🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ: مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ
باب: قوم لوط کے عمل (اغلام بازی) کی سزا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2563
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي عَمَلُ قَوْمِ لُوطٍ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ قوم لوط کے عمل یعنی اغلام بازی کا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحدود 24 (1457)، (تحفة الأشراف: 2367)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/382) (حسن)» ‏‏‏‏ (شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد اللہ بن محمد بن عقیل منکر الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: ابن الطلاع مالکی أقضیۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لواطت میں رجم ثابت نہیں ہے اور نہ اس کے بارے میں آپ کا کوئی فیصلہ ہی ہے، بلکہ ابن عباس، ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو، اور بیہقی نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے ایک اغلام باز کو رجم کیا (۸/۲۳۲)، شافعی کہتے ہیں کہ ہمارا یہی قول ہے کہ وہ رجم کیا جائے، چاہے شادی شدہ ہو یا کنوارا، اور بیہقی نے روایت کی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک مفعول کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کیا، تو اس دن سب سے زیادہ سخت رائے علی رضی اللہ عنہ نے دی اور کہا: اس گناہ کو کسی امت نے نہیں کیا سوائے ایک امت کے، تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس کو آگ سے جلا دیں، تو صحابہ کرام نے اس کو آگ سے جلانے پر اتفاق کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ اس کو آگ سے جلا دو، لیکن یہ صحیح نہیں ہے، اس کی سند میں ابراہیم بن ابی رافع مدینی ضعیف راوی ہے، بعضوں نے اس کو جھوٹا کہا ہے، لیکن اس کا دوسرا طریق بھی ہے، جس سے روایت صرف مرسل ہے۔ ابوداود نے صحیح سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ اغلام بازی کرنے والے کو رجم کیا جائے گا، اور بیہقی نے صحیح سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ان سے اغلام بازی کرنے والے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: سب سے اونچے مکان سے اوندھا کر کے گرا دیا جائے، پھر پتھروں سے کچلا جائے۔ اغلام بازی متفقہ طور پر حرام اور کبیرہ گناہ ہے، لیکن اس کی سزا کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، اوپر بعض صحابہ کا مذہب مذکور ہوا کہ اس کی سزا قتل ہے، چاہے وہ غیر شادی شدہ ہو، اور فاعل اور مفعول دونوں اس سزا میں برابر ہیں، یہی امام شافعی کا مسلک ہے، اور اہل حدیث کا مذہب یہ ہے کہ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کریں گرچہ وہ شادی شدہ نہ ہوں بشرطیکہ مفعول پر جبر نہ ہوا ہو، بعض لوگوں نے اس پر صحابہ کا اجماع نقل کیا ہے، اور بغوی نے شعبی، زہری، مالک، احمد اور اسحاق سے نقل کیا کہ وہ رجم کیا جائے، شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اگر زانی کا دو بار رجم درست قرار دیا جائے تو اغلام باز کو بھی رجم کیا جائے گا، منذری کہتے ہیں کہ اغلام بازی کرنے والے کو ابوبکر، علی، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم، اور ہشام بن عبدالملک نے زندہ جلایا۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ زیادہ واضح بات یہ ہے کہ اغلام باز کی حد زانی کی حد ہے، اگر وہ شادی شدہ ہو تو رجم کیا جائے گا، ورنہ کوڑے مارے جائیں گے اور جلا وطن کیا جائے گا، اور جس کے ساتھ یہ فعل قبیح کیا گیا ہو یعنی مفعول کو کوڑے لگائے جائیں گے، اور جلا وطن کیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام جو سزا مناسب سمجھے وہ دے، لیکن نہ رجم ہو گا اور نہ کوڑے لگائے جائیں گے۔ نواب صدیق حسن فرماتے ہیں کہ فاعل اور مفعول کے قتل کرنے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم صحیح اور ثابت ہے، اور صحابہ کرام نے اس حکم کی تنفیذ فرمائی یہ بھی ثابت ہے، اور انہوں نے اس عظیم فحش کام کرنے والوں کو شادی اور غیر شادی کی تفریق کے بغیر قتل کیا، اور ان کے زمانے میں ایسا کئی بار ہوا، اور ان میں سے کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی، جب کہ مسلمان کے خون بہائے جانے جیسے مسئلے پر کسی مسلمان کے لیے خاموشی جائز نہیں ہے، اور یہ وہ عہد تھا کہ حق بات جو بھی ہو اور جہاں سے بھی ہو مقبول ہوتی تھی، تو اگر اغلام باز کا زانی کے سلسلے کے وارد دلائل کے عموم میں اندراج صحیح ہو تو ہر فاعل چاہے وہ شادی ہو یا غیر شادی شدہ کے قتل کے سلسلے میں وارد دلیل سے وہ عموم مخصوص ہو جائے گا، (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ ۳/۲۸۳- ۲۸۶)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1457)
ابن عقيل ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 471

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: مَنْ أَتَى ذَاتَ مَحْرَمٍ وَمَنْ أَتَى بَهِيمَةً
باب: محرم یا جانور سے جماع کرنے والے کی حد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2564
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ، وَمَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور جو کسی جانور سے جماع کرے تو اسے بھی قتل کر دو، اور اس جانور کو بھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6079، ومصباح الزجاجة: 907)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود 23 (1455)، مسند احمد (1/300) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس حدیث میں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہیں، اور داود بن الحصین کی عکرمہ سے روایت میں بھی کلام ہے، لیکن حدیث کا پہلا ٹکڑا «مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ» ضعیف ہے، اور دوسرا ٹکڑا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2348، 8-4- 15 - 2352)
قال الشيخ الألباني: ضعيف دون الشطر الثاني فهو صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1462)
فائدة: و انظر الحديث الآتي لقتل من تزوج امرأة أبيه (الأصل: 2608) و سنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 471

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: إِقَامَةِ الْحُدُودِ عَلَى الإِمَاءِ
باب: لونڈیوں پر حد جاری کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2565
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَ شِبْلٍ ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ، فَقَالَ:" اجْلِدْهَا، فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدْهَا"، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ" فَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ".
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص نے آپ سے اس لونڈی کے بارے میں سوال کیا جس نے شادی شدہ ہونے سے پہلے زنا کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کوڑے مارو، اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ میں کہا: اسے بیچ دو خواہ وہ بالوں کی ایک رسی کے عوض بکے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 22 (6837، 6838)، صحیح مسلم/الحدود 6 (1703)، سنن ابی داود/الحدود 33 (4469)، سنن الترمذی/الحدود 13 (1433)، (تحفة الأشراف: 3756، 4814، 14107)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 3 (14)، مسند احمد (4/116، 117) سنن الدارمی/الحدود 12 (2371) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2566
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ" وَالضَّفِيرُ: الْحَبْلُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارو، پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو، اگر اب بھی زنا کرے تو پھر کوڑے مارو، اس کے بعد اگر زنا کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک «ضفیر» ہی کے بدلے ہو، اور «ضفیر» رسی کو کہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2566]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17909، ومصباح الزجاجة: 908)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/65) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عمّار بن أبی فروہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2921، تراجع الألبانی: رقم: 488)
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: حَدِّ الْقَذْفِ
باب: حد قذف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2567
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ، وَتَلَا الْقُرْآنَ، فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری براءت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا تذکرہ کر کے قرآنی آیات کی تلاوت کی، اور جب منبر سے اتر آئے، تو دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم دیا چنانچہ ان کو حد لگائی گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الحدود 35 (4474، 4475)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن، سورة النور25 (3181)، (تحفة الأشراف: 17898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/35، 61) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: اگرچہ بہتان باندھنے میں سب سے بڑھ چڑھ کر منافقین نے حصہ لیا تھا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر حد جاری نہیں کی، اس لئے کہ حد پاک کرنے کے لئے ہے، اور منافقین پاک نہیں ہو سکتے وہ ہمیشہ کے لئے جہنمی رہیں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2568
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا مُخَنَّثُ، فَاجْلِدُوهُ عِشْرِينَ، وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا لُوطِيُّ فَاجْلِدُوهُ عِشْرِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی کسی کو کہے: اے مخنث! تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور اگر کوئی کسی کو کہے: اے لوطی! تو اسے بیس کوڑے لگاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6075، ومصباح الزجاجة: 909)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود 29 (1462)، ولم یذکر الشطر الثانی: وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا لُوطِيُّ! ......) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن أبی حبیبہ ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1462)
انظر الحديث المتقدم (2564)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 471

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: حَدِّ السَّكْرَانِ
باب: شرابی کی حد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2569
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ سَمِعْتُهُ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ :" مَا كُنْتُ أَدِي مَنْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْحَدَّ إِلَّا شَارِبَ الْخَمْرِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّ فِيهِ شَيْئًا، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ جَعَلْنَاهُ نَحْنُ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس پر میں حد جاری کروں (اگر وہ مر جائے) تو میں اس کی دیت ادا نہیں کروں گا، سوائے شرابی کے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد نہیں مقرر فرمائی، بلکہ یہ تو ہماری اپنی مقرر کی ہوئی حد ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 5 (6778)، صحیح مسلم/الحدود 8 (1707)، سنن ابی داود/الحدود 37 (4486)، (تحفة الأشراف: 10254)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/125، 130) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2570
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَضْرِبُ فِي الْخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شراب کے جرم میں جوتوں اور چھڑیوں سے مارنے کی سزا دیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1226)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحدود 2 (6773)، صحیح مسلم/الحدود 8 (1706)، سنن ابی داود/الحدود 37 (4487)، سنن الترمذی/الحدود 14 (1443)، مسند احمد (1/176، 272)، سنن الدارمی/الحدود 8 (2357) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2571
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّانَاجِ ، سَمِعْتُ حُضَيْنَ بْنَ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيَّ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَيْرُوزَ الدَّانَاجُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ:" لَمَّا جِيءَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ إِلَى عُثْمَانَ قَدْ شَهِدُوا عَلَيْهِ، قَالَ لِعَلِيٍّ: دُونَكَ ابْنَ عَمِّكَ، فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَجَلَدَهُ عَلِيٌّ ، وَقَالَ: جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ، وَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ".
حضین بن منذر رقاشی کہتے ہیں کہ جب ولید بن عقبہ کو عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور لوگوں نے ان کے خلاف گواہی دی، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اٹھئیے اور اپنے چچا زاد بھائی پر حد جاری کیجئے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کوڑے مارے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے، اور ان میں سے ہر ایک سنت ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 4 (6773)، صحیح مسلم/الحدود 8 (1707)، سنن ابی داود/الحدود 36 (4480، 4481، 4479)، (تحفة الأشراف: 10080، 1352)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82، 640، 144)، سنن الدارمی/الحدود 9 (2358) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ولید بن عقبہ عثمان رضی اللہ عنہ کے اخیافی بھائی تھے، اور ان کے دور خلافت میں کوفہ کے عامل تھے، انہوں نے لوگوں کو صبح نماز فجر چار رکعتیں پڑھائیں، اور بولے: اور زیادہ کروں؟ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ہمیشہ زیادتی ہی میں رہے جب سے تم حاکم ہوئے، یہ عقبہ بن ابی معیط کا بیٹا تھا جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اونٹنی کی بچہ دانی لا کر ڈال دی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے، ولید بن عقبہ نے شراب پی کر نشہ کی حالت میں نماز پڑھائی، آخر لوگوں کی شکایت پر معزول ہو کر مدینہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر کیا گیا، شرابی کی حد کوئی معین نہیں، امام کو اختیار ہے خواہ چالیس کوڑے مارے یا کم یا زیادہ، خواہ جوتوں سے مارے، صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چالیس کے قریب چھڑی سے مارا، راوی نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا، جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے لوگوں سے رائے لی، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: سب حدوں میں جو ہلکی حد قذف ہے، اس میں اسی (۸۰) کوڑے ہیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بھی شراب میں اسی کوڑے مارنے کا حکم دیا، اور بخاری میں عقبہ بن حارث سے روایت ہے کہ نعمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے جو گھر میں تھے فرمایا: اس کو مارو تو میں نے بھی اس کو جوتوں اور چھڑیوں سے مارا، اور اس باب میں کئی حدیثیں ہیں ان سب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے کی حد مقرر نہیں کی، جیسا مناسب ہوتا ویسا آپ عمل کرتے، اور ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی مٹی لی اور شرابی کے منہ پر ڈال دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ مِرَارًا
باب: باربار شراب پینے والے کی حد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2572
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: فَإِنْ عَادَ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نشے میں آ جائے تو اسے کوڑے لگاؤ، اور اگر پھر ایسا کرے تو پھر کوڑے مارو، اور پھر بھی ایسا کرے تو پھر کوڑے مارو، پھر چوتھی بار کے لیے فرمایا: اس کے بعد بھی ایسا کرے تو اس کی گردن اڑا دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 37 (4484)، سنن النسائی/الأشربة 43 (5765)، (تحفة الأشراف: 13948)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/280، 291، 504، 519) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ روایت منسوخ ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے جو «باب لايحل دم امريء مسلم إلافي ثلاث» میں گزر چکی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں، «لايحل دم امريء مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا أحد ثلاثة نفر: النفس بالنفس، والثيب الزاني، و التارك لدينه المفارق للجماعة» نیز جابر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت سے بھی اس حدیث کے منسوخ ہونے کا پتا چلتا ہے جس میں ہے کہ آپ کے پاس ایسا شخص لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوڑے لگا کر چھوڑ دیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں