🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب فِي الصَّيْدِ
باب: شکار کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2854
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ:" إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ، قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي، قَالَ: إِذَا سَمَّيْتَ فَكُلْ وَإِلَّا فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ لِنَفْسِهِ، فَقَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ عَلَيْهِ كَلْبًا آخَرَ، فَقَالَ: لَا تَأْكُلْ لِأَنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پر کے تیر کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب وہ اپنی تیزی سے پہنچے تو کھاؤ (یعنی جب وہ تیزی سے گھس گیا ہو)، اور جو تیر چوڑائی میں لگا ہو تو مت کھاؤ کیونکہ وہ چوٹ کھایا ہوا ہے۔ پھر میں نے کہا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں (اس بارے میں کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب «بِسْمِ اللهِ» پڑھ کر چھوڑو تو کھاؤ، ورنہ نہ کھاؤ، اور اگر کتے نے اس میں سے کھایا ہو تو اس کو مت کھاؤ، اس لیے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہے۔ پھر میں نے پوچھا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں کہ دوسرا کتا بھی آ کر اس کے ساتھ لگ جاتا ہے (تب کیا کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مت کھاؤ، اس لیے کہ «بِسْمِ اللهِ» تم نے صرف اپنے ہی کتے پر کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2854]
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھالے سے شکار کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ دھار کی طرف سے لگا ہو تو کھا لو اور اگر موٹائی کی طرف سے لگا ہو تو مت کھاؤ، بلاشبہ وہ چوٹ زدہ ہو گا۔ میں نے عرض کیا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے اللہ کا نام لیا ہو تو کھا لو ورنہ مت کھاؤ، اور اگر کتے نے اس میں سے کچھ کھایا ہو تو بھی مت کھاؤ، وہ اس نے اپنے لیے پکڑا ہے۔ عرض کیا کہ میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں اور پھر شکار پر ایک اور کتا بھی دیکھتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مت کھاؤ، کیونکہ تم نے تو اپنے کتے پر اللہ کا نام لیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2854]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الوضوء 33 (175)، البیوع 3 (2054)، الصید 2 (5476)، صحیح مسلم/ الصید 19 (1929)، سنن النسائی/الصید 7 (4277)، (تحفة الأشراف: 9863)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/380)، دی/ الصید 1 (2045) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (175) صحيح مسلم (1929)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2855
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ عَائِذُ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ يَقُولُ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، قَالَ:" مَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَكُلْ وَمَا أَصَّدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سدھائے اور بےسدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شکار تم سدھائے ہوئے کتے سے کرو اس پر اللہ کا نام لو (یعنی «بِسْمِ اللهِ» کہو) اور کھاؤ، اور جو شکار اپنے غیر سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ کرو اور اس کے ذبح کو پاؤ (یعنی زندہ پاؤ) تو ذبح کر کے کھاؤ (ورنہ نہ کھاؤ کیونکہ وہ کتا جو تربیت یافتہ نہیں ہے تو اس کا مار ڈالنا ذبح کے قائم مقام نہیں ہو سکتا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2855]
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سدھائے ہوئے کتے کے ساتھ شکار کرتا ہوں اور ایسے کتے کے ساتھ بھی جو سدھایا ہوا نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شکار تم اپنے سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو اللہ کا نام لو اور کھاؤ، اور جو بغیر سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو اگر شکار کو ذبح کر سکو تو کھا لو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصید 4 (5478)، 10 (5488)، 14 (5496)، صحیح مسلم/الصید 1 (1930)، سنن الترمذی/ السیر 11 (1560)، سنن النسائی/الصید 4 (4271) سنن ابن ماجہ/الصید 3 (3207)، (تحفة الأشراف: 11875)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/193، 194، 195)، سنن الدارمی/السیر56 (2541) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5488) صحيح مسلم (1930)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2856
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ سَيْفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ وَكَلْبُكَ زَادَ عَنْ ابْنِ حَرْبٍ الْمُعَلَّمُ وَيَدُكَ فَكُلْ ذَكِيًّا وَغَيْرَ ذَكِيٍّ".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عرض کیا: ابوثعلبہ! جس جانور کو تم اپنے تیر و کمان سے یا اپنے کتے سے مارو اسے کھاؤ۔ ابن حرب کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ: وہ کتا سدھایا ہوا (شکاری) ہو، اور اپنے ہاتھ سے (یعنی تیر سے) شکار کیا ہوا جانور ہو تو کھاؤ خواہ اس کو ذبح کر سکو یا نہ کر سکو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2856]
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوثعلبہ! تیری قوس (کمان) اور تیرا کتا جو تجھ پر لوٹائے وہ کھا لے۔ ابن حرب نے مزید کہا: (کتا) سدھایا ہوا ہو اور تیرا ہاتھ جو تجھ پر لوٹائے (تیر وغیرہ سے شکار کرے۔) تو اسے ذبح کر سکو یا نہ کر سکو، کھا لو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11877)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصید 1 (1931)، سنن الترمذی/ الصید 16 (1446) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (2855)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2857
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كَانَ لَكَ كِلَابٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، قَالَ: ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، قَالَ: وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنِي فِي قَوْسِي، قَالَ: كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ، قَالَ: ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ، قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنِّي، قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنْكَ مَا لَمْ يَصِلَّ أَوْ تَجِدَ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ سَهْمِكَ، قَالَ: أَفْتِنِي فِي آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِنِ اضْطُرِرْنَا إِلَيْهَا، قَالَ: اغْسِلْهَا وَكُلْ فِيهَا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نامی ایک دیہاتی نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس شکار کے لیے تیار سدھائے ہوئے کتے ہیں، ان کے شکار کے سلسلہ میں مجھے بتائیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں انہیں کھاؤ۔ ابو ثعلبہ نے کہا: خواہ میں ان کو ذبح کر سکوں یا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ ابو ثعلبہ نے کہا: اگرچہ وہ کتے اس جانور میں سے کھا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ اس جانور میں سے کھا لیں۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے تیر کمان سے شکار کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا تیر کمان جو تمہیں لوٹا دے اسے کھاؤ، خواہ تم اسے ذبح کر پاؤ یا نہ کر پاؤ۔ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ شکار تیر کھا کر میری نظروں سے اوجھل ہو جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگرچہ وہ تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے جب تک کہ گلے سڑے نہیں، اور تمہارے تیر کے سوا اس کی ہلاکت کا کوئی اور اثر معلوم نہ ہو سکے۔ پھر انہوں نے کہا: مجوسیوں (پارسیوں) کے برتن کے متعلق بتائیے جب کہ ہمیں اس کے سوا دوسرا برتن نہ ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دھو ڈالو اور اس میں کھاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2857]
ایک بدوی جس کا نام سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ تھا انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ہاں سدھائے ہوئے (شکاری) کتے ہیں، آپ مجھے ان کے ساتھ شکار کے بارے میں ارشاد فرمائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تیرے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں، تو جو وہ تیرے لیے پکڑ رکھیں اس سے کھا لے۔ انہوں نے کہا: ذبح کر کے یا بغیر ذبح کیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں (دونوں صورتوں میں اس کا کھانا جائز ہے)۔ انہوں نے کہا: اگر کتا اس سے کھا لے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواہ کھا بھی لے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری کمان کے (شکار کے) بارے میں ارشاد فرمائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری کمان جو تجھ پر لوٹائے اسے کھا لے۔ انہوں نے کہا: ذبح کر کے یا بغیر ذبح کیے۔ انہوں نے کہا: اگر وہ شکار مجھ سے غائب ہو جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ تجھ سے غائب ہی ہو جائے، لیکن جب تک کہ خراب نہ ہو، یا تو اس میں اپنے سوا کسی اور کے تیر کا نشان نہ پائے۔ انہوں نے کہا: مجھے مجوسیوں کے برتنوں کے بارے میں ارشاد فرمائیں کہ ہم ان کے استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں دھو لو اور پھر ان میں کھا لو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8671)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصید 16 (4301)، مسند احمد (2/184) (حسن)» ‏‏‏‏ (مگر «وإن اَکَلَ منہ» کا جملہ منکر ہے جو عدی کی حدیث (2854) کے مخالف ہے، اور نسائی کی روایت میں یہ جملہ ہے تو مگر اس میں اس کی جگہ «وإن قتلنَ» ہے جو عدی کی حدیث کے مطابق ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن لكن قوله وإن أكل منه منكر
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب فِي صَيْدٍ قُطِعَ مِنْهُ قِطْعَةٌ
باب: زندہ شکار (جانور) کے جسم سے کوئی حصہ کاٹ لیا جائے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2858
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ أَبِي وَاقِدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ".
ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ جانور کے بدن سے جو چیز کاٹی جائے وہ مردار ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2858]
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور سے جو گوشت کاٹا جائے، جبکہ وہ جانور زندہ ہو تو وہ گوشت مردار (حرام) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصید 4 (1480) أتم منہ، (تحفة الأشراف: 15515)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/218)، سنن الدارمی/الصید 9 (2061) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4095)
أخرجه الترمذي (1480 وسنده حسن) وللحديث شاھد عند الحاكم (2/239)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب فِي اتِّبَاعِ الصَّيْدِ
باب: شکار کا پیچھا کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2859
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مَرَّةً سُفْيَانُ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتُتِنَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صحراء اور بیابان میں رہے گا اس کا دل سخت ہو جائے گا، اور جو شکار کے پیچھے رہے گا وہ (دنیا یا دین کے کاموں سے) غافل ہو جائے گا، اور جو شخص بادشاہ کے پاس آئے جائے گا وہ فتنہ و آزمائش میں پڑے گا (اس سے دنیا بھی خراب ہو سکتی ہے اور آخرت بھی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2859]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بادیہ (جنگل) کی سکونت اختیار کی، وہ سخت دل ہوا، اور جو شکار کے پیچھے پڑا، وہ غافل ہوا اور جو حاکم کے پاس آتا جاتا رہا، آزمائش میں پڑا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفتن 69 (2256)، سنن النسائی/الصید 24 (4314)، (تحفة الأشراف: 6539)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/357) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3701)
أخرجه الترمذي (2253 وسنده حسن) أبو موسي شيخ يماني: جھله ابن القطان وغيره و وثقه ابن حبان والترمذي فھو حسن الحديث

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2860
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى مُسَدَّدٍ، قَالَ:" وَمَنْ لَزِمَ السُّلْطَانَ افْتُتِنَ زَادَ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ دُنُوًّا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسدد والی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: جو شخص بادشاہ کے ساتھ چمٹا رہے گا وہ فتنے میں پڑے گا اور اتنا اضافہ ہے: جو شخص بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا اتنا ہی وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2860]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بادشاہ کی صحبت اختیار کی، فتنے میں پڑا۔ اور مزید فرمایا: جو بندہ کسی بادشاہ کے جس قدر قریب ہو گا، اللہ تعالیٰ سے اسی قدر بعید ہو جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/371، 440) (ضعیف) (اس کے ایک راوی شیخ من الانصار مبہم ہیں)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
’’ شيخ من الأنصار ‘‘ : لم أعرفه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2861
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَأَدْرَكْتَهُ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ وَسَهْمُكَ فِيهِ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی شکار کو تیر مارو اور تین دن بعد اس جانور کو اس طرح پاؤ کہ تمہارا تیر اس میں موجود ہو تو جب تک کہ اس میں سے بدبو پیدا نہ ہو اسے کھاؤ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2861]
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم شکار کو (تیر) مارو اور پھر تین رات کے بعد اسے پاؤ جبکہ تمہارا تیر اس میں ہو تو اسے کھا لو، جب تک کہ بو نہ دینے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصید 2 (1931)، سنن النسائی/الصید 20 (4308)، (تحفة الأشراف: 11863)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/194) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تیر کے موجود رہنے کی شرط اس لئے ہے کہ شکاری کو یہ یقین ہو جائے کہ شکار کی موت کا سبب شکاری کا تیر ہے نہ کہ کوئی دوسری چیز اس کی موت کا سبب بنی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1931)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12