سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب في دِيَةِ الْجَنِينِ:
پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 2418
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرٍو هُوَ: ابْنُ دِينَار، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ عُمَرَ نَشَدَ النَّاسَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ،"فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ، وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے جنین (پیٹ کا بچہ) کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تلاش کیا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں دو عورتوں کے بیچ میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی اٹھا کر ماری (وہ مرگئی اور اس کا بچہ بھی مرگیا «كما فى الرواية الأولى») تو اس قضیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین کی دیت غلام یا لونڈی آزاد کرنے کا فیصلہ کیا اور مارنے والی عورت کے قتل کا حکم دیا، یعنی اس کو قتل عمد قرار دے کر قصاص میں اور عورت کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2418]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2426] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4572] ، [نسائي 4753، 4831] ، [ابن ماجه 2641] ، [ابن حبان 6021] ، [موارد الظمآن 1525]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4572] ، [نسائي 4753، 4831] ، [ابن ماجه 2641] ، [ابن حبان 6021] ، [موارد الظمآن 1525]
21. باب دِيَةِ الْخَطَإِ عَلَى مَنْ هِيَ:
قتل خطا کی دیت کون ادا کرے گا
حدیث نمبر: 2419
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ اقْتَتَلَتَا، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا فِي الدِّيَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى: أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى بِدِيَتِهَا عَلَى عَاقِلَتِهَا، وَوَرِثَتْهَا وَرَثَتُهَا وَلَدُهَا وَمَنْ مَعَهَا، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ: كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ، وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا هُوَ مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ". مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں اور ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا جس سے وہ مر گئی اور جو اس کے پیٹ میں تھا وہ بھی ہلاک ہو گیا۔ مقتولہ کے وارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ جھگڑا لے کر آئے تو آپ نے جنین (پیٹ کا پچہ) کے بدلے ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ کیا اور مقتولہ کی دیت کو قاتلہ کے رشتہ داروں کے ذمہ لگایا، اور اس دیت کا وارث مقتولہ کی اولاد اور شوہر وغیرہ کو قرار دیا، اس وقت حمل بن نابغہ ہذلی نے کہا: یا رسول الله! ہم ایسے بچے کا بدلہ کیسے دیں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا، نہ چیخا، اس طرح کا حکم تو قابلِ اعتبار نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو کاہنوں کے بھائیوں میں سے معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس نے کاہنوں جیسی قافیہ بندی کی۔“ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2419]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2427] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5758] ، [مسلم 1681] ، [أبوداؤد 4576] ، [نسائي 4833] ، [أبويعلی 5917] ، [ابن حبان 6017]
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5758] ، [مسلم 1681] ، [أبوداؤد 4576] ، [نسائي 4833] ، [أبويعلی 5917] ، [ابن حبان 6017]
وضاحت: (تشریح احادیث 2417 سے 2419)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قتلِ خطا کی دیت قاتل کے رشتہ داروں کے ذمہ ہوگی، وہ سب مل کر ادا کریں گے۔
دوسری بات اس حدیث میں کاہنوں سے بیزاری اور ان سے دور رہنے کی ہے، کاہن وہ لوگ ہوتے ہیں جو غیب دانی کا دعویٰ کرتے ہیں اور مستقبل میں کیا ہونے والا ہے وہ بتاتے ہیں، ایسے لوگ جھوٹے، مکار اور فریبی ہوتے ہیں، جو ان کے پاس جائے اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوگی، اور جو ان کی بات کی تصدیق کرے وہ شریعتِ محمدی کا منکر ہے، عرب کے کاہن مقفع و مسجع عبارتیں اپنے مریدوں کے سامنے ذکر کر کے انہیں لبھاتے تھے، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی فقرہ بندی کو نا پسند فرمایا کیونکہ یہ شاعرانہ تخیل تھا، حقیقت سے اس امر کا کوئی واسطہ نہیں۔
شریعت کا حکم قتلِ خطا میں دیت اور جنین کے بدلے غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اس حدیث سے مقدمہ حاکم کے پاس لے جانا، اور جنین اگرچہ مرده ساقط ہوا ہو مگر اس کی دیت کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قتلِ خطا کی دیت قاتل کے رشتہ داروں کے ذمہ ہوگی، وہ سب مل کر ادا کریں گے۔
دوسری بات اس حدیث میں کاہنوں سے بیزاری اور ان سے دور رہنے کی ہے، کاہن وہ لوگ ہوتے ہیں جو غیب دانی کا دعویٰ کرتے ہیں اور مستقبل میں کیا ہونے والا ہے وہ بتاتے ہیں، ایسے لوگ جھوٹے، مکار اور فریبی ہوتے ہیں، جو ان کے پاس جائے اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوگی، اور جو ان کی بات کی تصدیق کرے وہ شریعتِ محمدی کا منکر ہے، عرب کے کاہن مقفع و مسجع عبارتیں اپنے مریدوں کے سامنے ذکر کر کے انہیں لبھاتے تھے، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی فقرہ بندی کو نا پسند فرمایا کیونکہ یہ شاعرانہ تخیل تھا، حقیقت سے اس امر کا کوئی واسطہ نہیں۔
شریعت کا حکم قتلِ خطا میں دیت اور جنین کے بدلے غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اس حدیث سے مقدمہ حاکم کے پاس لے جانا، اور جنین اگرچہ مرده ساقط ہوا ہو مگر اس کی دیت کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے۔
واللہ اعلم۔
22. باب شِبْهِ الْعَمْدِ:
قتل شبہ العمد کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 2420
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "دِيَةُ قَتِيلِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ، وَمَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنْهَا: أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مقتول خطا يا شبہ العمد کی دیت جو کہ کوڑے اور لاٹھی سے (مارا گیا) ہو (سو اونٹ ہے) جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں۔“ (یعنی حامل ہوں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2420]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2428] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4547] ، [نسائي 4817 - 4818] ، [ابن حبان 6011] ، [موارد الظمآن 1526] ، [أبويعلی 5923]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4547] ، [نسائي 4817 - 4818] ، [ابن حبان 6011] ، [موارد الظمآن 1526] ، [أبويعلی 5923]
وضاحت: (تشریح حدیث 2419)
قتل کئی طرح کا ہوتا ہے جس کی تفصیل حدیث رقم (2404) کے ذیل میں گذر چکی ہے۔
شبہ عمد وہ ہے کہ ایسی چیز سے مارے جس سے مرنے کا احتمال نہ ہو، جیسے کوڑا، ہلکی سی چھڑی یا لاٹھی، اس میں اور قتلِ خطا میں دیت واجب ہوگی جو سو اونٹ ہیں، اس کی تفصیل ابوداؤد و ترمذی کی حدیث میں ہے جو عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے مروی ہے کہ تیس تین سالہ اور تیس چار سالہ اور چالیس حاملہ اونٹنی قتلِ خطا اور شبہ العمد کی دیت ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی [أبوداؤد 4550] میں ایسے ہی مروی ہے۔
قتل کئی طرح کا ہوتا ہے جس کی تفصیل حدیث رقم (2404) کے ذیل میں گذر چکی ہے۔
شبہ عمد وہ ہے کہ ایسی چیز سے مارے جس سے مرنے کا احتمال نہ ہو، جیسے کوڑا، ہلکی سی چھڑی یا لاٹھی، اس میں اور قتلِ خطا میں دیت واجب ہوگی جو سو اونٹ ہیں، اس کی تفصیل ابوداؤد و ترمذی کی حدیث میں ہے جو عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے مروی ہے کہ تیس تین سالہ اور تیس چار سالہ اور چالیس حاملہ اونٹنی قتلِ خطا اور شبہ العمد کی دیت ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی [أبوداؤد 4550] میں ایسے ہی مروی ہے۔
23. باب مَنِ اطَّلَعَ في دَارِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ:
کوئی آدمی کسی کے گھر میں بلا اجازت جھانکے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرَى يُخَلِّلُ بِهَا رَأْسَهُ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي، لَطَعَنْتُ بِهَا فِي عَيْنَيْكَ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ".
سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس وقت لوہے کا کنگھا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر جھاڑ رہے تھے، اس شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھانکتے دیکھا تو فرمایا: ”اگر مجھے علم ہوتا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو تو میں اس کنگھے کو تیری آنکھ میں چبھو دیتا“، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذن لینے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ نظر نہ پڑے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2421]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «حديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2429] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5924، 6901] ، [مسلم 2156] ، [ترمذي 2709] ، [نسائي 4874] ، [أبويعلی 7510] ، [ابن حبان 5809] ، [مسند الحميدي 953]
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5924، 6901] ، [مسلم 2156] ، [ترمذي 2709] ، [نسائي 4874] ، [أبويعلی 7510] ، [ابن حبان 5809] ، [مسند الحميدي 953]
حدیث نمبر: 2422
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَةٍ وَمَعَهُ مِدْرى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، اطَّلَعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَقُمْتُ حَتَّى أَطْعَنَ بِهِ عَيْنَيْكَ. إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ".
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں لوہے کے کنگھے سے بال جھاڑ رہے تھے کہ ایک صحابی اندر جھانکنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے علم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں کھڑا ہو کر اس کنگھے کو تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا، اجازت لینے کا نظر ہی کی وجہ سے حکم دیا گیا ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2422]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2430] »
اس حدیث کا حوالہ اوپر گذر چکا ہے۔
اس حدیث کا حوالہ اوپر گذر چکا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 2420 سے 2422)
جب بغیر اجازت دیکھ لیا تو پھر اذن و اجازت کی کیا ضرورت رہی۔
اس حدیث سے یہ نکلا کہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں جھانکے اور گھر والا کچھ پھینک کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو اس گھر والے کو کچھ تاوان نہیں دینا ہوگا، بلا اجازت تاک جھانک کی یہ بہت بھیانک سزا ہے، لہٰذا کسی کے گھر میں بلا اجازت نظر ڈالنا یا داخل ہونا منع ہے، اس لئے کسی بھی غیر کے گھر میں اجازت لے کر، سلام کر کے داخل ہونا چاہئے یہ اسلامی آداب میں سے ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ......﴾ [النور: 27] » ترجمہ: ”اے مومنو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو، اور وہاں رہنے والوں کو سلام کرو۔
“
جب بغیر اجازت دیکھ لیا تو پھر اذن و اجازت کی کیا ضرورت رہی۔
اس حدیث سے یہ نکلا کہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں جھانکے اور گھر والا کچھ پھینک کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو اس گھر والے کو کچھ تاوان نہیں دینا ہوگا، بلا اجازت تاک جھانک کی یہ بہت بھیانک سزا ہے، لہٰذا کسی کے گھر میں بلا اجازت نظر ڈالنا یا داخل ہونا منع ہے، اس لئے کسی بھی غیر کے گھر میں اجازت لے کر، سلام کر کے داخل ہونا چاہئے یہ اسلامی آداب میں سے ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ......﴾ [النور: 27] » ترجمہ: ”اے مومنو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو، اور وہاں رہنے والوں کو سلام کرو۔
“
24. باب: «لاَ يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْراً» :
قبیلہ قریش کا کوئی آدمی باندھ کر نہ مارا جائے
حدیث نمبر: 2423
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، عَنْ مُطِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: "لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"۔.
سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ نے کہا: فتح مکہ کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آج کے بعد کوئی قریشی قیامت تک باندھ کر نہ مارا جائے گا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2423]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2431] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1782] ، [صحيح ابن حبان 3719] ، [الحميدي 578]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1782] ، [صحيح ابن حبان 3719] ، [الحميدي 578]
وضاحت: (تشریح حدیث 2422)
سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ صحابی تھے اور فتح مکہ کے دن اسلام لائے، ان کا نام عاصی یعنی نافرمان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر مطیع نام رکھدیا، جس کے معنی فرمانبردار کے ہیں، حدیث کی تشریح آگے آ رہی ہے۔
سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ صحابی تھے اور فتح مکہ کے دن اسلام لائے، ان کا نام عاصی یعنی نافرمان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر مطیع نام رکھدیا، جس کے معنی فرمانبردار کے ہیں، حدیث کی تشریح آگے آ رہی ہے۔
حدیث نمبر: 2424
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ، سَمِعْتُ مُطِيعًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ........ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: فَسَّرُوا ذَلِكَ: أَنْ لَا يُقْتَلَ قُرَشِيٌّ عَلَى الْكُفْرِ يَعْنِي: لَا يَكُونُ هَذَا أَنْ يَكْفُرَ قُرَشِيٌّ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ فَأَمَّا فِي الْقَوَدِ، فَيُقْتَلُ.
سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ سے ایسے ہی مروی ہے ترجمہ وہی ہے جو اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: مذکورہ بالا حدیث کی تفسیر میں علماء نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب قریشی مسلمان ہو جائیں گے اور کوئی بھی کفر پر نہیں مرے گا، یعنی آج کے بعد سے کوئی قریشی کافر نہ رہے گا اور جرم کرے تو قتل کیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2424]
امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: مذکورہ بالا حدیث کی تفسیر میں علماء نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب قریشی مسلمان ہو جائیں گے اور کوئی بھی کفر پر نہیں مرے گا، یعنی آج کے بعد سے کوئی قریشی کافر نہ رہے گا اور جرم کرے تو قتل کیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2424]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2432] »
اس روایت کی سند و تخریج اوپر ذکر کی جا چکی ہے۔
اس روایت کی سند و تخریج اوپر ذکر کی جا چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 2423)
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث «لَا يُقْتَلَ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هٰذَا الْيَوْمِ» کا مطلب یہ ہے کہ قریش مسلمان ہو جائیں گے اور ان میں سے کوئی اسلام سے نہ پھرے گا «كماقال الدارمي رحمه اللّٰه» اور کفر کی وجہ سے باندھ کر نہ مارا جائے گا۔
ایک روایت میں ہے کہ ابن خطل ایک کافر تھا، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے بہت رنج دیا، مسلمان ہو کر مرتد ہوا، فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبرلگی کہ وہ کعبہ کے پردوں میں چھپا بیٹھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پکڑ لاؤ۔
“ لوگ اسے مشکیں باندھ کر لائے اور وہ قتل کر دیا گیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر نہ مارا جائے گا۔
“
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث «لَا يُقْتَلَ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هٰذَا الْيَوْمِ» کا مطلب یہ ہے کہ قریش مسلمان ہو جائیں گے اور ان میں سے کوئی اسلام سے نہ پھرے گا «كماقال الدارمي رحمه اللّٰه» اور کفر کی وجہ سے باندھ کر نہ مارا جائے گا۔
ایک روایت میں ہے کہ ابن خطل ایک کافر تھا، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے بہت رنج دیا، مسلمان ہو کر مرتد ہوا، فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبرلگی کہ وہ کعبہ کے پردوں میں چھپا بیٹھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پکڑ لاؤ۔
“ لوگ اسے مشکیں باندھ کر لائے اور وہ قتل کر دیا گیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر نہ مارا جائے گا۔
“
25. باب لاَ يُؤْخَذُ أَحَدٌ بِجِنَايَةِ غَيْرِهِ:
مجرم کے بدلے کسی اور سے مواخذہ نہ ہو گا
حدیث نمبر: 2425
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي: ابْنَ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَمَعِيَ ابْنٌ لِي، وَلَمْ نَكُنْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَتَيْتُهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ. فَلَمَّا رَأَيْتُهُ عَرَفْتُهُ بِالصِّفَةِ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:"مَنْ هَذَا الَّذِي مَعَكَ؟". قُلْتُ: ابْنِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ:"ابْنُكَ؟"، فَقُلْتُ: أَشْهَدُ بِهِ. قَالَ: "فَإِنَّ ابْنَكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ".
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے بیٹے کے ساتھ مدینہ آیا، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا نہیں تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوہرے کپڑوں میں باہر تشریف لائے، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نشانی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا، میں آپ سے قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟“ میں نے کہا: ربّ کعبہ کی قسم یہ میرا لڑکا ہے، فرمایا: ”کیا تمہارا ہی بیٹا ہے؟“ عرض کیا: جی ہاں، میں اسکی شہادت دیتا ہوں (یا آپ گواہ رہئے یہ میرا بیٹا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تمہارا بیٹا تمہارے گناہ و جرم کا ذمہ دار نہ ہوگا اور نہ تم اس کے گناہ و جرم کے ذمہ دار ہو گے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2425]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2433] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4495] ، [نسائي 4847] ، [ابن حبان 5995] ، [موارد الظمآن 1522]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4495] ، [نسائي 4847] ، [ابن حبان 5995] ، [موارد الظمآن 1522]
وضاحت: (تشریح حدیث 2424)
«أَشْهَدُ بِهِ» میں احتمال ہے کہ صیغہ طلب ہو اور اس کا معنی ہوں کہ آپ گواہ رہیں کہ میرا بیٹا میری صلب سے ہے، اور اس کا بھی احتمال ہے کہ صیغہ متکلم کا ہو اور وہ ثابت کر رہے ہوں کہ یقیناً یہ میرا بیٹا ہے، اس سے دراصل مقصود یہ تھا کہ جرائم کی ضمانت جاہلیت میں اس طور پر لازم ہوتی تھی کہ والد کی جگہ بیٹا اور بیٹے کی جگہ باپ پر عائد کر دی جاتی تھی، اس اصول کی طرف سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ تھا اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خیال و نظر کی تردید کر دی اور فرمایا کہ وہ تیرے جرائم، گناہ کا ذمہ دار نہیں اور تو اسکے جرائم پر جواب دہ نہیں۔
یعنی اگر جرم کا ارتکاب و صدور اس کی جانب سے ہوگا تو اس کی پاداش میں تجھے مواخذے میں گرفتار نہیں کیا جائے گا اور اس کی ضمان تیرے سر نہ ہوگی، اسی طرح اس کے برعکس اگر وہ مرتکبِ جرم ہوگا تو اس ارتکاب کا جرم اس پر پڑے گا، اس کے جرم کی باز پرس تم سے نہ ہو گی، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: «﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [الإسراء: 15] » یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
اپنا بوجھ آپ ہی اٹھانا ہوگا، جو کرے گا سو بھرے گا۔
(مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ)۔
«أَشْهَدُ بِهِ» میں احتمال ہے کہ صیغہ طلب ہو اور اس کا معنی ہوں کہ آپ گواہ رہیں کہ میرا بیٹا میری صلب سے ہے، اور اس کا بھی احتمال ہے کہ صیغہ متکلم کا ہو اور وہ ثابت کر رہے ہوں کہ یقیناً یہ میرا بیٹا ہے، اس سے دراصل مقصود یہ تھا کہ جرائم کی ضمانت جاہلیت میں اس طور پر لازم ہوتی تھی کہ والد کی جگہ بیٹا اور بیٹے کی جگہ باپ پر عائد کر دی جاتی تھی، اس اصول کی طرف سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ تھا اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خیال و نظر کی تردید کر دی اور فرمایا کہ وہ تیرے جرائم، گناہ کا ذمہ دار نہیں اور تو اسکے جرائم پر جواب دہ نہیں۔
یعنی اگر جرم کا ارتکاب و صدور اس کی جانب سے ہوگا تو اس کی پاداش میں تجھے مواخذے میں گرفتار نہیں کیا جائے گا اور اس کی ضمان تیرے سر نہ ہوگی، اسی طرح اس کے برعکس اگر وہ مرتکبِ جرم ہوگا تو اس ارتکاب کا جرم اس پر پڑے گا، اس کے جرم کی باز پرس تم سے نہ ہو گی، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: «﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [الإسراء: 15] » یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
اپنا بوجھ آپ ہی اٹھانا ہوگا، جو کرے گا سو بھرے گا۔
(مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ)۔
حدیث نمبر: 2426
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأَبِي:"ابْنُكَ هَذَا؟"، فَقَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ. قَالَ:"حَقًّا؟". قَالَ:"أَشْهَدُ بِهِ". قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا مِنْ ثَبَتِ شَبَهِي فِي أَبِي وَمِنْ حَلِفِ أَبِي عَلَي، فَقَالَ: "إِنَّ ابْنَكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ". قَالَ: وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164.
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد سے فرمایا: ”کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ عرض کیا: جی، کعبہ کے رب کی قسم، فرمایا: ”سچ کہتے ہو؟“ عرض کیا: جی ہاں سچ میں میں اس کی شہادت دیتا ہوں (کہ یہ میرا بیٹا ہے)، ابورمثہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری والد صاحب سے مشابہت اور میرے والد کی قسمیہ شہادت پر مسکرا کر ہنس پڑے اور فرمایا: ”بیشک تمہارا یہ بیٹا نہ تمہارے جرم کا ذمہ دار ہوگا اور نہ تم اس کے جرم کے ذمہ دار ہوگے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ترجمہ: (کوئی کسی کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گا) (سورة الانعام: 164/6 و إسراء: 15/17)۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2426]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2434] »
تخریج اس حدیث کی اوپر گذر چکی ہے۔
تخریج اس حدیث کی اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 2425)
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کا نام حبیب بن حیان ہے، دوسرے نام بھی ذکر کئے گئے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات حجۃ الوداع میں ہوئی، اس روایت میں ہے کہ سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے ساتھ آئے اور انہوں نے اپنے الفاظ میں روایت کیا، پہلی روایت میں ہے کہ سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے کے ساتھ آئے اور قصہ بیان کیا، بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قصاص و عتاب میں مجرم کے بدلے میں کسی اور کو نہیں پکڑا جائے گا، حتیٰ کہ باپ کے بدلے میں بیٹا، اور بیٹے کے بدلے میں باپ سے بھی مواخذہ نہ ہوگا، اگر کہا جائے کہ شارع نے پھر قتلِ خطا اور قسامت کی صورت میں دیت کا بار عصبہ پر کیوں ڈالا ہے، تو اس کا جواب ہے کہ یہ بوجھ نہیں بلکہ تعاون و امداد ہے جو بھائی چارے اور برادری کی بنیاد پر بتقاضائے طبیعت بوقتِ ضرورت کی جاتی ہے، اور برادری کے افراد بخوشی ادا کرتے ہیں کیونکہ ہر ایک اپنے قریبی عزیز کی غمگساری میں برضا و رغبت شریک ہونا فخر سمجھتا ہے، اور انسانی تمدن و معاشرت اسی کا تقاضا کرتا ہے کہ آج اگر کسی پر افتاد پڑ گئی ہے تو اس کا سہارا بنے، کل وہ بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے۔
(مبارکپوری رحمہ اللہ)۔
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کا نام حبیب بن حیان ہے، دوسرے نام بھی ذکر کئے گئے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات حجۃ الوداع میں ہوئی، اس روایت میں ہے کہ سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے ساتھ آئے اور انہوں نے اپنے الفاظ میں روایت کیا، پہلی روایت میں ہے کہ سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے کے ساتھ آئے اور قصہ بیان کیا، بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قصاص و عتاب میں مجرم کے بدلے میں کسی اور کو نہیں پکڑا جائے گا، حتیٰ کہ باپ کے بدلے میں بیٹا، اور بیٹے کے بدلے میں باپ سے بھی مواخذہ نہ ہوگا، اگر کہا جائے کہ شارع نے پھر قتلِ خطا اور قسامت کی صورت میں دیت کا بار عصبہ پر کیوں ڈالا ہے، تو اس کا جواب ہے کہ یہ بوجھ نہیں بلکہ تعاون و امداد ہے جو بھائی چارے اور برادری کی بنیاد پر بتقاضائے طبیعت بوقتِ ضرورت کی جاتی ہے، اور برادری کے افراد بخوشی ادا کرتے ہیں کیونکہ ہر ایک اپنے قریبی عزیز کی غمگساری میں برضا و رغبت شریک ہونا فخر سمجھتا ہے، اور انسانی تمدن و معاشرت اسی کا تقاضا کرتا ہے کہ آج اگر کسی پر افتاد پڑ گئی ہے تو اس کا سہارا بنے، کل وہ بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے۔
(مبارکپوری رحمہ اللہ)۔