سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. بَابُ: مَنِ الْمُلْحِفُ
باب: چمٹ کر مانگنے والا کون ہے؟
حدیث نمبر: 2596
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ، وَقَعَدْتُ فَاسْتَقْبَلَنِي وَقَالَ:" مَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنِ اسْتَكْفَى كَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ" , فَقُلْتُ: نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میری ماں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (کچھ مانگنے کے لیے) بھیجا، میں آیا، اور بیٹھ گیا، آپ نے میری طرف منہ کیا، اور فرمایا: ”جو بے نیازی چاہے گا اللہ عزوجل اسے بے نیاز کر دے گا اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا، اور جو تھوڑے پر قناعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے کافی ہو گا۔ اور جو شخص مانگے اور اس کے پاس ایک اوقیہ (یعنی چالیس درہم) کے برابر مال ہو تو گویا اس نے چمٹ کر مانگا“، تو میں نے (اپنے دل میں) کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے، چنانچہ میں آپ سے بغیر کچھ مانگے واپس چلا آیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2596]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میری والدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ میں آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ آپ نے اپنا چہرہ انور میری طرف پھیرا اور گویا ہوئے: ”جو شخص اپنے آپ کو مستغنی ظاہر کرے، اللہ تعالیٰ اسے غنی فرما دیتا ہے۔ اور جو شخص سوال سے پرہیز کرے، اللہ تعالیٰ اسے سوال سے بچا لیتا ہے۔ اور جو شخص صرف کفایت کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اسے کفایت فرماتا ہے۔ اور جو شخص ایک اوقیہ (چالیس درہم) کی مالیت والی چیز کے ہوتے ہوئے مانگے تو گویا وہ اصرار کے ساتھ مانگ رہا ہے۔“ (حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) میں نے (دل میں) کہا کہ میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیے سے زیادہ قیمتی ہے، لہٰذا میں آپ سے مانگے بغیر واپس آگیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة23 (1628)، (تحفة الأشراف: 4121)، مسند احمد (3/9) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
90. بَابُ: إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ دَرَاهِمُ وَكَانَ لَهُ عِدْلُهَا
باب: جس شخص کے پاس درہم نہ ہو اس کے برابر سامان ہو۔
حدیث نمبر: 2597
قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقْيعِ الغَرْقَدِ، فَقَالَتْ لِي أَهْلِي: اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ، فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ"، فَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ، وَهُوَ مُغْضَبٌ، وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ، مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عِدْلُهَا، فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا" , قَالَ الْأَسَدِيُّ: فَقُلْتُ: لَلَقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ وَزَبِيبٌ، فَقَسَّمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
قبیلہ بنی اسد کے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں بقیع الغرقد میں اترے، میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ہمارے لیے کھانے کی کوئی چیز مانگ کر لائیے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا جو آپ سے مانگ رہا تھا، اور آپ اس سے فرما رہے تھے: ”میرے پاس (اس وقت) تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے“۔ وہ شخص آپ کے پاس سے پیٹھ پھیر کر غصے کی حالت میں یہ کہتا ہوا چلا: قسم ہے میری زندگی کی! آپ تو اسی کو دیتے ہیں جسے چاہتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(خواہ مخواہ) مجھ پر اس بات پر غصہ ہو رہا ہے کہ میرے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، (ہوتا تو اسے دیتا ویسے تم لوگ جان لو کہ) تم میں سے جس کے پاس چالیس درہم ہو یا چالیس درہم کی قیمت کے برابر کا مال ہو، اور اس نے مانگا تو اس نے چمٹ کر مانگا“، اسدی (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: میں نے (دل میں) کہا: ہماری دو دھاری اونٹنی ایک اوقیہ سے تو بہتر ہی ہے، اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، چنانچہ میں آپ سے بغیر کچھ مانگے لوٹ آیا۔ پھر آپ کے پاس جَو اور کشمش آئے، تو آپ نے ہم کو بھی اس میں سے حصہ دیا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے ہم کو مالدار کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2597]
بنو اسد کے ایک شخص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میری بیوی بقیع الغرقد میں فروکش ہوئے (آئے) تو مجھے میری بیوی کہنے لگی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور کھانے کی کوئی چیز مانگ لاؤ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو میں نے آپ کے پاس ایک اور آدمی بیٹھا پایا جو آپ سے مانگ رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو میں تجھے دے سکوں۔“ وہ آدمی غصے کی حالت میں اٹھ کر چلا گیا اور کہنے لگا: میری زندگی کی قسم! جس کو آپ کی مرضی ہو، دے دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مجھ پر اس لیے ناراض ہے کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو میں اسے دے سکوں (یاد رکھو!) تم میں سے جس شخص نے ایک اوقیہ یا اس کے مساوی دولت کی چیز کا مالک ہونے کے باوجود مانگا تو گویا اس نے اصرار کے ساتھ مانگا (جو کہ مذموم ہے۔)“ اسدی شخص نے کہا کہ میں نے (اپنے دل میں) کہا: ہماری دودھ والی اونٹنی یقینا ایک اوقیے سے بڑھ کر ہے۔ اور اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ تو میں مانگے بغیر اٹھ آیا۔ کچھ دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ جو اور کشمش آگئی۔ آپ نے وہ ہم میں تقسیم فرما دیے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غنی کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة23 (1627)، (تحفة الأشراف: 15640)، مسند احمد (4/36 و5/430) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2598
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کسی مالدار، طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے درست نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2598]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زکاۃ وصدقات کسی مال دار شخص یا کسی طاقت ور تندرست شخص کے لیے جائز نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزکاة25 (1839)، (تحفة الأشراف: 12910)، مسند احمد (2/377، 389) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
91. بَابُ: مَسْأَلَةِ الْقَوِيِّ الْمُكْتَسِبِ
باب: کما سکنے والے طاقتور شخص کے مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2599
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ حَدَّثَاهُ، أَنَّهُمَا أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلَانِهِ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَلَّبَ فِيهِمَا الْبَصَرَ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: بَصَرَهُ فَرَآهُمَا جَلْدَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتُمَا، وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ، وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ".
عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ دو شخصوں نے ان سے بیان کیا کہ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، دونوں آپ سے صدقہ مانگ رہے تھے، تو آپ نے نگاہ الٹ پلٹ کر انہیں دیکھا (محمد کی روایت میں (نگاہ کے بجائے) اپنی نگاہ ہے تو دونوں کو ہٹا کٹا پایا، تو آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو لے لو، (لیکن یہ جان لو) کہ مالدار اور کما سکنے والے شخص کے لیے اس میں کوئی حصہ نہیں ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2599]
حضرت عبیداللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زکاۃ و صدقات مانگنے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غور سے دیکھا تو انہیں موٹا تازہ پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مجبور کرو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن مال دار، کما سکنے والے طاقت ور شخص کا زکاۃ میں کوئی حصہ نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة23 (1633)، (تحفة الأشراف: 5635)، مسند احمد (4/224، و5/362) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
92. بَابُ: مَسْأَلَةِ الرَّجُلِ ذَا سُلْطَانٍ
باب: آدمی کا حاکم سے مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2600
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَسَائِلَ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، فَمَنْ شَاءَ كَدَحَ وَجْهَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ شَيْئًا لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا".
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا خراش (زخم کی ہلکی لکیر) ہے جسے آدمی اپنے چہرے پر لگاتا ہے، تو جو چاہے اپنے چہرے پر (مانگ کر) خراش لگائے، اور جو چاہے نہ لگائے، مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس سے چارہ نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2600]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ مانگنا خراشیں ہیں۔ آدمی اپنے چہرے کو ان کے ذریعے سے نوچتا ہے۔ اب جو چاہے اپنا چہرہ نوچے اور جو چاہے رہنے دے، الا یہ کہ کوئی شخص صاحبِ اقتدار سے مانگے یا ایسی چیز مانگے جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 26 (1639)، سنن الترمذی/الزکاة 38 (681)، (تحفة الأشراف: 4614)، مسند احمد 5/19، 22 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
93. بَابُ: مَسْأَلَةِ الرَّجُلِ فِي أَمْرٍ لاَ بُدَّ لَهُ مِنْهُ
باب: آدمی کا ایسی چیز مانگنا جس کے بغیر چارہ نہیں۔
حدیث نمبر: 2601
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَسْأَلَةُ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا، أَوْ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ".
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا خراش ہے جس سے آدمی اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس کے بغیر چارہ نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2601]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا تو اپنے آپ کو زخمی کرنا ہے، اس طریقے سے آدمی اپنے چہرے کو نوچتا ہے، مگر یہ کہ حاکم سے مانگے یا ایسی چیز مانگے جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2602
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا حَكِيمُ , إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى".
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے دیا، پھر مانگا تو پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے، جو شخص اسے دل کی پاکیزگی کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت ملے گی، اور جو شخص اسے نفس کی حرص و طمع سے لے گا تو اس میں اسے برکت نہیں دی جائے گی۔ وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھائے لیکن اس کا پیٹ نہ بھرے۔ (جان لو) اوپر والا (یعنی دینے والا) ہاتھ نیچے والے (یعنی لینے والے) ہاتھ سے بہتر ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2602]
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا، آپ نے دے دیا۔ میں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دے دیا، میں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا مگر ساتھ ہی فرمایا: ”اے حکیم! بلا شبہ یہ مال سبز و شیریں ہے۔ جو شخص اسے نفس کی پاکیزگی کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت ہوگی اور جو اسے لالچ اور طمع کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہ ہوگی اور وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2602]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 50 (1472) مطولا، (تحفة الأشراف: 3431)، مسند احمد (3/434) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2603
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي , ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا حَكِيمُ , إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، مَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ النَّفْسِ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى".
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا، پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”حکیم! یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے۔ جو اسے طبیعت کی فیاضی کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت دی جائے گی، اور جو نفس کی حرص و لالچ کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہیں دی جائے گی۔ اور وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھاتا ہو لیکن آسودہ نہ ہوتا ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2603]
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (مال) مانگا، آپ نے دے دیا۔ میں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دے دیا۔ میں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا۔ اور فرمایا: ”اے حکیم! بلا شبہ یہ مال سبز و شیریں ہے۔ جو شخص اسے قناعتِ قلب کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت ہوگی اور جو شخص اسے دلی طمع و لالچ کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہ ہوگی اور وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے (بہر صورت) بہتر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2603]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2532 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2604
أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ , قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا حَكِيمُ , إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" , قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا بِشَيْءٍ.
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، میں نے پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اے حکیم! یہ مال میٹھی چیز ہے، جو شخص اسے نفس کی فیاضی کے ساتھ لے گا تو اس میں اسے برکت دی جائے گی، اور جو شخص اسے حرص و طمع کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہیں دی جائے گی۔ اور وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھائے تو لیکن اس کا پیٹ نہ بھرے۔ اور (جان لو) اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے سے“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے آپ کے بعد اب کسی سے کچھ نہ لوں گا یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو جاؤں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2604]
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، آپ نے دیا، میں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا، پھر فرمایا: ”اے حکیم! بلاشبہ یہ مال شیریں (چیز کی طرح اچھا لگتا) ہے لیکن جو شخص اسے بے نیازی سے حاصل کرے گا، اس کے لیے اس میں برکت ہوگی اور جو لالچ کے ساتھ حاصل کرے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہ ہوگی اور وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں آپ (کے اس فرمان) کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہ لوں گا حتیٰ کہ میں دنیا چھوڑ جاؤں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2532 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
94. بَابُ: مَنْ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالاً مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ
باب: جس شخص کو اللہ تعالیٰ بغیر مانگے مال دے دے۔
حدیث نمبر: 2605
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا فَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ , فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: خُذْ مَا أَعْطَيْتُكَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ، فَكُلْ وَتَصَدَّقْ".
عبداللہ بن ساعدی مالکی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ پر عامل بنایا، جب میں اس سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کر دیا، تو انہوں نے اس کام کی مجھے اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے ان سے عرض کیا کہ میں نے یہ کام صرف اللہ عزوجل کے لیے کیا ہے، اور میرا اجر اللہ ہی کے ذمہ ہے، تو انہوں نے کہا: ـ میں تمہیں جو دیتا ہوں وہ لے لو، کیونکہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک کام کیا تھا، اور میں نے بھی آپ سے ویسے ہی کہا تھا جو تم نے کہا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو (اسے) کھاؤ، اور (اس میں سے) صدقہ کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2605]
حضرت عبداللہ بن ساعدی مالکی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقہ و زکاۃ جمع کرنے پر مقرر فرمایا۔ جب میں اس ذمے داری سے فارغ ہوا اور میں نے (جمع شدہ) مال ان کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے مجھے میری خدمت کا معاوضہ دینے کا حکم جاری فرمایا۔ میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے کیا ہے، اس کا معاوضہ مجھے اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔ آپ نے فرمایا: جو میں تمھیں دے رہا ہوں، لے لو۔ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں (ایسی ہی) خدمت سرانجام دی تھی اور میں نے بھی آپ سے تیری طرح ہی کہا تھا تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تجھے کوئی چیز تیرے مانگے بغیر ملے تو (اسے لے لے اور) کھا اور (چاہے تو) صدقہ کر دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة51 (1473)، الأحکام17 (7163)، صحیح مسلم/الزکاة37 (1045)، سنن ابی داود/الزکاة28 (1647)، الخراج والإمارة10 (2944)، (تحفة الأشراف: 10487)، مسند احمد 1/17، 40، 52، 2/99، سنن الدارمی/الزکاة 19 (1688، 1689)، وسیأتی بعد ھذا بأرقام2606-2608 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم