سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ: الْمَعْدِنِ
باب: کان کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2497
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ , وأَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنوئیں میں گر کر کوئی مر جائے تو وہ بھی رائیگاں ہے، کان میں کوئی دب کر مر جائے تو وہ بھی رائیگاں ہے ۱؎ اور جاہلیت کے دفینے میں پانچواں حصہ ہے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2497]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا کیا ہوا نقصان رائیگاں ہے، کنویں کا نقصان رائیگاں ہے اور معدنی کان کا نقصان بھی رائیگاں ہے اور مدفون خزانے میں پانچواں حصہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2497]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 11 (1710)، سنن ابی داود/الخراج40 (3085)، سنن الترمذی/الأحکام37 (1377)، سنن ابن ماجہ/الدیات27 (2673)، (تحفة الأشراف: 13128، 13310)، موطا امام مالک/الزکاة4 (9)، العقول 18 (12)، مسند احمد 2/228، 229، 254، 274، 285، 319، 382، 386، 406، 411، 414، 454، 456، 467، 475، 482، 492، 495، 499، 501، 507، سنن الدارمی/الزکاة30 (1710) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة66 (1499)، المساقاة3 (2355)، الدیات28 (6912)، 29 (6913) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان چیزوں کے مالکوں سے دیت نہیں لی جائے گی۔ ۲؎: اور باقی چار حصے پانے والے کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2498
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ , وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمِثْلِهِ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2498]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت نقل کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2498]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 11 (1710)، (تحفة الأشراف: 13351) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2499
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" جُرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنویں میں گر کر مر جانا رائیگاں ہے، اور کان میں دب کر مر جانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینہ میں پانچواں حصہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2499]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا لگایا ہوا زخم رائیگاں ہے اور کنویں کی وجہ سے ہونے والا نقصان رائیگاں ہے، اور معدنی کان کی وجہ سے ہونے والا نقصان بھی رائیگاں ہے اور مدفون خزانہ (ملنے کی صورت) میں پانچواں حصہ (بیت المال کا) ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2499]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 66 (1499)، صحیح مسلم/الحدود 11 (1710)، (تحفة الأشراف: 13236)، موطا امام مالک/الزکاة 4 (9)، العقول 18 (12) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2500
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، وَهِشَامٌ , عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنویں میں گر کر مر جانا لغو و رائیگاں ہے۔ جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے۔ کان میں دب کر مر جانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2500]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنویں کی وجہ سے ہونے والا نقصان رائیگاں ہے، جانور کا لگایا ہوا زخم رائیگاں ہے اور کان (معدنی) کی وجہ سے ہونے والا نقصان بھی رائیگاں ہے، اور مدفون شدہ خزانہ (مل جائے تو اس) میں سے پانچواں حصہ (بیت المال کا) ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14506، 14550)، مسند احمد (2/499) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
29. بَابُ: زَكَاةِ النَّحْلِ
باب: شہد کی مکھی کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2501
أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ هِلَالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ وَسَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ لَهُ وَادِيًا , يُقَالُ لَهُ سَلَبَةُ، فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْوَادِيَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَسْأَلُهُ فَكَتَبَ عُمَرُ:" إِنْ أَدَّى إِلَيِّكَ مَا كَانَ يُؤَدِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُشْرِ نَحْلِهِ، فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ ذَلِكَ، وَإِلَّا فَإِنَّمَا هُوَ ذُبَاب غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ شَاءَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے شہد کا دسواں حصہ لے کر آئے، اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اس وادی کو جسے سلبہ کہا جاتا ہے ان کے لیے خاص کر دیں (اس پر کسی اور کا دعویٰ نہ رہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مذکورہ وادی ان کے لیے مخصوص فرما دی۔ پھر جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وھب نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے (کہ یہ وادی ہلال رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے دی جائے یا نہیں) تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواب لکھا: اگر وہ اپنے شہد کا دسواں حصہ جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے ہمیں دیتے ہیں تو ”سلبہ“ کو انہیں کے پاس رہنے دیں، ورنہ وہ برسات کی مکھیاں ہیں (پھول و پودوں کا رس چوس کر شہد بناتی ہیں) جو چاہے اسے کھائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2501]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے شہد کی زکاۃ لے کر آئے اور آپ سے عرض کیا کہ آپ (شہد والی) وادی سلبہ ان کے لیے مخصوص فرما دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ وادی ان کے لیے مخصوص فرما دی، پھر جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو (وہاں کے حاکم) سفیان بن وہب نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کرنے کے لیے خط لکھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا کہ اگر وہ تجھے اپنے شہد کا عشر ادا کرتے رہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے تو وادی سلبہ ان کے لیے مخصوص رکھو ورنہ یہ بارشی مکھی (کا شہد) ہے، جو چاہے اسے کھائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2501]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة12 (1600)، (تحفة الأشراف: 8767) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
30. بَابُ: فَرْضِ زَكَاةِ رَمَضَانَ
باب: رمضان کی زکاۃ (یعنی صدقہ فطر) کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2502
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ رَمَضَانَ عَلَى الْحُرِّ، وَالْعَبْدِ، وَالذَّكَرِ، وَالْأُنْثَى صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد، غلام، مرد اور عورت ہر ایک پر رمضان کی زکاۃ (صدقہ فطر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کی ہے، پھر اس کے برابر لوگوں نے نصف صاع گیہوں کو قرار دے لیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2502]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کا صدقہ (صدقۃ الفطر) ہر آزاد، غلام، مذکر اور مؤنث پر ”کھجور اور جو کا ایک صاع“ مقرر فرمایا تھا۔ بعد میں لوگوں نے اس کی جگہ گندم کا نصف صاع ٹھہرا لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2502]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 70 (1504)، 71 (1507)، 74 (1509)، 77 (1511)، 78 (1512)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (984)، سنن ابی داود/الزکاة19 (1615)، سنن الترمذی/الزکاة 35 (675)، (تحفة الأشراف: 510)، موطا امام مالک/الزکاة28 (52)، مسند احمد 2/5، 55، 63، 66، 102، 114، 137، سنن الدارمی/الزکاة27 (1668)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 21 (1826) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ اس وقت (عہد معاویہ رضی الله عنہ میں) نصف صاع گیہوں قیمت میں جو کے ایک صاع کے برابر ہو گیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
31. بَابُ: فَرْضِ زَكَاةِ رَمَضَانَ عَلَى الْمَمْلُوكِ
باب: غلام اور لونڈی پر صدقہ فطر کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2503
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الذَّكَرِ، وَالْأُنْثَى وَالْحُرِّ، وَالْمَمْلُوكِ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ , قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ إِلَى نِصْفِ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ہر مرد و عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کیا ہے، پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر ٹھہرا لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2503]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”صدقۃ الفطر ہر مذکر، مؤنث، آزاد اور غلام پر کھجور یا جو کا ایک صاع“ مقرر فرمایا ہے۔ بعد میں لوگوں نے گندم کے نصف صاع کو اختیار کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
32. بَابُ: فَرْضِ زَكَاةِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّغِيرِ
باب: چھوٹے بچے پر صدقہ فطر کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2504
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ صَغِيرٍ، وَكَبِيرٍ حُرٍّ، وَعَبْدٍ ذَكَرٍ، وَأُنْثَى، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام اور مرد اور عورت پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2504]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رمضان کی زکاۃ (صدقۃ الفطر) ہر چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام اور مذکر و مؤنث پر کھجور اور جو کا ایک صاع مقرر فرمایا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2504]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8321)، والحدیث أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 70 (1504)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (984)، سنن ابی داود/الزکاة 19 (1611)، سنن الترمذی/ الزکاة 35 (676)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 21 (1826)، (تحفة الأشراف: 8321، موطا امام مالک/الزکاة 28 (52)، مسند احمد (2/63)، سنن الدارمی/الزکاة 27 (1702) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
33. بَابُ: فَرْضِ زَكَاةِ رَمَضَانَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ دُونَ الْمُعَاهِدِينَ
باب: صدقہ فطر کافر ذمی پر فرض نہ ہونے اور مسلمانوں پر فرض ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2505
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى النَّاسِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ، أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ، أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا صدقہ فطر مسلمان لوگوں پر ہر آزاد، غلام مرد اور عورت پر ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو فرض ٹھہرایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2505]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کا صدقہ فطر ہر آزاد، غلام، مذکر و مؤنث مسلمان پر کھجور اور جو سے ”ایک صاع“ مقرر فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2506
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى الْحُرِّ، وَالْعَبْدِ، وَالذَّكَرِ، وَالْأُنْثَى، وَالصَّغِيرِ، وَالْكَبِيرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ فطر مسلمانوں میں سے ہر آزاد، غلام مرد، عورت چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا ہے، اور حکم دیا ہے کہ اسے لوگوں کے (عید کی) نماز کے لیے (گھر سے) نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2506]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”صدقہ فطر ہر چھوٹے، بڑے، مذکر، مؤنث، آزاد اور غلام مسلمان پر کھجور اور جو سے ایک صاع مقرر فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ اس کی ادائیگی نماز عید کے لیے جانے سے پہلے کی جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 70 (1503)، سنن ابی داود/الزکاة 19 (1612)، (تحفة الأشراف: 8244) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري