🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. بَابُ: الْمَسْأَلَةِ
باب: لوگوں سے مانگنا اور سوال کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2586
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی برابر مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے روز ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر کوئی لوتھڑا گوشت نہ ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2586]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی ہمیشہ مانگتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں (لوگوں کے سامنے) آئے گا کہ اس کے چہرے میں گوشت کا ٹکڑا بھی نہ ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة52 (1474)، صحیح مسلم/الزکاة35 (1040)، (تحفة الأشراف: 6702)، مسند احمد (2/15، 88) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2587
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بِسْطَامَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْبَاب: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِي الْمَسْأَلَةِ مَا مَشَى أَحَدٌ إِلَى أَحَدٍ يَسْأَلُهُ شَيْئًا".
عائذ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے مانگا تو آپ نے اسے دیا۔ جب (وہ لوٹ کر چلا اور) اس نے اپنا پیر دروازے کے چوکھٹ پر رکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم لوگ جان پاتے کہ بھیک مانگنے میں کیا (برائی) ہے تو کوئی کسی کے پاس کچھ بھی مانگنے نہ جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2587]
حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے کچھ مانگنے لگا۔ آپ نے اسے دے دیا۔ جب اس نے اپنا پاؤں دروازے کی دہلیز پر رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مانگنے کی قباحت (یا سزا و گناہ) جان لو تو تم میں سے کوئی کسی کے پاس کچھ بھی مانگنے نہ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5060)، مسند احمد (5/65) (حسن) (تراجع الالبانی 486، صحیح الترغیب والترہیب 796)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. بَابُ: سُؤَالِ الصَّالِحِينَ
باب: اچھے اور نیک لوگوں سے مدد مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2588
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ، أَنَّ الْفِرَاسِيّ , قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْأَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَا، وَإِنْ كُنْتَ سَائِلًا لَابُدَّ فَاسْأَلِ الصَّالِحِينَ".
فراسی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! میں مانگوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، اور اگر تمہیں مانگنا ضروری ہو تو نیکو کاروں سے مانگو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2588]
ابن فراسی سے روایت ہے کہ ان کے والد حضرت فراسی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں کسی سے کچھ مانگ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اور اگر تجھے مجبوراً مانگنا پڑے تو نیک لوگوں سے مانگ۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 28 (1646)، (تحفة الأشراف: 15524)، مسند احمد (4/334) (ضعیف) (اس کے راوی ’’مسلم‘‘ لین الحدیث ہیں، اور ’’ابن الفراسی‘‘ مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1646) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. بَابُ: الاِسْتِعْفَافِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ
باب: دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور مانگنے سے بچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2589
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ، حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ:" مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ يَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے انہیں دیا، ان لوگوں نے پھر سوال کیا، تو آپ نے انہیں پھر دیا یہاں تک کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا ختم ہو گیا، تو آپ نے فرمایا: میرے پاس جو ہو گا اسے میں ذخیرہ بنا کر نہیں رکھوں گا، اور جو پاک دامن بننا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے پاک دامن بنا دے گا، اور جو صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دے گا، اور صبر سے بہتر اور بڑی چیز کسی کو نہیں دی گئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2589]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (مال) مانگا، آپ نے انہیں عطا کیا، انہوں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا حتیٰ کہ جب آپ کے پاس جو کچھ تھا ختم ہو گیا، تو آپ نے فرمایا: میرے پاس جو بھی مال ہو گا، میں وہ تم سے چھپا کر نہ رکھوں گا، اور جو شخص سوال سے پرہیز کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے مانگنے سے محفوظ رکھے گا اور جو شخص صبر کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے صابر بنائے گا اور کسی شخص کو صبر سے زیادہ اچھا اور وسیع عطیہ نہیں دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2589]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 50 (1469)، الرقاق 20 (6470)، صحیح مسلم/الزکاة 42 (1053)، سنن ابی داود/الزکاة 28 (1644)، سنن الترمذی/البر 77 (2025)، (تحفة الأشراف: 4152)، موطا امام مالک/الصدقة 2 (7)، مسند احمد (3/93)، سنن الدارمی/الزکاة18 (1686) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2590
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْنٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ، فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ایک شخص کا اپنی رسی لے کر لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر پیٹھ پر لادنا اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کے پاس جائے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل (مال) سے نوازا ہو، وہ اس سے مانگے، تو وہ اسے دے یا نہ دے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2590]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے ایک شخص اپنی رسی پکڑے اور اپنی پشت پر لکڑیوں کا گٹھا لاد کر لائے (اور اسے بیچ کر گزارا کرے) اس بات سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی کے پاس جائے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے نواز رکھا ہے اور اس سے جا کر مانگے، پھر وہ اسے دے یا نہ دے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة (1470)، (تحفة الأشراف: 13830)، موطا امام مالک/الصدقة 2 (10)، مسند احمد (2/243) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. بَابُ: فَضْلِ مَنْ لاَ يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا
باب: لوگوں سے کچھ نہ مانگنے والے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2591
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَضْمَنْ لِي وَاحِدَةً وَلَهُ الْجَنَّةُ" , قَالَ يَحْيَى: هَاهُنَا كَلِمَةٌ مَعْنَاهَا" أَنْ لَا يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا".
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھے ایک بات کی ضمانت دے تو اس کے لیے جنت ہے (یحییٰ کہتے ہیں: یہاں ایک لفظ تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ) وہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2591]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھے ایک بات کی ضمانت دے دے، اس کے لیے جنت ہے اور وہ بات یہ ہے کہ وہ کسی انسان سے کچھ نہ مانگے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2591]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزکاة25 (1837)، (تحفة الأشراف: 2098)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة27 (1643)، مسند احمد (5/277، 279، 281) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2592
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَصْلُحُ الْمَسْأَلَةُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ أَصَابَتْ مَالَهُ جَائِحَةٌ، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُؤَدِّيَ إِلَيْهِمْ حَمَالَتَهُمْ ثُمَّ يُمْسِكُ عَنِ الْمَسْأَلَةِ، وَرَجُلٍ يَحْلِفُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ ذَوِي الْحِجَا بِاللَّهِ لَقَدْ حَلَّتِ الْمَسْأَلَةُ لِفُلَانٍ، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ مَعِيشَةٍ ثُمَّ يُمْسِكُ عَنِ الْمَسْأَلَةِ، فَمَا سِوَى ذَلِكَ سُحْتٌ".
قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تین شخصوں کے علاوہ کسی اور کے لیے سوال کرنا درست نہیں ہے: ایک وہ شخص جس کا مال کسی آفت کا شکار ہو گیا ہو تو وہ مانگ سکتا ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ حاصل کر لے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں، پھر رک جائے، (دوسرا) وہ شخص جو کسی کا قرض اپنے ذمہ لے لے تو وہ قرض لوٹانے تک مانگ سکتا ہے، پھر (جب قرض ادا ہو جائے) تو مانگنے سے رک جائے۔ اور (تیسرا) وہ شخص جس کی قوم کے تین سمجھدار افراد اللہ کے نام کی قسم کھا کر اس کی محتاجی و تنگ دستی کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کے لیے مانگنا جائز ہے تو وہ مانگ سکتا ہے، یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ نہ حاصل کر لے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں، ان (تین صورتوں) کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2592]
حضرت قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مانگنا صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہے: ایک وہ شخص جس کے مال پر کوئی ناگہانی آفت آگئی تو وہ مانگ سکتا ہے حتیٰ کہ گزارا ہو سکے، پھر وہ مانگنے سے باز آجائے۔ اور ایک وہ شخص جس نے کوئی تاوان اپنے ذمے لے لیا، وہ مانگ سکتا ہے حتیٰ کہ وہ تاوان ادا کرے، پھر وہ مانگنے سے باز آجائے۔ اور ایک وہ شخص جس کی قوم کے تین سمجھ دار (معزز) اشخاص اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھائیں کہ فلاں شخص (کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ اس) کے لیے مانگنا حلال ہوگیا ہے۔ تو وہ مانگ سکتا ہے حتیٰ کہ مناسب گزارا کر سکے، پھر وہ مانگنے سے باز آجائے۔ ان تین صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2580 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87. بَابُ: حَدِّ الْغِنَى
باب: مالداری کی حد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2593
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، جَاءَتْ خُمُوشًا أَوْ كُدُوحًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَاذَا يُغْنِيهِ أَوْ مَاذَا أَغْنَاهُ؟ قَالَ:" خَمْسُونَ دِرْهَمًا، أَوْ حِسَابُهَا مِنَ الذَّهَبِ" , قَالَ يَحْيَى، قَالَ: سُفْيَانُ، وَسَمِعْتُ زُبَيْدًا يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مانگے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے مانگنے سے بے نیاز کرتی ہو، تو وہ قیامت کے دن اپنے چہرے پر خراشیں لے کر آئے گا، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کتنا مال ہو تو اسے غنی (مالدار) سمجھا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: پچاس درہم، یا اس کی قیمت کا سونا ہو۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: سفیان ثوری نے کہا کہ میں نے زبید سے بھی سنا ہے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید کے واسطہ سے (یہ حدیث) بیان کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2593]
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مانگے، حالانکہ اس کے پاس اتنا مال ہے جو اسے کفایت کر سکتا ہے، تو قیامت کے دن اس کا چہرہ نوچا ہوا ہوگا۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کتنا مال ایک شخص کو کفایت کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس (کے برابر) مالیت کا سونا۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے کہا، میں نے زبید کو سنا وہ اسے محمد بن عبد الرحمن بن یزید سے بیان کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 23 (1626)، سنن الترمذی/الزکاة 22 (651)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 26 (1840)، (تحفة الأشراف: 9387) مسند احمد (1/388، 441)، سنن الدارمی/الزکاة 15 (1680) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1626) ترمذي (650،651) ابن ماجه (1840) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. بَابُ: الإِلْحَافِ فِي الْمَسْأَلَةِ
باب: لوگوں کے پیچھے پڑ کر اور چمٹ کر مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2594
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ، وَلَا يَسْأَلْنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا، وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ، فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ".
معاویہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چمٹ کر مت مانگو، اور تم میں سے کوئی مجھ سے کوئی چیز اس لیے نہ مانگے کہ میں اسے جو دوں اس میں اسے برکت دی جائے، اور حال یہ ہو کہ میں اسے نہ دینا چاہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2594]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصرار کے ساتھ (چمٹ کر) نہ مانگا کرو۔ تم میں سے جو شخص بھی مجھ سے کچھ مانگے گا، جبکہ میں اسے دینا پسند نہ کروں (اور وہ مجھے تنگ کر کے کچھ مال لے جائے) تو اس کے لیے اس میں برکت نہ ہو گی جو میں اسے دوں گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2594]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة33 (1038)، (تحفة الأشراف: 11446)، مسند احمد (4/98)، سنن الدارمی/الزکاة 17 (1684) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. بَابُ: مَنِ الْمُلْحِفُ
باب: چمٹ کر مانگنے والا کون ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2595
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا فَهُوَ الْمُلْحِفُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس چالیس درہم ہوں اور وہ مانگے تو وہ «ملحف» (چمٹ کر مانگنے والا) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2595]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی چالیس درہم ہونے کے باوجود مانگے تو وہ اصرار کے ساتھ (چمٹ کر) مانگنے والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8699) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں