🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. بَابُ: الصَّدَقَةِ مِنْ غُلُولٍ
باب: چوری کے مال میں سے صدقہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2526
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا الطَّيِّبَ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ بِيَمِينِهِ، وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً، فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی اپنے پاکیزہ مال سے صدقہ دیتا ہے (اور اللہ پاکیزہ مال ہی قبول کرتا ہے) تو رحمن عزوجل اسے اپنے داہنے ہاتھ میں لیتا ہے گو وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، پھر وہ رحمن کے ہاتھ میں بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بڑھتے بڑھتے پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے، جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے یا اونٹنی کے چھوٹے بچے کو پالتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2526]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی کوئی شخص حلال مال سے صدقہ کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ قبول بھی حلال مال ہی فرماتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں وصول کرتا ہے، اگرچہ وہ صدقہ ایک کھجور ہی ہو، پھر وہ کھجور رب رحمان کی ہتھیلی میں بڑھتی رہتی ہے حتیٰ کہ وہ پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے، جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا پوستا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2526]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 8 (1410)، التوحید 23 (7430) تعلیقا، صحیح مسلم/الزکاة 19 (1014)، سنن الترمذی/الزکاة 28 (661)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 28 (1842)، (تحفة الأشراف: 13379)، موطا امام مالک/الصدقة1 (1) (مرسلاً)، مسند احمد 2/268، 331، 381، 418، 419، 431، 471، 538، 541، سنن الدارمی/الزکاة35 (1717) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ: جَهْدِ الْمُقِلِّ
باب: کم مال والے کا اپنی محنت کی کمائی سے صدقہ کرنے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2527
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ"، قِيلَ: فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" طُولُ الْقُنُوتِ"، قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جُهْدُ الْمُقِلِّ"، قِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ"، قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ"، قِيلَ: فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ:" مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ".
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے کام افضل ہیں؟ آپ نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں شبہ نہ ہو، جہاد جس میں خیانت نہ ہو، اور حج مبرور، پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: لمبے قیام والی نماز، پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ صدقہ جو کم مال والا اپنی محنت کی کمائی سے دے، پوچھا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ایسی ہجرت جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے، پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے، آپ نے فرمایا: اس شخص کا جہاد جو مشرکین سے اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرے، پوچھا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس میں آدمی کا خون بہا دیا گیا ہو، اور اس کا گھوڑا ہلاک کر دیا گیا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2527]
حضرت عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ رہے، اور ایسا جہاد جس میں کوئی خیانت نہ کی جائے اور نیکی والا صاف ستھرا حج۔ پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لمبے قیام والی (نفل نماز)۔ پوچھا گیا: صدقہ کون سا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال والے کا مشقت سے کمایا ہوا مال۔ پوچھا گیا: ہجرت کون سی افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ عرض کیا گیا: جہاد کون سا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا جس نے اپنے جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا۔ عرض کیا گیا: کون سا قتل (مارا جانا) زیادہ شرف والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کی شہادت جس کا اپنا خون بھی بہا دیا گیا اور اس کا گھوڑا بھی مار دیا گیا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 314 (1325)، 347 (1449)، مسند احمد 3/412، سنن الدارمی/الصلاة 135 (1431)، ویأتی عند المؤلف برقم4989 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2528
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَالْقَعْقَاعُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ"، قَالُوا: وَكَيْفَ؟ قَالَ:" كَانَ لِرَجُلٍ دِرْهَمَانِ تَصَدَّقَ بِأَحَدِهِمَا، وَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُرْضِ مَالِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ گیا، لوگوں نے (حیرت سے) پوچھا: یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ایک شخص کے پاس دو درہم تھے، ان دو میں سے اس نے ایک صدقہ کر دیا، اور دوسرا شخص اپنی دولت (کے انبار کے) ایک گوشے کی طرف گیا اور اس (ڈھیر) میں سے ایک لاکھ درہم لیا، اور اسے صدقہ کر دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2528]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کبھی) ایک درہم (کا ثواب) لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کے پاس کل دو درہم ہوں، اس نے ان میں سے ایک صدقہ کر دیا، اور دوسرا شخص اپنے مال کے ایک کونے میں گیا، اس میں سے ایک لاکھ درہم اٹھایا اور صدقہ کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13057)، مسند احمد (2/379) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ ثواب میں دینے والے کی حالت کا لحاظ کیا جاتا ہے نہ کہ دیئے گئے مال کا، اللہ کے نزدیک قدر و قیمت کے اعتبار ایک لاکھ درہم اس غریب کے ایک درہم کے برابر نہیں ہے جس کے پاس صرف دو ہی درہم تھے، اور ان دو میں سے بھی ایک اس نے اللہ کی راہ میں دے دیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن عجلان عنعن انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2529
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ؟ قَالَ:" رَجُلٌ لَهُ دِرْهَمَانِ فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا فَتَصَدَّقَ بِهِ، وَرَجُلٌ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ فَأَخَذَ مِنْ عُرْضِ مَالِهِ مِائَةَ أَلْفٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک درہم ایک لاکھ درہم سے آگے نکل گیا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ایک شخص کے پاس دو درہم ہیں، اس نے ان دونوں میں سے ایک لیا اور اسے صدقہ کر دیا۔ دوسرا وہ آدمی ہے جس کے پاس بہت زیادہ مال ہے، اس نے اپنے مال (خزانے) کے ایک کنارے سے ایک لاکھ درہم نکالے، اور انہیں صدقہ میں دیدے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2529]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کبھی) ایک درہم (کا ثواب) لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ایک آدمی کے پاس کل دو درہم ہوں، اس نے ان میں سے ایک صدقہ کر دیا۔ اور دوسرا شخص اپنے مال کے ایک کونے میں گیا۔ اس میں سے ایک لاکھ درہم اٹھایا اور صدقہ کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12328) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن عجلان عنعن،وانظر الحديث السابق (2528) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2530
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ، فَمَا يَجِدُ أَحَدُنَا شَيْئًا يَتَصَدَّقُ بِهِ حَتَّى يَنْطَلِقَ إِلَى السُّوقِ، فَيَحْمِلَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَجِيءَ بِالْمُدِّ، فَيُعْطِيَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ الْيَوْمَ رَجُلًا لَهُ مِائَةُ أَلْفٍ، مَا كَانَ لَهُ يَوْمَئِذٍ دِرْهَمٌ".
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرماتے تھے، اور ہم میں بعض ایسے ہوتے تھے جن کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ وہ بازار جاتا اور اپنی پیٹھ پر بوجھ ڈھوتا، اور ایک مد لے کر آتا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتا۔ میں آج ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جس کے پاس ایک لاکھ درہم ہے، اور اس وقت اس کے پاس ایک درہم بھی نہ تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2530]
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا کرتے تھے۔ ہم میں سے کچھ لوگ کوئی چیز نہ پاتے تھے کہ صدقہ کریں تو وہ بازار جاتے اور اپنی پیٹھ پر بوجھ اٹھاتے (بار برداری کا کام کرتے) اور ایک «مُدّ» لے کر آتے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتے، لیکن آج میں ایسے لوگ دیکھتا ہوں جن کے پاس لاکھوں درہم ہیں مگر ان دنوں ان کے پاس ایک درہم بھی نہیں ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 10 (1415)، الإجارة 13 (2273)، تفسیر التوبة 11 (4669)، صحیح مسلم/الزکاة 21 (1018)، سنن ابن ماجہ/الزھد 12 (4155)، (تحفة الأشراف: 9991)، مسند احمد (5/273) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2531
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: لَمَّا" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ، وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَيْءٍ أَكْثَرَ مِنْهُ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا، وَمَا فَعَلَ هَذَا الْآخَرُ إِلَّا رِيَاءً"، فَنَزَلَتْ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلا جُهْدَهُمْ سورة التوبة آية 79.
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا تو ابوعقیل رضی اللہ عنہ نے آدھا صاع صدقہ دیا، اور ایک اور شخص اس سے زیادہ لے کر آیا، تو منافقین اس (پہلے شخص) کے صدقہ کے بارے میں کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ایسے صدقے سے بے نیاز ہے، اور اس دوسرے نے محض دکھاوے کے لیے دیا ہے، تو (اس موقع پر) آیت کریمہ: «الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم‏» جو لوگ دل کھول کر خیرات کرنے والے مومنین پر اور ان لوگوں پر جو صرف اپنی محنت و مزدوری سے حاصل کر کے صدقہ دیتے ہیں طعن زنی کرتے ہیں (التوبہ: ۷۹) نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2531]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو حضرت ابو عقیل رضی اللہ عنہ نے نصف صاع صدقہ کیا۔ ایک اور صحابی اس سے بہت زیادہ مال لے کر آئے۔ منافقین کہنے لگے: اللہ تعالیٰ اس شخص (حضرت ابو عقیل رضی اللہ عنہ) کے اس قلیل صدقے سے بے نیاز ہے اور اس دوسرے شخص نے صرف ریاکاری کے لیے صدقہ کیا ہے۔ تو یہ آیت اتری: ﴿الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 79] منافق لوگ خوشی سے کثیر صدقہ کرنے والے ایمان والوں کو بھی عیب لگاتے ہیں اور ان غریب مسلمانوں کو بھی جن کے پاس مشقت سے کمایا ہوا تھوڑا سا مال ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ: الْيَدِ الْعُلْيَا
باب: اوپر والے ہاتھ (یعنی دینے والے) کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2532
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، وَعُرْوَةُ، سَمِعَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى".
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، پھر مانگا پھر آپ نے دیا، پھر مانگا، تو فرمایا: یہ مال سرسبز و شیریں چیز ہے، جو شخص اسے فیاضی نفس کے ساتھ لے گا تو اس میں برکت دی جائے گی، اور جو شخص اسے حرص و طمع کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہ ملے گی، اور اس شخص کی طرح ہو گا جو کھاتا ہے مگر آسودہ نہیں ہوتا (یعنی مانگنے والے کا پیٹ نہیں بھرتا)۔ اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2532]
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (مال) مانگا، آپ نے مجھے دیا۔ میں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا۔ میں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا۔ ساتھ ہی فرمایا: بلا شبہ یہ مال سبز و شیریں ہے۔ جو شخص اسے دل کی پاکیزگی کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت ہوگی اور جو دل کے طمع و حرص کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہ ہوگی اور وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 50 (1472)، والوصایا 9 (2750)، الخمس19 (3143)، الرقاق 11 (6441)، صحیح مسلم/الزکاة 32 (1035)، سنن الترمذی/صفة القیامة 29 (2463)، (تحفة الأشراف: 3426)، مسند احمد (3/402، 434)، سنن الدارمی/الزکاة22 (1693)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2603، 2604 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. بَابُ: أَيَّتِهِمَا الْيَدُ الْعُلْيَا
باب: اوپر والا ہاتھ کون سا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2533
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ:" يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ مُخْتَصَرٌ".
طارق محاربی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے ہیں آپ فرما رہے ہیں: دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہے، اور پہلے انہیں دو جن کی کفالت و نگہداشت کی ذمہ داری تم پر ہو: پہلے اپنی ماں کو، پھر اپنے باپ کو، پھر اپنی بہن کو، پھر اپنے بھائی کو، پھر اپنے قریبی کو، پھر اس کے بعد کے قریبی کو۔ یہ حدیث ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2533]
حضرت طارق محاربی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم مدینہ منورہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: دینے والے کا ہاتھ اونچا ہوتا ہے اور سب سے پہلے تو اسے دے جس کا تو ذمہ دار ہے۔ اپنی ماں کو دے، اپنے باپ کو دے، اپنی بہن کو دے، اپنے بھائی کو دے، پھر اپنے قریبی رشتے دار کو دے، پھر اپنے پڑوسی کو دے۔ یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4988) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. بَابُ: الْيَدِ السُّفْلَى
باب: نیچے والے ہاتھ یعنی صدقہ قبول کرنے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2534
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ:" الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ، وَالْيَدُ السُّفْلَى السَّائِلَةُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اس وقت آپ صدقہ و خیرات اور مانگنے سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے): اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے، اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2534]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے اور مانگنے سے بچنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2534]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 18 (1429)، صحیح مسلم/الزکاة 32 (1033)، سنن ابی داود/الزکاة 28 (1648)، (تحفة الأشراف: 8337)، موطا امام مالک/الصدقة 2 (8)، مسند احمد (2/97)، سنن الدارمی/الزکاة22 (1692) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. بَابُ: الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ، غِنًى
باب: مالداری اور دل کی بے نیازی کے ساتھ صدقہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2535
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر صدقہ وہ ہے جو مالداری کی برقراری اور دل کی بے نیازی کے ساتھ ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے۔ اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی کفالت و نگرانی تمہارے ذمہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2535]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی صدقہ کرنے والا غنی رہے، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور سب سے پہلے اسے دے جس کا تو ذمے دار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14144)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 18 (1426)، النفقات 2 (5355)، صحیح مسلم/الزکاة 35 (1042) (بحذف وزیادة)، سنن الترمذی/الزکاة 38 (680) (مثل مسلم)، مسند احمد (2/230، 243، 278، 288، 319، 362، 394، 434، 475، 476، 480، 501، 524) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسا نہ ہو کہ سارا مال صدقہ کر دے اور خود محتاج ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں