🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. بَابُ: التَّحْرِيضِ عَلَى الصَّدَقَةِ
باب: صدقہ پر ابھارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2556
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَصَدَّقُوا فَإِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ، فَيَقُولُ: الَّذِي يُعْطَاهَا لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ قَبِلْتُهَا فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا".
حارثہ بن وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر دینے چلے گا تو جس شخص کو وہ دینے جائے گا وہ شخص کہے گا: اگر تم کل لے کر آئے ہوتے تو میں لے لیتا، لیکن آج تو آج نہیں لوں گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2556]
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: صدقہ کرو اس لیے کہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ آدمی صدقہ لے کر چلے گا (کہ کسی کو دے) مگر جسے وہ صدقہ دیا جائے گا، وہ کہے گا: اگر تو کل لے آتا تو میں قبول کر لیتا، آج نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة9 (1411)، 16 (1424)، الفتن25 (7120)، صحیح مسلم/الزکاة18 (1011)، (تحفة الأشراف: 3286)، مسند احمد (4/306) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ آج میں مالدار ہو گیا ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. بَابُ: الشَّفَاعَةِ فِي الصَّدَقَةِ
باب: صدقہ دینے کی سفارش کا ثواب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2557
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اشْفَعُوا تُشَفَّعُوا وَيَقْضِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی، اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جو چاہے فیصلہ فرمائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2557]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جو چاہے گا، فیصلہ فرمائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 21 (1432)، والأدب 36 (6027)، 37 (6028)، التوحید 31 (7476)، صحیح مسلم/البر 44 (2627)، سنن ابی داود/الأدب 126 (5132)، سنن الترمذی/العلم 14 (2672)، (تحفة الأشراف: 9036)، مسند احمد (4/400، 409، 413) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2558
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُنِي الشَّيْءَ فَأَمْنَعُهُ، حَتَّى تَشْفَعُوا فِيهِ فَتُؤْجَرُوا"، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا".
معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کوئی چیز مجھ سے مانگتا ہے تو میں نہیں دیتا، تاکہ تم اس سلسلہ میں سفارش کرو، اور سفارش کرنے کا اجر پاؤ، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفارش کرو تمہیں سفارش کا اجر (ثواب) دیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2558]
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی مجھ سے کوئی چیز مانگتا ہے اور میں انکار کر دیتا ہوں تاکہ تم سفارش کر کے ثواب حاصل کرو۔ تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفارش کیا کرو، تمہیں ثواب ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب126 (5132) (تحفة الأشراف: 11447) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. بَابُ: الاِخْتِيَالِ فِي الصَّدَقَةِ
باب: صدقہ میں فخر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2559
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِنْهَا مَا يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِنَ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِنْهَا مَا يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ وَالِاخْتِيَالُ الَّذِي يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، اخْتِيَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَعِنْدَ الصَّدَقَةِ، وَالِاخْتِيَالُ الَّذِي يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، الْخُيَلَاءُ فِي الْبَاطِلِ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے، (ایسے ہی) ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، تو جس غیرت کو اللہ پسند کرتا ہے وہ تہمت کی جگہ کی غیرت ہے، اور وہ غیرت ۱؎ جو اللہ عزوجل کو ناپسند ہے تو وہ غیر تہمت کی جگہ کی غیرت ہے ۲؎ رہا فخر جو اللہ کو پسند ہے تو وہ آدمی کا لڑائی کے وقت یا صدقہ دیتے وقت اپنی ذات پر فخر ہے ۳؎ اور وہ فخر جو اللہ کو ناپسند ہے وہ یہ ہے کہ آدمی لغو اور بیہودہ کاموں پر فخر کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2559]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ عزوجل پسند فرماتا ہے اور ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے۔ اسی طرح ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اور ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے۔ پسندیدہ غیرت وہ ہے جو تہمت کے مقام پر ہو اور ناپسندیدہ غیرت وہ ہے جو بلا وجہ ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ فخر وہ ہے جو آدمی لڑائی کے وقت کرے یا صدقہ کرتے وقت۔ اور ناپسندیدہ فخر وہ ہے جو باطل میں ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد114 (2659)، (تحفة الأشراف: 3174)، مسند احمد (5/445، 446)، سنن الدارمی/النکاح37 (2272) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایسی جگہوں میں جانے سے غیرت آئے جہاں بدنامی کا ڈر ہو جیسے غیر محرم کے ساتھ خلوت میں رہنے کی غیرت یا شراب خانہ میں جانے سے غیرت وغیرہ۔ ۲؎: یعنی ایسی جگہ میں غیرت کرے جہاں تہمت اور بدنامی کا خوف نہ ہو۔ ۳؎: اس لیے کہ اس سے دوسروں میں جہاد کرنے اور صدقہ و خیرات کرنے کا شوق پیدا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2560
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا وَتَصَدَّقُوا، وَالْبَسُوا فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلَا مَخِيلَةٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ، صدقہ کرو، اور پہنو، لیکن اسراف (فضول خرچی) اور غرور (گھمنڈ و تکبر) سے بچو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2560]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور صدقہ کرو اور لباس پہنو مگر فضول خرچی اور تکبر نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/اللباس23 (3605)، (تحفة الأشراف: 8773)، مسند احمد (2/181، 182) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3605) قتادة مدلس وعنعن،وعلقه البخاري فى أول كتاب اللباس (قبل ح5783) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. بَابُ: أَجْرِ الْخَازِنِ إِذَا تَصَدَّقَ بِإِذْنِ مَوْلاَهُ
باب: خازن کے اجر کا بیان جب وہ اپنے مالک کی اجازت سے صدقہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2561
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ:" الْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن، مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے، نیز فرمایا: امانت دار خازن جو خوش دلی سے وہ چیز دے جس کا اسے حکم دیا گیا ہو تو وہ بھی صدقہ دینے والوں میں سے ایک ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2561]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ نیز فرمایا: امانت دار خازن جو خوش دلی سے وہ چیز (اللہ کے راستے میں) دیتا ہے، جس کا اسے حکم دیا گیا ہو، وہ بھی صدقے کرنے والوں میں شمار ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة25 (1438)، الاجارة1 (2260)، الوکالة16 (2319) (فی جمیع المواضع مقتصراعلی قولہ: الخازن۔۔۔)، صحیح مسلم/الزکاة26 (1023)، سنن ابی داود/الزکاة43 (1684)، (تحفة الأشراف: 9038)، مسند احمد (4/404)، 409) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. بَابُ: الْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ
باب: چپکے سے صدقہ دینے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2562
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ".
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے، اور دھیرے سے قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ دینے والے کی طرح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2562]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے والا، علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور آہستہ قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1664 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. بَابُ: الْمَنَّانِ بِمَا أَعْطَى
باب: صدقہ دے کر احسان جتانے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2563
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ، وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ، وَالدَّيُّوثُ، وَثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ، وَالْمُدْمِنُ عَلَى الْخَمْرِ، وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین طرح کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ دیکھے گا، ایک ماں باپ کا نافرمان، دوسری وہ عورت جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے، تیسرا دیوث (بے غیرت) اور تین شخص ایسے ہیں جو جنت میں نہ جائیں گے۔ ایک ماں باپ کا نافرمان، دوسرا عادی شرابی، اور تیسرا دے کر احسان جتانے والا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2563]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کی طرف نہیں دیکھے گا: والدین کا نافرمان، مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورت اور بے غیرت خاوند، نیز تین شخص جنت میں داخل نہ ہوں گے: ماں باپ کا نافرمان، ہمیشہ شراب پینے والا اور دے کر احسان جتلانے والا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به المؤلف، (تحفة الأشراف: 6767) حم2/69، 128، 134 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2564
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُدْرِكِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا وَخَسِرُوا، خَابُوا وَخَسِرُوا , قَالَ: الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ، وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی۔ تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ نامراد ہوئے، گھاٹے میں رہے، آپ نے فرمایا: (وہ تین یہ ہیں) اپنا تہبند ٹخنے کے نیچے لٹکانے والا، جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنے سامان کو رواج دینے والا، اپنے دیے ہوئے کا احسان جتانے والا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2564]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے (بدنصیب) ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انھیں (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا، نہ ان سے (رضامندی والا) کلام فرمائے گا اور نہ انھیں پاک فرمائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کا یہ ٹکڑا ﴿وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة آل عمران: 77] قراءت فرمایا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: وہ تو ناکام ہوئے اور خسارے میں پڑے۔ (وہ کون لوگ ہیں؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وہ یہ ہیں:) اپنے تہبند کو ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا، جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا اور اپنے عطیے پر احسان جتلانے والا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 46 (106)، سنن ابی داود/اللباس 27 (4087)، سنن الترمذی/البیوع 5 (1211)، سنن ابن ماجہ/التجارات 30 (2208)، (تحفة الأشراف: 11909)، مسند احمد (4/148، 158، 162، 168، 178)، سنن الدارمی/البیوع63 (2647)، ویأتی عند المؤلف فی البیوع 5 (برقم: 4463، 4464) وفی الزینة 104 (برقم5335) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2565
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ وَهُوَ الْأَعْمَشُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ عزوجل نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک و صاف کرے گا، اور انہیں درد ناک عذاب ہو گا: اپنے دئیے ہوئے کا احسان جتانے والا، اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، اپنے سامان کو جھوٹی قسمیں کھا کر رواج دینے والا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2565]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے (بدنصیب) ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے کلام نہیں فرمائے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک فرمائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے: اپنے عطیے کا احسان جتلانے والا، اپنے تہبند کو ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں