🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فِي اتِّخَاذِ الْكَلْبِ لِلصَّيْدِ وَغَيْرِهِ
باب: شکار یا کسی اور کام کے لیے کتا رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2844
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مویشی کی نگہبانی، یا شکار یا کھیتی کی رکھوالی کے علاوہ کسی اور غرض سے کتا پالے تو ہر روز اس کے ثواب میں سے ایک قیراط کے برابر کم ہوتا جائے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2844]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کتا پالا، سوائے اس کے کہ وہ جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو، یا شکار کے لیے، یا کھیتی کے لیے تو ایسے شخص کے اجر میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا رہے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2844]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساقاة 10 (1575)، سنن الترمذی/الصید 4 (1490)، سنن النسائی/الصید 14 (4294)، (تحفة الأشراف: 15271، 15390)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث 3 (2323)، وبدء الخلق 17 (3324)، سنن ابن ماجہ/الصید 2 (3204)، مسند احمد (2/267، 345) (صحیح) ولیس عند (خ) ’’أو صید‘‘ إلا معلقًا» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چوپایوں کی نگہبانی، زمین و جائیداد کی حفاظت اور شکار کی خاطر کتوں کا پالنا درست ہے۔ نیز حدیث میں مذکورہ غرض کے علاوہ کتا پالنے میں ثواب کم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کتا نجس ہے، اس کے گھر میں رہنے سے رحمت کے فرشتے نہیں آتے، یا آنے جانے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق وليس عند خ أو صيد إلا معلقا
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1575)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2845
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا الأَسْوَدَ الْبَهِيمَ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے بھی امتوں میں سے ایک امت ہیں ۱؎ تو میں ان کے قتل کا ضرور حکم دیتا، تو اب تم ان میں سے خالص کالے کتوں کو قتل کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2845]
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے بھی (اللہ کی مخلوق اور) امتوں میں سے ایک امت ہیں، تو میں ان کے قتل کرنے کا حکم دے دیتا، (بہرحال) ان میں سے جو کالا سیاہ ہو، اسے مار ڈالا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2845]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصید 3 (1486)، سنن النسائی/الصید 10 (4385)، سنن ابن ماجہ/الصید 2 (3205)، (تحفة الأشراف: 9649)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/85، 86، 5/54، 56، 57)، دی/ الصید 2 (2049) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات کی طرح یہ بھی ایک مخلوق ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1486،1489) نسائي (4285) ابن ماجه (3205)
الحسن البصري عنعن
و للحديث شواهد ضعيفة عند الطبراني (الكبير 11/ 349) و أبي يعلي (2442) و ابن حبان (الموارد : 1083،الإحسان : 5629) وغيرهم
والحديث الآتي (الأصل : 2846) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2846
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ يَعْنِي بِالْكَلْبِ فَنَقْتُلُهُ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْ قَتْلِهَا، وَقَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مارنے کا حکم دیا یہاں تک کہ کوئی عورت دیہات سے اپنے ساتھ کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مار ڈالتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے سے منع فرما دیا اور فرمایا کہ صرف کالے کتوں کو مارو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2846]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابتدائی ایام میں) کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا حتیٰ کہ اگر کوئی عورت دیہات سے آتی اور اس کے ساتھ کتا ہوتا تو ہم اسے بھی قتل کر ڈالتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا اور فرمایا: صرف کالے کتوں کو مارو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2846]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساقاة 10 (1572)، (تحفة الأشراف: 2813)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/333) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1572)
مشكوة المصابيح (4102)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب فِي الصَّيْدِ
باب: شکار کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2847
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ فَتُمْسِكُ عَلَيَّ أَفَآكُلُ، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ، قَالَ: وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مِنْهَا، قُلْتُ: أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَأُصِيبُ أَفَآكُلُ، قَالَ: إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَأَصَابَ فَخَرَقَ فَكُلْ وَإِنْ أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ کر لاتا ہے تو کیا میں اسے کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑو، اور اللہ کا نام اس پر لو تو ان کا شکار جس کو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں کھاؤ۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگرچہ وہ شکار کو قتل کر ڈالیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگرچہ وہ قتل کر ڈالیں جب تک دوسرا غیر شکاری کتا اس کے قتل میں شریک نہ ہو، میں نے پوچھا: میں لاٹھی یا بے پر اور بے کانسی کے تیر سے شکار کرتا ہوں (جو بوجھ اور وزن سے جانور کو مارتا ہے) تو کیا اسے کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لاٹھی، یا بے پر، اور بے کانسی کے تیر اللہ کا نام لے کر مارو، اور وہ تیر شکار کے جسم میں گھس کر پھاڑ ڈالے تو کھاؤ، اور اگر وہ شکار کو چوڑا ہو کر لگے تو مت کھاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2847]
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: میں اپنے سدھائے ہوئے کتے چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ رکھتے ہیں، تو کیا میں (اسے) کھا لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سدھائے ہوئے کتے چھوڑو اور اللہ کا نام لو، تو جو وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں اسے کھا لو۔ میں نے کہا: اگرچہ وہ اسے مار ہی ڈالیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواہ مار ہی ڈالیں، بشرطیکہ کوئی اور کتا ان میں شامل نہ ہو گیا ہو جو ان میں سے نہ ہو۔ میں نے کہا: میں بھالا پھینکتا ہوں اور اس سے شکار کرتا ہوں، تو کیا (اسے) کھا لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم بھالا پھینکو اور «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے کہو اور وہ شکار کو لگے اور اس کو پھاڑ دے تو کھا سکتے ہو، لیکن اگر وہ چوڑائی کی طرف سے لگے (بغیر دھار کے محض چوٹ سے اس کو مار ڈالے) تو مت کھاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2847]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 33 (175)، والبیوع 3 (2054)، والصید 1 (5475)، 2 (5476)، 3 (5477)، 7 (5483)، 9 (5484)، 10 (5485)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن الترمذی/الصید 1 (1465)، 3 (1467)، 4 (1468)، 5 (1479)، 6 (1470)، 7 (1471)، سنن النسائی/الصید 1 (4274)، 2 (4275)، 3 (4270)، 8 (4285)، 21 (4317)، سنن ابن ماجہ/الصید 3 (3208)، 5 (3212)، 6 (3213)، 7 (3215)، (تحفة الأشراف: 2045، 9855، 9878)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/256، 257، 258، 377، 379، 380)، سنن الدارمی/الصید 1 (2045) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے کئی مسئلے معلوم ہوئے: (پہلا) یہ کہ سدھائے ہوئے کتے کا شکار مباح اور حلال ہے، (دوسرا) یہ کہ کتا مُعَلَّم ہو یعنی اسے شکار کی تعلیم دی گئی ہو، (تیسرا) یہ کہ اس سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لئے بھیجا گیا ہو پس اگر وہ خود سے بلا بھیجے شکار کر لائے تو اس کا کھانا حلال نہیں یہی جمہور علماء کا قول ہے، (چوتھا) یہ کہ کتے کو شکار پر بھیجتے وقت بسم الله کہا گیا ہو، (پانچواں) یہ کہ معلّم کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شکار میں شریک نہ ہو، اگر دوسرا شریک ہے تو حرمت کا پہلو غالب ہوگا اور یہ شکار حلال نہ ہو گا، (چھٹواں) یہ کہ کتا شکار میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لئے محفوظ رکھے تب یہ شکار حلال ہو گا ورنہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5477) صحيح مسلم (1929)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2848
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: إِنَّا نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ، فَقَالَ لِي:" إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، وَإِنْ قَتَلَ إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَإِنْ أَكَلَ الْكَلْبُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم ان کتوں سے شکار کرتے ہیں (آپ کیا فرماتے ہیں؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو اللہ کا نام لے کر شکار پر چھوڑو تو وہ جو شکار تمہارے لیے پکڑ کر رکھیں انہیں کھاؤ گرچہ وہ انہیں مار ڈالیں سوائے ان کے جنہیں کتا کھا لے، اگر کتا اس میں سے کھا لے تو پھر نہ کھاؤ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2848]
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا (اور) کہا: ہم ان کتوں کے ذریعے سے شکار کرتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے چھوڑو اور ان پر «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے کہو تو جو وہ تمہارے لیے روک رکھیں اسے کھا لو، خواہ وہ اسے مار ہی ڈالیں، سوائے اس کے کہ کتا خود اس میں سے کچھ کھا لے، اگر وہ اس میں سے کھا لے تو تم مت کھاؤ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اسے اس نے اپنے لیے پکڑا ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2848]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الصید 7 (5483)، 10 (5487)، صحیح مسلم/ الصید 1 (1929)، سنن ابن ماجہ/ الصید 3 (3208)، (تحفة الأشراف: 9855)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/258، 377) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5484) صحيح مسلم (1929)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2849
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَوَجَدْتَهُ مِنَ الْغَدِ، وَلَمْ تَجِدْهُ فِي مَاءٍ وَلَا فِيهِ أَثَرٌ غَيْرَ سَهْمِكَ فَكُلْ، وَإِذَا اخْتَلَطَ بِكِلَابِكَ كَلْبٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ لَا تَدْرِي لَعَلَّهُ قَتَلَهُ الَّذِي لَيْسَ مِنْهَا".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم بسم اللہ کہہ کر تیر چلاؤ، پھر اس شکار کو دوسرے روز پاؤ (یعنی شکار تیر کی چوٹ کھا کر نکل گیا پھر دوسرے روز ملا) اور وہ تمہیں پانی میں نہ ملا ہو ۱؎، اور نہ تمہارے تیر کے زخم کے سوا اور کوئی نشان ہو تو اسے کھاؤ، اور جب تمہارے کتے کے ساتھ دوسرا کتا بھی شامل ہو گیا ہو (یعنی دونوں نے مل کر شکار مارا ہو) تو پھر اس کو مت کھاؤ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ اس جانور کو کس نے قتل کیا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ دوسرے کتے نے اسے قتل کیا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2849]
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے اپنا تیر مارا ہو اور اللہ کا نام لیا ہو پھر اپنے شکار کو اگلے دن پاؤ لیکن پانی میں نہ پاؤ (ایسا نہ ہو کہ ڈوب کر مرا ہو) اور کسی اور کے تیر کا بھی اس میں نشان نہ ہو، تو اس شکار کو کھا لو۔ اور جب تمہارے کتوں کے ساتھ کوئی اور کتا مل گیا ہو تو مت کھاؤ، نہ معلوم اس کو اس کتے نے مارا ہو جو تمہارے کتوں میں سے نہ تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2847)، (تحفة الأشراف: 9862) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ کتے کے قتل کرنے کے سبب وہ ہلاک ہوا ہو بلکہ پانی ہی اس کے ہلاک ہونے کا سبب بنا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5484) صحيح مسلم (1929)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2850
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وَقَعَتْ رَمِيَّتُكَ فِي مَاءٍ فَغَرِقَ فَمَاتَ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے تیر کا شکار پانی میں گر پڑے اور ڈوب کر مر جائے تو اسے مت کھاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2850]
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارا شکار پانی میں ڈوب گیا ہو اور پھر مر گیا ہو تو مت کھاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الذبائح 8 (5484)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن الترمذی/الصید 3 (1469)، سنن ابن ماجہ/ الصید 6 (3213)، (تحفة الأشراف: 9862) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5484) صحيح مسلم (1929)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2851
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا عَلَّمْتَ مِنْ كَلْبٍ أَوْ بَازٍ ثُمَّ أَرْسَلْتَهُ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ قَالَ:" إِذَا قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد الْبَازُ: إِذَا أَكَلَ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَالْكَلْبُ إِذَا أَكَلَ كُرِهَ، وَإِنْ شَرِبَ الدَّمَ فَلَا بَأْسَ بِهِ.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کتے یا باز کو تم سدھا رکھو اور اسے اللہ کا نام لے کر یعنی (بسم اللہ کہہ کر) شکار کے لیے چھوڑو تو جس شکار کو اس نے تمہارے لیے روک رکھا ہو اسے کھاؤ۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے مار ڈالا ہو؟ آپ نے فرمایا: جب اس نے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو تو سمجھ لو کہ اس نے شکار کو تمہارے لیے روک رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: باز جب کھا لے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں اور کتا جب کھا لے تو وہ مکروہ ہے اگر خون پی لے تو کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2851]
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کتے یا باز کو تو نے سدھایا ہو پھر تو اسے چھوڑے اور اللہ کا نام لے، تو جو وہ تیرے لیے روک رکھے اسے کھا لے۔ میں نے عرض کیا: خواہ وہ اسے قتل ہی کر ڈالے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ اسے مار ڈالے مگر اس میں سے اس نے کھایا نہ ہو تو وہ اس نے تیرے ہی لیے روک رکھا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: باز اگر کھا بھی لے تو کوئی حرج نہیں، لیکن کتا اگر کھائے تو مکروہ ہے (حرام ہے) لیکن اگر خون پی لے، تو کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصید 3 (1467)، (تحفة الأشراف: 9865)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/257، 379) (صحیح)» ‏‏‏‏ (مگر باز کا اضافہ منکر ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا قوله أو باز فإنه منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (7641)
مجالد : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2852
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَيْدِ الْكَلْبِ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ وَكُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ يَدَاكَ".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے کے سلسلہ میں فرمایا: جب تم اپنے (شکاری) کتے کو چھوڑو، اور اللہ کا نام لے کر (یعنی بسم اللہ کہہ) کر چھوڑو تو (اس کا شکار) کھاؤ اگرچہ وہ اس میں سے کھا لے ۱؎ اور اپنے ہاتھ سے کیا ہوا شکار کھاؤ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2852]
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کے شکار کے بارے میں فرمایا: جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اللہ کا نام ذکر کیا ہو تو اسے کھا لو اگرچہ کتے نے اس سے کھا بھی لیا ہو، اور ہر وہ چیز کھاؤ جس کو تمہارے ہاتھ نے تم پر لوٹایا ہو (جسے تم نے اپنے ہاتھ سے شکار کیا ہو۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، وانظر ما یأتي برقم: (2855)، (تحفة الأشراف: 11878) (منکر)» ‏‏‏‏ (اس میں «وإن أَکَلَ مِنْہ» کا جملہ منکر ہے اور کسی راوی کے یہاں نہیں ہے، مسند احمد میں اس کی جگہ «وإنّ قَتَلَ» (اگرچہ قتل کر ڈالا ہو) کا جملہ ہے، اور یہ حدیث عدی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مطابق ہے
وضاحت: ۱؎: ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کی اس حدیث اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ اس سے ماقبل کی حدیث کے مابین تطبیق کی صورت یہ ہے کہ ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو بیان جواز پر، اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا، ایک تاویل یہ بھی کی جاتی ہے کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث حرمت کے سلسلہ میں اصل ہے، اور ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں «وإن أكل» کے معنی ہیں اگرچہ وہ اس سے پہلے کھاتا رہا ہو مگر اس شکار میں اس نے نہ کھایا ہو۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
داود بن عمرو حسن الحديث، وللحديث شاھد حسن يأتي (2858) وانظر الحديث الآتي (2855)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2853
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ خُلَيْفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدُنَا يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَقْتَفِي أَثَرَهُ الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ، ثُمَّ يَجِدُهُ مَيِّتًا وَفِيهِ سَهْمُهُ أَيَأْكُلُ، قَالَ:" نَعَمْ إِنْ شَاءَ، أَوْ قَالَ: يَأْكُلُ إِنْ شَاءَ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے شکار کو تیر مارتا ہے پھر اسے دو دو تین تین دن تک تلاش کرتا پھرتا ہے، پھر اسے مرا ہوا پاتا ہے، اور اس کا تیر اس میں پیوست ہوتا ہے تو کیا وہ اسے کھائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگر چاہے یا فرمایا: کھا سکتا ہے اگر چاہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2853]
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک آدمی شکار کو تیر مارتا ہے پھر وہ اس کے پیچھے دو تین دن پھرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اسے پا لیتا ہے اور وہ مر چکا ہوتا ہے اور اس میں اس کا تیر بھی ہوتا ہے، تو کیا اسے کھا لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر چاہے تو۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھا لے، اگر چاہے تو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2853]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9859)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصید 8 (5485 تعلیقًا) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث الآتي (2854)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»