🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. بَابُ: الْحِنْطَةِ
باب: صدقہ فطر میں گیہوں دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2517
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ خَطَبَ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ: أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ، وَالْكَبِيرِ، وَالْحُرِّ، وَالْعَبْدِ، وَالذَّكَرِ، وَالْأُنْثَى نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ شَعِيرٍ" , قَالَ الْحَسَنُ: فَقَالَ عَلِيٌّ: أَمَّا إِذَا أَوْسَعَ اللَّهُ فَأَوْسِعُوا أَعْطُوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ غَيْرِهِ.
حسن (حسن بصریٰ) سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں خطبہ دیا، تو انہوں نے کہا: تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ دو (یعنی صدقہ فطر نکالو) تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے۔ تو انہوں نے کہا: یہاں اہل مدینہ میں سے کون کون ہیں؟ تم لوگ اٹھو، اور اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ، انہیں بتاؤ، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام، مذکر اور مونث پر آدھا صاع گی ہوں، یا ایک صاع کھجور، یا جو فرض کیا ہے۔ حسن کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رہی بات جب اللہ نے تمہیں وسعت و فراخی دے رکھی ہو تو تم بھی وسعت و فراخی کا مظاہرہ کرو۔ گیہوں وغیرہ (نصف صاع کے بجائے) ایک صاع دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2517]
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں کہا: اپنے روزوں کی زکاۃ ادا کرو۔ لوگ (تعجب سے) ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تو آپ نے فرمایا: یہاں جو لوگ مدینہ منورہ سے آئے ہوئے ہیں، وہ اپنے (بصری) بھائیوں کی طرف اٹھ کر جائیں اور انہیں تعلیم دیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۃ الفطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام اور مذکر ومؤنث پر گندم کا نصف صاع اور کھجور یا جو کا ایک صاع مقرر فرمایا ہے۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال کی وسعت عطا فرمائی ہے تو تم بھی وسعت اختیار کرو، یعنی گندم ہو یا کوئی اور غلہ، سب میں سے پورا صاع ہی دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1581 (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کا ابن عباس سے سماع نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد صحيح المرفوع منه
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (1581) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. بَابُ: السُّلْتِ
باب: صدقہ فطر میں بغیر چھلکے کا جو دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2518
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ النَّاسُ يُخْرِجُونَ عَنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ تَمْرٍ، أَوْ سُلْتٍ، أَوْ زَبِيبٍ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ صدقہ فطر ایک صاع جَو یا کھجور یا سُلت (بے چھلکے کا جو) یا کشمش نکالتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2518]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مقدس میں لوگ صدقۃ الفطر جو، کھجور، سلت یا کشمش سے ایک صاع دیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة19 (1614)، (تحفة الأشراف: 7760) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. بَابُ: الشَّعِيرِ
باب: صدقہ فطر میں جَو دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2519
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيَاضٌ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ:" كُنَّا نُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ تَمْرٍ، أَوْ زَبِيبٍ، أَوْ أَقِطٍ"، فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ فِي عَهْدِ مُعَاوِيَةَ , قَالَ: مَا أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ، إِلَّا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ فطر ایک صاع جَو یا کھجور یا انگور یا پنیر نکالتے تھے۔ اور ہم برابر ایسا ہی کرتے چلے آ رہے تھے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا۔ تو انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ شامی گیہوں کے دو مد (یعنی نصف صاع) جو کے ایک صاع کے برابر ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2519]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم (صدقۃ الفطر) جو، کھجور، کشمش یا پنیر سے ایک «صَاع» نکالا کرتے تھے۔ اور (بعد میں بھی) ہم اسی طرح نکالتے رہے حتیٰ کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور آ گیا تو انہوں نے فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ شام کی گندم کے دو «مُدّ» (نصف صاع) جو کے ایک «صَاع» کے برابر ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2513 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. بَابُ: الأَقِطِ
باب: صدقہ فطر میں پنیر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2520
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ:" كُنَّا نُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ، أَقِطٍ لَا نُخْرِجُ غَيْرَهُ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (صدقہ فطر) کھجور یا جو یا پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے۔ اس کے علاوہ کچھ نہ نکالتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2520]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں (صدقۃ الفطر) کھجور یا جو یا پنیر سے ایک صاع ہی دیا کرتے تھے۔ ہم ان کے علاوہ اور کوئی چیز نہ دیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2513 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. بَابُ: كَمِ الصَّاعُ
باب: صاع کتنے مد کا ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2521
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ وَهُوَ ابْنُ مَالِكٍ، عَنِ الْجُعَيْدِ , سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، قَالَ:" كَانَ الصَّاعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدًّا، وَثُلُثًا بِمُدِّكُمُ الْيَوْمَ، وَقَدْ زِيدَ فِيهِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وحَدَّثَنِيهِ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ.
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک صاع تمہارے آج کے مد سے ایک مد اور ایک تہائی مد اور کچھ زائد کا تھا۔ اور ابوعبدالرحمٰن فرماتے ہیں: اس حدیث کو مجھ سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2521]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں صاع تمہارے آج کل کے حساب سے ایک مد اور ایک تہائی مد کے برابر تھا۔ اب اس (مد کی مقدار) میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث زیاد بن ایوب نے بھی بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الکفارات 5 (6712)، والاعتصام 16 (7330)، (تحفة الأشراف: 3795) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: امام مالک، امام شافعی اور جمہور علماء کے نزدیک ایک صاع پانچ رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے، اور امام ابوحنیفہ اور صاحبین کے نزدیک ایک صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے، لیکن جب امام ابویوسف کا امام مالک سے مناظرہ ہوا اور امام مالک نے انہیں اہل مدینہ کے وہ صاع دکھلائے جو موروثی طور سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے چلے آ رہے تھے تو انہوں نے جمہور کے قول کی طرف رجوع کر لیا۔ اور موجودہ وزن سے ایک صاع لگ بھگ ڈھائی کیلو کا ہوتا ہے مدینہ کے بازاروں میں جو صاع اس وقت بنتا ہے، یا مشائخ سے بالسند جو صاع متوارث ہے اس میں گی ہوں ڈھائی کیلو ہی آتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، 2/ إسناده ضعيف، الثوري عنعن فى حديث: ’’المكيال مكيال أهل المدينة‘‘ ابو داود (3340) وانظر الحديث الآتي (4598) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2521M
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمِكْيَالُ مِكْيَالُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَالْوَزْنُ وَزْنُ أَهْلِ مَكَّةَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیمانہ اہل مدینہ کا پیمانہ ہے اور وزن اہل مکہ کا وزن ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2521M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 8 (3340)، (تحفة الأشراف: 7102)، ویأتی عند المؤلف برقم 4598 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد سونا اور چاندی وزن کرنے کے بانٹ ہیں کیونکہ ان کا وزن دراہم سے کیا جاتا تھا اور اس وقت مختلف شہروں کے دراہم مختلف وزن کے ہوتے تھے اس لیے کہا گیا کہ زکاۃ کے سلسلہ میں اہل مکہ کے دراہم کا اعتبار ہو گا، اور ایک قول یہ ہے کہ چوں کہ اہل مدینہ کاشتکار تھے اس لیے وہ پیمائش اور ناپ کے احوال کے زیادہ جانکار تھے اور مکہ والے عام طور سے تاجر تھے اس لیے وہ تول کے احوال کے زیادہ واقف کار تھے اس لیے ایسا کہا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:

45. بَابُ: الْوَقْتِ الَّذِي يُسْتَحَبُّ أَنْ تُؤَدَّى صَدَقَةُ الْفِطْرِ فِيهِ
باب: صدقہ فطر کس وقت ادا کرنا مستحب ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2522
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ، أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ" , قَالَ ابْنُ بَزِيعٍ: بِزَكَاةِ الْفِطْرِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز کے لیے لوگوں کے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے (ابن بزیع کی روایت میں «بصدقة الفطر» کے بجائے «بزكاة الفطر» ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2522]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقۃ الفطر عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ (امام نسائی رحمہ اللہ کے استاد) محمد بن عبداللہ بن بزیع نے (اپنی روایت میں «بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ» بصدقۃ الفطر کے بجائے) «بِزَكَاةِ الْفِطْرِ» بزکاۃ الفطر کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 70 (1509)، صحیح مسلم/الزکاة 5 (986)، سنن ابی داود/الزکاة 18 (1610)، سنن الترمذی/الزکاة 36 (677)، (تحفة الأشراف: 8452)، مسند احمد (2/15، 154) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. بَابُ: إِخْرَاجِ الزَّكَاةِ مِنْ بَلَدٍ إِلَى بَلَدٍ
باب: ایک شہر کی زکاۃ دوسرے شہر میں بھیجنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2523
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ:" إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمَا أَهْلَ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُوضَعُ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِجَابٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں، تم انہیں اس بات کی گواہی کی دعوت دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ (وقت کی) نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ تمہاری یہ بات (بھی) مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان کے مالوں میں زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی، اور ان کے محتاجوں میں تقسیم کر دی جائے گی، اگر وہ تمہاری یہ بات (بھی) مان لیں تو ان کے اچھے و عمدہ مال لینے سے بچو، اور مظلوم کی بد دعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2523]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف (حاکم بنا کر) بھیجا اور فرمایا: تو وہاں اہل کتاب (یہودیوں) کی کثیر جماعت کی طرف جا رہا ہے، لہٰذا انہیں دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ اگر وہ تیری یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر پانچ نمازیں ہر دن رات میں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تیری یہ بات بھی مان لیں تو بتانا کہ اللہ عزوجل نے ان پر ان کے مالوں میں زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مال دار لوگوں سے لی جائے گی اور ان کے فقیر لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔ اور اگر وہ تیری یہ بات بھی مان لیں تو ان کے عمدہ مال نہ لینا۔ اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے میں اس کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2523]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2437 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. بَابُ: إِذَا أَعْطَاهَا غَنِيًّا وَهُوَ لاَ يَشْعُرُ
باب: لاعلمی میں کسی مالدار کو صدقہ دے دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2524
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ، لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ، تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ، لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ , قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى سَارِقٍ وَعَلَى غَنِيٍّ، فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ تُقُبِّلَتْ، أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَّ بِهِ مِنْ زِنَاهَا، وَلَعَلَّ السَّارِقَ أَنْ يَسْتَعِفَّ بِهِ عَنْ سَرِقَتِهِ، وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ أَنْ يَعْتَبِرَ فَيُنْفِقَ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے کہا: میں ضرور صدقہ دوں گا، تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا، صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے، اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے چور کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی ۱؎، میں اور بھی صدقہ دوں گا چنانچہ (دوسرے دن بھی) وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے لے جا کر ایک زانیہ عورت کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ تو اس نے پھر کہا: اللہ تیرا شکر ہے زانیہ کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی، میں پھر صدقہ دوں گا، چنانچہ (تیسرے دن) پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا، اور ایک مالدار شخص کو تھما آیا، پھر صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک مالدار شخص کو صدقہ کیا گیا ہے، اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے، زانیہ، چور اور مالدار کو دے دینے پر بھی۔ تو خواب میں اس کے پاس آ کر کہا گیا: رہا تیرا صدقہ تو وہ قبول کر لیا گیا ہے، رہی زانیہ تو (صدقہ پا کر) شاید وہ زناکاری سے باز آ جائے اور رہا چور تو صدقہ پا کر شاید وہ اپنی چوری سے باز آ جائے، اور رہا مالدار آدمی (تو صدقہ پا کر) شاید وہ اس سے سبق سیکھے اور اللہ عزوجل نے اسے جو دولت دے رکھی ہے اس میں سے خرچ کرنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2524]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بنی اسرائیل میں سے) ایک آدمی نے کہا: میں آج ضرور صدقہ کروں گا۔ وہ (رات کے وقت) اپنا صدقہ لے کر نکلا اور جا کر ایک چور کے ہاتھ پر رکھ دیا، تو صبح لوگ یہ کہنے لگے کہ چور پر صدقہ کیا گیا ہے۔ اس نے کہا: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» اے اللہ! تیرا شکر ہے (اگرچہ) چور پر صدقہ ہو گیا ہے۔ آج میں پھر صدقہ کروں گا۔ وہ صدقہ لے کر نکلا تو کسی زانیہ کے ہاتھ پر رکھ آیا۔ صبح لوگ یہ کہنے لگے کہ رات ایک بدکار عورت پر صدقہ کیا گیا۔ اس آدمی نے کہا: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» اے اللہ! تیرا شکر ہے (اگرچہ) زانیہ پر صدقہ ہو گیا ہے۔ آج پھر میں صدقہ کروں گا، پھر وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک غنی کو دے آیا۔ صبح لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ (تعجب ہے) مال دار پر صدقہ کیا گیا ہے۔ وہ شخص کہنے لگا: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» اے اللہ! تیرا شکر ہے (عجیب بات ہے) کبھی بدکار عورت پر صدقہ ہو جاتا ہے، کبھی چور پر اور کبھی مال دار پر۔ پھر خواب میں اس سے کہا گیا: تیرا صدقہ تو یقیناً قبول ہو چکا۔ رہی زانیہ! (یعنی اس پر کیا ہوا صدقہ) تو (وہ اس لیے قبول ہے کہ) شاید اس صدقے کی وجہ سے وہ بدکاری سے باز آ جائے، اور چور! شاید وہ اس (صدقے) کی وجہ سے چوری کرنے سے باز آ جائے اور مال دار! شاید وہ عبرت و نصیحت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے مال سے خرچ کرنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 14 (1421)، (تحفة الأشراف: 13735)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة 24 (1022)، مسند احمد 2/322 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. بَابُ: الصَّدَقَةِ مِنْ غُلُولٍ
باب: چوری کے مال میں سے صدقہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2525
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الذَّارِعُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَاللَّفْظُ لِبِشْرٍ , عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ".
ابوالملیح کے والد اسامہ بن عمیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل بغیر پاکی کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی حرام مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2525]
حضرت ابو ملیح کے والد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا اور حرام مال سے صدقہ قبول نہیں کرتا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم 139 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں