاتا ہے، پس ان میں سے بعض نے رسول کی دعوت قبول کر لی اور بعض نے اسے چھوڑ دیا؛ تو اللہ ہی وہ بادشاہ ہے، وہ احاطہ اسلام ہے، وہ گھر جنت ہے، اور اے محمد! آپ اللہ کے رسول ہیں، جس نے آپ کی دعوت قبول کی وہ جنت میں داخل ہو گیا، اور جو جنت میں داخل ہوا اس نے وہ سب کچھ کھایا جو اس میں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8388]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8388]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح إن شاء الله، وقد وقع في إسناده خلاف سلف بيانه عند المصنف برقم (3338)» [ترقيم الرساله 8388] [ترقيم الشركة 8289] [ترقيم العلميه 8188]
الحكم على الحديث: حديث صحيح إن شاء الله
8. رُؤْيَا رَجُلٍ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ
ایک شخص کا خواب کہ آسمان سے ایک ترازو نازل ہوا
حدیث نمبر: 8389
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزير، حدَّثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرَّازي، حدَّثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدَّثنا الأشعث، عن الحسن، عن أبي بَكْرة: أنَّ النبي ﷺ قال ذاتَ يوم:"مَن رأى منكم رُؤْيا؟" فقال رجلٌ: أنا، رأيت كأنَّ ميزانًا نَزَل من السماء، فوُزِنتَ أنت وأبو بكر فرَجَحت أنت بأبي بكر، ووُزِنَ عمرُ بأبي بكر فرَجَح أبو بكر، ووُزِنَ عمرُ وعثمانُ فَرَجَح عمرُ، ثم رُفِع الميزان، فرأيتُ الكراهيَةَ في وجهِ رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8189 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8189 - صحيح
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دریافت فرمایا: ”تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟“ ایک شخص نے عرض کی: میں نے دیکھا ہے، گویا آسمان سے ایک ترازو نازل ہوا، پھر آپ کا اور ابوبکر کا وزن کیا گیا تو آپ ابوبکر پر بھاری رہے، پھر عمر اور ابوبکر کا وزن کیا گیا تو ابوبکر بھاری رہے، پھر عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کا وزن کیا گیا تو عمر بھاری رہے، پھر ترازو اٹھا لیا گیا، (راوی کہتے ہیں کہ) پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار دیکھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8389]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8389]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وهو مكرر (4486)» [ترقيم الرساله 8389] [ترقيم الشركة 8290] [ترقيم العلميه 8189]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
9. رُؤْيَا رَجُلٍ رَوْضَةً خَضْرَاءَ
ایک شخص کا خواب کہ اس نے ایک سبز باغ دیکھا
حدیث نمبر: 8390
حدثني علي بن عيسى الحِيريُّ، حدَّثنا الحسين (2) بن محمد بن زياد، حدَّثنا أبو الخَطَّاب زياد بن يحيى الحسّاني (3) ، حدَّثنا مَسْعَدة بن اليَسَع، عن ابن عَوْن، عن ابن سِيرِين، عن قيس بن عُبَاد (4) قال: كنت جالسًا في حَلْقة المسجد فدخل رجلٌ، فقالوا: هذا رجلٌ من أهل الجنة، فصلَّى فخرج، فاتَّبعتُه فقلت: إِنَّ القوم قالوا كذا وكذا، فقال: ما ينبغي لأحدٍ أن يَكذِبَ أو يقولَ ما لا يعلم، وسأحدِّثُك لِمَ ذا: إني رأيت رؤيا فقصصتُها على النبي ﷺ، رأيت كأنِّي في رَوْضةٍ خضراءَ - فذكر من سَعَتِها وخُضْرتها - وفي وَسَط الروضة عمود من حديد، فأتاني رجل فقال لي: اصعَدْ، فقلت: لا أستطيع أن أصعدَ، قال: فأتاني مِنصَفٌ (5) من خلفي، فقال بي، فصعَّدَني مع ثيابي، فلما انتهيتُ إلى أعلى العمود إذا فيه عُرْوةٌ، فأَدخلتُ يدي في العروة، فلقد أصبحتُ وإِنَّ الحَلْقة لفي يدي، فقال النبي ﷺ:"أما الرَّوضةُ فروضةُ الإسلام، وأما العمودُ فعمودُ الإسلام، وأما العُروةُ فأخذتَ بالعروة الوُثْقى، فلا تزالُ ثابتًا على الإسلام حتى تموتَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (2) ، ولو كان الرجل فيه مسمًّى لصحَّ على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8190 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (2) ، ولو كان الرجل فيه مسمًّى لصحَّ على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8190 - على شرط البخاري ومسلم
قیس بن عباد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مسجد کے ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص داخل ہوا، لوگوں نے کہا: یہ جنتیوں میں سے ایک شخص ہے، اس نے نماز پڑھی اور چلا گیا، میں اس کے پیچھے ہولیا اور اس سے کہا: لوگوں نے (آپ کے بارے میں) ایسی ایسی بات کہی ہے، اس نے کہا: کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ جھوٹ بولے یا ایسی بات کہے جس کا اسے علم نہ ہو، اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں: میں نے ایک خواب دیکھا تھا جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، میں نے دیکھا گویا میں ایک سبز باغ میں ہوں —انہوں نے اس کی وسعت اور ہریالی کا تذکرہ کیا— اور اس باغ کے عین وسط میں لوہے کا ایک ستون ہے، پھر ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا: اس پر چڑھو، میں نے کہا: میں چڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا، راوی کہتے ہیں کہ پھر میرے پیچھے سے ایک خادم آیا جس نے مجھے سہارا دیا اور مجھے میرے کپڑوں سمیت اوپر چڑھا دیا، جب میں ستون کے سب سے اوپر والے حصے پر پہنچا تو وہاں ایک کڑا «عُرْوة» تھا، میں نے اپنا ہاتھ اس کڑے میں ڈال دیا، جب میں نے صبح کی تو وہ حلقہ گویا اب بھی میرے ہاتھ میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کی تعبیر بتاتے ہوئے) فرمایا: ”وہ باغ تو اسلام کا باغ ہے، وہ ستون اسلام کا ستون ہے، اور وہ کڑا یہ ہے کہ تم نے «العروة الوثقی» (مضبوط حلقے) کو تھام لیا ہے، اور تم اپنی موت تک اسلام پر ثابت قدم رہو گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اگر اس میں موجود شخص کا نام معلوم ہوتا تو یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8390]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اگر اس میں موجود شخص کا نام معلوم ہوتا تو یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8390]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8390] [ترقيم الشركة 8291] [ترقيم العلميه 8190]
حدیث نمبر: 8391
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المَحبُوبي، حدَّثنا أبو عيسى محمد بن عيسى التِّرمذيُّ، حدَّثنا سهل بن إبراهيم البَصْري، حدَّثنا مَسْعَدة بن اليَسَع، عن محمد بن عمرو بن عَلْقمة، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطبٍ قال: اجتمع نساءٌ من نساء المؤمنين عند عائشة أم المؤمنين، فقالت امرأةٌ منهن: والله لا يُعذِّبُني الله أبدًا، إنما بايعتُ رسول الله ﷺ على أن لا أُشرك بالله شيئًا، ولا أسرقَ، ولا أقتُلَ ولدي، ولا آتيَ ببُهتانٍ أَفتريه بين يديَّ ورِجْليَّ، ولا أعصيَه في معروف، وقد وَفَّيتُ، قال: فرَجَعَت إلى بيتها فأُتِيَتْ في منامها، فقيل: أنتِ المُتألِّيةُ على الله تعالى أن لا يعذِّبَكِ، فكيف بقولكِ فيما لا يَعنيك، ومَنْعِكِ ما لا يُغنيك؟ قال: فرَجَعَت إلى عائشة فقالت لها: إني أُتِيتُ في منامي فقيل لي كذا وكذا، وإني أستغفرُ الله وأتوبُ إليه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8191 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8191 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ مومن عورتوں کی کچھ جماعت ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جمع ہوئی، ان میں سے ایک عورت نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ مجھے کبھی عذاب نہیں دے گا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤں گی، نہ چوری کروں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل کروں گی، نہ اپنے ہاتھ پاؤں کے درمیان سے کوئی بہتان گھڑ کر لاؤں گی، اور نہ ہی کسی نیک کام میں آپ کی نافرمانی کروں گی، اور میں نے یہ سب پورا کیا ہے، راوی کہتے ہیں کہ جب وہ اپنے گھر واپس گئی تو اسے خواب میں دکھایا گیا اور کہا گیا: کیا تم ہی وہ ہو جو اللہ پر قسم کھا کر کہتی ہو کہ وہ تمہیں عذاب نہیں دے گا؟ پھر تمہارا ان باتوں میں پڑنا جو تمہارے مطلب کی نہیں اور تمہارا ان چیزوں کو روکنا جو تمہیں بے نیاز نہیں کرتیں (اس کا کیا بنے گا)؟ وہ دوبارہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور عرض کی: مجھے خواب میں اس اس طرح کہا گیا ہے، اور میں اللہ سے استغفار کرتی ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتی ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8391]
تخریج الحدیث: «الحديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدًّا، مسعدة بن اليسع متروك الحديث واتهمه أبو داود بالكذب، لكن الحديث صحَّ من غير طريقه عن عبد الله بن عون بما يغني عن طريق مسعدة هذا» [ترقيم الرساله 8391] [ترقيم الشركة 8292] [ترقيم العلميه 8191]
الحكم على الحديث: الحديث صحيح