🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. بَابُ: زَكَاةِ الْحُبُوبِ
باب: غلوں کی زکاۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2487
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسٍ ذَوْدٍ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلہ میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ کھجور میں یہاں تک کہ یہ پانچ وسق ہو جائیں، اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے، اور نہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2487]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی دانے (غلے اور کھجور) میں زکاۃ نہیں حتیٰ کہ وہ پانچ وسق ہو جائیں، اور پانچ اونٹوں سے کم میں اور پانچ اوقیوں سے کم چاندی میں بھی زکاۃ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2447 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: الْقَدْرِ الَّذِي تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ
باب: کتنے مال میں زکاۃ واجب ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2488
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2488]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیوں سے کم (چاندی میں زکاۃ نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 1 (1559)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 23 (1832)، (تحفة الأشراف: 4042)، مسند احمد (3/59، 83، 97) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2489
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیہ سے کم (چاندی) میں زکاۃ نہیں، اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے، اور نہ پانچ وسق سے کم غلہ میں زکاۃ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2489]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیوں (۲۰۰) درہم سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں، نہ پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ ہے اور نہ پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2447 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: مَا يُوجِبُ الْعُشْرَ وَمَا يُوجِبُ نِصْفَ الْعُشْرِ
باب: کس غلہ میں دسواں حصہ واجب ہے اور کس میں بیسواں حصہ؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2490
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ أَبُو جَعْفَرٍ الْأَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ، وَالْأَنْهَارُ، وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ بَعْلًا الْعُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي، وَالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے نہر اور چشمے سینچیں یا جس زمین میں تری رہتی ہو ۱؎ اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے۔ اور جو اونٹوں سے سینچا جائے یا ڈول سے اس میں بیسواں حصہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2490]
حضرت سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس فصل کو بارش، نہریں یا چشمے سیراب کریں یا وہ نمی والی ہو، اس میں دسواں حصہ زکاۃ واجب ہے، اور جس فصل کو اونٹوں اور ڈول (راہٹ وغیرہ) کے ذریعے سے سیراب کیا جائے، اس میں بیسواں حصہ زکاۃ واجب ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة55 (1483)، سنن ابی داود/الزکاة11 (1596)، سنن الترمذی/الزکاة44 (640)، سنن ابن ماجہ/الزکاة17 (1817)، (تحفة الأشراف: 6977) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسے سینچنے کی ضرورت نہ پڑتی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2491
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قراءة عليه وأنا أسمع، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ، وَالْأَنْهَارُ، وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو پیداوار آسمان کی بارش اور نہروں کے پانی سے ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے، اور جو پیداوار جانوروں کے ذریعہ سینچائی کر کے ہو اس میں بیسواں حصہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2491]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس فصل کو بارش، نہریں اور چشمے سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے اور جس فصل کو اونٹوں کے ذریعے سے سیراب کیا جائے، اس میں بیسواں حصہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2491]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة1 (981)، سنن ابی داود/الزکاة11 (1597)، مسند احمد 3/341، 353 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2492
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ،" فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِمَّا سَقَتِ السَّمَاءُ الْعُشْرَ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي نِصْفَ الْعُشْرِ".
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تو مجھے حکم دیا کہ جسے آسمان کے پانی نے سینچا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ لوں، اور جو پیداوار ڈولوں کے پانی سے (سینچائی کر کے) ہو اس میں بیسواں حصہ زکاۃ لوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2492]
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف (حاکم بنا کر) بھیجا تو مجھے حکم دیا کہ میں بارش سے سیراب ہونے والی فصل میں سے دسواں حصہ اور ڈول و راہٹ کے ذریعے سے سیراب ہونے والی فصل سے بیسواں حصہ زکاۃ وصول کروں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2492]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11313)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزکاة17 (1818)، مسند احمد 5/233 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: كَمْ يَتْرُكُ الْخَارِصُ
باب: درخت کے پھل کا تخمینہ لگانے والا کتنا چھوڑ دے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2493
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ خُبَيْبَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: أَتَانَا وَنَحْنُ فِي السُّوقِ، فَقَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَأْخُذُوا أَوْ تَدَعُوا الثُّلُثَ شَكَّ شُعْبَةُ فَدَعُوا الرُّبُعَ".
سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم درختوں پر پھلوں کا تخمینہ لگاؤ تو جو تخمینہ لگاؤ اسے لو، اور اس میں سے ایک تہائی چھوڑ دو ۱؎ اور اگر تم نہ لے سکو یا تہائی نہ چھوڑ سکو (شعبہ کو شک ہو گیا ہے) تو تم چوتھائی چھوڑ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2493]
حضرت عبدالرحمن بن مسعود بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس بازار میں تشریف لائے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم (عشر وصول کرتے وقت) فصل یا پھل کا اندازہ لگاؤ تو اندازے میں سے تیسرا حصہ چھوڑ دو، اگر تیسرا حصہ نہ چھوڑو تو چوتھا حصہ ضرور چھوڑ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة14 (1605)، سنن الترمذی/الزکاة17 (643)، (تحفة الأشراف: 4647)، مسند احمد (3/448، 4/2) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبدالرحمان بن مسعود‘‘ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی زکاۃ نہ لو تاکہ اسے دوستوں اور ہمسایوں پر خرچ کرنے میں کوئی تنگی محسوس نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ: قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ}
باب: اللہ عزوجل کے فرمان: ”اللہ کی راہ میں برا مال خرچ کرنے کا قصد نہ کرو“ کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2494
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ الْيَحْصَبِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ فِي الْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267 , قَالَ: هُوَ الْجُعْرُورُ وَلَوْنُ حُبَيْقٍ،" فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُؤْخَذَ فِي الصَّدَقَةِ الرُّذَالَةُ".
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ابوامامہ بن سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اللہ عز و جل کے فرمان: «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» اللہ کی راہ میں برا مال خرچ کرنے کا قصد نہ کرو (البقرہ: ۲۶۷) کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ «خبيث» سے مراد «جعرور» اور «لون حبیق» ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ میں خراب مال لینے سے منع فرما دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2494]
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ [سورة البقرة: 267] تم (اللہ تعالیٰ کے راستے میں) خرچ کرتے وقت ردی چیز نہ دیا کرو۔ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا مصداق «الْجُعْرُورُ» اور «لَوْنُ حُبَيْقٍ» کھجوریں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ میں ردی اور ناقص مال وصول کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 139، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة16 (1607) نحوہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «جعرور» اور «لون حبیق» دونوں کھجور کی گھٹیا قسموں کے نام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2495
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْخَضْرَمِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ عَصًا، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قِنْوَ حَشَفٍ، فَجَعَلَ يَطْعَنُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ , فَقَالَ:" لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْ هَذَا، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ حَشَفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی (مسجد میں پہنچے) وہاں ایک شخص نے سوکھی خراب کھجور کا ایک گچھا لٹکا رکھا تھا ۱؎ آپ اس گچھے میں (لاٹھی سے) کوچتے جاتے تھے، اور فرماتے جاتے تھے: یہ صدقہ دینے والا اگر چاہتا تو اس سے اچھی کھجوریں دے سکتا تھا، یہ صدقہ دینے والا قیامت میں اسی طرح کی سوکھی خراب کھجوریں کھائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2495]
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں عصا تھا۔ کوئی شخص (مسجد میں بطور صدقہ) ردی قسم کی کھجور کا ایک خوشہ لٹکا گیا تھا۔ آپ اس خوشے پر اپنی لاٹھی مارنے لگے اور فرمایا: اگر اس صدقے والا چاہتا تو اس سے اچھی کھجور کا صدقہ کر سکتا تھا۔ بلا شبہ اس قسم کا صدقہ کرنے والا قیامت کے دن ردی کھجوریں ہی کھائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة16 (1608)، سنن ابن ماجہ/الزکاة19 (1821)، (تحفة الأشراف: 10914)، مسند احمد (6/23، 28) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ دستور تھا کہ لوگ مسجد نبوی میں محتاجوں اور ضرورت مندوں کے کھانے کے لیے کھجوریں لٹکا دیا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ: الْمَعْدِنِ
باب: کان کی زکاۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2496
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ , فَقَالَ:" مَا كَانَ فِي طَرِيقٍ مَأْتِيٍّ أَوْ فِي قَرْيَةٍ عَامِرَةٍ، فَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَلَكَ، وَمَا لَمْ يَكُنْ فِي طَرِيقٍ مَأْتِيٍّ وَلَا فِي قَرْيَةٍ عَامِرَةٍ فَفِيهِ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستہ میں پڑی ہوئی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: جو چیز چالو راستے میں ملے یا آباد بستی میں، تو سال بھر اسے پہنچواتے رہو، اگر اس کا مالک آ جائے (اور پہچان بتائے) تو اسے دے دو، ورنہ وہ تمہاری ہے، اور جو کسی چالو راستے یا کسی آباد بستی کے علاوہ میں ملے تو اس میں اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے (یعنی: زکاۃ نکال کر خود استعمال کر لے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2496]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: جو چیز آمد و رفت والے راستے سے یا آباد بستی سے ملے تو اس کا ایک سال تک اعلان کرو۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ تمہارے لیے جائز ہے۔ اور جو چیز آمد و رفت والے راستے سے یا آباد بستی سے نہ ملے تو ایسی چیز اور مدفون خزانہ (ملنے کی صورت) میں پانچواں حصہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2496]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللقطة12 (1710)، (تحفة الأشراف: 8755) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں