سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب فِيمَا يَلْزَمُ الإِمَامَ مِنْ أَمْرِ الرَّعِيَّةِ وَالْحَجَبَةِ عَنْهُ
باب: امام پر رعایا کے کیا حقوق ہیں؟ اور ان حقوق کے درمیان رکاوٹ بننے کا وبال۔
حدیث نمبر: 2948
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا مَرْيَمَ الأَزْدِيَّ أَخْبَرَهُ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: مَا أَنْعَمَنَا بِكَ أَبَا فُلَانٍ، وَهِيَ كَلِمَةٌ تَقُولُهَا الْعَرَبُ، فَقُلْتُ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمُ احْتَجَبَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَفَقْرِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ رَجُلًا عَلَى حَوَائِجِ النَّاسِ.
ابومریم ازدی (اسدی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، انہوں نے کہا: اے ابوفلاں! بڑے اچھے آئے، میں نے کہا: میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بتا رہا ہوں، میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: ”جسے اللہ مسلمانوں کے کاموں میں سے کسی کام کا ذمہ دار بنائے پھر وہ ان کی ضروریات اور ان کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان رکاوٹ بن جائے ۱؎ تو اللہ اس کی ضروریات اور اس کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے ۲؎“۔ یہ سنا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا جو لوگوں کی ضروریات کو سنے اور اسے پورا کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2948]
جناب ابومریم ازدی بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملنے گیا (جب کہ وہ شام میں حکمران تھے) تو انہوں نے کہا: ”اے ابوفلاں! کیا خوب آئے ہو“ (یعنی ہمیں تمہارے آنے سے خوشی ہوئی ہے) اور یہ جملہ «أَنْعَمْنَا بِكَ» ”ہمیں تمہارے ذریعے خوشی پہنچی“ عرب لوگ بطور استقبال و خوش آمدید بولا کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: ”ایک حدیث ہے جو میں آپ کو بتانے آیا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو مسلمانوں کے کسی معاملے کا والی اور ذمہ دار بنا دیا ہو، پھر وہ ان کی ضروریات، حاجت مندی اور فقیری میں ان سے ملنے سے گریز کرے (حجاب میں رہے) تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے حجاب فرما لے گا، جب کہ وہ ضرورت مند ہو گا، محتاج ہو گا اور فقیر ہو گا۔“”چنانچہ انہوں نے ایک آدمی مقرر کر دیا جو لوگوں کی ضروریات اور حاجات ان تک پہنچاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأحکام 6 (1333)، (تحفة الأشراف: 12173) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کی ضروریات پوری نہ کرے اور ان کی محتاجی و تنگ دستی دور نہ کرے۔
۲؎: یعنی اللہ تعالی بھی اس کی حاجت و ضروریات پوری نہیں کرتا۔
۲؎: یعنی اللہ تعالی بھی اس کی حاجت و ضروریات پوری نہیں کرتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3728، 3729)
أخرجه الترمذي (1333 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3728، 3729)
أخرجه الترمذي (1333 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 2949
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أُوتِيكُمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا أَمْنَعُكُمُوهُ إِنْ أَنَا إِلَّا خَازِنٌ أَضَعُ حَيْثُ أُمِرْتُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم کو کوئی چیز نہ اپنی طرف سے دیتا ہوں اور نہ ہی اسے دینے سے روکتا ہوں میں تو صرف خازن ہوں میں تو بس وہیں خرچ کرتا ہوں جہاں مجھے حکم ہوتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2949]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جو چیز بھی دیتا ہوں یا نہیں دیتا، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ایک خزانچی کی طرح ہوں، چیزوں کو وہیں رکھتا ہوں جہاں مجھے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14792)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس 7 (3117)، مسند احمد (2/ 314، 482) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وھو في صحيفة ھمام بن منبه (43)
وھو في صحيفة ھمام بن منبه (43)
حدیث نمبر: 2950
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ:ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمًا الْفَيْءَ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهَذَا الْفَيْءِ مِنْكُمْ، وَمَا أَحَدٌ مِنَّا بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا أَنَّا عَلَى مَنَازِلِنَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالرَّجُلُ وَقِدَمُهُ وَالرَّجُلُ وَبَلَاؤُهُ وَالرَّجُلُ وَعِيَالُهُ وَالرَّجُلُ وَحَاجَتُهُ.
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن فیٔ (بغیر جنگ کے ملا ہوا مال) کا ذکر کیا اور کہا کہ میں اس فیٔ کا تم سے زیادہ حقدار نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی دوسرا ہم میں سے اس کا دوسرے سے زیادہ حقدار ہے، لیکن ہم اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے اعتبار سے اپنے اپنے مراتب پر ہیں، جو شخص اسلام لانے میں مقدم ہو گا یا جس نے (اسلام کے لیے) زیادہ مصائب برداشت کئے ہونگے یا عیال دار ہو گا یا حاجت مند ہو گا تو اسی اعتبار سے اس میں مال تقسیم ہو گا، ہر شخص کو اس کے مقام و مرتبہ اور اس کی ضرورت کے اعتبار سے مال فیٔ تقسیم کیا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2950]
جناب مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مالِ فے کا ذکر کیا اور کہا: ”اس مال کا میں تم سے زیادہ حقدار نہیں ہوں اور نہ ہم میں سے کوئی ایک کسی دوسرے پر زیادہ حق رکھتا ہے، سوائے اس کے کہ ہم اللہ کی کتاب کی رو سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے مطابق اپنے اپنے مرتبہ پر ہیں، یا تو کوئی اسلام قبول کرنے میں سبقت کر چکا ہے یا کوئی اسلام کے لیے اپنی بہادری کے جوہر دکھانے والا ہے یا کوئی عیال دار ہے یا کوئی حاجت مند (لہٰذا ان ہی اعتبارات سے یہ مال تقسیم کیا جاتا ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2950]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10636)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/42) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107
14. باب فِي قَسْمِ الْفَىْءِ
باب: فے یعنی جنگ کے بغیر حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2951
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: حَاجَتَكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: عَطَاءُ الْمُحَرَّرِينَ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ مَا جَاءَهُ شَيْءٌ بَدَأَ بِالْمُحَرَّرِينَ.
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! کس ضرورت سے آنا ہوا؟ کہا: آزاد کئے ہوئے غلاموں کا حصہ لینے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ جب آپ کے پاس فیٔ کا مال آتا تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آزاد غلاموں کا حصہ دینا شروع کرتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2951]
جناب زید بن اسلم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، انہوں نے پوچھا: ”اے ابوعبدالرحمٰن! (یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) آپ کس ضرورت سے تشریف لائے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”آپ آزاد شدہ غلاموں (اور لونڈیوں) کا حصہ ادا کریں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بھی کوئی مال آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس میں سے) آزاد شدہ غلاموں (اور لونڈیوں) کو پہلے دیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2951]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6729) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ آزاد غلاموں کا نام حکومت کے رجسٹر میں نہیں رہتا تھا اس لئے وہ بیچارے محروم رہ جاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان غلاموں کی بابت یاد دلایا اور ان کے حق میں عطیات کے سلسلہ میں سفارش کی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4058)
مشكوة المصابيح (4058)
حدیث نمبر: 2952
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِظَبْيَةٍ فِيهَا خَرَزٌ فَقَسَمَهَا لِلْحُرَّةِ وَالأَمَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ أَبِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلا لایا گیا جس میں خونگے (قیمتی پتھر) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد عورتوں اور لونڈیوں میں تقسیم کر دیا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) آزاد مردوں اور غلاموں میں تقسیم کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2952]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلی آئی اس میں نگینے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد عورتوں اور لونڈیوں میں تقسیم فرما دیا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”میرے والد آزاد اور غلام سب میں تقسیم کیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2952]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/156، 159، 238) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ مونگوں کی تقسیم عورتوں کے لئے مخصوص نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4059)
مشكوة المصابيح (4059)
حدیث نمبر: 2953
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ جَمِيعًا، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا أَتَاهُ الْفَيْءُ قَسَمَهُ فِي يَوْمِهِ، فَأَعْطَى الْآهِلَ حَظَّيْنِ وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا"، زَادَ ابْنُ الْمُصَفَّى: فَدُعِينَا وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارٍ فَدُعِيتُ فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ وَكَانَ لِي أَهْلٌ، ثُمَّ دُعِيَ بَعْدِي عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأَعْطَى لَهُ حَظًّا وَاحِدًا.
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس دن مال فیٔ آتا آپ اسی دن اسے تقسیم کر دیتے، شادی شدہ کو دو حصے دیتے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے، تو ہم بلائے گئے، اور میں عمار رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، میں بلایا گیا تو مجھے دو حصے دئیے گئے کیونکہ میں شادی شدہ تھا، اور میرے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بلائے گئے تو انہیں صرف ایک حصہ دیا گیا (کیونکہ وہ کنوارے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2953]
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب مالِ فے آ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسی دن تقسیم فرما دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیوی والے کو دو حصے اور مجرد کو ایک حصہ دیتے۔“ ابن مصفٰی کی روایت میں مزید یہ الفاظ بھی ہیں: ”ہمیں بھی بلایا گیا اور مجھے (عوف بن مالک کو) عمار سے پہلے بلایا جاتا تھا، مجھے بلایا اور دو حصے عنایت فرمائے، کیونکہ میرے ہاں بیوی تھی، پھر میرے بعد سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور انہیں ایک حصہ عنایت فرمایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10904)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/25، 29) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4057)
مشكوة المصابيح (4057)
15. باب فِي أَرْزَاقِ الذُّرِّيَّةِ
باب: مسلمانوں کی اولاد کو وظیفہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2954
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میں مسلمانوں سے ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں (بس) جو مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ مال اس کے گھر والوں کا حق ہے اور جو قرض چھوڑ جائے یا عیال، تو وہ (قرض کی ادائیگی اور عیال کی پرورش) میرے ذمہ ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2954]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ” ﴿میں مومنوں کے لیے ان کی جانوں سے بھی نزدیک تر ہوں﴾ [سورة الأحزاب: 6] (کہ میرا مقام پہچانیں اور بے چوں و چرا اطاعت کریں) چنانچہ جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے گھر والوں کا حق ہے اور جو کوئی قرضہ چھوڑ جائے یا چھوٹے بچے، تو وہ میری طرف ہیں اور میرے ذمے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2954]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المقدمة 7 (45)، والصدقات 13 (2416)، (تحفة الأشراف: 2605)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 13 (867)، سنن النسائی/العیدین 21 (1579)، والجنائز 67 (1964)، مسند احمد (3/371) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه مسلم (867)
رواه مسلم (867)
حدیث نمبر: 2955
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مال چھوڑ کر جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو عیال چھوڑ کر مر جائے تو ان کی پرورش ہمارے ذمہ ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2955]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جو عیال و اطفال چھوڑ جائے تو وہ ہماری طرف ہیں۔“ (ہم ان کے ذمہ دار ہیں اور ہم ان کی کفالت کریں گے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2955]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الاستقراض 11 (2398)، الفرائض 25 (6763)، صحیح مسلم/الفرائض 4 (1619)، (تحفة الأشراف: 13410)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 69 (2019)، سنن النسائی/الجنائز 67 (1965)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 13 (2416) مسند احمد (2/290، 453، 455) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6763) صحيح مسلم (1619)
حدیث نمبر: 2956
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ:" أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ فَأَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ دَيْنًا فَإِلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میں ہر مسلمان سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، تو جو مر جائے اور قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ مال اس کے وارثوں کا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2956]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر مومن کے لیے اس کی جان سے بھی قریب تر ہوں، جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر قرضہ ہو تو وہ میرے ذمے ہے اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2956]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3159) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد منھا الحديث السابق (2954)
وللحديث شواھد منھا الحديث السابق (2954)
16. باب مَتَى يُفْرَضُ لِلرَّجُلِ فِي الْمُقَاتِلَةِ
باب: لڑائی میں کس عمر کے مرد کا حصہ لگایا جائے؟
حدیث نمبر: 2957
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَلَمْ يُجِزْهُ وَعُرِضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے اس وقت ان کی عمر (۱۴) سال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی، پھر وہ غزوہ خندق کے موقع پر پیش کئے گئے اس وقت وہ پندرہ سال کے ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت دے دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2957]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کو غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ ان کی عمر چودہ سال تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت نہ دی۔ اور پھر (اگلے سال) خندق کے موقع پر پیش کیا گیا جبکہ اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2957]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 18 (2664)، والمغازي 29 (4097)، سنن النسائی/الطلاق 20 (3461)، (تحفة الأشراف: 7833، 8115، 8153)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 23 (1864)، سنن الترمذی/الأحکام 24 (1316)، والجھاد 31 (1711)، سنن ابن ماجہ/الحدود 4 (2543)، مسند احمد (2/17) ویأتی ہذا الحدیث فی الحدود (4406) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4097)