سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب في دِيَةِ الأَصَابِعِ:
انگلیوں کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 2408
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ: "وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرَةٌ مِنَ الْإِبِلِ".
ابوبکر بن عمرو بن حزم نے اپنے باپ کے حوالے سے اپنے دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ یمن کو تحریر فرمایا کہ: ”ہاتھ اور پیروں کی ہر انگلی کے عوض دس اونٹ (دیت) ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2408]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2416] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 6559] ، [موارد الظمان 793] ۔ آگے بھی یہ حدیث آرہی ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 6559] ، [موارد الظمان 793] ۔ آگے بھی یہ حدیث آرہی ہے۔
16. باب في الْمُوضِحَةِ:
موضحہ کا بیان
حدیث نمبر: 2409
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:"قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَوَاضِحِ خَمْسًا خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ".
عمرو بن شعیب نے اپنے باپ کے حوالے سے اپنے دادا سے روایت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے زخموں میں جو ہڈی تک پہنچ جائیں پانچ پانچ اونٹ کی دیت مقرر فرمائی۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2409]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل مطر بن طهمان الوراق، [مكتبه الشامله نمبر: 2417] »
اس روایت کی سند مطر بن طہمان وراق کی وجہ سے حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4566] ، [ترمذي 1390] ، [نسائي 4867] ، [أحمد 215/2] ، [ابن الجارود 781]
اس روایت کی سند مطر بن طہمان وراق کی وجہ سے حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4566] ، [ترمذي 1390] ، [نسائي 4867] ، [أحمد 215/2] ، [ابن الجارود 781]
حدیث نمبر: 2410
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ: "وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ".
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے باپ کے حوالے سے اپنے دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ یمن کو لکھا: ”اور ہاتھ و پیر کی ہر انگلی میں دس اونٹ دیت ہے اور موضحہ میں پانچ اونٹ ہیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2410]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2418] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن شواہد صحیحہ کے پیشِ نظر معمول بہ ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4563] ، [ترمذي 1389] ، [نسائي 4858] ، [ابن حبان 2655] ۔ اصحاب السنن نے انگلیوں کی دیت کو الگ اور موضحہ کی دیت الگ الگ روایت کی ہے۔ «دية الأصابع» ۔ اس کی تخریج گزر چکی ہے۔ موضحہ کی دیت کے لئے مزید دیکھئے: [أبويعلی 7334] ، [ابن حبان 6013] ، [موارد الظمآن 1527]
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن شواہد صحیحہ کے پیشِ نظر معمول بہ ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4563] ، [ترمذي 1389] ، [نسائي 4858] ، [ابن حبان 2655] ۔ اصحاب السنن نے انگلیوں کی دیت کو الگ اور موضحہ کی دیت الگ الگ روایت کی ہے۔ «دية الأصابع» ۔ اس کی تخریج گزر چکی ہے۔ موضحہ کی دیت کے لئے مزید دیکھئے: [أبويعلی 7334] ، [ابن حبان 6013] ، [موارد الظمآن 1527]
وضاحت: (تشریح احادیث 2407 سے 2410)
«موضحة» ایسے زخم کو کہتے ہیں جو گوشت پھاڑ کر ہڈی تک پہنچ جائے اور ہڈی کو واضح کر دے، ایسے زخم پر جانی کو پانچ اونٹ جرمانہ کے مجنی علیہ کے لئے دینے ہوں گے۔
یہ واضح کی جمع ہے۔
اس حدیث سے ایسے زخم کی دیت معلوم ہوئی جو ہڈی تک پہنچ جائے لیکن ہڈی متأثر نہ ہو، اس کی دیت پانچ اونٹ ہے، اکثر علماء کا اسی پر عمل ہے۔
«موضحة» ایسے زخم کو کہتے ہیں جو گوشت پھاڑ کر ہڈی تک پہنچ جائے اور ہڈی کو واضح کر دے، ایسے زخم پر جانی کو پانچ اونٹ جرمانہ کے مجنی علیہ کے لئے دینے ہوں گے۔
یہ واضح کی جمع ہے۔
اس حدیث سے ایسے زخم کی دیت معلوم ہوئی جو ہڈی تک پہنچ جائے لیکن ہڈی متأثر نہ ہو، اس کی دیت پانچ اونٹ ہے، اکثر علماء کا اسی پر عمل ہے۔
17. باب في دِيَةِ الأَسْنَانِ:
دانتوں کی دیت
حدیث نمبر: 2411
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:"قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَسْنَانِ خَمْسًا خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ".
