سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب فِي تَأْوِيلِ الرُّؤْيَا وَمَا يُسْتَحَبُّ مِنْهَا وَمَا يُكْرَهُ
باب: خوابوں کی تعبیر اور اچھے برے خواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2280
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ السَّلِيمِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: فَرُؤْيَا حَقٌّ، وَرُؤْيَا يُحَدِّثُ بِهَا الرَّجُلُ نَفْسَهُ، وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَمَنْ رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ يَقُولُ: " يُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ يَقُولُ: " مَنْ رَآنِي فَإِنِّي أَنَا هُوَ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَمَثَّلَ بِي ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ يَقُولُ: " لَا تُقَصُّ الرُّؤْيَا إِلَّا عَلَى عَالِمٍ أَوْ نَاصِحٍ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَأُمِّ الْعَلَاءِ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي مُوسَى، وَجَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک خواب وہ ہے جو سچا ہوتا ہے، ایک خواب وہ ہے کہ آدمی جو کچھ سوچتا رہتا ہے، اسی کو خواب میں دیکھتا ہے، اور ایک خواب ایسا ہے جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور غم و صدمہ کا سبب ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اٹھ کر نماز پڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: ”مجھے خواب میں بیڑی کا دیکھنا اچھا لگتا ہے اور طوق دیکھنے کو میں ناپسند کرتا ہوں، بیڑی کی تعبیر دین پر ثابت قدمی (جمے رہنا) ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: ”جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو وہ میں ہی ہوں، اس لیے کہ شیطان میری شکل نہیں اپنا سکتا ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”خواب کسی عالم یا خیرخواہ سے ہی بیان کیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں انس، ابوبکرہ، ام العلاء، ابن عمر، عائشہ، ابوموسیٰ، جابر، ابو سعید خدری، ابن عباس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2280]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں انس، ابوبکرہ، ام العلاء، ابن عمر، عائشہ، ابوموسیٰ، جابر، ابو سعید خدری، ابن عباس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (وھو طرف من الحدیث الأول في الکتاب رقم 2270) (تحفة الأشراف: 14496) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (119 و 120 و 1341) ، الروض النضير (1162)
8. باب فِي الَّذِي يَكْذِبُ فِي حُلْمِهِ
باب: خواب کے بارے میں جھوٹ بولنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2281
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَقْدَ شَعِيرَةٍ ".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، قیامت کے دن اسے جو کے درمیان گرہ لگانے پر مکلف کیا جائے گا“۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10172)، وانظر مسند احمد (1/76، 90، 131) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (2359)
حدیث نمبر: 2282
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي شُرَيْحٍ، وَوَاثِلَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.
اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے،
۳- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، ابوشریح اور واثلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2282]
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے،
۳- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، ابوشریح اور واثلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: **
حدیث نمبر: 2283
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَحَلَّمَ كَاذِبًا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ، وَلَنْ يَعْقِدَ بَيْنَهُمَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے تو قیامت کے دن دو جو کے درمیان گرہ لگانے پر مکلف کیا جائے گا اور وہ ان دونوں کے درمیان گرہ ہرگز نہیں لگا سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2283]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التعبیر 45 (7042)، سنن ابی داود/ الأدب 96 (5024)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 8 (3916) (تحفة الأشراف: 9586)، و مسند احمد (1/216، 646، 359) (وانظر تخریج حدیث رقم 1751) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3916)
9. باب فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ وَالْقُمُصَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں دودھ اور قمیص دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2284
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الْعِلْمَ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَخُزَيْمَةَ، وَالطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَجَابِرٍ، قَالَ: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں سویا ہوا تھا کہ اس دوران میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، میں نے اس سے پیا پھر اپنا جوٹھا عمر بن خطاب کو دے دیا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟“ فرمایا: ”علم سے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عمر کی حدیث صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ، ابن عباس، عبداللہ بن سلام، خزیمہ، طفیل بن سخبرہ، ابوامامہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2284]
۱- ابن عمر کی حدیث صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ، ابن عباس، عبداللہ بن سلام، خزیمہ، طفیل بن سخبرہ، ابوامامہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 22 (82)، وفضائل الصحابة 6 (3681)، والتعبیر 15 (7006)، و 16 (7007)، و 34 (7027)، و 37 (7032)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2391)، ویأتي عند المؤلف في المناقب 18 (3687) (تحفة الأشراف: 6700) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: علم سے اس کی تعبیر بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح دودھ میں بکثرت فائدے ہیں اور رب العالمین اسے گوبر اور خون کے درمیان سے نکالتا ہے اسی طرح علم کے فوائد بے انتہا ہیں، اسے بھی رب العالمین شک اور جہالت کے درمیان سے نکالتا ہے پھر اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس سے نوازتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 2285
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحمَّدٍ الْجُرَيْريُّ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ، فَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الدِّينَ ".
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہما بعض صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا دیکھا: لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں، بعض کی قمیص چھاتی تک پہنچ رہی تھی اور بعض کی اس سے نیچے تک پہنچ رہی تھی، پھر میرے سامنے عمر کو پیش کیا گیا ان کے جسم پر جو قمیص تھی وہ اسے گھسیٹ رہے تھے“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: ”دین سے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف وانظر مابعدہ (تحفة الأشراف: 15529) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی عمر رضی الله عنہ اپنے دین میں اس طرح کامل ہیں اور اسے اس طرح مضبوطی سے پکڑ رکھا ہے کہ عمر رضی الله عنہ کا دین ان کے لیے اٹھتے، بیٹھتے، سوتے جاگتے ایک محافظ کی طرح ہے، جس طرح قمیص جسم کی حفاظت کرتی ہے گویا عمر رضی الله عنہ دینی اعتبار سے اور لوگوں کی بنسبت بہت آگے ہیں اور ان کے دین سے جس طرح فائدہ پہنچ رہا ہے اسی طرح ان کے مرنے کے بعد لوگ ان کے دینی کاموں اور ان کے چھوڑے ہوئے اچھے آثار سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 2286
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: وَهَذَا أَصَحُّ.
اس سند سے ابو سعید خدری رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی اور اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2286]
یہ زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 15 (23)، ومناقب الصحابة 6 (3691)، والتعبیر 17 (7008)، و 18 (7009)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2390)، سنن النسائی/الإیمان 18 (5014) (تحفة الأشراف: 3961)، و مسند احمد (3/86) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: **
10. باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2287
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَرَجَحْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ، وَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ، وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَرَجَحَ عُمَرُ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَرَأَيْنَا الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اترا، آپ اور ابوبکر تولے گئے تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے، ابوبکر اور عمر تولے گئے، تو ابوبکر بھاری نکلے، عمر اور عثمان تولے گئے تو عمر بھاری نکلے پھر ترازو اٹھا لیا گیا، ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2287]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ السنة 9 (4634) (تحفة الأشراف: 11662)، و مسند احمد (5/44، 50) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ناگواری کا سبب یہ تھا کہ میزان کے اٹھا لیے جانے کا مفہوم یہ نکلا کہ عمر رضی الله عنہ کے بعد فتنوں کا آغاز ہو جائے گا، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (6057 / التحقيق الثانى)
قال الشيخ زبير على زئي:(2287) إسناده ضعيف / د 4634
حدیث نمبر: 2288
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَرَقَةَ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: إِنَّهُ كَانَ صَدَّقَكَ، وَلَكِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُرِيتُهُ فِي الْمَنَامِ، وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بَيَاضٌ وَلَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَكَانَ عَلَيْهِ لِبَاسٌ غَيْرُ ذَلِكَ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِالْقَوِيِّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ (ورقہ بن نوفل) کے بارے میں پوچھا گیا تو خدیجہ نے کہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تھی مگر وہ آپ کی نبوت کے ظہور سے پہلے وفات پا گئے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے خواب میں انہیں دکھایا گیا ہے، اس وقت ان کے جسم پر سفید کپڑے تھے، اگر وہ جہنمی ہوتے تو ان کے جسم پر کوئی دوسرا لباس ہوتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- محدثین کے نزدیک عثمان بن عبدالرحمٰن قوی نہیں ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2288]
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- محدثین کے نزدیک عثمان بن عبدالرحمٰن قوی نہیں ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16536) (ضعیف) (سند میں عثمان بن عبد الرحمن متروک الحدیث راوی ہے، خود متن سے بھی اس حدیث کا منکر ہونا واضح ہے)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں دلیل ہے کہ اگر کوئی مسلمان خواب میں اپنے کسی مرے ہوئے مسلمان بھائی کے جسم پر سفید کپڑا دیکھے تو یہ اس کے حسن حال کی پیشین گوئی ہے کہ وہ جنتی ہے، ورقہ بن نوفل خدیجہ رضی الله عنہا کے چچیرے بھائی تھے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال سن کر آپ کی رسالت کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ جو فرشتہ تمہارے پاس آتا ہے وہ ناموس اکبر ہے، اپنے بڑھاپے پر افسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں زندہ رہا تو اس وقت آپ کا ساتھ ضرور دوں گا جس وقت آپ کی قوم آپ کو گھر سے نکال دے گی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (4623) // ضعيف الجامع الصغير (792) //
قال الشيخ زبير على زئي:(2288) إسناده ضعيف
قال الذهبي: ”عثمان هو الوقاضي: متروك“ (تلخيص المستدرك للحاكم 393/4) وللحديث شواهد ضعيفة عند أحمد (65/6) والحاكم (609/2) وغيرهما
قال الذهبي: ”عثمان هو الوقاضي: متروك“ (تلخيص المستدرك للحاكم 393/4) وللحديث شواهد ضعيفة عند أحمد (65/6) والحاكم (609/2) وغيرهما
حدیث نمبر: 2289
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّاسَ اجْتَمَعُوا، فَنَزَعَ أَبُو بَكْرٍ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ فِيهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ فَنَزَعَ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے بارے میں مروی ہے جس میں آپ نے ابوبکر اور عمر کو دیکھا، آپ نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ لوگ (ایک کنویں پر) جمع ہو گئے ہیں، پھر ابوبکر نے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اللہ ان کی مغفرت کرے، پھر عمر رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ڈول کھینچا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا، میں نے کسی مضبوط اور طاقتور شخص کو نہیں دیکھا جس نے ایسا کام کیا ہو، یہاں تک کہ لوگوں نے اپنی آرام گاہوں میں جگہ پکڑی“ (یعنی سب آسودہ ہو گئے ۱؎)۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے صحیح غریب ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2289]
۱- یہ ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے صحیح غریب ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 25 (3633)، وفضائل الصحابة 5 (3676)، و 6 (3682)، والتعبیر 28 (7019)، و 29 (7020)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2393) (تحفة الأشراف: 7022) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد عمر بن خطاب رضی الله عنہ کی مضبوط خلافت وامارت کا دور ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح