🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب من قتل كافرا ثم سدد:
باب: جو شخص کسی کافر کو قتل کرے پھر نیک عمل پر قائم رہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1891 ترقیم شاملہ: -- 4896
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ "، قِيلَ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " مُؤْمِنٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ ".
سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو شخص جہنم میں اس طرح اکٹھے نہیں ہوں گے کہ اکٹھے ہونے کی وجہ سے ایک شخص دوسرے کو نقصان پہنچا سکے۔ عرض کی گئی: اللہ کے رسول! وہ کون ہیں؟ فرمایا: وہ مومن جس نے (جہاد کرتے ہوئے) کسی کافر کو قتل کیا، پھر دین پر مضبوطی سے جما رہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4896]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دو آگ میں اس طرح داخل نہیں ہوں گے کہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچا سکے۔ پوچھا گیا، وہ کون ہیں؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن جس نے کافر کو قتل کیا، پھر ایمان پر قائم رہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4896]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1891
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥إبراهيم بن محمد الفزاري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن محمد الفزاري ← سهيل بن أبي صالح السمان
إمام ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن عون الهلالي، أبو محمد
Newعبد الله بن عون الهلالي ← إبراهيم بن محمد الفزاري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3111
لا يجتمعان في النار مسلم قتل كافرا ثم سدد وقارب ولا يجتمعان في جوف مؤمن غبار في سبيل الله وفيح جهنم ولا يجتمعان في قلب عبد الإيمان والحسد
صحيح مسلم
4895
لا يجتمع كافر وقاتله في النار أبدا
صحيح مسلم
4896
لا يجتمعان في النار اجتماعا يضر أحدهما الآخر قيل من هم يا رسول الله قال مؤمن قتل كافرا ثم سدد
سنن أبي داود
2495
لا يجتمع في النار كافر وقاتله أبدا
المعجم الصغير للطبراني
574
لا يجتمعان في النار اجتماعا يضر أحدهما صاحبه مسلم قتل كافرا ثم سدد المسلم وقارب ولا يجتمعان في جوف مؤمن غبار في سبيل الله وفيح جهنم ولا يجتمعان في جوف مؤمن الإيمان والحسد
مسندالحميدي
1122
لا يجتمع غبار في سبيل الله، ودخان جهنم في جوف المسلم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4896 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4896
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ایک مسلمان جو ایمان پر قائم رہا،
لیکن کبائر کا ارتکاب کرتاہے،
تو وہ سزا بھگتنے کے لیے اگر معافی نہ ملے۔
۔
دوزخ میں داخل ہو سکتا ہے،
لیکن فرق مراتب کی بنا پر کافر اور اس کی جگہ ایک نہیں ہو سکتی کہ وہ اکٹھے ہو سکیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4896]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3111
اللہ کے راستے میں پیدل چل کر کام کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جس نے کسی کافر کو قتل کر دیا، اور آخر تک ایمان و عقیدہ اور عمل کی درستگی پر قائم رہا تو وہ دونوں (یعنی مومن قاتل اور کافر مقتول) جہنم میں اکٹھا نہیں ہو سکتے۔ اور نہ ہی کسی مومن کے سینے میں اللہ کے راستے کا گردوغبار اور جہنم کی آگ کی لپٹ و حرارت اکٹھا ہوں گے ۱؎، اور کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3111]
اردو حاشہ:
یعنی مومن اور کافر‘ جہاد کا غبار اور جہنم کی آگ، ایمان اور حسد متضاد چیزیں ہیں۔ اور متضار چیزیں نہ دنیا میں جمع ہوسکتی ہیں نہ آخرت میں۔ یہ قطعی اصول ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3111]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2495
کافر کو قتل کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کافر اور اس کو قتل کرنے والا مسلمان دونوں جہنم میں کبھی بھی اکٹھا نہ ہوں گے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2495]
فوائد ومسائل:
جہاد مجاہد کے لئے تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
اور وہ اس طرح جنت ک مستحق ہوجاتا ہے۔
الا یہ کہ اس کے ذمے کوئی حقوق العباد ہوں۔
اگر یہ معاف نہ ہوئے اور کوئی عقاب ہوا بھی تو آگ کے بغیر ہوگا۔
مثلا اعراف وغیرہ میں روکا جائے گا۔
(نووی) واللہ اعلم
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2495]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4895
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کافر اور اس کا (مسلمان) قاتل کبھی آگ میں اکٹھے نہیں ہوں گے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4895]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
کافر اپنے کفر کی بنا پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں ڈالا جائے گا اور اس کا قاتل مسلمان اگر راہ راست پر قائم رہا،
کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا،
یا ان سے توبہ کر لی تو وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا،
لیکن اگر وہ دین پر صحیح استقامت نہ دکھا سکا اور کبیرہ گناہوں کا بلاتوبہ ارتکاب کیا،
تو وہ گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے دوزخ میں داخل ہوگا،
لیکن دونوں کا مقام الگ الگ ہوگا،
وہ یکجا نہیں ہوں گے،
کہ کافر اس کو یہ عار دلا سکے کہ تم بھی تو میرے ساتھ ہو تیرے اسلام نے تجھے کیا فائدہ دیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4895]