عمرو بن شعیب نے اپنے باپ پھر اپنے دادا سے روایت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں میں پانچ پانچ اونٹ کی دیت کا فیصلہ کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2411]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2419] »
اس روایت کی سند حسن ہے مطر الوراق کی وجہ سے۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [أبوداؤد 4563] ، [نسائي 4856] ، [ابن ماجه 2651] ، [ابن أبى شيبه 7014]
اس روایت کی سند حسن ہے مطر الوراق کی وجہ سے۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [أبوداؤد 4563] ، [نسائي 4856] ، [ابن ماجه 2651] ، [ابن أبى شيبه 7014]
وضاحت: (تشریح حدیث 2410)
یعنی ہر دانت کے بدلے پانچ اونٹ، آگے کے دانت ہوں یا پیچھے کی داڑھیں، سب میں پانچ پانچ اونٹ دیت ہے۔
یعنی ہر دانت کے بدلے پانچ اونٹ، آگے کے دانت ہوں یا پیچھے کی داڑھیں، سب میں پانچ پانچ اونٹ دیت ہے۔
حدیث نمبر: 2412
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ: "وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ".
ابوبکر بن محمد عمرو بن حزم نے اپنے باپ کے حوالے سے اپنے دادا سے روایت کیا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ یمن کے لئے تحریر فرمایا: ”اور دانت میں پانچ اونٹ ہیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2412]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2420] »
ابن حزم کی یہ لمبی حدیث ہے اور اس کے جملے امام دارمی رحمہ اللہ نے الگ الگ ذکر کئے ہیں۔ تخریج پیچھے کئی بار گزر چکی ہے۔ سنداً یہ ضعیف ہے، لیکن کئی طرق سے مروی ہے جن سے تقویت ہو جاتی ہے۔
ابن حزم کی یہ لمبی حدیث ہے اور اس کے جملے امام دارمی رحمہ اللہ نے الگ الگ ذکر کئے ہیں۔ تخریج پیچھے کئی بار گزر چکی ہے۔ سنداً یہ ضعیف ہے، لیکن کئی طرق سے مروی ہے جن سے تقویت ہو جاتی ہے۔
18. باب فِيمَنْ عَضَّ يَدَ رَجُلٍ فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ:
کوئی آدمی کسی کا ہاتھ کاٹے، دوسرا آدمی ہاتھ کھینچے اور کاٹنے والے کے دانت ٹوٹ جائیں
حدیث نمبر: 2413
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، قَالَ: فَنَزَعَ يَدَهُ فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ؟ لَا دِيَةَ لَكَ".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ایک شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے کھینچ لیا جس سے اس کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے، پھر وہ اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ہی بھائی کو اس طرح دانت سے کاٹتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے، جاؤ تمہیں دیت نہیں ملے گی۔“ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2413]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2421] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6892] ، [مسلم 1673] ، [ترمذي 1416] ، [نسائي 4773] ، [ابن ماجه 2657] ، [ابن حبان 5998، 5999] ، [مشكل الآثار للطحاوي 119/2]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6892] ، [مسلم 1673] ، [ترمذي 1416] ، [نسائي 4773] ، [ابن ماجه 2657] ، [ابن حبان 5998، 5999] ، [مشكل الآثار للطحاوي 119/2]
وضاحت: (تشریح احادیث 2411 سے 2413)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی دوسرے شخص کی طرف سے نقصان اور ضرر کو دور کرنے کے لئے اپنے دفاع میں اگر کوئی جرم ہو جائے تو وہ جرم قابلِ مواخذہ نہیں، جمہور کا یہی مذہب ہے، البتہ اس کے لئے دو شرطیں ہیں: ایک یہ کہ اس تکلیف سے جسم میں درد ہوتا ہو۔
دوسری یہ کہ اس کے بغیر جان چھڑانے یا خلاصی پانے کی کوئی دوسری صورت نظر نہ آئے۔
اگر ان دونوں شرطوں میں سے کوئی بھی شرط نہ پائی جائے تو پھر اس میں دیت ہوگی۔
