سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ
باب: جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1543
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ فَقَامَ، وَقَالَ:" قُومُوا فَإِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ! اس لیے کہ موت کی ایک گھبراہٹ اور دہشت ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1543]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ، موت کی ایک گھبراہٹ (اور پریشانی) ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15066، ومصباح الزجاجة: 550)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/287، 343) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1544
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ:" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِنَازَةٍ فَقُمْنَا حَتَّى جَلَسَ فَجَلَسْنَا".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوئے، پھر آپ بیٹھ گئے، تو ہم بھی بیٹھ گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1544]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو ہم بھی بیٹھ گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 25 (962)، سنن ابی داود/الجنائز 47 (3175)، سنن الترمذی/الجنائز 52 (1044)، سنن النسائی/الجنائز 81 (2001)، (تحفة الأشراف: 19276)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 11 (33)، مسند احمد (1/82، 83، 131، 138) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1545
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اتَّبَعَ جِنَازَةً لَمْ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ، فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ، فَقَالَ: هَكَذَا نَصْنَعُ يَا مُحَمَّدُ؟ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: خَالِفُوهُمْ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے کے پیچھے چلتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ اسے قبر میں نہ رکھ دیا جاتا، ایک یہودی عالم آپ کے سامنے آیا، اور کہا: اے محمد! ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنا شروع کر دیا، اور فرمایا: ”ان کی مخالفت کرو ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1545]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو میت کو قبر میں رکھے جانے تک نہ بیٹھتے (ایک بار) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یہودی عالم ملا، اس نے کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں۔“ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے لگے اور فرمایا: ”ان کی مخالفت کرو۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 47 (3176)، سنن الترمذی/الجنائز 35 (1020)، (تحفة الأشراف: 5076) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 437)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانے کا حکم دیا تھا، پھر جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ یہود بھی ایسا کرتے ہیں تو آپ نے ان کی مخالفت کا حکم دیا جس سے سابق حکم منسوخ ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3176) ترمذي (1020)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3176) ترمذي (1020)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433
36. بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُقَالُ إِذَا دَخَلَ الْمَقَابِرَ
باب: قبرستان میں پہنچ کر کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 1546
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَقَدْتُهُ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ، وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے انہیں یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ایک رات) غائب پایا، پھر دیکھا کہ آپ مقبرہ بقیع میں ہیں، اور آپ نے فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين أنتم لنا فرط وإنا بكم لاحقون اللهم لا تحرمنا أجرهم ولا تفتنا بعدهم» ”اے مومن گھر والو! تم پر سلام ہو، تم لوگ ہم سے پہلے جانے والے ہو، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے ثواب سے محروم نہ کرنا، اور ان کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈالنا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1546]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے (بستر پر) نظر نہ آئے۔ دیکھا تو آپ بقیع (قبرستان) میں تھے۔ (وہاں) آپ نے فرمایا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ» ”اے مومن لوگوں کی بستی والو! تم پر سلامتی ہو، تم ہمارے پیش رو ہو اور ہم بھی تم سے آ ملنے والے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ان (پر صبر) کے ثواب سے محروم نہ رکھنا اور ان (کی وفات) کے بعد ہمیں آزمائش میں مبتلا نہ کرنا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1546]
قال الشيخ الألباني: ضعيف وهو صحيح دون اللهم لا ... م
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عاصم بن عبيداللّٰه: ضعيف
والحديث الآتي (الأصل: 1547) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433
إسناده ضعيف
عاصم بن عبيداللّٰه: ضعيف
والحديث الآتي (الأصل: 1547) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433
حدیث نمبر: 1547
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ، كَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہیں: «السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون نسأل الله لنا ولكم العافية» ”اے مومن اور مسلمان گھر والو! تم پر سلام ہو، ہم تم سے ان شاءاللہ ملنے والے ہیں، اور ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1547]
حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھایا کرتے تھے کہ وہ جب قبرستان میں جائیں (تو یہ دعا پڑھیں، چنانچہ) ان میں سے جو شخص (قبرستان میں جا کر) دعا کرتا، وہ یوں کہتا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ» ”تم پر سلامتی ہو، اے مومنوں اور مسلمانوں کی بستی والو! ہم بھی ان شاء اللہ تم سے آ ملنے والے ہیں۔ ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 35 (975)، سنن النسائی/الجنائز 103 (2042)، (تحفة الأشراف: 1930)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/353، 360) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «السلام عليكم يا أهل القبور، يغفر الله لنا ولكم وأنتم سلفنا ونحن بالأثر» یعنی سلام ہو تمہارے اوپر اے قبر والو! اللہ ہم کو اور تم کو بخشے،تم ہمارے اگلے ہو، اور ہم تمہارے پیچھے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
37. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ فِي الْمَقَابِرِ
باب: قبرستان میں بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1548
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَقَعَدَ حِيَالَ الْقِبْلَةِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1548]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو کر بیٹھ گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 68 (3212)، السنة 27 (4753، 4754)، سنن النسائی/الجنائز81 (2003)، (تحفة الأشراف: 1758)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/287، 295، 297) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يونس بن خباب ضعيف رافضي ضعفه الجمھور و الحديث الآتي (الأصل: 1549) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
إسناده ضعيف
يونس بن خباب ضعيف رافضي ضعفه الجمھور و الحديث الآتي (الأصل: 1549) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
حدیث نمبر: 1549
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، جب قبر کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھ گئے، اور ہم بھی بیٹھ گئے، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1549]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم ایک جنازے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔ ہم قبر تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی (بڑی خاموشی سے) بیٹھ گئے، گویا ہمارے سروں پر پرندے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1759) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی خاموش سر جھکا کر بیٹھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہمیشہ اسی طرح با ادب بیٹھتے تھے۔ اور قبرستان میں بھی باکل خاموش اور چپ چاپ بیٹھ جاتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
38. بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ
باب: میت کو قبر میں داخل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1550
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ، قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ"، وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّةً: إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ، قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ"، وَقَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ:" بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب مردے کو قبر میں داخل کیا جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «بسم الله وعلى ملة رسول الله» اور ابوخالد نے اپنی روایت میں ایک بار یوں کہا: جب میت کو اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا تو آپ «بسم الله وعلى سنة رسول الله» کہتے، اور ہشام نے اپنی روایت میں «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» کہا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1550]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب میت کو قبر میں داخل کیا جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ، وَعَلٰی مِلَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے اور اس کے رسول کی ملت پر۔“ راویِ حدیث ابو خالد نے ایک روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: جب میت کو لحد میں رکھا جاتا تو آپ فرماتے: «بِسْمِ اللّٰهِ، وَعَلٰی سُنَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے اور اس کے رسول کے طریقے کے مطابق۔“ اور راویِ حدیث ہشام نے اپنی روایت میں یوں بیان کیا: «بِسْمِ اللّٰهِ، وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ، وَعَلٰی مِلَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے، اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کی ملت پر۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث ہشام بن عمار تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8319)، وحدیث عبد اللہ بن سعید أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 54 (1046)، (تحفة الأشراف: 7644)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 69 (3213)، مسند احمد (2/27، 40، 59، 69، 127) (صحیح)» (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی اسماعیل بن عیاش اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1551
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ:" سَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا، وَرَشَّ عَلَى قَبْرِهِ مَاءً".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو ان کی قبر کے پائتانے سے سر کی طرف سے قبر میں اتارا، اور ان کی قبر پہ پانی چھڑکا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1551]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12014، ومصباح الزجاجة: 551) (ضعیف جدا)» (اس کی سند میں مندل بن علی اور محمد بن عبید اللہ بن أبی رافع بہت زیادہ منکر الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 17219)
وضاحت: ۱؎: سنت یہی ہے کہ میت کو قبر کے پائتانے سے قبر کے اندر اس طرح کھینچا جائے کہ پہلے سر کا حصہ قبر میں داخل ہو، اور قبر میں اسے دائیں پہلو لٹایا جائے، اس طرح پر کہ چہرہ قبلہ کی طرف ہو اور سر قبلہ کے دائیں ہو، اور پیر اس کے بائیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مندل ومحمد بن عبيداللّٰه: ضعيفان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
إسناده ضعيف
مندل ومحمد بن عبيداللّٰه: ضعيفان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
حدیث نمبر: 1552
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَاسْتُقْبِلَ اسْتِقْبَالًا، وَاسْتل استِلالًا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف سے (قبر میں) اتارا گیا، اور کھینچ لیا گیا، آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1552]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کو قبلے کی طرف سے لیا گیا اور اٹھا کر قبر میں داخل کر دیے گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4218، ومصباح الزجاجة: 552) (منکر)» (اس کی سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: 150)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطية: ضعيف مدلس
والمحاربي عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
إسناده ضعيف
عطية: ضعيف مدلس
والمحاربي عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434