المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
50. ذِكْرُ مَنْ رُفِعَ عَنْهُمُ الْقَلَمُ
ان لوگوں کا ذکر جن سے (اعمال کا) قلم اٹھا لیا گیا ہے
حدیث نمبر: 8372
كما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدَّثنا الحُميدي. وحدثنا أبو بكر، أخبرنا أبو مُسلِم، حدَّثنا علي بن المَدِيني؛ جميعًا عن سفيان، عن عبد الملك بن عُمَير، قال: سمعتُ عطية القُرَظي يقول: كنتُ غلامًا يومَ حَكَمَ سعدُ بنُ معاذ في بني قُريظة: أن تُقتَلَ مُقاتِلتُهم، وتُسبَى ذَرَارتُهم، فشكُوا فيَّ، فلم يَجِدوني أُنبِتُ الشَّعر، فها أنا ذا بين أظهُرِكم (1) . آخر كتاب الحدود [كتاب تعبير الرؤيا] ﷽
عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جس دن سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے بارے میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ ان کے لڑنے والے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا جائے، اس وقت میں ایک لڑکا تھا، تو لوگوں کو میرے بارے میں شک ہوا (کہ میں مردوں میں شامل ہوں یا بچوں میں)، پھر جب انہوں نے دیکھا کہ میرے بال ابھی نہیں نکلے تھے (تو مجھے چھوڑ دیا گیا)، اور اب میں تمہارے سامنے موجود ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8372]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8372] [ترقيم الشركة 8273]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
1. القيد ثبات في الدين
خواب میں بیڑیاں (قید و بند) دیکھنا دین میں ثابت قدمی کی علامت ہیں
حدیث نمبر: 8373
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة من أصل كتابه، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن ابن سِيرين، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"في آخر الزمانِ لا تكادُ رُؤْيا المؤمنِ تَكذِب، وأصدَقُهم رُؤيا أصدَقُهم حديثًا. والرُّؤيا ثلاثٌ: فالرؤيا الحسنةُ بُشْرى من الله ﷿، والرؤيا يُحدِّث بها الرجلُ نفسَه، والرؤيا تحزينٌ من الشيطان، فإذا رأى أحدُكم رؤيا يَكرهُها، فلا يُحدِّث بها أحدًا وليَقُم فليُصلِّ. ورؤيا المؤمن جزءٌ من ستةٍ وأربعين جزءًا من النبوَّة". قال أبو هريرة: يُعجِبُني القَيدُ وأكرهُ الغُلَّ، القَيدُ ثباتٌ في الدِّين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8174 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8174 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری زمانے میں مومن کا خواب شاید ہی کبھی جھوٹا ہو، اور تم میں سے خواب کے اعتبار سے سب سے سچا وہ ہوگا جو گفتگو میں سب سے زیادہ سچا ہو۔ خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک اچھا خواب جو اللہ عزوجل کی طرف سے بشارت ہے، دوسرا وہ خواب جس کے بارے میں انسان کا اپنا نفس گفتگو کرتا ہے (خیالات)، اور تیسرا وہ خواب جو شیطان کی طرف سے غمزدہ کرنے کے لیے ہوتا ہے، پس جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو وہ اسے کسی سے بیان نہ کرے بلکہ اسے چاہیے کہ وہ اٹھے اور نماز پڑھے۔ اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”مجھے خواب میں بیڑی (پاؤں کا بندھن) نظر آنا پسند ہے اور میں طوق (گردن کا پٹا) ناپسند کرتا ہوں، کیونکہ بیڑی سے مراد دین میں ثابت قدمی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8373]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8373]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8373] [ترقيم الشركة 8274] [ترقيم العلميه 8174]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8374
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدَّثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْديُّ، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعْبة، عن يعلى بن عطاء، عن وكيع بن عُدُس، عن عمه أبي رَزِين العُقَيلي، عن النبي ﷺ قال:"رُؤيا المؤمن جزءٌ من ستةٍ وأربعين جُزءًا من النبوة (1) ، وهي على رِجل طائرٍ ما لم يُحدِّثْ بها، فإذا حدَّث بها وَقَعَت" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بالزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8175 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بالزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8175 - صحيح
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اور وہ پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے جب تک کہ اسے بیان نہ کیا جائے، پھر جب اسے بیان کر دیا جاتا ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان اضافی الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8374]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان اضافی الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8374]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وكيع بن عدس» [ترقيم الرساله 8374] [ترقيم الشركة 8275] [ترقيم العلميه 8175]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
2. لَا يَبْقَى مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ
نبوت میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں
حدیث نمبر: 8375
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدَّثنا إسحاق بن أحمد بن مِهْران الخزَّاز، حدَّثنا إسحاق بن سليمان الرازي، قال: سمعت مالكَ بن أنس يحدِّث عن إسحاق بن عبد الله (1) بن أبي طلحة، عن زُفَر (2) بن صَعْصعة بن مالك، عن أبيه، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا انصرف من صلاة الغَدَاة يقول:"هل رأى أحدٌ منكم الليلةَ رؤيا؟ ألا إنَّه لا يَبْقى بعدي من النبوة إلَّا الرُّؤيا الصالحةُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8176 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8176 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو دریافت فرماتے: ”کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ آگاہ رہو! میرے بعد نبوت میں سے سچے خواب کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8375]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8375]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح. وهو في "موطأ مالك" 2/ 956» [ترقيم الرساله 8375] [ترقيم الشركة 8276] [ترقيم العلميه 8176]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8376
حدَّثنا أبو حفص أحمد بن أَحْيَد (4) الفقيهُ ببُخارى، حدَّثنا إسحاق بن أحمد بن صَفْوان البخاري، حدَّثنا يحيى بن جعفر البخاري، حدَّثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الرؤيا تقعُ على ما تُعبَر، ومَثَلُ ذلك مَثَلُ رجل رفع رِجلَه فهو ينتظر متى يَضَعُها، فإذا رأى أحدُكم رؤيا فلا يُحدِّث بها إلا ناصحًا أو عالمًا" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8177 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8177 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک خواب ویسا ہی واقع ہوتا ہے جیسا اس کی تعبیر دی جائے، اور اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے اپنا پاؤں اٹھایا ہوا ہو اور وہ اس انتظار میں ہو کہ اسے کب نیچے رکھے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی خواب دیکھے تو اسے صرف کسی خیر خواہ یا عالم کے سامنے ہی بیان کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8376]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8376]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات معروفون غير إسحاق بن أحمد بن صفوان البخاري فلم نقف له على ترجمة إلا أن يكون إسحاق بن أحمد بن إسحاق بن الحصين السُّلمي، وكنيته أبو صفوان، وهذا ذكره الذهبي في "تاريخ الإسلام" 6/ 512 ووثقه» [ترقيم الرساله 8376] [ترقيم الشركة 8277] [ترقيم العلميه 8177]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات معروفون غير إسحاق بن أحمد بن صفوان البخاري فلم نقف له على ترجمة إلا أن يكون إسحاق بن أحمد بن إسحاق بن الحصين السُّلمي
حدیث نمبر: 8377
حدَّثنا أبو الحسن محمد بن علي بن بكرٍ العَدْلُ، حدَّثنا الحسين بن الفضل، حدَّثنا عفّان بن مسلم، حدَّثنا عبد الواحد بن زياد، حدَّثنا المختار بن فُلْفُل، حدَّثنا أنس مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الرسالةَ والنبوَّةَ قد انقَطَعَت، فلا رسولَ بعدي ولا نبيَّ"، قال: فشَقَّ ذلك على الناس، فقال:"لكن المُبشِّراتُ" قالوا: يا رسول الله، ما المبشِّرات؟ قال:"رُؤْيا المَرْء المسلم، وهي جزءٌ من أجزاء النبوَّة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8178 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8178 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے، لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی“، راوی کہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں پر گراں گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”البتہ مبشرات باقی ہیں“، صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مبشرات کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان آدمی کا خواب، اور وہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8377]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8377]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8377] [ترقيم الشركة 8278] [ترقيم العلميه 8178]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
3. الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ
دنیاوی زندگی میں "بشارت" سے مراد سچے خواب ہیں
حدیث نمبر: 8378
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن الحسن بن بَيَان المُقرئ، حدَّثنا عبد الله بن رَجَاء، حدَّثنا حَرْب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة قال: نُبِّئتُ عن عُبادة بن الصَّامت قال: سألتُ رسول الله ﷺ عن قوله ﷿: ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [يونس: 64] قال:"هي الرُّؤْيا الصَّالحةُ يَرَاها المؤمنُ أو تُرَى له" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي الدرداء الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8179 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي الدرداء الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8179 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [سورة يونس: 64] کے متعلق مروی ہے کہ میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ صالح خواب ہے جسے مومن خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے (کسی دوسرے کو) دکھایا جاتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8378]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8378]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات إلا أنه منقطع بين أبي سلمة وعبادة كما هو ظاهر الرواية» [ترقيم الرساله 8378] [ترقيم الشركة 8279] [ترقيم العلميه 8179]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8379
حدَّثَناه علي بن عيسى الحِيري، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا ابن أبي عُمر، حدَّثنا سفيان، عن عبد العزيز بن رُفيع، عن أبي صالح السَّمَّان، عن عطاء بن يَسار، قال: سألتُ أبا الدرداء عن قول الله ﷿: ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾، فقال: ما سألني عنها أحدٌ غيرُك منذ سألتُ رسول الله ﷺ عنها، سألتُ رسولَ الله ﷺ عنها فقال:"ما سألَني عنها أحدٌ غيرُك مُنذُ أنزلَت، هي الرُّؤيا الصالحةُ يَراها المسلم، أو تُرَى له" (2) .
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب سے میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ہے، تمہارے سوا کسی اور نے مجھ سے اس بارے میں نہیں پوچھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے، تمہارے علاوہ کسی نے مجھ سے اس کے بارے میں سوال نہیں کیا، اس سے مراد وہ صالح خواب ہے جسے مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے دکھایا جاتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8379]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلَّا أنَّ المحفوظ فيه عن عطاء بن يسار عن رجل عن أبي الدرداء، بإدخال واسطة مبهمة، وهو الذي صوَّبه الدارقطني في "العلل" (1080)» [ترقيم الرساله 8379] [ترقيم الشركة 8280]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8380
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبيُّ، حدَّثنا أبو عيسى محمد بن عيسى، حدَّثنا قُتيبة بن سعيد، حدَّثنا بكر بن مُضَر، عن ابن الهاد، عن عبد الله بن خَبَّاب، عن أبي سعيدٍ الخُدْري، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"إذا رأى أحدُكم الرُّؤيا يحبُّها فإنما هي من الله، فليَحمَدِ الله عليها وليُحدِّثْ بما رأى، وإذا رأى غيرَ ذلك مما يَكرَه فإنما هي من الشيطان، فليَستعِذْ بالله من شَرِّها ولا يَذْكُرْها لأحد، فإنها لا تَضرُّه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8181 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8181 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف سے ہے، پس اسے چاہیے کہ وہ اس پر اللہ کی حمد بیان کرے اور اسے دوسروں کو بتائے، اور جب وہ اس کے علاوہ ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ شیطان کی طرف سے ہے، پس اسے چاہیے کہ وہ اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور اسے کسی سے ذکر نہ کرے، کیونکہ وہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8380]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8380]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8380] [ترقيم الشركة 8281] [ترقيم العلميه 8181]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
4. لَا تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ
خواب میں شیطان کے اپنے ساتھ کھیلنے کا تذکرہ (لوگوں کو) نہ کرو
حدیث نمبر: 8381
أخبرنا أبو النَّضر الفقيه، حدَّثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدَّثنا سعيد بن عُفير وعبد الله بن صالح المصريان، قالا: حدَّثنا الليث بن سعد، عن أبي الزُّبير، عن جابر: أنَّ أعرابيًّا جاء إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، إني حَلَمتُ أَنَّ رأسي قُطِعَ فأنا أَتبَعُه، فزَجَرَه النبيُّ ﷺ وقال:"لا تُخبِرُ بتَلعُّب الشيطانِ بك في المَنام" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8182 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8182 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میرا سر کاٹ دیا گیا ہے اور میں اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ”شیطان تمہارے ساتھ نیند میں جو کھیل کھیلتا ہے اس کی خبر (دوسروں کو) نہ دیا کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8381]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8381]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8381] [ترقيم الشركة 8282] [ترقيم العلميه 8182]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح