🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب مَا يَلْزَمُ الإِمَامَ مِنْ حَقِّ الرَّعِيَّةِ
باب: امام (حکمراں) پر رعایا کے کون سے حقوق لازم ہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2928
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ عَلَيْهِمْ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار سن لو! تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن) اس سے اپنی رعایا سے متعلق بازپرس ہو گی ۱؎ لہٰذا امیر جو لوگوں کا حاکم ہو وہ ان کا نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق بازپرس ہو گی اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا ۲؎ اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے اولاد کی نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا غلام اپنے آقا و مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا، تو (سمجھ لو) تم میں سے ہر ایک راعی (نگہبان) ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھ گچھ ہو گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2928]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! تم میں سے ہر شخص محافظ اور ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت (جو کوئی اور جو کچھ اس کی ذمہ داری میں ہے) کے متعلق پوچھا جائے گا۔ پس امیر، جو لوگوں کا محافظ ہے، اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا محافظ ہے، اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر محافظ ہے، اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا، غلام اپنے مالک کے مال کا محافظ ہے، اس سے اس مال کے متعلق پوچھا جائے گا۔ الغرض! تم سب کے سب راعی اور حاکم ہو اور تم سب سے تمہاری رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2928]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجمعة 11 (893)، والاستقراض 20 (2409)، والعتق 17 (2554)، والوصایا 9 (2751)، والنکاح 81 (5200)، والأحکام 1 (7138)، (تحفة الأشراف: 7231)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 5 (1829)، سنن الترمذی/الجھاد 27 (1507)، مسند احمد (2/5، 54، 111، 121) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کہ تو نے کس طرح اپنی رعایا کی نگہبانی کی شریعت کے مطابق یا خلاف شرع۔
۲؎: کہ شوہر کے مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی اور اس کے بچوں کی اچھی تعلیم وتربیت کی یا نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7138) صحيح مسلم (1829)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب مَا جَاءَ فِي طَلَبِ الإِمَارَةِ
باب: حکومت و اقتدار کو طلب کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2929
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لَا تَسْأَلِ الإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِذَا أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ فِيهَا إِلَى نَفْسِكَ وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا".
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! امارت و اقتدار کی طلب مت کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اس معاملے میں اپنے نفس کے سپرد کر دئیے جاؤ گے ۱؎ اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی توفیق و مدد تمہارے شامل حال ہو گی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2929]
سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! حکومت کا سوال نہ کرنا، کیونکہ یہ اگر تمہیں مانگنے پر دی گئی تو تم اس سلسلے میں اپنے آپ کے سپرد کر دیے جاؤ گے، (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نہ ہو گی) لیکن اگر بغیر مانگنے کے دی گئی تو اس میں تمہاری مدد کی جائے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأیمان والنذور 1 (6622)، وکفارات الأیمان 10 (6722)، والأحکام 5 (7146)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1652)، سنن الترمذی/النذور 5 (1529)، سنن النسائی/آداب القضاة 5 (5386)، (تحفة الأشراف: 9695)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/61، 62، 63)، سنن الدارمی/النذور والأیمان 9 (2391)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (3277، 3278) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ تعالی معاملات کو سلجھانے و نمٹانے میں تمہاری مدد نہیں کرے گا۔
۲ ؎: یعنی تم معاملات کو بہتر طور پر انجام دے سکو گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7147) صحيح مسلم (1652)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2930
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ بِشْرِ بْنِ قُرَّةَ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ رَجُلَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَشَهَّدَ أَحَدُهُمَا، ثُمَّ قَالَ: جِئْنَا لِتَسْتَعِينَ بِنَا عَلَى عَمَلِكَ، وَقَالَ الآخَرُ مِثْلَ قَوْلِ صَاحِبِهِ، فَقَالَ:إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَهُ، فَاعْتَذَرَ أَبُو مُوسَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: لَمْ أَعْلَمْ لِمَا جَاءَا لَهُ فَلَمْ يَسْتَعِنْ بِهِمَا عَلَى شَيْءٍ حَتَّى مَاتَ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دو آدمیوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے (اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی) گواہی دی پھر کہا کہ ہم آپ کے پاس اس غرض سے آئے ہیں کہ آپ ہم سے اپنی حکومت کے کام میں مدد لیجئے ۱؎ دوسرے نے بھی اپنے ساتھی ہی جیسی بات کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے نزدیک تم میں وہ شخص سب سے بڑا خائن ہے جو حکومت طلب کرے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت پیش کی، اور کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں آدمی اس غرض سے آئے ہیں پھر انہوں نے ان سے زندگی بھر کسی کام میں مدد نہیں لی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2930]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں دو آدمیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پس ان میں سے ایک نے (بات کرنے کے لیے) کلماتِ تشہد پڑھے اور پھر کہا: ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ہم سے اپنے کام میں کوئی مدد لیں (یعنی عامل اور حاکم بنا دیں)۔ اور دوسرے نے بھی اپنے ساتھی کی سی بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ ذمہ داری طلب کرتا ہے وہ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ خائن ہوتا ہے۔ چنانچہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت چاہی اور کہا: مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ کس مقصد سے آئے ہیں۔ اور پھر آپ نے اپنی وفات تک ان سے کسی کام میں مدد نہیں لی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/آداب القضاة 4 (5384)، (تحفة الأشراف: 9077)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/393، 411) (منکر)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ہمیں عامل بنا دیجئے یا حکومت کی کوئی ذمہ داری ہمارے سپرد کر دیجئے۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن أبي خالد عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين : 2/36وھو من الثالثة) وأما أخوه سعيد: فثقة وثقه العجلي وابن حبان وغيرهما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 106

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب فِي الضَّرِيرِ يُوَلَّى
باب: اندھے کو حاکم بنانا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرَّمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الْمَدِينَةِ مَرَّتَيْنِ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں دو مرتبہ (جب جہاد کو جانے لگے) اپنا قائم مقام (خلیفہ) بنایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2931]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو بار مدینے کا والی بنایا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2931]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (595)، (تحفة الأشراف: 1321) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حافظ ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ نسب اور سیر کے علماء کی ایک جماعت نے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غزوات میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو تیرہ مرتبہ اپنا جانشین مقرر کیا ہے، اور قتادہ کے اس قول کی توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ ان تک وہ روایتیں نہیں پہنچ سکی ہیں جو دوسروں تک پہنچی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (595

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب فِي اتِّخَاذِ الْوَزِيرِ
باب: وزیر مقرر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2932
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ الْمُرِّيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِالأَمِيرِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ إِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ سُوءٍ إِنْ نَسِيَ لَمْ يُذَكِّرْهُ وَإِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جب کسی حاکم کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے سچا وزیر عنایت فرماتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ اسے یاد دلاتا ہے، اور اگر اسے یاد رہتا ہے تو وہ اس کی مدد کرتا ہے، اور جب اللہ کسی حاکم کی بھلائی نہیں چاہتا ہے تو اس کو برا وزیر دے دیتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ یاد نہیں دلاتا، اور اگر یاد رکھتا ہے تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2932]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی امیر (حاکم) کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے کوئی مخلص وزیر عنایت فرما دیتا ہے جو بھول جانے پر اسے یاد دلاتا ہے اور یاد ہونے پر اس کی مدد کرتا ہے، اور اللہ جب اس کے ساتھ کوئی اور ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے کوئی برا وزیر بنا دیتا ہے جو بھول جانے پر اسے یاد نہیں دلاتا اور یاد آنے پر اس کی مدد نہیں کرتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2932]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17478)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/البیعة 33 (4209)، مسند احمد (6/70) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث ایک اصل عظیم ہے، اکثر بادشاہوں کی حکومتیں اسی وجہ سے تباہ ہوئی ہیں کہ ان کے وزیر اور مشیر نالائق اور نکمے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3707)
وله شاھد قوي عند البزار (كشف الأستار 2/234)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب فِي الْعِرَافَةِ
باب: عرافت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2933
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ،عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ عَلَى مَنْكِبِهِ، ثُمَّ قَالَ:" لَهُ أَفْلَحْتَ يَا قُدَيْمُ إِنْ مُتَّ وَلَمْ تَكُنْ أَمِيرًا وَلَا كَاتِبًا وَلَا عَرِيفًا".
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر مارا پھر ان سے فرمایا: قدیم! (مقدام کی تصغیر ہے) اگر تم امیر، منشی اور عریف ہوئے بغیر مر گئے تو تم نے نجات پا لی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2933]
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا، پھر فرمایا: اے «قُدَيْمُ» ! (قاف کی پیش اور دال پر زبر کے ساتھ) تو کامیاب ہوا اگر اس حال میں فوت ہوا کہ نہ امیر بنا، نہ اس کا سیکرٹری اور نہ عریف (اپنی قوم کا سردار)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2933]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11566)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/133) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی صالح بن یحییٰ بن مقدام ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: عریف: اپنے ساتھیوں کا تعارف کرانے والا، قوم کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے والا، نقیب، یہ حاکم سے کم مرتبے کا ہوتا ہے، اور اپنی قوم کے ہر ایک شخص کا رویہ اور چال چلن حاکم سے بیان کرتا ہے اور اسے برے بھلے کی خبر دیتا ہے۔
۲؎: اس لئے کہ ہر سرکاری کام میں مواخذہ اور تقصیر خدمت کا ڈر لگا رہتا ہے اسی وجہ سے سلف نے زراعت اور تجارت کو نوکری سے بہتر جانا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صالح بن يحيي لين و أبوه مستور (تق : 2894،7653)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 106

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2934
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا عَلَى مَنْهَلٍ مِنَ الْمَنَاهِلِ، فَلَمَّا بَلَغَهُمُ الإِسْلَامُ جَعَلَ صَاحِبُ الْمَاءِ لِقَوْمِهِ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ عَلَى أَنْ يُسْلِمُوا، فَأَسْلَمُوا وَقَسَمَ الإِبِلَ بَيْنَهُمْ، وَبَدَا لَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا مِنْهُمْ، فَأَرْسَلَ ابْنَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ لَهُ: إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَإِنَّهُ جَعَلَ لِقَوْمِهِ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ عَلَى أَنْ يُسْلِمُوا، فَأَسْلَمُوا وَقَسَمَ الإِبِلَ بَيْنَهُمْ وَبَدَا لَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا مِنْهُمْ، أَفَهُوَ أَحَقُّ بِهَا أَمْ هُمْ؟ فَإِنْ قَالَ لَكَ: نَعَمْ أَوْ لَا، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ وَهُوَ عَرِيفُ الْمَاءِ وَإِنَّهُ يَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ لِي الْعِرَافَةَ بَعْدَهُ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي جَعَلَ لِقَوْمِهِ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ عَلَى أَنْ يُسْلِمُوا فَأَسْلَمُوا وَحَسُنَ إِسْلَامُهُمْ، ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا مِنْهُمْ أَفَهُوَ أَحَقُّ بِهَا أَمْ هُمْ؟ فَقَالَ: إِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُسْلِمَهَا لَهُمْ فَلْيُسْلِمْهَا، وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مِنْهُمْ، فَإِنْ هُمْ أَسْلَمُوا فَلَهُمْ إِسْلَامُهُمْ وَإِنْ لَمْ يُسْلِمُوا قُوتِلُوا عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ وَهُوَ عَرِيفُ الْمَاءِ وَإِنَّهُ يَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ لِي الْعِرَافَةَ بَعْدَهُ، فَقَالَ: إِنَّ الْعِرَافَةَ حَقٌّ وَلَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنَ الْعُرَفَاءِ، وَلَكِنَّ الْعُرَفَاءَ فِي النَّارِ".
غالب قطان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ عرب کے ایک چشمے پر رہتے تھے جب ان کے پاس اسلام پہنچا تو چشمے والے نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں تو وہ انہیں سو اونٹ دے گا، چنانچہ وہ سب مسلمان ہو گئے تو اس نے اونٹوں کو ان میں تقسیم کر دیا، اس کے بعد اس نے اپنے اونٹوں کو ان سے واپس لے لینا چاہا تو اپنے بیٹے کو بلا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور اس سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ میرے والد نے آپ کو سلام پیش کیا ہے، اور میرے والد نے اپنی قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں تو وہ انہیں سو اونٹ دے گا چنانچہ وہ اسلام لے آئے اور والد نے ان میں اونٹ تقسیم بھی کر دیئے، اب وہ چاہتے ہیں کہ ان سے اپنے اونٹ واپس لے لیں تو کیا وہ واپس لے سکتے ہیں یا نہیں؟ اب اگر آپ ہاں فرمائیں یا نہیں فرمائیں تو فرما دیجئیے میرے والد بہت بوڑھے ہیں، اس چشمے کے وہ عریف ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اس کے بعد آپ مجھے وہاں کا عریف بنا دیں، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا کہ میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر اور تمہارے والد پر سلام ہو۔ پھر انہوں نے کہا: میرے والد نے اپنی قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسلام لے آئیں، تو وہ انہیں سو اونٹ دیں گے چنانچہ وہ سب اسلام لے آئے اور اچھے مسلمان ہو گئے، اب میرے والد چاہتے ہیں کہ ان اونٹوں کو ان سے واپس لے لیں تو کیا میرے والد ان اونٹوں کا حق رکھتے ہیں یا وہی لوگ حقدار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے والد چاہیں کہ ان اونٹوں کو ان لوگوں کو دے دیں تو دے دیں اور اگر چاہیں کہ واپس لے لیں تو وہ ان کے ان سے زیادہ حقدار ہیں اور جو مسلمان ہوئے تو اپنے اسلام کا فائدہ آپ اٹھائیں گے اور اگر مسلمان نہ ہوں گے تو مسلمان نہ ہونے کے سبب قتل کئے جائیں گے (یعنی اسلام سے پھر جانے کے باعث)۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، اور اس چشمے کے عریف ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے بعد عرافت کا عہدہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرافت تو ضروری (حق) ہے، اور لوگوں کو عرفاء کے بغیر چارہ نہیں لیکن (یہ جان لو) کہ عرفاء جہنم میں جائیں گے (کیونکہ ڈر ہے کہ اسے انصاف سے انجام نہیں دیں گے اور لوگوں کی حق تلفی کریں گے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2934]
غالب قطان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں، وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ ہمارے لوگ ایک چشمے پر مقیم تھے۔ جب ان کو اسلام کی دعوت پہنچی، تو پانی کے اس منتظم نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم لوگ اسلام لے آؤ تو میں تمہیں ایک سو اونٹ دوں گا، چنانچہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور پھر اس نے ان میں اونٹ تقسیم کر دیے۔ پھر اسے خیال آیا کہ یہ اونٹ ان سے واپس لے لے۔ تو اس نے اپنے بیٹے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور اسے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے اور انہیں کہے کہ میرا والد آپ کو سلام کہتا ہے اور بتانا کہ اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو وہ انہیں ایک سو اونٹ دے گا، چنانچہ وہ مسلمان ہو گئے، تو اس نے وہ اونٹ ان میں بانٹ دیے۔ اور اب اسے خیال آیا ہے کہ یہ اونٹ ان سے واپس لے لے تو کیا میرا والد ان اونٹوں کا زیادہ حقدار ہے یا وہ لوگ؟ تو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاں کہیں، یا نہیں، تو انہیں عرض کرنا کہ میرا والد بہت بوڑھا ہے اور وہ اپنی قوم کے پانی کا عریف (ان کا سردار) ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد یہ منصب میرے لیے مقرر فرما دیں۔ چنانچہ اس کا بیٹا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور کہا: میرے والد آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ» اور تم پر اور تمہارے والد پر سلام ہو۔پھر اس نے کہا: میرے والد نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو وہ انہیں سو اونٹ دیں گے، چنانچہ وہ مسلمان ہو گئے اور بڑے اچھے مسلمان ثابت ہوئے (جس پر انہیں اونٹ دے دیے گئے) پھر اس کا (والد کا) خیال ہوا ہے کہ یہ اونٹ ان سے واپس لے لے۔ کیا وہ (میرا والد) ان کا زیادہ حقدار ہے یا وہ لوگ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ انہی کو دے دینا چاہتا ہے تو ٹھیک ہے اور اگر واپس لینا چاہتا ہے تو وہ ان اونٹوں کا ان کی نسبت زیادہ حقدار ہے۔ پس اگر وہ اسلام لائے ہیں تو اس کا فائدہ خود انہی کو ہے اور اگر اسلام قبول نہیں کریں گے تو اس سے اسلام کے لیے قتال کیا جائے گا۔ لڑکے نے پھر کہا: میرا باپ بہت بوڑھا ہے اور وہ پانی کا منتظم ہے (اپنی قوم کا سردار ہے) اس کی (یعنی میرے والد کی) درخواست یہ ہے کہ یہ منصب (عریف) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے مقرر فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عریف ہونا (قوم کا سردار بننا) حق ہے اور لوگوں کو عرفاء سے کوئی چارہ بھی نہیں، لیکن یہ عرفاء (سردار) لوگ جہنم میں جانے والے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15712)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/316) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں کئی مجہول ومبہم راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فيه غير واحد من المجهولين
انظر عون المعبود(93/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 106

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب فِي اتِّخَاذِ الْكَاتِبِ
باب: سکریٹری اور منشی رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2935
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: السِّجِلُّ كَاتِبٌ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سجل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب (منشی یا محرر) تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2935]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (السجل) نامی ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5365) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی یزید بن کعب مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: ابن القیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ حدیث موضوع ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبین وحی میں سے کسی بھی کاتب کا نام سجل نہیں تھا بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ صحابہ میں سے کسی بھی صحابی کا نام سجل نہیں تھا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
يزيد بن كعب : مجهول (تق : 7766) لم يوثقه غير ابن حبان وللحديث طريق آخر ضعيف عندالخطيب (175/8)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 106

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب فِي السِّعَايَةِ عَلَى الصَّدَقَةِ
باب: زکاۃ وصول کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2936
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الأَسْبَاطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ایمانداری سے زکاۃ کی وصولی وغیرہ کا کام کرنے والا شخص جہاد فی سبیل اللہ کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ لوٹ کر اپنے گھر آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2936]
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: حق کے ساتھ صدقات جمع کرنے والا ایسے ہے جیسے کہ مجاہد فی سبیل اللہ حتیٰ کہ وہ گھر لوٹ آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الزکاة 18 (645)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 14 (1809)، (تحفة الأشراف: 3583)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/465، 4/143) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1785)
أخرجه الترمذي (645 وسنده حسن) وابن ماجه (1809 وسنده حسن) محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (4/143)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2937
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: صاحب مکس (قدر واجب سے زیادہ زکاۃ وصول کرنے والا) جنت میں نہ جائے گا (کیونکہ یہ ظلم ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2937]
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چنگی اور بھتہ لینے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9935، 19286)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/143، 150)، سنن الدارمی/الزکاة 28 (1708) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ابن إسحاق عنعن
وللحديث شاهد ضعيف عند أحمد (109/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 106

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں