سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. بَابُ: أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ
باب: کون سا صدقہ افضل ہے؟
حدیث نمبر: 2546
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا، كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً".
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی بیوی پر خرچ کرے اور اس سے ثواب کی امید رکھتا ہو تو یہ اس کے لیے صدقہ ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2546]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے گھر والوں پر ثواب کی نیت سے خرچ کرے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان42 (55)، المغازی12 (4006)، النفقات1 (5351)، صحیح مسلم/الزکاة14 (1002)، سنن الترمذی/البر 42 (1965)، (تحفة الأشراف: 9996)، مسند احمد 4/120، 122، و5/273، سنن الدارمی/الاستئذان35 (2706) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2547
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ؟" قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَجَاءَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ عَنْ أَهْلِكَ، فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ، فَهَكَذَا وَهَكَذَا يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کر دیا ۱؎، یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس شخص سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس اس غلام کے علاوہ بھی کوئی مال ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مجھ سے کون خرید رہا ہے؟“ تو نعیم بن عبداللہ عدوی نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان درہموں کو لے کر آئے اور انہیں اس کے حوالہ کر دیا، اور فرمایا: ”پہلے خود سے شروع کرو اسے اپنے اوپر صدقہ کرو اگر کچھ بچ رہے تو تمہاری بیوی کے لیے ہے، اور اگر تمہاری بیوی سے بھی بچ رہے تو تمہارے قرابت داروں کے لیے ہے، اور اگر تمہارے قرابت داروں سے بھی بچ رہے تو اس طرح اور اس طرح کرو، اور آپ اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کر رہے تھے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2547]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عذرہ (قبیلے) کے ایک آدمی نے اپنے غلام کو اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مجھ سے کون خریدے گا؟“ تو حضرت نعیم بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور وہ یہ رقم لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رقم اس شخص کے سپرد کی، پھر فرمایا: ”سب سے پہلے اپنے آپ پر خرچ کر۔ اگر کچھ بچ جائے تو وہ تیرے گھر والوں کے لیے ہے۔ اگر گھر والوں (کی ضروریات) سے کچھ بچ جائے تو وہ تیرے قرابت داروں کے لیے ہے۔ اور اگر تیرے قرابت داروں سے بھی بچ جائے تو پھر تو اسے اپنے آگے اور اپنے دائیں بائیں صدقہ کر۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة13 (997)، والأیمان 13 (997)، (تحفة الأشراف: 2922)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع59 (2141)، 110 (223)، والاستقراض 16 (2403)، والخصومات3 (2415)، والعتق 9 (2534)، وکفارات الأیمان7 (6716)، والإکراہ4 (6947)، والأحکام32 (7186) (مختصراً)، سنن ابی داود/العتق9 (3957)، سنن ابن ماجہ/العتق1 (2513) (مختصراً)، مسند احمد (3/305، 368، 369، 370، 371) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ کہہ دیا ہو کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو۔ ۲؎: مطلب یہ ہے کہ اپنے پاس پڑوس کے محتاجوں اور غریبوں کو دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
61. بَابُ: صَدَقَةِ الْبَخِيلِ
باب: بخیل کے صدقے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2548
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنَاه أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مَثَلَ الْمُنْفِقِ الْمُتَصَدِّقِ وَالْبَخِيلِ، كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ أَنْ يُنْفِقَ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ الدِّرْعُ أَوْ مَرَّتْ، حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ وَلَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا، حَتَّى إِذَا أَخَذَتْهُ بِتَرْقُوَتِهِ أَوْ بِرَقَبَتِهِ" , يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَشْهَدُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ , قَالَ طَاوُسٌ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُشِيرُ بِيَدِهِ وَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَوَسَّعُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرنے والے فیاض اور بخیل کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن پر لوہے کے دو کرتے یا دو ڈھال ان دونوں کی چھاتیوں سے لے کر ان کی ہنسلی کی ہڈیوں تک ہوں، جب فیاض خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ اس کے بدن پر کشادہ ہو جاتی ہے، پھیل کر اس کی انگلیوں کے پوروں کو ڈھانپ لیتی ہے، اور اس کے نشان قدم کو مٹا دیتی ہے، اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ سکڑ جاتی ہے اور اس کی کڑیاں اپنی جگ ہوں پر چمٹ جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ اس کی ہنسلی یا اس کی گردن پکڑ لیتی ہے“۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسے کشادہ کر رہے تھے، اور وہ کشادہ نہیں ہو رہی تھی۔ طاؤس کہتے ہیں: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ آپ اپنے ہاتھ سے کشادہ کرنے کے لیے اشارہ کر رہے تھے، اور وہ کشادہ نہیں ہو رہی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2548]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرنے والے کی اور کنجوس شخص کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن کے جسم پر لوہے کے کرتے یا زرہیں ہوں، جنہوں نے ان کے سینوں کو ڈھانپ رکھا ہو۔ جب سخی خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کھل جاتی ہے اور وسیع ہو جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس کے نشاناتِ قدم کو مٹا دیتی ہے۔ اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ سکڑ جاتی ہے اور ہر کڑی اپنی جگہ سمٹ جاتی ہے حتیٰ کہ اس کے حلق یا گلے کو پکڑ لیتی ہے۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا (جیسے) آپ اسے کھول رہے ہیں اور وہ کھلتی نہیں۔ (حضرت ابوہریرہ کے شاگرد) طاؤس نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی اپنے ہاتھ سے اسے کھولنے کا اشارہ کرتے تھے لیکن وہ کھلتی نہ تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ اللباس9 (5797)، صحیح مسلم/الزکاة 23 (1021)، (تحفة الأشراف: 13517، 13684)، مسند احمد 2/256، 389، 523 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2549
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ، مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطَرَّتْ أَيْدِيَهُمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَكُلَّمَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ، حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ، وَكُلَّمَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ، تَقَبَّضَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ إِلَى صَاحِبَتِهَا، وَتَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ وَانْضَمَّتْ يَدَاهُ إِلَى تَرَاقِيهِ" , وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فَيَجْتَهِدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلَا تَتَّسِعُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخیل اور صدقہ دینے والے (سخی) کی مثال ان دو شخصوں کی ہے جن پر لوہے کی زرہیں ہوں، اور ان کے ہاتھ ان کی ہنسلیوں کے ساتھ چمٹا دیئے گئے ہوں، تو جب جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ اس کے لیے وسیع و کشادہ ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اتنی بڑی ہو جاتی ہے کہ چلتے وقت اس کے پیر کے نشانات کو مٹا دیتی ہے، اور جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ہر کڑی دوسرے کے ساتھ پیوست ہو جاتی اور سکڑ جاتی ہے، اور اس کے ہاتھ اس کی ہنسلی سے مل جاتے ہیں“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”وہ (بخیل) کوشش کرتا ہے کہ اسے کشادہ کرے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2549]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنجوس کی اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر لوہے کی زرہیں ہیں اور ان کے ہاتھ ان کے سینے کے اوپر بندھے ہوئے ہیں۔ صدقہ کرنے والا شخص جب صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کھل جاتی ہے، حتیٰ کہ اس کے نشاناتِ قدم تک کو مٹا ڈالتی ہے، اور جب بخیل آدمی صدقے کا ارادہ کرتا ہے تو زرہ کی ہر کڑی دوسری کڑی سے جڑ جاتی (اس میں پیوست ہو جاتی) ہے اور زرہ سکڑ جاتی ہے اور اس کے ہاتھ سینے سے بندھے رہتے ہیں۔“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”وہ زرہ کو کھولنے کی پوری کوشش کرتا ہے لیکن وہ کھلتی نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 28 (1443)، الجہاد 89 (2917)، صحیح مسلم/الزکاة 23 (1021)، (تحفة الأشراف: 13520)، مسند احمد (2/389) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
62. بَابُ: الإِحْصَاءِ فِي الصَّدَقَةِ
باب: گن گن کر صدقہ کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2550
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كُنَّا يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسًا وَنَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارِ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى عَائِشَةَ لِيَسْتَأْذِنَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ سَائِلٌ مَرَّةً وَعِنْدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرْتُ لَهُ بِشَيْءٍ، ثُمَّ دَعَوْتُ بِهِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا تُرِيدِينَ أَنْ لَا يَدْخُلَ بَيْتَكِ شَيْءٌ، وَلَا يَخْرُجَ إِلَّا بِعِلْمِكِ" , قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" مَهْلًا يَا عَائِشَةُ لَا تُحْصِي، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ".
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ کچھ مہاجرین و انصار بھی تھے، ہم نے ایک شخص کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بھیجا، (انہوں نے اجازت دے دی، ہم ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا: ایک بار میرے پاس ایک مانگنے والا آیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے (خادمہ کو) اسے کچھ دینے کا حکم دیا، پھر میں نے اسے بلایا اسے دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ چاہتی ہیں کہ بغیر آپ کے علم میں آئے تمہارے گھر میں کچھ نہ آئے اور تمہارے گھر سے کچھ نہ جائے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! ٹھہر جاؤ، گن کر نہ دو کہ اللہ عزوجل بھی تمہیں بھی گن کر دے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2550]
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک دن مہاجرین و انصار کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد نبوی میں بیٹھے تھے کہ ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک شخص کو بھیجا تاکہ وہ ہمارے لیے (ان کے ہاں حاضر ہونے کی) اجازت طلب کرے۔ (اجازت ملنے پر) ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایک سائل میرے پاس آیا۔ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ میں نے (لونڈی سے) اسے کچھ دینے کو کہا، پھر میں نے وہ چیز منگوا کر دیکھی (کہ وہ کس قدر ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! تو چاہتی ہے کہ تیرے گھر میں کوئی چیز تیرے علم کے بغیر نہ آئے اور نہ (وہاں سے) جائے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ ایسے نہ کرو۔ گن گن کر صدقہ نہ کیا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھے گن گن کر دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15923) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة46 (1700)، مسند احمد 6/71، 108 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2551
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" لَا تُحْصِي، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ".
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”گن کر نہ دو کہ اللہ عزوجل بھی تمہیں گن کر دے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2551]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا: ”گن گن کر اللہ کے راستے میں نہ دے ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھے گن گن کر دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 21 (1433)، الھبة 15 (2590)، صحیح مسلم/الزکاة28 (1029)، (تحفة الأشراف: 15748)، مسند احمد (6/344، 345، 346، 352، 354) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2552
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! لَيْسَ لِي شَيْءٌ، إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ فِي أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ؟ فَقَالَ:" ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ، وَلَا تُوكِي فَيُوكِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ".
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور کہنے لگیں: اللہ کے نبی! میرے پاس تو کچھ ہوتا نہیں ہے سوائے اس کے کہ جو زبیر (میرے شوہر) مجھے (کھانے یا خرچ کرنے کے لیے) دے دیتے ہیں، تو کیا اس دیے ہوئے میں سے میں کچھ (فقراء و مساکین کو) دے دوں تو مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”تم جو کچھ دے سکو دو، اور روکو نہیں کہ اللہ عزوجل بھی تم سے روک لے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2552]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرے پاس ذاتی مال تو کوئی نہیں مگر جو (میرے خاوند) حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مجھے لا کر دیتے ہیں، کیا مجھے گناہ ہو گا اگر میں اس سے عطیہ وغیرہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنی گنجائش ہو، عطیے دے اور باندھ باندھ کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ پر باندھ دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 22 (1434)، صحیح مسلم/الزکاة 28 (1029)، (تحفة الأشراف: 15714)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة 46 (1699)، سنن الترمذی/البر 40 (1961)، مسند احمد (6/354) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
63. بَابُ: الْقَلِيلِ فِي الصَّدَقَةِ
باب: تھوڑے صدقے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2553
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُحِلِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ".
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا اللہ کی راہ میں دے کر سہی“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2553]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ» ”آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے سے ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 9 (1413) مطولا، المناقب 25 (3595) مطولا، (تحفة الأشراف: 9874)، مسند احمد (4/256) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2554
أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّارَ فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، وَتَعَوَّذَ مِنْهَا ذَكَرَ شُعْبَةُ: أَنَّهُ فَعَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ التَّمْرَةِ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ".
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا، اور نفرت سے اپنا منہ پھیر لیا، اور اس سے پناہ مانگی۔ شعبہ نے ذکر کیا کہ آپ نے تین دفعہ ایسا کیا، پھر فرمایا: ”آگ سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی اللہ کی راہ میں دے کر سہی۔ اور اگر اسے نہ پاس کو تو بھلی بات کے ذریعہ معذرت کر کے سہی“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2554]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ کا ذکر فرمایا، پھر آپ نے (نفرت و کراہت سے) اپنا منہ پھیرا اور آگ سے اللہ کی پناہ طلب کی۔ شعبہ (راوی) نے کہا کہ آپ نے تین دفعہ ایسے ہی کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”(جہنم کی) آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے سے، اگر یہ بھی نہ ملے تو اچھی بات ہی کر کے (آگ سے بچو)۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 34 (6023)، الرقاق 51 (6563)، صحیح مسلم/الزکاة 20 (1016)، (تحفة الأشراف: 9853) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
64. بَابُ: التَّحْرِيضِ عَلَى الصَّدَقَةِ
باب: صدقہ پر ابھارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2555
أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَذَكَرَ عَوْنَ بْنَ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، فَجَاءَ قَوْمٌ عُرَاةً حُفَاةً مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1 , وَ اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ سورة الحشر آية 18 , تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ حَتَّى قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا، وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعَلَيْهِ وِزْرُهَا، وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا".
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ ننگے بدن، ننگے پیر، تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، زیادہ تر لوگ قبیلہ مضر کے تھے، بلکہ سبھی مضر ہی کے تھے۔ ان کی فاقہ مستی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ اندر گئے، پھر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی، آپ نے نماز پڑھائی، پھر آپ نے خطبہ دیا، تو فرمایا: ”لوگو! ڈرو، تم اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور انہیں دونوں (میاں بیوی) سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیئے۔ اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سب ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ قرابت داریوں کا خیال رکھو کہ وہ ٹوٹنے نہ پائیں، بیشک اللہ تمہارا نگہبان ہے، اور اللہ سے ڈرو، اور تم میں سے ہر شخص یہ (دھیان رکھے اور) دیکھتا رہے کہ آنے والے کل کے لیے اس نے کیا آگے بھیجا ہے، آدمی کو چاہیئے کہ اپنے دینار میں سے، اپنے درہم میں سے، اپنے کپڑے میں سے، اپنے گیہوں کے صاع میں سے، اپنے کھجور کے صاع میں سے صدقہ کرے“، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی سہی“، چنانچہ انصار کا ایک شخص (روپیوں سے بھری) ایک تھیلی لے کر آیا جو اس کی ہتھیلی سے سنبھل نہیں رہی تھی بلکہ سنبھلی ہی نہیں۔ پھر تو لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ کھانے اور کپڑے کے دو ڈھیر اکٹھے ہو گئے۔ اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور کھل اٹھا ہے گویا وہ سونے کا پانی دیا ہوا چاندی ہے (اس موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کرے گا، اس کے لیے دہرا اجر ہو گا: ایک اس کے جاری کرنے کا، دوسرا جو اس پر عمل کریں گے ان کا اجر، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی کی جائے۔ اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا، تو اسے اس کے جاری کرنے کا گناہ ملے گا اور جو اس اس پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کوئی کمی کی جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2555]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم دن کے آغاز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ کچھ لوگ آئے، ننگے بدن، ننگے پاؤں، تلواریں لٹکائے ہوئے۔ وہ اکثر بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے۔ ان کی تنگ حالی اور بھوک دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور متغیر (مغموم) ہو گیا۔ آپ اندر (گھر) گئے (مگر کچھ نہ ملا تو) پھر باہر تشریف لے آئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا۔ انہوں نے اذان و اقامت کہی۔ آپ نے جماعت کروائی، پھر آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا فرمایا اور اس سے اس کی بیوی پیدا کی اور پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائے۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کا نام لے کر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے توڑنے سے (بھی) ڈرو۔ یقینا اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔“ اور دوسری آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ [سورة الحشر: 18] ”اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل (اگلی زندگی) کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔“ پھر فرمایا: ”آدمی اپنے دینار سے صدقہ کرے، اپنے درہم سے صدقہ کرے، اپنے کپڑے سے صدقہ کرے، گندم کا صاع دے، کھجور کا صاع دے۔“ حتیٰ کہ آپ نے فرمایا: ”چاہے کھجور کا ٹکڑا ہی صدقہ کرے۔“ انصار میں سے ایک آدمی اتنی بھاری تھیلی اٹھا کر لایا کہ اس کی ہتھیلی اس سے عاجز ہو رہی تھی بلکہ عاجز ہو ہی گئی تھی، پھر تو لوگوں کا تانتا بندھ گیا حتیٰ کہ میں نے دو ڈھیر دیکھے۔ ایک غلے کا اور ایک کپڑوں کا، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور یوں (خوشی سے) دمکنے لگا گویا کہ اس پر سونا چڑھا دیا گیا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، اسے اپنا ثواب بھی ملے گا اور جتنے لوگ اسے دیکھ کر وہ کام کریں گے، ان کے اجر میں سے بھی اسے حصہ ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں کوئی کمی ہو۔ اسی طرح جو شخص اسلام میں برا کام جاری کر دے، اس پر اس کا اپنا گناہ بھی ہوگا اور ان لوگوں کا بھی جو اسے دیکھ کر وہ کام کریں گے، لیکن اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2555]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة20 (1017)، العلم6 (1017)، سنن الترمذی/العلم15 (2675)، سنن ابن ماجہ/المقدمة14 (203) مختصراً، (تحفة الأشراف: 3232)، مسند احمد 4/357، 358، 359، 362، 361، 362، سنن الدارمی/المقدمة44 (529) (مثل الترمذی) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم