🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
100. بَابُ: شِرَاءِ الصَّدَقَةِ
باب: صدقہ خریدنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2616
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهُ مِنْهُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ".
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے (ایک آدمی کو) ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا تو اسے اس شخص نے برباد کر دیا، تو میں نے سوچا کہ میں اسے خرید لوں، خیال تھا کہ وہ اسے سستا ہی بیچ دے گا، میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: تم اسے مت خریدو گرچہ وہ تمہیں ایک ہی درہم میں دیدے، کیونکہ صدقہ کر کے پھر اسے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسے چاٹتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2616]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کے راستے (جہاد) میں کسی (مجاہد) کو دیا۔ اس نے گھوڑے (کی خاطر تواضع نہ کی اور اس) کو ضائع (کمزور) کر دیا۔ میرا ارادہ ہوا کہ اس سے دوبارہ خرید لوں۔ میرا خیال تھا وہ سستا ہی بیچ دے گا۔ میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے مت خرید، چاہے وہ ایک درہم ہی کا تجھے دے کیونکہ جو شخص اپنے صدقے کو (کسی بھی صورت میں) واپس لیتا ہے، وہ اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے چاٹتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 59 (1490)، الھبة 30 (2623)، 37 (2636)، الوصایا 31 (2970)، الجھاد 119 (2970)، 137 (3003)، صحیح مسلم/الھبات 1 (1620)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 1 (2390)، 2 (1392)، ما/الزکاة 26 (49)، (تحفة الأشراف: 10385)، مسند احمد (1/ 25، 37، 40، 54) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2617
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَرَآهَا تُبَاعُ، فَأَرَادَ شِرَاءَهَا , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَعْرِضْ فِي صَدَقَتِكَ".
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے، تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنے صدقے میں آڑے نہ آؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2617]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک گھوڑا فی سبیل اللہ صدقہ کیا، پھر انہیں پتا چلا کہ وہ گھوڑا فروخت ہو رہا ہے تو انہوں نے خود ہی خریدنے کا ارادہ کر لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے کیے ہوئے صدقے (کی واپسی) کا خیال بھی نہ کر۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزکاة 32 (668)، (تحفة الأشراف: 10526) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2618
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حُجَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَوَجَدَهَا تُبَاعُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ فِي ذَلِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، اس کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ بیچا جا رہا ہے۔ تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس بارے میں اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اپنا صدقہ واپس نہ لو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2618]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کے راستے میں صدقہ کیا۔ کچھ عرصے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ گھوڑا فروخت کیا جا رہا ہے تو انہوں نے ارادہ فرمایا کہ میں ہی اسے خرید لوں، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور اس بارے میں آپ سے مشورہ طلب کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کیا ہوا صدقہ دوبارہ نہ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 59 (1489)، (تحفة الأشراف: 6882) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2619
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، وَيَزِيدُ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ أَنْ يَخْرُصَ الْعِنَبَ، فَتُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا".
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتاب بن اسید کو (درخت پر لگے) انگور کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا تاکہ اس کی زکاۃ کشمش سے ادا کی جا سکے، جیسے درخت پر لگی کھجوروں کی زکاۃ پکی کھجور سے ادا کی جاتی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2619]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مکہ مکرمہ کے گورنر) حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ انگوروں کی فصل کا اندازہ لگا کر ان کی زکاۃ کشمش کی صورت میں ادا کی جائے جس طرح کھجوروں کی زکاۃ خشک کھجوروں (چھوہاروں) کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة13 (1603)، سنن الترمذی/الزکاة17 (644)، سنن ابن ماجہ/18 (1819)، (تحفة الأشراف: 9748) (حسن الإسناد) (حدیث کی سند میں ارسال ہے، اور یہ سعید بن مسیب کی مرسل ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ سب سے صحیح مراسیل سعید بن مسیب ہی کی ہیں)»
وضاحت: ۱؎: بظاہر اس حدیث کا تعلق اس کے باب صدقہ خریدنے کا بیان سے نظر نہیں آتا، ممکن ہے کہ مؤلف کی مراد یہ ہو کہ جب درخت پر لگے پھل کا تخمینہ لگا کر مالک کے گھر میں موجود کھجور سے اس کی زکاۃ لے لی گئی تو گویا یہ بیع ہو گئی، اور تب عمر رضی الله عنہ کے واقعہ میں ممانعت تنزیہ پہ محمول کی جائے گی، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد مرسل
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1603،1604) ترمذي (644) ابن ماجه (1819) السند مرسل وله طريق آخر عند أبى داود (1603) وسنده ضعيف، لإنقطاعه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں