سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ
باب: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1533
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كَانَتْ سَوْدَاءُ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَتُوُفِّيَتْ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِمَوْتِهَا، فَقَالَ:" أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟ فَخَرَجَ بِأَصْحَابِهِ، فَوَقَفَ عَلَى قَبْرِهَا، فَكَبَّرَ عَلَيْهَا، وَالنَّاسُ خَلْفَهُ وَدَعَا لَهَا، ثُمَّ انْصَرَفَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، ایک رات اس کا انتقال ہو گیا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مرنے کی اطلاع دی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے مجھے خبر کیوں نہ دی“؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ نکلے اور اس کی قبر پر کھڑے ہو کر تکبیر کہی، اور لوگ آپ کے پیچھے تھے، آپ نے اس کے لیے دعا کی پھر آپ لوٹ آئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1533]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام خاتون مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ ایک رات وہ فوت ہوگئی۔ صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وفات کی اطلاع دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے (اس وقت) کیوں نہ اس کی وفات کی اطلاع دی؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر نکلے اور اس کی قبر پر جا کھڑے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے پیچھے تمام لوگوں نے اس پر (نماز جنازہ کی) تکبیریں کہیں اور اس کے لیے دعائیں کیں (نماز جنازہ پڑھی) پھر واپس آگئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4069، ومصباح الزجاجة: 545) (صحیح)» (سابقہ حدیث تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبر پر نماز جنازہ صحیح ہے، سنن ترمذی میں ایک حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سعد کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی، ان کے دفن پر ایک مہینہ گزر چکا تھا، نیز یہ حدیث عام ہے خواہ اس میت پر لوگ نماز جنازہ پڑھ چکے ہوں یا کسی نے نہ پڑھی ہو، ہر طرح اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھنا صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لهيعة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433
إسناده ضعيف
ابن لهيعة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433
33. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى النَّجَاشِيِّ
باب: نجاشی کی نماز جنازہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1534
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْبَقِيعِ، فَصَفَّنَا خَلْفَهُ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مقبرہ بقیع کی طرف گئے، ہم نے صف باندھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، پھر آپ نے چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1534]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نجاشی فوت ہو گیا ہے۔“ (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی بقیع میں تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے ہماری صفیں بنائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خود) آگے بڑھے اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1534]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 4 (1245)، 54 (1318)، 60 (1334)، سنن الترمذی/الجنائز37 (1022)، (تحفة الأشراف: 13267)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 62 (3204)، سنن النسائی/الجنائز 72 (1973)، موطا امام مالک/الجنائز5 (14)، مسند احمد (2/230، 280، 438، 439) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1535
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ جَمِيعًا، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَصَلُّوا عَلَيْهِ"، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ، وَإِنِّي لَفِي الصَّفِّ الثَّانِي، فَصَلَّى عَلَيْهِ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے (دینی) بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، ان کی نماز جنازہ پڑھو“ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، میں دوسری صف میں تھا، تو دو صفوں نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1535]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھائی نجاشی فوت ہو گیا ہے، اس کا جنازہ پڑھ لو۔“ صحابی بیان کرتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم نے آپ کی اقتدا میں نماز (جنازہ) ادا کی۔ میں دوسری صف میں تھا، آپ نے دو صفیں بنا کر اس کا جنازہ پڑھایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 48 (1039)، سنن النسائی/الجنائز 72 (1977)، (تحفة الأشراف: 10889)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز 22 (953)، مسند احمد (4/431، 433، 441) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1536
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ" فَصَفَّنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ.
مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے (دینی) بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، تم لوگ کھڑے ہو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو، پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں لگائیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1536]
حضرت مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھائی نجاشی فوت ہو گیا ہے، اٹھو اس کا جنازہ پڑھ لو۔“ تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11216، و مصباح الزجاجة: 546) (صحیح)» (سند میں حمران بن أعین ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1537
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِهِمْ، فَقَالَ:" صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ أَرْضِكُمْ"، قَالُوا: مَنْ هُوَ؟، قَالَ:" النَّجَاشِيُّ".
حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر نکلے تو فرمایا: ”اپنے (دینی) بھائی پر نماز جنازہ پڑھو جن کی موت تمہارے علاقہ سے باہر ہو گئی ہے“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نجاشی ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1537]
حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر نکلے اور فرمایا: ”اپنے ایک بھائی کا جنازہ پڑھو جو تمہارے علاقے سے باہر فوت ہو گیا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”وہ کون ہے؟“ فرمایا: ”نجاشی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3300، ومصباح الزجاجة: 547)، مسند احمد (4/7) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1538
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو السَّكَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی، تو چار تکبیرات کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1538]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نجاشی رضی اللہ عنہ کا جنازہ پڑھا تو چار تکبیریں کہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8400، ومصباح الزجاجة: 548) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
34. بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ وَمَنِ انْتَظَرَ دَفْنَهَا
باب: نماز جنازہ پڑھنے اور دفن تک انتظار کرنے کا ثواب۔
حدیث نمبر: 1539
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ"، قَالُوا: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟، قَالَ:" مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو دفن سے فراغت تک انتظار کرتا رہا، اسے دو قیراط ثواب ہے“ لوگوں نے عرض کیا: دو قیراط کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو پہاڑ کے برابر“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1539]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جنازے کی نماز پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے اور جس نے انتظار کیا حتیٰ کہ اس (کے دفن) سے فراغت ہو جائے، اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: دو قیراط کیسے ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو پہاڑوں کے برابر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأیمان 35 (47)، الجنائز 58 (1325)، صحیح مسلم/الجنائز17 (945)، سنن النسائی/الجنائز79 (1996)، الإیمان 26 (5035)، (تحفة الأشراف: 13266)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز45 (3168)، سنن الترمذی/الجنائز 49 (1040)، مسند احمد (2/2، 233، 246، 280، 321، 387، 401، 430، 458، 475، 480، 493، 498، 503، 521، 531) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1540
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ"، قَالَ: فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِيرَاطِ؟، فَقَالَ:" مِثْلُ أُحُدٍ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی، تو اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن میں بھی شریک رہا، تو اس کو دو قیراط برابر ثواب ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1540]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جنازے کی نماز پڑھی اس کے لیے ایک قیراط (ثواب) ہے اور جو اس کے دفن تک حاضر رہا اس کے لیے دو قیراط (ثواب) ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احد (پہاڑ) کے برابر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 17 (946)، (تحفة الأشراف: 2115)، مسند احمد (5/276، 277، 282، 283، 284) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1541
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ الْقِيرَاطُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ هَذَا".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن تک جنازہ میں حاضر رہا اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، قیراط اس احد پہاڑ سے بڑا ہے ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1541]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جنازے کی نماز پڑھی اس کے لیے ایک قیراط (ثواب) ہے اور جو حاضر رہا حتی کہ (میت کو) دفن کیا جائے، اس کے لیے (ثواب کے) دو قیراط ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، (ثواب کا) قیراط اس احد سے بھی بڑا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 23، ومصباح الزجاجة: 541)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/131) (صحیح)» (دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں)
وضاحت: ۱؎: اگرچہ قیراط نہایت ہلکا وزن ہے یعنی دانق کا آدھا، اور دانق ایک درہم کا چھٹا حصہ ہے، تو قیراط درہم کا بارہواں حصہ ہوا، یعنی تقریباً دو رتی، لیکن اللہ تعالی کے نزدیک یہ قیراط بہت بڑا ہے وہ جو پہاڑ سے بھی وزن میں زائد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
35. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ
باب: جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1542
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ، أَوْ تُوضَعَ".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے، یا رکھ دیا جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1542]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ حتی کہ وہ آگے گزر جائے یا (زمین پر) رکھ دیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1542]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 46 (1307)، 47 (1308)، صحیح مسلم/الجنائز24 (958)، سنن ابی داود/الجنائز 47 (3172)، سنن الترمذی/الجنائز 51 (1042)، سنن النسائی/الجنائز 45 (1916)، (تحفة الأشراف: 5041)، مسند احمد (3/445، 446، 447) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم