🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ: زَكَاةِ الْوَرِقِ
باب: چاندی کی زکاۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2477
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔ اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2477]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: پانچ وسق سے کم کھجوروں میں کوئی صدقہ (عشر) نہیں اور نہ پانچ اوقیوں سے کم چاندی میں کوئی زکاۃ ہے۔ اسی طرح پانچ اونٹوں سے کم میں بھی زکاۃ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2447 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2478
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ وكانا ثقة , عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ وَكَانَا ثِقَةً، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ".
ابوسعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2478]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: پانچ اوقیوں (یعنی ۲۰۰ درہم) سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ ہے، اسی طرح پانچ وسق (یعنی ۱۶ من) سے کم غلے میں بھی زکاۃ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2447 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2479
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ مِنْ كُلِّ مِائَتَيْنِ خَمْسَةً".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کر دی ہے، تو تم اپنے مالوں کی زکاۃ ہر دو سو میں سے پانچ یعنی چالیسواں حصہ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2479]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃ معاف کر دی ہے۔ اب تم اپنے مال (سونا، چاندی اور رقم) کی زکاۃ دو سو درہم میں سے پانچ درہم ادا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة5 (1574)، سنن الترمذی/الزکاة4 (630)، (تحفة الأشراف: 10136)، مسند احمد (1/92، 113)، سنن الدارمی/الزکاة7 (1669)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزکاة4 (1790) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1574) ترمذي (620) ابن ماجه (1790) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2480
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ مِائَتَيْنِ زَكَاةٌ".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کر دی ہے، اور دو سو درہم سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2480]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے (سواری کے) گھوڑوں اور (خدمت کے) غلاموں میں زکاۃ معاف کر دی ہے، نیز دو سو درہم سے کم میں زکاۃ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1574) ترمذي (620) ابن ماجه (1790) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: زَكَاةِ الْحُلِيِّ
باب: زیور کی زکاۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2481
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتٌ لَهَا، فِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ:" أَتُؤَدِّينَ زَكَاةَ هَذَا؟" قَالَتْ: لَا , قَالَ:" أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟" , قَالَ: فَخَلَعَتْهُمَا فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: هُمَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ یمن کی رہنے والی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی تھی جس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم اس کی زکاۃ دیتی ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا تجھے اچھا لگے گا کہ اللہ عزوجل ان کے بدلے قیامت کے دن تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے؟ یہ سن کر اس عورت نے دونوں کنگن (بچی کے ہاتھ سے) نکال لیے۔ اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ڈال دیا، اور کہا: یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2481]
حضرت عمرو بن شعیب کے جد امجد (حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ علاقہ یمن کی ایک عورت اپنی بیٹی سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی۔ اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو بھاری کنگن تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ان کی زکاۃ ادا کرتی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل تجھے (یا تیری بیٹی کو) آگ کے دو کنگن پہنائے؟ اس عورت نے وہ کنگن فوراً اتار دیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھینک دیے اور کہنے لگی: یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة3 (1563)، (تحفة الأشراف: 8682)، مسند احمد (2/178، 204، 208)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة12 (637) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2482
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُسَيْنًا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا بِنْتٌ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ , نَحْوَهُ مُرْسَلٌ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: خَالِدٌ أَثْبَتُ مِنَ الْمُعْتَمِرِ.
عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی اور اس کی بچی کے ہاتھ میں دو کنگن تھے، آگے اسی طرح کی روایت ہے جیسے اوپر گزری ہے۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: خالد معتمر سے زیادہ ثقہ راوی ہیں (اس لیے ان کی متصل روایت معتمر کی مرسل سے زیادہ صحیح ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2482]
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی بھی تھی جس کے ہاتھ میں دو کنگن تھے، آگے پوری روایت مذکورہ بالا کی مانند ہے، یہ روایت مرسل، یعنی منقطع ہے (کیونکہ عمرو بن شعیب واقعہ کے عینی شاہد نہیں)، امام ابو عبدالرحمن نسائی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں: (سابقہ حدیث: ۲۴۸۱ کا راوی) خالد (اس حدیث: ۲۴۸۲ کے راوی) معتمر سے زیادہ ثقہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن) (اس سند میں دو راوی ساقط ہیں، مگرسابقہ سند متصل ہے)»
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: مَانِعِ زَكَاةِ مَالِهِ
باب: اپنے مال کی زکاۃ نہ دینے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2483
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الَّذِي لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ أقْرَعَ لَهُ زَبِيَبَتَانِ , قَالَ: فَيَلْتَزِمُهُ أَوْ يُطَوِّقُهُ، قَالَ: يَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ، أَنَا كَنْزُكَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کی زکاۃ نہیں دیتا ہے، اسے قیامت کے دن اس کا مال ایسے خوفناک سانپ کی صورت میں نظر آئے گا جو گنجا ہو گا، اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ اس سے چمٹ جائے گا، یا اس کے گلے کا ہار بن جائے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2483]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال (سونا، چاندی اور رقم) کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے مال کو اس کے سامنے گنجے سانپ کی صورت میں لایا جائے گا جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے۔ وہ اسے چمٹ جائے گا یا اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7211)، مسند احمد (2/98، 137، 156) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2484
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية 180".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال دے اور وہ اس مال کی زکاۃ ادا نہ کرے، تو قیامت کے دن اس کا مال گنجا سانپ بن جائے گا، اس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ قیامت کے دن اس کے دونوں کلّے پکڑے گا، اور اس سے کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپ نے آیت کریمہ کی تلاوت کی: «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله» اللہ تعالیٰ نے جنہیں مال دیا ہے وہ بخیلی کر کے یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے بلکہ وہی مال قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا (آل عمران: ۱۸۰)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2484]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال عطا فرمائے، پھر وہ اس کی زکاۃ نہ دے تو قیامت کے دن اس کے مال کو اس کے سامنے گنجے سانپ کی صورت دی جائے گی جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے۔ وہ اس شخص کے منہ کے دونوں کناروں کو پکڑ لے گا اور کہے گا: میں تیرا مال ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمْ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ﴾ [سورة آل عمران: 180] جو لوگ اس مال میں بخل کرتے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے عطا فرمایا ہے (وہ اس (بخل) کو اپنے لیے ہرگز بہتر نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے اور قیامت کے دن وہ مال ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة3 (1403)، تفسیر آل عمران14 (4565)، براء ة6 (4659)، الحیل3 (6957)، (تحفة الأشراف: 12820)، مسند احمد (2/355) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: زَكَاةِ التَّمْرِ
باب: کھجور کی زکاۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2485
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ حَبٍّ أَوْ تَمْرٍ صَدَقَةٌ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلے یا کھجور میں زکاۃ نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2485]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم کسی بھی غلے میں یا کھجور میں زکوٰۃ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2447 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: زَكَاةِ الْحِنْطَةِ
باب: گیہوں کی زکاۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2486
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ فِي الْبُرِّ وَالتَّمْرِ زَكَاةٌ، حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَلَا يَحِلُّ فِي الْوَرِقِ زَكَاةٌ، حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوَاقٍ، وَلَا يَحِلُّ فِي إِبِلٍ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گیہوں اور کھجور میں زکاۃ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ وسق کو پہنچ جائے، اسی طرح چاندی میں زکاۃ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ اوقیہ کو پہنچ جائے۔ اور اونٹ میں زکاۃ نہیں ہے یہاں تک کہ وہ پانچ کی تعداد کو پہنچ جائیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2486]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گندم اور کھجور میں زکاۃ (عشر) واجب نہیں ہوتی حتیٰ کہ وہ پانچ وسق ہو جائیں، اور چاندی میں زکاۃ واجب نہیں ہوتی حتیٰ کہ وہ پانچ اوقیے (دو سو درہم) ہو جائیں، اور اونٹوں میں زکاۃ واجب نہیں ہوتی حتیٰ کہ وہ پانچ ہو جائیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2447 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں