🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ
باب: میت کو قبر میں داخل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1553
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: حَضَرْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي جِنَازَةٍ، فَلَمَّا وَضَعَهَا فِي اللَّحْدِ، قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ"، فَلَمَّا أُخِذَ فِي تَسْوِيَةِ اللَّبِنِ عَلَى اللَّحْدِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمَّ جَافِ الْأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهَا، وَصَعِّدْ رُوحَهَا، وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا"، قُلْتُ: يَا ابْنَ عُمَرَ، أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ أَمْ قُلْتَهُ بِرَأْيِكَ؟، قَالَ: إِنِّي إِذًا لَقَادِرٌ عَلَى الْقَوْلِ، بَلْ شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک جنازے میں آیا، جب انہوں نے اسے قبر میں رکھا تو کہا: «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» اور جب قبر پر اینٹیں برابر کرنے لگے تو کہا: «اللهم أجرها من الشيطان ومن عذاب القبر اللهم جاف الأرض عن جنبيها وصعد روحها ولقها منك رضوانا» اے اللہ! تو اسے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے بچا، اے اللہ! زمین کو اس کی پسلیوں سے کشادہ رکھ، اور اس کی روح کو اوپر چڑھا لے، اور اپنی رضا مندی اس کو نصیب فرما میں نے کہا: اے ابن عمر! یہ دعا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، یا اپنی طرف سے پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر ایسا ہو تو مجھے اختیار ہو گا، جو چاہوں کہوں (حالانکہ ایسا نہیں ہے) بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1553]
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک جنازے میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حاضر تھا۔ جب انہوں نے میت کو قبر میں رکھا تو فرمایا: «بِسْمِ اللّٰهِ وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَعَلَىٰ مِلَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے، اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر۔ جب لحد پر کچی اینٹیں لگانا شروع کی گئیں تو فرمایا: «اللّٰهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، اللّٰهُمَّ جَافِ الْأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهَا، وَصَعِّدْ رُوحَهَا، وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا» اے اللہ! اسے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے پناہ دے، اے اللہ! اس کے پہلوؤں سے (قبر کی) زمین کو دور رکھ، اس کی روح کو بلند کر اور اسے اپنی خوشنودی نصیب فرما۔ (سعید بن مسیب نے فرمایا) میں نے کہا: ابن عمر! کیا آپ نے یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اپنی رائے سے یہ الفاظ کہے ہیں؟ انہوں نے کہا: تب تو میں باتیں بنانے پر قادر ہوں، (نہیں) بلکہ یہ چیز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 7084، ومصباح الزجاجة: 553) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں حماد بن عبد الرحمن بالاتفاق ضعیف ہیں، ابتدائی حدیث صحیح ہے، کما تقدم: 1550)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ حماد (بن عبد الرحمٰن) متفق علي تضعيفه ‘‘(انظر الحديث السابق:253)
وشيخه إدريس بن صبيح: مجهول (تقريب:295)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ: مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ اللَّحْدِ
باب: بغلی قبر (لحد) کے مستحب ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1554
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى يَذْكُرُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1554]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّحْدُ» (بغلی قبر) ہمارے لیے ہے اور «الشَّقُّ» (صندوقی قبر) ہمارے سوا دوسروں کے لیے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 65 (3208)، سنن الترمذی/الجنائز 53 (1045)، سنن النسائی/الجنائز85 (2011)، (تحفة الأشراف: 5542) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 585)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بغلی قبر کو لحد کہتے ہیں اور ضرح اور شق صندوقی قبر کو جو بہت مشہور ہے، اس حدیث سے لحد کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اس وجہ سے کہ اس میں مردے پر مٹی گرانی نہیں ہوتی، جو ادب واحترام کے خلاف ہے، نیز اس سے صندوقی قبر کی ممانعت مقصود نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3208) ترمذي (1045) نسائي (2011)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1555
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا".
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1555]
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1555]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3209، ومصباح الزجاجة: 554)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/357، 359، 362) (صحیح)» ‏‏‏‏ (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابوالیقظان عثمان بن عمیر ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو اليقظان:ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1556
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا، وَانْصِبُوا عَلَى اللَّبِنِ نَصْبًا، كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنے انتقال کے وقت) کہا: میرے لیے بغلی قبر (لحد) بنانا، اور کچی اینٹوں سے اس کو بند کر دینا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا گیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1556]
حضرت عامر بن سعد اپنے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: میرے لیے لحد تیار کرنا اور مجھ پر کچی اینٹیں لگانا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا گیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 29 (966)، سنن النسائی/الجنائز85 (2010)، (تحفة الأشراف: 3867)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/169، 173، 184) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الشَّقِّ
باب: صندوقی قبر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1557
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَلْحَدُ، وَآخَرُ يَضْرَحُ، فَقَالُوا: نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا، وَنَبْعَثُ إِلَيْهِمَا، فَأَيُّهُمَا سُبِقَ تَرَكْنَاهُ، فَأُرْسِلَ إِلَيْهِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ، فَلَحَدُوا لِلنَّبِيِّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، تو مدینہ میں قبر بنانے والے دو شخص تھے، ایک بغلی قبر بناتا تھا، اور دوسرا صندوقی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتے ہیں، اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں (پھر جو کوئی پہلے آئے گا، ہم اسے کام میں لگائیں گے) اور جو بعد میں آئے اسے چھوڑ دیں گے، ان دونوں کو بلوایا گیا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر بنائی گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1557]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے، اس وقت مدینے میں ایک آدمی لحد والی قبر بنایا کرتا تھا اور ایک آدمی سیدھی (شق والی) قبر بناتا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم اپنے رب سے استخارہ کرتے ہیں (بہتر چیز کی دعا کرتے ہیں) اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں جو پیچھے رہ گیا، اسے چھوڑ دیں گے۔ (اور جو پہلے آ گیا، وہ اپنے طریقے پر قبر تیار کر دے گا) چنانچہ ان دونوں کو پیغام بھیجا گیا تو لحد بنانے والا پہلے آ گیا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر تیار کروائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 739، ومصباح الزجاجة: 555)، وقد أخرجہ: مسند احمد30/139) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ لحد بناتے تھے اور عبیدہ رضی اللہ عنہ صندوقی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1558
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ طُفَيْلٍ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي اللَّحْدِ، وَالشَّقِّ، حَتَّى تَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ"، فَقَالَ عُمَرُ:" لَا تَصْخَبُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيًّا وَلَا مَيِّتًا، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، فَأَرْسَلُوا إِلَى الشَّقَّاقِ، وَاللَّاحِدِ جَمِيعًا، فَجَاءَ اللَّاحِدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ دُفِنَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، تو لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر کے سلسلے میں اختلاف کیا، یہاں تک کہ اس سلسلے میں باتیں بڑھیں، اور لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زندگی میں یا موت کے بعد شور نہ کرو، یا ایسا ہی کچھ کہا، بالآخر لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر بنانے والے دونوں کو بلا بھیجا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا، اس نے بغلی قبر بنائی، پھر اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1558]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو صحابہ رضی اللہ عنہم میں بغلی (لحد والی) یا سیدھی (شق والی) قبر کے بارے میں اختلاف ہو گیا۔ انہوں نے اس بارے میں بحث کی حتی کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زور سے نہ بولو، خواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہوں یا فوت ہو چکے ہوں، یا ایسے ہی دیگر الفاظ فرمائے، چنانچہ انہوں نے سیدھی (شق والی) قبر بنانے والے اور بغلی (لحد والی) قبر بنانے والے دونوں کو بلا بھیجا۔ بغلی (لحد والی) قبر بنانے والا (پہلے) آ گیا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی (لحد والی) قبر تیار کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کر دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16246، ومصباح الزجاجة: 556) (حسن)» ‏‏‏‏ (متابعات وشواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عبید بن طفیل مجہول اور عبد الرحمن بن أبی ملیکہ ضعیف راوی ہیں) (تراجع الألبانی: رقم: 590)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. بَابُ: مَا جَاءَ فِي حَفْرِ الْقَبْرِ
باب: قبر کھودنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1559
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ الْأَدْرَعِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: جِئْتُ لَيْلَةً أَحْرُسُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَجُلٌ قِرَاءَتُهُ عَالِيَةٌ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مُرَاءٍ، قَالَ: فَمَاتَ بِالْمَدِينَةِ، فَفَرَغُوا مِنْ جِهَازِهِ فَحَمَلُوا نَعْشَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْفُقُوا بِهِ رَفَقَ اللَّهُ بِهِ، إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ"، قَالَ: وَحَفَرَ حُفْرَتَهُ، فَقَالَ:" أَوْسِعُوا لَهُ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ"، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ حَزِنْتَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" أَجَلْ إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ادرع سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات آیا، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرہ داری کیا کرتا تھا، ایک شخص بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو ریاکار معلوم ہوتا ہے، پھر اس کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، جب لوگ اس کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے، تو لوگوں نے اس کی لاش اٹھائی تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ نرمی کرو، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ نرمی کرے، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا، ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کی قبر کھودی گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قبر کشادہ کرو، اللہ اس پر کشادگی کرے، یہ سن کر بعض صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس کی وفات پر آپ کو غم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1559]
حضرت ادرع سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرا داری کی نیت سے حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ ایک آدمی بہت بلند آواز سے تلاوت کر رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ شخص ریاکار ہے۔ (بعد میں) جب مدینہ میں وہ شخص فوت ہوا اور صحابہ اس کو تیار کرنے (غسل اور کفن وغیرہ) سے فارغ ہوئے اور اس کی چارپائی اٹھائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے نرمی کرو، اللہ تعالیٰ اس پر نرمی کرے، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا۔ راوی کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر تیار کروائی تو فرمایا: اس کی قبر کشادہ کرو، اللہ اس پر کشادگی فرمائے۔ ایک صحابی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو اس (کی وفات) کا بہت غم ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 81، ومصباح الزجاجة: 557) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (موسیٰ بن عبیدة ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن عبيدة: ضعيف (الإصابة 26/1 ت 63)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1560
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَأَحْسِنُوا".
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبر کو خوب کھودو، اسے کشادہ اور اچھی بناؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1560]
حضرت ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قبریں) کشادہ اور اچھی کھودو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز71 (3215، 3216، سنن الترمذی/الجہاد 33 (1713)، سنن النسائی/الجنائز 86 (2012)، 87 (2013)، 90 (2017)، 91 (2020)، (تحفة الأشراف: 11731)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/19، 20) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْعَلاَمَةِ فِي الْقَبْرِ
باب: قبر پر نشان رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1561
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْلَمَ قَبْرَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ بِصَخْرَةٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر کو ایک پتھر سے نشان زد کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1561]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر پر (اس کے سرہانے) علامت کے طور پر ایک بڑا پتھر رکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1730، و مصباح الزجاجة: 558) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْبِنَاءِ عَلَى الْقُبُورِ وَتَجْصِيصِهَا وَالْكِتَابَةِ عَلَيْهَا
باب: قبروں پر عمارت بنانے، ان کو پختہ کرنے اور ان پر کتبہ لگانے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1562
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَقْصِيصِ الْقُبُورِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1562]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو چونا گچ کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز32 (970)، سنن ابی داود/الجنائز 76 (3225)، سنن الترمذی/الجنائز 58 (1052)، سنن النسائی/الجنائز 96 (2029)، (تحفة الأشراف: 2668)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/295، 332، 399) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: قبروں کے پختہ بنانے میں ایک تو فضول خرچی ہے اس سے مردے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا دوسرے اس میں مرنے والوں کی ایسی تعظیم ہے جو انسان کو شرک کی طرف لے جاتی ہے اس لئے اس سے منع کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں