🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
155. باب الذكر بعد الصلاة:
باب: نماز کے بعد ذکر الٰہی کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 841
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ،" أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبدالرزاق بن ہمام نے خبر دی انہوں نے کہا کہ ہمیں عبدالملک بن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا کہ مجھ کو عمرو بن دینار نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابو معبد نے انہیں خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ بلند آواز سے ذکر، فرض نماز سے فارغ ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں جاری تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 841]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرض نماز سے فراغت کے بعد بآواز بلند ذکر کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں جاری تھا، نیز حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے تو لوگوں کی نماز سے فراغت کا پتہ اس ذکر کی آواز سن کر چلتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 841]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥نافذ مولى ابن عباس، أبو معبد
Newنافذ مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← نافذ مولى ابن عباس
ثقة ثبت
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥إسحاق بن إبراهيم البخاري، أبو إبراهيم
Newإسحاق بن إبراهيم البخاري ← عبد الرزاق بن همام الحميري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
841
رفع الصوت بالذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة كان على عهد النبي
صحيح مسلم
1318
رفع الصوت بالذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة كان على عهد النبي
سنن أبي داود
1003
رفع الصوت للذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة كان ذلك على عهد رسول الله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 841 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 841
حدیث حاشیہ:
وقال ابن عباس:
كنت أعلم إذا إنصرفوا بذلك إذا سمعته. ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں ذکر سن کر لوگوں کی نماز سے فراغت کو سمجھ جاتا تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 841]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:841
حدیث حاشیہ:
حدیث میں نماز کے بعد ذکر کی فضیلت منقول ہے لیکن اس ذکر سے کیا مراد ہے؟ دور حاضر میں نماز کے بعد بآواز بلند اجتماعی طور پر جو اللہ اللہ کی ضربیں لگائی جاتی ہیں، یہ قطعی طور پر غیر شرعی کام ہے بلکہ اس سے مراد "اللہ أکبر" کہنا ہے جیسا کہ آئندہ حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 841]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1003
نماز کے بعد تکبیر کہنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ذکر کے لیے آواز اس وقت بلند کی جاتی تھی جب لوگ فرض نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یہی دستور تھا، ابن عباس کہتے ہیں: جب لوگ نماز سے پلٹتے تو مجھے اسی سے اس کا علم ہوتا اور میں اسے سنتا تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1003]
1003۔ اردو حاشیہ:
سلام کے بعد «الله اكبر» اور تین مرتبہ «استغرالله» اور اسی طرح بعض اور کلمات بالخصوص بلند آواز سے ثابت شدہ سنت ہے۔ اسے بعض اوقات یا محض تعلیم کے لئے محمول کرنا صحیح نہیں ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ آواز کی بلندی اس قدر نہ ہو کہ دوسروں کے لئے تشویش اور الجھن کا باعث بنے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1003]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1318
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فرض نماز کے بعد لوگوں کے سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بتایا، مجھےسلام پھیرنے کا علم اس کے سننے سے ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1318]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں فرض نماز سے سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے ذکر ہوتا تھا۔
اور اس کی ذکر کی توضیح دوسری روایت میں تکبیر سے کی گئی ہے۔
جس سے معلوم ہواکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مقتدی بھی بلند آوازسے اَللہُ اَکْبَر کہتے تھے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کے بعد بلند آواز سے:
(لاَ إلَهَ إلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيْكَ لَهُ،
لَهُ الـمُلْكُ،
وَلَهُ الحَمْدُ،
وهُوَ عَلَى كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ،
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ باللَّهِ،
لاَ إلَهَ إلاَّ اللهُ،
وَلا نَعْبُدُ إلاَّ إيَّاهُ،
لَهُ النِّعْمَةُ ولَهُ الفَضْلُ ولَهُ الثَّنَاءُ الحَسَنُ،
لاَ إلَهَ إلاَّ اللهُ مُخلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ ولَوْ كَرِهَ الكَافِرُونَ)
کہتے تھے اس سے بلند آواز سے مروجہ ذکر کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔
اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب والوں کو سن جائے یہ کلمات کہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب والے کہتے اس طرح یہ آواز آخری صف تک پہنچ جاتی جہاں بچوں میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما موجود ہوتے تھے۔
لیکن آج کل مسنون الفاظ بلند آواز میں کہنے کی بجائے ایک سُر اور ایک آواز سے اپنی طرف سے کچھ کلمات کہے جاتے ہیں۔
اس ہم آہنگی کا ثبوت اس روایت سے کیسے نکل آیا علامہ سعیدی نے علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ مساجد میں اکھٹے ذکر کرنا خلف وسلف کے نزدیک پسندیدہ ہے بشرط یہ کہ ان کے جہر (بلند آواز)
سے کسی کی نیند،
قراءت یا نماز میں خلل پیدا نہ ہو،
کیا اس قول سے ذِکْرٌ بِالْجَہْر کی موجودہ کیفیت پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1318]

Sahih Bukhari Hadith 841 in Urdu