یہاں اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کی دیت کو باطل ٹھہرایا کیونکہ اس کاٹنے والے کا دانت اسی کے قصور سے ٹوٹا تھا، نہ وہ کاٹتا نہ دوسرا اپنا ہاتھ کھینچتا، اور جب اس نے کاٹا تو وہ بے چارہ کیا کرتا، آخر چھوڑانا ضروری تھا۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی دوسرے شخص کی طرف سے نقصان اور ضرر کو دور کرنے کے لئے اپنے دفاع میں اگر کوئی جرم ہو جائے تو وہ جرم قابلِ مواخذہ نہیں، جمہور کا یہی مذہب ہے، البتہ اس کے لئے دو شرطیں ہیں: ایک یہ کہ اس تکلیف سے جسم میں درد ہوتا ہو۔
دوسری یہ کہ اس کے بغیر جان چھڑانے یا خلاصی پانے کی کوئی دوسری صورت نظر نہ آئے۔
اگر ان دونوں شرطوں میں سے کوئی بھی شرط نہ پائی جائے تو پھر اس میں دیت ہوگی۔
یہاں اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کی دیت کو باطل ٹھہرایا کیونکہ اس کاٹنے والے کا دانت اسی کے قصور سے ٹوٹا تھا، نہ وہ کاٹتا نہ دوسرا اپنا ہاتھ کھینچتا، اور جب اس نے کاٹا تو وہ بے چارہ کیا کرتا، آخر چھوڑانا ضروری تھا۔
19. باب: «الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ» :
چوپائے نقصان کر دیں تو اس کا کوئی تاوان نہیں
حدیث نمبر: 2414
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا الْجُبَارُ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چوپائے اگر کسی کو زخمی کر دیں تو ان کا خون بہا نہیں، کنویں میں گرنے کا کوئی خون بہا نہیں، کان میں دبنے کا کوئی خون بہا نہیں، اور دفینے میں پانچواں حصہ ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2414]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن. ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2422] »
اس روایت کی سند حسن ہے لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6912] ، [مسلم 1440] ، [أبوداؤد 3085] ، [ترمذي 1377] ، [نسائي 2941] ، [ابن ماجه 2509، مختصرًا الركاز فقط] ، [الحميدي 1110]
اس روایت کی سند حسن ہے لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6912] ، [مسلم 1440] ، [أبوداؤد 3085] ، [ترمذي 1377] ، [نسائي 2941] ، [ابن ماجه 2509، مختصرًا الركاز فقط] ، [الحميدي 1110]
حدیث نمبر: 2415
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "جُرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس سند سے بھی ویسے ہی مروی ہے جیسے اوپر بیان کیا گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2415]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2423] »
ترجمہ و تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
ترجمہ و تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 2416
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالسَّائِمَةُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس سند سے بھی ویسے ہی مروی ہے جیسے اوپر بیان کیا گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2416]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2424] »
ترجمہ و تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
ترجمہ و تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 2413 سے 2416)
«عُجْمَاء» اور «سَائِمَة» سے مراد جانور چوپائے، اور «جُبَارٌ» ضمان و تاوان کو کہتے ہیں، اور «مَعْدَنِ» اس جگہ یا کان کو کہتے ہیں جہاں سونا چاندی اور جواہرات پائے جائیں، اور «رِكَاز» وہ خزانہ اور دفینہ ہے جو پرانے زمانے میں کسی نے دفن کیا ہو اور اس کے مالک موجود نہ ہوں۔
ایسے دفینے کو جو شخص پائے گا اس میں سے پانچواں حصہ بیت المال کو ادا کرے گا، باقی سب پانے والے کا ہوگا۔
اسی طرح کسی آدمی کے کنویں میں گر کر کوئی شخص ہلاک ہو جائے تو صاحبِ کنواں پر تاوان و دیت نہیں، اور کان کنوں میں سے کوئی کان گرنے سے مر جائے تو اس میں بھی کوئی تاوان نہیں، دفینے میں پانچواں حصہ بیت المال کا ہے۔
«عُجْمَاء» اور «سَائِمَة» سے مراد جانور چوپائے، اور «جُبَارٌ» ضمان و تاوان کو کہتے ہیں، اور «مَعْدَنِ» اس جگہ یا کان کو کہتے ہیں جہاں سونا چاندی اور جواہرات پائے جائیں، اور «رِكَاز» وہ خزانہ اور دفینہ ہے جو پرانے زمانے میں کسی نے دفن کیا ہو اور اس کے مالک موجود نہ ہوں۔
ایسے دفینے کو جو شخص پائے گا اس میں سے پانچواں حصہ بیت المال کو ادا کرے گا، باقی سب پانے والے کا ہوگا۔
اسی طرح کسی آدمی کے کنویں میں گر کر کوئی شخص ہلاک ہو جائے تو صاحبِ کنواں پر تاوان و دیت نہیں، اور کان کنوں میں سے کوئی کان گرنے سے مر جائے تو اس میں بھی کوئی تاوان نہیں، دفینے میں پانچواں حصہ بیت المال کا ہے۔
20. باب في دِيَةِ الْجَنِينِ:
پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 2417
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ، فَتَغَايَرَتَا، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى فِيهِ غُرَّةً، وَجَعَلَهَا عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ دو عورتیں ایک آدمی کے نکاح میں تھیں، ایک دوسری سے غیرت کے سبب اختلاف میں مبتلا ہوئیں تو ایک نے دوسری پر لوہے کا ڈنڈا دے مارا، جس سے دوسری عورت فوت ہوگئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی مر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ یہ جھگڑا لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے بدلے ایک لونڈی یا غلام کی دیت کا فیصلہ کیا اور مارنے والی عورت کے عاقلہ پر اس عورت کی دیت کو ڈالا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2417]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2425] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6910] ، [مسلم 1682] ، [أبوداؤد 4568] ، [ترمذي 1411] ، [نسائي 4836] ، [ابن ماجه 2633] و [ابن حبان 6016]
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6910] ، [مسلم 1682] ، [أبوداؤد 4568] ، [ترمذي 1411] ، [نسائي 4836] ، [ابن ماجه 2633] و [ابن حبان 6016]
وضاحت: (تشریح حدیث 2416)
اس قضیے میں دو دیت ہیں۔
ایک تو عورت کی دیت، دوسرے پیٹ کے بچے کی دیت۔
تو عورت کی دیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مارنے والی قاتل عورت کے عاقلہ پر ڈالی، اس کے شوہر پر نہیں، اور عاقلہ سے مراد باپ یعنی دهدیال والے اور اہلِ قبیلہ والے رشتے دار ہیں، پھر اس دیت کا وارث مقتولہ عورت کے بیٹوں اور شوہر کو قرار دیا، قاتلہ عورت کے اہلِ خانہ نے اس پر اعتراض کیا جس کا تذکرہ آگے آ رہا ہے، اور اسقاطِ حمل یعنی بچے کے رحمِ مادر میں مر جانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی یا غلام کو بھی آزاد کرنے کا اس عورت کے عاقلہ کو حکم دیا، ڈنڈا کیونکہ آلۂ قتل نہیں اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبہ العمد یا قتلِ خطا قرار دیتے ہوئے اس میں دیت کو لازم قرار دیا، اور خلافِ قاعده قاتل کے بجائے عاقلہ پر دیت لازم کی اس لئے کہ قتل کرنے والی سے عمداً و قصداً یہ جرم سرزد نہیں ہوا تو اس کے ساتھ سب کی ہمدردی اور غمخواری ہو، (والله اعلم)۔
اس قضیے میں دو دیت ہیں۔
ایک تو عورت کی دیت، دوسرے پیٹ کے بچے کی دیت۔
تو عورت کی دیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مارنے والی قاتل عورت کے عاقلہ پر ڈالی، اس کے شوہر پر نہیں، اور عاقلہ سے مراد باپ یعنی دهدیال والے اور اہلِ قبیلہ والے رشتے دار ہیں، پھر اس دیت کا وارث مقتولہ عورت کے بیٹوں اور شوہر کو قرار دیا، قاتلہ عورت کے اہلِ خانہ نے اس پر اعتراض کیا جس کا تذکرہ آگے آ رہا ہے، اور اسقاطِ حمل یعنی بچے کے رحمِ مادر میں مر جانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی یا غلام کو بھی آزاد کرنے کا اس عورت کے عاقلہ کو حکم دیا، ڈنڈا کیونکہ آلۂ قتل نہیں اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبہ العمد یا قتلِ خطا قرار دیتے ہوئے اس میں دیت کو لازم قرار دیا، اور خلافِ قاعده قاتل کے بجائے عاقلہ پر دیت لازم کی اس لئے کہ قتل کرنے والی سے عمداً و قصداً یہ جرم سرزد نہیں ہوا تو اس کے ساتھ سب کی ہمدردی اور غمخواری ہو، (والله اعلم)۔