سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ: مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ
باب: کفار و مشرکین کی قبروں کی زیارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1573
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَكَانَ وَكَانَ فَأَيْنَ هُوَ؟، قَالَ:" فِي النَّارِ"، قَالَ: فَكَأَنَّهُ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ أَبُوكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَيْثُمَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ، فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ"، قَالَ: فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدُ، وَقَالَ: لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَبًا، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ، إِلَّا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے، اور اس اس طرح کے اچھے کام کیا کرتے تھے، تو اب وہ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جہنم میں ہیں“ اس بات سے گویا وہ رنجیدہ ہوا، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے والد کہاں ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو، تو اس کو جہنم کی خوشخبری دو“ اس کے بعد وہ اعرابی (دیہاتی) مسلمان ہو گیا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر ایک ذمہ داری ڈال دی ہے، اب کسی بھی کافر کی قبر سے گزرتا ہوں تو اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1573]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرا والد صلہ رحمی کرتا تھا، اور اس میں فلاں فلاں خوبیاں تھیں، وہ کہاں ہے؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں ہے۔“ اس کو یہ جواب گویا ناگوار گزرا تو اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کے والد کہاں ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جہاں بھی کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرے تو اسے جہنم کی خوشخبری دے دے۔“ بعد میں اس اعرابی نے اسلام قبول کر لیا، (بعد میں یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے) اس نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشکل کام میرے ذمے لگا دیا ہے، جب بھی میرا گزر کسی کافر کی قبر کے پاس سے ہوتا ہے میں اسے جہنم کی خوشخبری دیتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6803، ومصباح الزجاجة: 564) (صحیح)» (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 18)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزهري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
إسناده ضعيف
الزهري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
49. بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ زِيَارَةِ النِّسَاءِ الْقُبُورَ
باب: عورتوں کے لیے زیارت قبور منع ہے۔
حدیث نمبر: 1574
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو بِشْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيّ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، وَقَبِيصَةُ كلهم، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ".
حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1574]
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بکثرت زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3403، ومصباح الزجاجة: 565)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/442، 443) (حسن)» (نیز ملاحظہ ہو: الإرواء)
وضاحت: ۱؎: یہ اور اس معنی کی دوسری احادیث سے یہ امر قوی ہوتا ہے کہ عورتوں کو قبروں کی زیارت کرنا منع ہے، اس حدیث میں زوارات مبالغہ کا صیغہ ہے، اس لئے عام عورتوں کے لئے زیارت قبور کی اجازت اوپر کی (حدیث نمبر ۱۵۷۱) سے حاصل ہے، جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت کے بعد مسلمانوں کو زیارت قبور کا اذن عام دیا ہے، تاکہ وہ اس سے عبرت و موعظت حاصل کریں، اور عورتیں بھی اس سے عبرت و موعظت کے حصول میں مردوں کی طرح محتاج اور حقدار ہیں۔ اس سلسلے میں متعدد احادیث بھی ہیں۔ ۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قبروں کی زیارت کی اجازت دی۔(سنن الاثرم ومستدرک الحاکم) ۲- صحیح مسلم میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب میں قبروں کی زیارت کروں تو کیا کہوں؟۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: کہو «السلام على أهل الديار من المؤمنين» ۔ ۳- حاکم نے روایت کی ہے کہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا اپنے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قبر کی زیارت ہر جمعہ کو کیا کرتیں تھیں۔ ۴- صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت پر سے گزرے جو ایک قبر پر رو رہی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر قبر کی زیارت کی وجہ سے نکیر نہیں فرمائی۔ اجازت اور عدم اجازت میں یوں مطابقت ہو سکتی ہے کہ ان عورتوں کے لئے ممانعت ہے جو زیارت میں مبالغہ سے کام لیں، یا زیارت کے وقت نوحہ وغیرہ کریں، اور ان عورتوں کے لئے اجازت ہے جو خلاف شرع کام نہ کریں۔ قرطبی نے کہا کہ لعنت ان عورتوں سے خاص ہے جو بہت زیادہ زیارت کو جائیں، کیونکہ حدیث میں زوارات القبور مبالغہ کا صیغہ منقول ہے، اور شاید اس کی وجہ یہ ہو گی کہ جب عورت اکثر زیارت کو جائے گی تو مرد کے کاموں اور ضرورتوں میں خلل واقع ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1575
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1575]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بکثرت زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 82 (3236)، سنن الترمذی/الصلاة 122 (320)، سنن النسائی/الجنائز104 (2045)، (تحفة الأشراف: 5370)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/229، 324، 337) (حسن)» (سابقہ حدیث سے یہ حسن ہے، لیکن «زائرات» کے لفظ کی روایت ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن وروى بلفظ زائرات وهو ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1576
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ أَبُو نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَالِبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1576]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قبروں کی بکثرت زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 62 (1056)، (تحفة الأشراف: 14980)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/337، 356) (حسن)» (شواہد و متابعات کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن طالب مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: 762)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
50. بَابُ: مَا جَاءَ فِي اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ
باب: عورتوں کے جنازے کے ساتھ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1577
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ:" نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا، لیکن ہمیں تاکیدی طور پر نہیں روکا گیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1577]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا ہے، لیکن پختہ حکم نہیں دیا گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1577]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز29 (1278)، صحیح مسلم/الجنائز11 (938)، (تحفة الأشراف: 18139)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 44 (3167)، مسند احمد (6/408) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی جنازہ میں نہ جانا زیادہ بہتر ہے، جمہور علماء کا یہی قول ہے، اور بعضوں کے نزدیک یہ امر حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1578
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا نِسْوَةٌ جُلُوسٌ، فَقَالَ:" مَا يُجْلِسُكُنَّ؟"، قُلْنَ: نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ، قَالَ:" هَلْ تَغْسِلْنَ؟"، قُلْنَ: لَا، قَالَ:" هَلْ تَحْمِلْنَ؟"، قُلْنَ: لَا، قَالَ:" هَلْ تُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي؟"، قُلْنَ: لَا، قَالَ:" فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے پوچھا: ”تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو“؟ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ نے پوچھا: ”کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی“؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اسے اٹھاؤ گی“؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے“؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ (اپنے گھروں کو) واپس جاؤ“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1578]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو دیکھا کچھ خواتین بیٹھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیوں بیٹھی ہوئی ہو؟“ انہوں نے کہا: ”جنازے کا انتظار کر رہی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا غسل دو گی؟“ انہوں نے کہا: ”جی نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میت کی چار پائی کو) کندھا دو گی؟“ انہوں نے کہا: ”جی نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میت کو) قبر میں اتارنے والوں کے ساتھ تم بھی اتارو گی؟“ انہوں نے کہا: ”جی نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گناہ لے کر، ثواب سے محروم ہو کر واپس چلی جاؤ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10269، ومصباح الزجاجة: 566) (ضعیف)» (اس کی سند میں دینار ابو عمر اور اسماعیل بن سلمان ضعیف ہیں، ابن الجوزی نے اس حدیث کو العلل المتناہیہ میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: 1لضعیفہ: 2742)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن سلمان بن أبي المغيرة الكوفي: ضعيف (تقريب: 450)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
إسناده ضعيف
إسماعيل بن سلمان بن أبي المغيرة الكوفي: ضعيف (تقريب: 450)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
51. بَابٌ في النَّهْيِ عَنِ النِّيَاحَةِ
باب: نوحہ (میت پر چلا کر رونا) منع ہے۔
حدیث نمبر: 1579
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى الصَّهْبَاءِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12"، قَالَ: النَّوْحُ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «ولا يعصينك في معروف» (سورة الممتنحة: 12) ”نیک باتوں میں تمہاری نافرمانی نہ کریں“ کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا: ”اس سے مراد نوحہ ہے ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1579]
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت مبارکہ ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ﴾ [سورة الممتحنة: 12] ”نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔“ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ”نوحہ کے بارے میں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 60 (3307)، (تحفة الأشراف: 15769)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/320) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: نوحہ کہتے ہیں چلا چلا کر میت پر رونے، اور اس کے فضائل بیان کرنے کو، یہ جاہلیت کی رسم تھی، اور اب تک جاہلوں میں رائج ہے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا، لیکن آہستہ سے رونا جو بے اختیاری اور رنج کی وجہ سے ہو وہ منع نہیں ہے، جیسا کہ آگے آئے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1580
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَرِيزٍ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: خَطَبَ مُعَاوِيَةُ بِحِمْصَ فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ النَّوْحِ".
معاویہ رضی اللہ عنہ کے غلام حریز کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حمص میں خطبہ دیا تو اپنے خطبہ میں یہ ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ (چلّا کر رونے) سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1580]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام جریر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حمص شہر میں خطبہ دیا تو اس خطبے کے دوران میں یہ بھی ذکر فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1580]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11403، ومصباح الزجاجة: 567)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/101) (صحیح)» (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ”عبد اللہ بن دینار“ ضعیف اور حریز مجہول راوی ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن دينار الحمصي ضعيف ضعفه الجمھور و حريز مولي معاوية مجھول و للحديث طريق آخر عند البخاري في التاريخ الكبير (7/ 234) و سنده ضعيف
فيه كيسان مولي معاوية مجھول الحال،و ثقه ابن حبان وحده و في سماع محمد بن مهاجر الشامي منه نظر
و حديث البخاري (4892) و مسلم (936) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن دينار الحمصي ضعيف ضعفه الجمھور و حريز مولي معاوية مجھول و للحديث طريق آخر عند البخاري في التاريخ الكبير (7/ 234) و سنده ضعيف
فيه كيسان مولي معاوية مجھول الحال،و ثقه ابن حبان وحده و في سماع محمد بن مهاجر الشامي منه نظر
و حديث البخاري (4892) و مسلم (936) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
حدیث نمبر: 1581
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ابْنِ مُعَانِقٍ أَوْ أَبِي مُعَانِقٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النِّيَاحَةُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنَّ النَّائِحَةَ إِذَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتُبْ، قَطَعَ اللَّهُ لَهَا ثِيَابًا مِنْ قَطِرَانٍ، وَدِرْعًا مِنْ لَهَبِ النَّارِ".
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نوحہ (ماتم) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ (ماتم) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مر گئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول (ڈامر) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1581]
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نوحہ (بین) جاہلیت کا رواج ہے۔ نوحہ کرنے والی اگر توبہ کیے بغیر مر گئی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول کے کپڑے اور آگ کے شعلے کی قمیص تیار کرے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12160، ومصباح الزجاجة: 568)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز10 (924)، مسند احمد (5/342) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح م بلفظ ودرع من جرب
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1582
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّ النَّائِحَةَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ، فَإِنَّهَا تُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ، ثُمَّ يُعْلَى عَلَيْهَا بِدِرُوعٍ مِنْ لَهَبِ النَّارِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے، اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کرنے سے پہلے مر جائے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ تارکول کی قمیص پہنے ہو گی، اور اس کو اوپر سے جہنم کی آگ کے شعلوں کی ایک قمیص پہنا دی جائے گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1582]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا رواج ہے۔ نوحہ کرنے والی اگر بغیر توبہ کیے مر گئی تو اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے جسم پر تارکول کی قمیصیں ہوں گی، پھر ان پر آگ کے شعلوں کی قمیص پہنائی جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6247، ومصباح الزجاجة: 569) (صحیح)» (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ’’عمر بن راشد“ ضعیف راوی ہے، اور اس کی حدیث یحییٰ بن ابی کثیر سے مضطرب ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن