سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: الرَّهْنِ
باب: حدثنا ابوبکر بن أبی شیبہ۔
حدیث نمبر: 2436
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ایک مقررہ مدت کے لیے غلہ قرض پر خریدا، اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2436]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک یہودی سے غلہ ادھار خریدا، اور اپنی زرہ اس کے پاس رہن رکھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 14 (2068)، 33 (2096)، 88 (2200)، السلم 5 (2251)، 6 (2252)، الاستقراض 1 (2386)، الرھن 2 (2509)، 5 (2513)، الجہاد 89 (2916)، المغازي 86 (4467)، صحیح مسلم/البیوع 45 (1603)، سنن النسائی/البیوع 56 (4613)، (تحفة الأشراف: 15948)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/42، 160، 237) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: رہن کہتے ہیں گروی رکھنے کو یعنی کوئی چیز کسی کے پاس بطور ضمانت رکھ کر اس سے قرض لینا، گروی رکھنے والے کو راہن اور گروی رکھ کر قرض دینے والے کو مرتہن اور جو چیز گروی رکھی جائے اس کو رہن یا مرہون کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2437
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" لَقَدْ رَهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ فَأَخَذَ لِأَهْلِهِ مِنْهُ شَعِيرًا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھ دی، اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جو لیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2437]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں ایک یہودی کے پاس اپنی زرہ گروی رکھ کر اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جو حاصل کیے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 14 (2069)، الرھن 1 (2508)، سنن الترمذی/البیوع 7 (1215)، سنن النسائی/البیوع 57 (4614)، (تحفة الأشراف: 1355)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/133، 208، 232) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2438
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُوُفِّيَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِطَعَامٍ".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ غلے کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2438]
حضرت اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس غلے کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15774، ومصباح الزجاجة: 858)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/453، 457) (صحیح)» (سند میں شہر بن حوشب ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2439
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَاب: ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَاتَ وَدِرْعُهُ رَهْنٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2439]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے، آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے بدلے میں رہن رکھی ہوئی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6239)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 7 (1214)، سنن النسائی/البیوع 81 (4655)، سنن الدارمی/البیوع 44 (2624)، مسند احمد (1/236، 300، 301، 361) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
2. بَابُ: الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ
باب: رہن کے جانور پر سواری کرنا اور اس کا دودھ دوہنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2440
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الظَّهْرُ يُرْكَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ، نَفَقَتُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور پر سواری کی جائے گی جب وہ اس کے ذمہ گروی ہو، اور دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا جب وہ گروی ہو، اور جو سواری کرے یا دودھ پیئے اس جانور کی خوراک کا خرچ ہو گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2440]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سواری کا جانور جب رہن رکھا جائے تو اس پر سواری کی جائے گی، اور دودھ دینے والا جانور (گائے، بھینس، بکری وغیرہ) جب رہن رکھا جائے تو اس کا دودھ پیا جائے گا، اور جانور کا خرچ اس شخص کے ذمے ہو گا جو سواری کرتا اور دودھ پیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرہن 4 (2511)، سنن ابی داود/البیوع 78 (3526)، سنن الترمذی/البیوع 31 (1254)، (تحفة الأشراف: 13540)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/228، 472) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ مرتہن کو شرعی طور پر گروی جانور کے دودھ پینے اور سواری کرنے کا حق حاصل ہے، راہن سے اس سلسلے میں اسے اجازت کی ضرورت نہیں، البتہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ جانور پر خرچ اور منافع کو سامنے رکھتے ہوئے انصاف سے کام لے، واضح رہے کہ اس قسم کے منافع کو سود سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ایک استثنائی شکل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
3. بَابُ: لاَ يَغْلَقُ الرَّهْنُ
باب: رہن چھڑانے سے روکا نہیں جا سکتا۔
حدیث نمبر: 2441
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَغْلَقُ الرَّهْنُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہن روکا نہیں جا سکتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2441]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہن رکھی ہوئی شے (مستقل طور پر) قرض خواہ کے پاس نہیں رہے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13113، ومصباح الزجاجة: 859)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 10 (13) (ضعیف)» (سند میں محمد بن حمید الرازی ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 5/ 242 و 1408)
وضاحت: ۱؎: زمانہ جاہلیت سے یہ دستور چلا آ رہا تھا کہ راہن اگر وقت مقررہ پر قرض کی ادائیگی سے قاصر رہا، تو اس کا گروی مال ڈوب جاتا تھا، اسلام نے اس ظالمانہ نظام کی تردید کی، اور اسے مرتہن کے پاس امانت قرار دے کر راہن کی ملکیت میں برقرار رکھا، اور راہن کو حکم دیا کہ قرض کی ادائیگی کے لئے بھر پور کوشش کرے، کوشش کے باوجود اگر وہ قرض ادا نہ کر سکے تو مرہون (رہن میں رکھی چیز کو) بیچ کر قرض پورا کرنے اور بقیہ مال راہن کو لوٹا دینے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن الدارقطني (3/ 32 ح 2897) وقال: ’’ وھذا إسناد حسن متصل ‘‘
الزھري عنعن فالسند غير متصل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
إسناده ضعيف
سنن الدارقطني (3/ 32 ح 2897) وقال: ’’ وھذا إسناد حسن متصل ‘‘
الزھري عنعن فالسند غير متصل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
4. بَابُ: أَجْرِ الأُجَرَاءِ
باب: مزدور کی اجرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2442
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَلِيمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوفِهِ أَجْرَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا مدمقابل میں ہوں گا، اور جس کا میں قیامت کے دن مدمقابل ہوں گا اس پر غالب آؤں گا، ایک وہ جو مجھ سے عہد کرے پھر بدعہدی کرے، دوسرے وہ جو کسی آزاد کو پکڑ کر بیچ دے پھر اس کی قیمت کھائے، اور تیسرے وہ جو کسی کو مزدور رکھے اور اس سے پورا کام لے اور اس کی اجرت نہ دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2442]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن کے خلاف قیامت کے دن میں خود مدعی ہوں گا، اور جس کے خلاف میں مدعی ہوں گا میں اس سے مقدمہ جیت جاؤں گا (لہٰذا یہ تین افراد ضرور سزا پائیں گے۔) (ایک) وہ شخص جو اللہ کا نام لے کر عہد کرے، پھر عہد شکنی کرے، (دوسرا) وہ جو کسی آزاد انسان کو (غلام بنا کر) بیچ ڈالے اور اس کی قیمت کھا لے، اور (تیسرا) وہ شخص جو کسی کو مزدور رکھے، پھر اس سے پورا کام لے کر اس کو اجرت پوری نہ دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 106 (2227)، الإجارة 10 (2270)، (تحفة الأشراف: 12952)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/358) (صحیح) (ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 287)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف خ لكن فيه يحيى بن سليم قال الحافظ ابن حجر صدوق سيء الحفظ
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2443
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَطِيَّةَ السَّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری دے دو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2443]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دے دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6736، ومصباح الزجاجة: 860) (صحیح)» (سند میں عبد الرحمن بن زید ضعیف راوی ہیں، اور وہب بن سعید یہ عبد الوہاب بن سعید صدوق ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ کام ختم ہوتے ہی اس کی اجرت دے دو، یہ نہیں کہ اجرت دینے میں حیلہ کرو اور کام لے لو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
5. بَابُ: إِجَارَةِ الأَجِيرِ عَلَى طَعَامِ بَطْنِهِ
باب: صرف خوراکی پر مزدور رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2444
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ النُّدَّرِ ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ طسم حَتَّى إِذَا بَلَغَ قِصَّةَ مُوسَى قَالَ:" إِنَّ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آجَرَ نَفْسَهُ ثَمَانِيَ سِنِينَ أَوْ عَشْرًا عَلَى عِفَّةِ فَرْجِهِ وَطَعَامِ بَطْنِهِ".
عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے سورۃ «طسم» پڑھی، جب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو عفت و پاک دامنی اور خوراک کے عوض آٹھ یا دس سال تک مزدور بنایا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2444]
حضرت عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ ﴿طسم﴾ [سورة القصص: 1] تلاوت فرمائی، حتیٰ کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے [سورة القصص: 27-28] تک پہنچے تو فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ دس سال پاک دامنی اور پیٹ بھر روٹی کے عوض مزدوری کی۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9759، ومصباح الزجاجة: 861) (ضعیف جدا)» (بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور مسلمہ بن علی منکرالحدیث ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1488)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اور یہ معلوم ہے کہ جب موسی علیہ السلام مصر سے بھاگ کر مدین میں پہنچے تو وہاں شعیب علیہ السلام کے نوکر ہوئے، اقرار یہ تھا کہ آٹھ یا دس برس تک عفت کے ساتھ ان کی خدمت کریں اور کھانا پیٹ بھر کھائیں، مدت کے بعد ایک بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا جائے یہ قصہ قرآن شریف میں تفصیل سے مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
مسلمة بن علي:متروك
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
إسناده ضعيف جدًا
مسلمة بن علي:متروك
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
حدیث نمبر: 2445
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" نَشَأْتُ يَتِيمًا وَهَاجَرْتُ مِسْكِينًا وَكُنْتُ أَجِيرًا لِابْنَةِ غَزْوَانَ بِطَعَامِ بَطْنِي وَعُقْبَةِ رِجْلِي، أَحْطِبُ لَهُمْ إِذَا نَزَلُوا وَأَحْدُو لَهُمْ إِذَا رَكِبُوا، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الدِّينَ قِوَامًا وَجَعَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ إِمَامًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری پرورش یتیمی کی حالت میں ہوئی، اور ہجرت کرنے کے وقت میں مسکین تھا، اور غزوان کی بیٹی کا صرف خوراک کی اور باری باری اونٹ پر چڑھنے کے عوض مزدور تھا، جب وہ لوگ ٹھہرتے تو میں ان کے لیے لکڑیاں چنتا، اور جب وہ سوار ہوتے تو میں ان کے اونٹوں کی حدی خوانی کرتا، تو شکر ہے اللہ کا جس نے دین کو مضبوط کیا، اور ابوہریرہ کو امام بنایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2445]
حضرت حیان (بن بسطام ہذلی رحمہ اللہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا: ”میں نے یتیمی کی حالت میں پرورش پائی اور مفلسی کی حالت میں ہجرت کی۔ میں پیٹ بھر کھانے اور (سفر کے دوران میں) اپنی باری پر سواری کی شرط پر بنت غزوان کا نوکر تھا۔ (سفر کے دوران میں) جب وہ لوگ (کسی منزل پر) ٹھہرتے تو میں ان کے لیے ایندھن جمع کر کے لایا کرتا تھا اور جب وہ سوار ہو کر چلتے تو میں حُدی خوانی کرتا (تاکہ اونٹ تیز چلیں۔) اللہ کا شکر ہے جس نے دین کو سہارا (اور ترقی کا باعث) بنایا، اور ابوہریرہ کو (دینی اور دنیاوی طور پر) امام (عالم اور گورنر) بنا دیا۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12295، ومصباح الزجاجة: 862) (ضعیف)» (حیان بن بسطام ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح