🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ
باب: دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3736
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ولیمہ کی دعوت میں مدعو کیا جائے تو اسے چاہیئے کہ اس میں آئے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3736]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو چاہیے کہ وہ اس میں حاضر ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/النکاح 71 (5173)، صحیح مسلم/النکاح 16 (1429)، (تحفة الأشراف: 8339، 7949)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/النکاح 25 (1914)، موطا امام مالک/النکاح 21(49)، مسند احمد (2/20)، سنن الدارمی/الأطعمة 40 (2127)، النکاح 23 (2251) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولیمہ کی دعوت کو قبول کرنا واجب ہے، إلا یہ کہ وہاں کوئی خلاف شرع بات پائی جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5173) صحيح مسلم (1429)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3737
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، زَادَ: فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَدْعُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مفہوم کی حدیث بیان فرمائی اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر روزے سے ہو تو (کھانے اور کھلانے والوں کے لیے بخشش و برکت کی) دعا کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3737]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی ذکر کیا اور مزید کہا: اگر روزہ نہ رکھا ہو تو کھانے میں شریک ہو جائے اور اگر روزے سے ہو تو (صاحب طعام کے لیے) دعا کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3737]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7871)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/37) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1429)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3738
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی اپنے بھائی کو ولیمے کی یا اسی طرح کی کوئی دعوت دے تو وہ اسے قبول کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3738]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہیں تمہارا بھائی دعوت دے تو قبول کرنی چاہیے، شادی (کا ولیمہ) ہو یا اس کی مانند کوئی اور۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ النکاح 16 (1429)، (تحفة الأشراف: 7537)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/68، 101، 127، 146) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1429)
وانظر الحديث السابق (3736)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3739
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ نَافِعٍ بِإِسْنَادِ أَيُّوبَ وَمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی نافع سے ایوب کی روایت جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3739]
ابن المصفی نے کہا: ہمیں بقیہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں زبیدی نے نافع سے بسندِ ایوب اسی کے ہم معنی روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3739]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ النکاح 16 (1429)، (تحفة الأشراف: 8442)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1429)
وانظر الحديث السابق (3736)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3740
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ دُعِيَ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو دعوت دی جائے اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے پھر اگر چاہے تو کھائے اور چاہے تو نہ کھائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3740]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے دعوت دی گئی ہو اسے چاہیے کہ قبول کر لے، پھر اگر چاہے تو کھانا کھا لے اور اگر چاہے تو نہ کھائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/النکاح 16 (1430)، (تحفة الأشراف: 2743)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 47 (1751)، مسند احمد (3/392) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1430)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3741
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبَانُ بْنُ طَارِقٍ مَجْهُولٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہیں کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اور جو بغیر دعوت کے گیا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور لوٹ مار کر نکلا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابان بن طارق مجہول راوی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3741]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے دعوت دی گئی اور اس نے اسے قبول نہ کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اور جو شخص بن بلائے کسی دعوت میں جا پہنچا، تو وہ ان میں چور بن کر داخل ہوا اور لٹیرا بن کر نکلا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: (راوی) ابان بن طارق مجہول ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7469) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی درست ضعیف، اور ابان مجہول ہیں، لیکن پہلا ٹکڑا ابوہریرہ کی اگلی حدیث سے صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
درست ضعيف و أبان بن طارق : مجهول الحال (تق : 1825،139)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3742
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں صرف مالدار بلائے جائیں اور غریب و مسکین چھوڑ دیئے جائیں، اور جو (ولیمہ کی) دعوت میں نہیں آیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3742]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: سب سے برا ولیمہ وہ ہے جس میں اغنیاء اور امیروں کو بلایا جائے اور مساکین اور فقیروں کو چھوڑ دیا جائے اور جو دعوت میں نہیں آیا اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3742]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ النکاح 73 (5177)، صحیح مسلم/النکاح 16 (1432)، سنن ابن ماجہ/النکاح 25 (1913)، (2110)، (تحفة الأشراف: 13955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/240)، سنن الدارمی/الأطعمة 28(2110) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ جو ولیمہ ایسا ہو جس میں صرف مالدار اور باحیثیت لوگ ہی بلائے جائیں، اور محتاج و فقیر نہ آنے پائیں وہ برا ہے، نہ یہ کہ خود ولیمہ برا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق موقوفا م مرفوعا
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5177) صحيح مسلم (1432)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب فِي اسْتِحْبَابِ الْوَلِيمَةِ عِنْدَ النِّكَاحِ
باب: نکاح ہونے پر ولیمہ کی دعوت کرنا مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3743
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ:" ذُكِرَ تَزْوِيجُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا أَوْلَمَ بِشَاةٍ".
ثابت کہتے ہیں`: انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں میں سے کسی کے نکاح میں زینب کے نکاح کی طرح ولیمہ کرتے نہیں دیکھا، آپ نے ان کے نکاح میں ایک بکری کا ولیمہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3743]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مجلس میں ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر آ گیا تو انہوں نے کہا: میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کے ولیمہ میں اس قدر اہتمام کیا ہو جتنا ان کے موقع پر ولیمہ میں کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری سے ولیمہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3743]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/النکاح 68 (5168)، صحیح مسلم/النکاح 13 (1428)، سنن النسائی/الکبری 4 (6602)، سنن ابن ماجہ/النکاح 24 (1908)، (تحفة الأشراف: 287)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/227) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5171) صحيح مسلم (1428)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3744
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ الزَّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں ستو اور کھجور کا ولیمہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3744]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں ستو اور کھجور سے ولیمہ کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/النکاح 10 (1095)، سنن النسائی/النکاح 79 (3384)، سنن ابن ماجہ/النکاح 24 (1909)، (تحفة الأشراف: 1482)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، الجہاد 43 (1365) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3220)
وللحديث شواھد عند البخاري (371) ومسلم (1365 بعد ح 1427)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب فِي كَمْ تُسْتَحَبُّ الْوَلِيمَةُ
باب: دعوت ولیمہ کتنے روز تک مستحب ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3745
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَجُلٍ أَعْوَرَ مِنْ ثَقِيفٍ كَانَ يُقَالُ لَهُ مَعْرُوفًا أَيْ يُثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا إِنْ لَمْ يَكُنْ اسْمُهُ زُهَيْرُ بْنُ عُثْمَانَ فَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"الْوَلِيمَةُ أَوَّلَ يَوْمٍ حَقٌّ، وَالثَّانِيَ مَعْرُوفٌ، وَالْيَوْمَ الثَّالِثَ سُمْعَةٌ وَرِيَاءٌ"، قَالَ قَتَادَةُ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ: أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ دُعِيَ أَوَّلَ يَوْمٍ فَأَجَابَ، وَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّانِيَ فَأَجَابَ، وَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَلَمْ يُجِبْ، وَقَالَ: أَهْلُ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ.
عبداللہ بن عثمان ثقفی بنو ثقیف کے ایک کانے شخص سے روایت کرتے ہیں (جسے اس کی بھلائیوں کی وجہ سے معروف کہا جاتا تھا، یعنی خیر کے پیش نظر اس کی تعریف کی جاتی تھی، اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں تو مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا نام تھا) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ پہلے روز حق ہے، دوسرے روز بہتر ہے، اور تیسرے روز شہرت و ریاکاری ہے۔ قتادہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب کو پہلے دن دعوت دی گئی تو انہوں نے قبول کیا اور دوسرے روز بھی دعوت دی گئی تو اسے بھی قبول کیا اور تیسرے روز دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور کہا: (دعوت دینے والے) نام و نمود والے اور ریا کار لوگ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3745]
عبداللہ بن عثمان نے قبیلہ ثقیف کے ایک کانے آدمی سے روایت کی، اسے معروف کہا جاتا تھا، یعنی اس کی مدح کی جاتی تھی۔ اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں تو مجھے معلوم نہیں کہ اس کا کیا نام تھا؟ اس نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک ولیمہ پہلے دن حق (لازم) ہے، دوسرے دن نیکی ہے اور تیسرے دن شہرہ اور دکھلاوا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ نے ایک آدمی سے نقل کیا کہ جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو پہلے دن دعوت دی گئی تو قبول کی، دوسرے دن بلایا گیا تو قبول کیا، تیسرے دن بلایا گیا تو قبول نہ کیا اور کہا: یہ لوگ شہرہ اور دکھلاوا چاہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الدارمی/الأطعمة 28 (2109)، (تحفة الأشراف: 3651، 18719) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة والحسن عنعنا و عبد اللّٰه بن عثمان الثقفي : مجهول (تقريب التهذيب:3470)
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں